Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 چند بُری رسمی

Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: چند بُری رسمی   Mon 21 Dec 2009 - 7:44

چند بُری رسمیں

جب تک اسلام عرب کی زمین تک محدود رہا اس وقت مسلمانوں کا معاشرہ اور ان کا طرزِ زندگی اسلامی اُصولوں کے مطابق تھا۔ لیکن جب اسلام عرب سے باہر دوسرے ممالک میں پہنچا تو دوسری قوموں اور دوسرے مذاہب والوں کے میل جول اور ان کے ماحول سے مسلمانوں کے طریقہ زندگی پر بہت زیادہ اثر پڑا اور کفار و مشرکین اور یہود و نصارٰی کی بہت سی غلط اور من گھرٹ رسموں کا مسلمانوں پر ایسا جارحانہ حملہ ہوا کہ مسلمان بھی ان میں ملوث ہو گئے آج بھی بد قسمتی سے شادی، بیاہ، خوشی، غمی اور دیگر تقریبات میں باپ داداؤں کی روایتی رسمیں پائی جاتی ہیں جو کچھ تو یقیناً حرام و ناجائز ہیں اور کچھ جائز بھی ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ جائز رسموں کی پابندی اس حد تک ہونی چاہئیے کہ اس میں کوئی فعل حرام شامل نہ ہو۔

اکثر مسلمانوں میں رواج ہے کہ بچوں کی پیدائش یا عقیقہ یا شادی بیاہ کے موقعوں یا رشتہ داروں کی عورتیں جمع ہو جاتی ہیں اور گاتی بجاتی ہیں یہ ناجائز و حرام ہے کہ اولاً ڈھول بجانا ہی حرام، پھر عورتوں کا گانا اور زیادہ بُرا، عورت کی آواز نامحرموں کو پہنچنا اور وہ بھی گانے کی اور وہ بھی عشق اور ہجر و وصال کے اشعار اور گیت یہ سب چیزیں کتنے فتنوں کا سر چشمہ ہیں۔ اسی طرح عورتوں کا رتجگا بھی ہے کہ رات بھر عورتیں گاتی بجاتی رہتی ہیں اور گلگلے پکتے رہتے ہیں پھر صُبح کو گاتی بجاتی ہوئی مسجد میں طاق بھرنے کیلئے جاتی ہیں اس میں بہت سی خرافات پائی جاتی ہیں نیاز گھر میں بھی ہو سکتی ہے اور اگر مسجد ہی میں ہو تو مرد لے جا سکتے ہیں عورتوں کو جانے کی کیا ضرورت ؟ ان عورتوں کے ہاتھ میں ایک آٹے کا بنا ہوا چار بتّیوں والا چراغ بھی ہوتا ہے جو گھی سے جلایا جاتا ہے حالانکہ جب صُبح ہو گئی ہو تو چراغ کی کیا ضرورت ؟ اور پھر تیل کی جگہ گھی کا چراغ جلایا جاتا ہے۔ بہرحال یہ سب کچھ اسراف اور فضول خرچی اور مال کو برباد کرنا ہے جو کہ شرعاً حرام ہے۔

دولہا دلہن کو ابٹن ملوانا اور مائیوں بٹھانا جائز ہے لیکن دولہا کے ہاتھ پاؤں میں زینت کیلئے مہندی لگانا جائز نہیں ابٹن بھی غیر عورتیں دولہا کو نہیں مل سکتیں یونہی دولہا کو ریشمی پوشاک یا زیورات پہننا حرام ہے خالص پھولوں کا سہرا جائز ہے بلاوجہ اس کو ممنوع نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں سونے چاندی کی تاروں، گوٹوں، لچھوں اور کلابتوں وغیرہ کا بنا ہوا ہار یا سہرا دولہا کیلئے حرام اور دلہن کیلئے جائز ہے۔

ناچ باجہ، آتش بازی حرام ہے شادیوں میں دو قسم کے ناچ کرائے جاتے ہیں ایک رنڈیوں کا ناچ جو مردوں کی محفل میں ہوتا ہے۔ دوسرا وہ جو خاص عورتوں کی محفل میں ہوتا ہے کہ کوئی ڈومنی یا مراثن ناچتی ہے اور کمر کولہے مٹکا مٹکا کر اور ہاتھوں سے چمکا چمکا کر تماشہ کوتی ہے یہ دونوں قسم کے ناچ سخت حرام و ناجائز ہیں۔
رنڈی کے ناچ میں جو گناہ اور خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کو سب جانتے ہیں کہ ایک نامحرم عورت کو سب مرد بے پردہ دیکھتے ہیں یہ آنکھوں کا زنا ہے اس کی شہوت انگیز آواز کو سنتے ہیں یہ کانوں کا زنا ہے۔ اس سے باتیں کرتے ہیں یہ زبان کا زنا ہے۔ بعض اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں یہ ہاتھوں کا زنا ہے بعض اس کی طرف چل کر داد دیتے ہیں اور انعام کا روپیہ دیتے ہیں یہ پاؤں کا زنا ہے۔ بعض بد نصیب بدکاری بھی کر لیتے ہیں یہ اصل زنا ہے۔

آتش بازی خواہ شبِ برات میں ہو یا شادی ہر جگہ ہر حال میں حرام ہے اور اس میں کئی گناہ ہیں۔ اس میں اپنے مال کو فضول برباد کرنا ہے قرآن مجید میں فضول مال اڑانے والے کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے اور ان لوگوں سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بیزار ہیں۔ پھر اس میں ہاتھ پاؤں کے جل جانے یا مکان میں آگ لگ جانے کا خوف ہے اور بلا وجہ جان یا مال کو ہلاکت اور خطرے میں ڈالنا شریعت میں حرام ہے۔

اسی طرح شادی بیاہ میں دولہا کو مکان کے اندر بلانا اور عورتوں کے سامنے آ کر یا تاک جھانک کر اس کو دیکھنا، اس سے مذاق کرنا، اس کے ساتھ چوتھی کھیلنا یہ سب رسمیں حرام و ناجائز ہیں۔

نیز عورتوں کا بہت باریک کپڑے یا بجتے ہوئے زیور پہننا جن کی آواز غیر مرد سنے یہ سب رسمیں ناجائز ہیں۔ عورت ایسی خوشبو لگائے جس کی مہک غیر مردوں تک پہنچے ناجائز ہے۔ لیکن آہ ! آج حالت تو یہ ہے خصوصاً شادیوں میں، عورتیں بن سنور کر غیر مردوب کے جھرمٹ میں دندناتی پھر رہی ہوتی ہیں حالانکہ بے پردگی حرام ہے کاش کہ ہماری ماں بہنیں پردے کی اہمیت کو سمجھتیں اور ان کے اندر خوف خدا پیدا ہوتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد بے پردگی مہنگی پڑ جائے اور خدا عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کے سبب جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔
اے میری بہنوں سدا پردہ کرو
تم غیر مردوں کے سامنے مت پھرو
ورنہ سن لو قبر میں جب جاؤ گی
سانپ بچھو دیکھ کر چلاؤ گی

عقیقہ میں سنّت صرف یہ ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی کے عقیقہ میں ایک بکرا ذبح کرنا اور اس کا گوشت کچا یا پکا کر تقسیم کر دینا اور بچے کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کر دینا اور بچے کے سر میں زعفران لگا دینا یہ سب کام تو جائز ہیں۔ باقی اس کے علاوہ جو رسمیں ہوتی ہیں کہ نائی سر مونڈنے کے بعد سب کنبہ و برادری کے سامنے کٹوری ہاتھ میں لے کر اپنا حق مانگتا ہے اور لوگ اس کٹوری میں پیسے ڈالتے ہیں۔ اس طرح نائی کی کٹوری میں جو کچھ ڈالا جاتا ہے وہ گھر والوں کے ذمّہ ایک قرض ہوتا ہے کہ جب ان دینے والوں کے یہاں عقیقہ ہوگا تو یہ لوگ اتنی ہی رقم ان کے نائی کی کٹوری میں ڈالیں گے اسی طرح سوپ میں کچا اناج رکھ کر نائی کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح عقیقہ میں لوگوں نے یہ رسم مقرر کر لی ہے کہ جس وقت بچّے کے سر پر استرا رکھا جائے فوراً اسی وقت بکرا بھی ذبح کیا جائے یہ سب رسمیں بالکل ہی غلط ہیں شریعت میں صرف بات اتنی ہے کہ نائی کو سر مانڈنے کی اجرت دے دی جائے اور بکرا خواہ سر مونڈنے سے پہلے ذبح کریں خواہ بعد میں سب جائز و دُرست ہیں۔ اسی طرح ختنہ میں بعض جگہ اس رسم کی بے حد پابندی کی جاتی ہے کہ بچّے کا لباس، بستر، چادر سب کچھ سُرخ رنگ کا تیار کیا جاتا ہے اور چوبیس گھنٹے بچّہ کے ہاتھ میں چاقو یا چھُری کا رکھنا لازم سمجھا جاتا ہے یہ سب رسمیں مَن گھڑت خرافات ہیں۔ شریعت میں ان باتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔


=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
muhammad khurshid ali
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 371
Join date : 05.12.2009
Age : 36
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: چند بُری رسمی   Wed 23 Dec 2009 - 10:49

unzur hala naaaa......
Back to top Go down
View user profile
 
چند بُری رسمی
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: رضائے محمد ﷺ فورم :: اسلامی بہن-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Sosblogs