Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 حسینی دولھا رضی اللہ تعالٰی عن

Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: حسینی دولھا رضی اللہ تعالٰی عن   Sat 19 Dec 2009 - 10:17

الحمدللہ رب العٰالمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حسینی دولھا رضی اللہ تعالٰی عنہ
با کمال مدنی منی
حضرت سیدنا شیخ محمد بن سلیمان جزولی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں، میں سفر پر تھا۔ ایک مقام پر نماز کا وقت ہو گیا، وہاں کنواں تو تھا مگر ڈول اور رسی ندارد ( یعنی غائب ) میں اسی فکر میں تھا کہ ایک مکان کے اوپر سے ایک مدنی منی نے جھانکا اور پوچھا، آپ کیا تلاش کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا، بیٹی ! رسی اور ڈول۔ اس نے پوچھا، آپ کا نام ؟ فرمایا، محمد بن سلیمان جزولی۔ مدنی منی نے حیرت سے کہا، اچھا آپ ہی ہیں جن کی شہرت کے ڈنکے بج رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ کنویں سے پانی بھی نہیں نکال سکتے ! یہ کہہ کر اس نے کنویں میں تھوک دیا۔ کمال ہو گیا! آناً فاناً پانی اوپر آ گیا اور کنویں سے چھلکنے لگا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے وضو سے فراغت کے بعد اس باکمال مدنی منی سے فرمایا، بیٹی! سچ بتاؤ تم نے یہ کمال کس طرح حاصل کیا؟ کہنے لگی، “ میں درود پاک پڑھتی ہوں، اسی کی برکت سے یہ کرم ہوا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں، اس باکمال مدنی منی سے متاثر ہو کر میں نے وہیں عہد کیا کہ میں دوردشریف کے متعلق کتاب لکھوں گا۔ ( سعادۃ الدارین ص59 دارالکتب العمیۃ بیروت ) چنانچہ آپ نے درودشریف کے بارے میں کتاب لکھی جو بے حد مقبول ہوئی اور اس کتاب کا نام ہے، “ دلائل الخیرات۔“
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
ابھی پچھلے دنوں ہم نے کربلا کے عظیم شہیدوں کی یاد منائی ہے۔ آیئے! میں آپ کو کربلا کے حسینی دولھا کی درد انگیز داستان سناؤں۔ چنانچہ خلیفہء اعلٰیحضرت، صدر الافاضل مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنی مشہور کتاب “ سوانح کربلا “ میں نقل کرتے ہیں،
حسینی دولھا
حضرت سیدنا وہب ابن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کلبی قبیلہ بنی کلب کے نیک خو اور خوبرو جوان تھے، عنفوان شباب، امنگوں کا وقت اور بہاروں کے دن تھے۔ صرف سترہ روز شادی کو ہوئے تھے اور ابھی بساط عشرت و نشاط گرم ہی تھی کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ ء ماجدہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لائیں۔ جو ایک بیوہ عورت تھیں اور جن کی ساری کمائی اور گھر کا چراغ یہی ایک نوجوان بیٹا تھا۔ مادر مشفقہ نے رونا شروع کر دیا۔ بیٹا حیرت میں آ کر ماں سے پوچھتا ہے، پیاری ماں! رنج و ملال کا سبب کیا ہے ؟ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اپنی عمر میں کبھی آپ کی نافرمانی کی ہو۔ نہ آئندہ ایسی جراءت کر سکتا ہوں۔ آپ کی اطاعت و فرماں برداری مجھ پر فرض ہے اور میں انشاءاللہ عزوجل تابہ زندگی مطیع و فرمانبردار ہی رہوں گا ماں ! آپ کے دل کو کیا صدمہ پہنچا اور آپ کو کس غم نے رلایا ؟ میری پیاری ماں! میں آپ کے حکم پر جان بھی فدا کرنے کو تیار ہوں آپ غمگین نہ ہوں۔ سعادت مند اکلوتے بیٹے کی یہ سعادت مندانہ گفتگو سن کر ماں اور چیخ مار کر رونے لگی اور کہنے لگی، اے فرزند دلبند! تو میری آنکھ کا نور، میرے دل کا سرور ہے اے میرے گھر کے روشن چراغ اور میرے باغ کے مہکتے پھول! میں نے اپنی جان گھلا گھلا کر تیری جوانی کی بہار پائی ہے۔ تو ہی میرے دل کا قرار اور میری جان کا چین ہے۔ ایک پل تیری جدائی اور ایک لمحہ تیرا فراق مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا۔
چون در خواب باشم توئی در خیالم
چون پیدار گردم تو در ضمیرم
اے جان مادر! میں نے تجھے اپنا خون جگر پلایا ہے۔ آج اس وقت دشت کربلا میں نواسہ ء محبوب رب ذوالجلال، مولٰی مشکل کشا کا لال، خاتون جنت کا نونہال، شہزادہء خوش خصال ظلم و ستم سے نڈھال ہے۔ میرے لال! کیا تجھ سے ہو سکتا ہے کہ تو اپنی جان اس کے قدموں پر قربان کر ڈالے ! اس بے غیرت زندگی پر ہزار تف ہے کہ ہم زندہ رہیں اور سلطان مدینہ منورہ، شہنشاہ مکہ مکرمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا لاڈلا شہزادہ ظلم و جفا کے ساتھ شہید کر دیا جائے۔ اگر تجھے میری محبتیں کچھ یاد ہوں اور تیری پرورش میں جو محبتیں میں نے اٹھائی ہیں ان کو تو بھولا نہ ہو تو اے میرے چمن کے مہکتے پھول! تو پیارے حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سر پر صدقے ہو جا۔ حسینی دولھا سیدنا وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی، اے مادر مہربان ! خوبیء نصیب، یہ جان شہزادہ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ پر قربان ہو میں دل و جان سے آمادہ ہوں، ایک لمحہ کی اجازت چاہتا ہوں تاکہ اس بی بی سے دو باتیں کر لوں جس نے اپنی زندگی کے عیش و راحت کا سہرا میرے سر پر باندھا ہے اور جس کے ارمان میرے سوا کسی کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ اس کی حسرتوں کے تڑپنے کا خیال ہے، اگر وہ چاہے تو میں اس کو اجازت دے دوں کہ وہ اپنی زندگی کو جس طرح چاہے گزارے۔ ماں نے کہا، بیٹا! عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں، مبادا تو اس کی باتوں میں آ جائے اور یہ سعادت سرمدی تیرے ہاتھوں سے جاتی رہے۔
حسینی دولھا سیدنا وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا، پیاری ماں! امام حسین علٰی جدہ وعلیہ السلام کی محبت کی گرہ دل میں ایسی مضبوط لگی ہے کہ انشاءاللہ عزوجل اس کو کوئی کھول نہیں سکتا اور ان کی جاں نثاری کا نقش دل پر اس طرح کندہ ہوا ہے جو دنیا کے کسی بھی پانی سے نہیں دھویا جا سکتا۔ یہ کہہ کر بی بی کی طرف آئے اور اسے خبر دی کہ فرزند رسول، ابن فاطمہ بتول، گلشن مولٰی علی کے مہکتے پھول میدان کربلا میں رنجیدہ و ملول ہیں۔ غداروں نے ان پر نرغہ کیا ہے۔ میری تمنا ہے کہ ان پر جان قربان کروں۔ یہ سن کر نئی دلہن نے ایک آہ سرد دل پر درد سے کھینچی اور کہنے لگی، اے میرے سر کے تاج ! افسوس کہ میں اس جنگ میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ شریعت اسلامیہ نے عورتوں کو لڑنے کے لئے میدان میں آنے کی اجازت نہیں دی۔ افسوس! اس سعادت میں میرا حصہ نہیں کہ تیرے ساتھ میں بھی دشمنوں سے لڑ کر امام عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ پر اپنی جان قربان کروں۔ سبحٰن اللہ عزوجل آپ نے تو جنتی چمنستان کا ارادہ کر لیا وہاں حوریں آپ کی خدمت کی آرذو مند ہوں گی۔ بس ایک کرم فرما دیں اور مجھ سے عہد کریں کہ جب سرداران اہلبیت علیہم الرضوان کے ساتھ جنت میں آپ کیلئے نعمتیں حاضر کی جائیں گی اور جنتی حوریں آپ کی خدمت کیلئے حاضر ہوں گی۔ اس وقت آپ مجھے بھی ہمراہ رکھیں گے۔ حسینی دولھا اپنی اس نیک دلہن اور برگزیدہ ماں کو لے کر فرزند رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دلہن نے عرض کیا، یا ابن رسول اللہ ! شہداء گھوڑے سے زمین پر گرتے ہی حوروں کی گود میں پہنچتے ہیں اور غلمان جنت کمال اطاعت شعاری کے ساتھ ان کی خدمت کرتے ہیں۔ “ یہ “ حضور پر جاں نثاری کی تمنا رکھتے ہیں۔ اور میں نہایت ہی بے کس ہوں، کوئی ایسے رشتہ دار بھی نہیں جو میری خبر گیری کر سکیں۔ التجا یہ ہے کہ عرصہ گاہ محشر میں میری “ ان “ سے جدائی نہ ہو۔ اور دنیا میں مجھ غریب کو آپ کے اہل بیت اپنی کنیزوں میں رکھیں۔ اور میری تمام عمر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پاک بیبیوں رضی اللہ تعالٰی عنہن کی خدمت میں گزر جائے۔ حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے یہ تمام عہد و پیماں ہو گئے اور سیدنا وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی عرض کر دیا کہ یا امام عالی مقام ! اگر حضور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت سے مجھے جنت ملی تو میں عرض کروں گا یارسول اللہ ! عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یہ بی بی میرے ساتھ رہے کہ میں نے اس سے عہد کیا ہوا ہے۔ حسینی دولھا سیدنا وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ امام عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اجازت لے کر میدان میں چل دیئے۔ یہ دیکھ کر لشکر اعداء پر لرزہ طاری ہو گیا کہ گھوڑے پر ایک ماہر شہسوار ہے۔ جو اجل ناگہانی کی طرح لشکر کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے ہاتھ میں نیزہ ہے دوش پر سپر ہے اور دل ہلا دینے والی آواز کے ساتھ یہ رجز پڑھتا آ رہا ہے۔
امیر الحسن و نعم الامیر
لہ لمعۃ کا لسراج المنیر
یعنی حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ امیر ہیں اور بہت ہی اچھے امیر۔ ان کی چمک دمک روشن چراغ کی طرح ہے۔
ایں چہ دوست کہ جاں می بازو
وھب کلبی سگ کوئے حسین
دست اوتیغ زندتا کہ کنندا
روئے اشرار چو گیسوئے حسین
برق خاطف کی طرح میدان میں پہنچے، کوہ پیکر گھوڑے پر سپہ گری کے فنون دکھائے، صف اعداء سے مبارز طلب فرمایا، جو سامنے آیا تلوار سے اس کا سر اڑایا۔ گر دو پیش خود سروں کے سروں کا انبار لگا دیا۔ ناکسوں کے تن خاک و خون میں تڑپتے نظر آنے لگے۔ یکبارگی گھوڑے کی باگ موڑ دی اور ماں کے پاس آ کر عرض کیا کہ اے مادر مشفقہ! تو مجھ سے اب تو راضی ہوئی ! اور دلہن کے پاس پہنچے جو بے قرار رو رہی تھی اور اس کو صبر کی تلقین کی۔ اس کی زبان حال کہتی تھی۔
جاں زعم فرسودہ دارم چوں نہ نالم آہ آہ
دل بدرد آلودہ دارم چوں نہ گریم زار زار
اتنے میں اعداء کی طرف سے آواز آئی۔ ھل من مبارز ؟ یعنی کوئی ہے مقابلہ پر آنے والا ؟ سیدنا وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ گھوڑے پر سوار ہو کر میدان کی طرف روانہ ہوئے۔ نئی دلہن ٹکٹکی باندھے ان کو جاتا دیکھ رہی ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کے دریا بہا رہی ہے۔ حسینی دولھا شیر ژیاں کی طرح تیغ آبرارو نیزہء جاں شکار لے کر معرکہء کارزار میں صاعقہ وار آ پہنچا۔ اس وقت میدان میں اعداء کی طرف سے ایک مشہور بہادر اور نامدار سوار حکم بن طفیل جو غرور نبرد آزمائی میں سرشار تھا تکبر سے بل کھاتا ہوا لپکا سیدنا وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک ہی حملے میں اس کو نیزہ پر اٹھا کر اس طرح زمین پر دے مارا کہ ھڈیاں چکنا چور ہو گئیں اور دونوں لشکروں میں شور مچ گیا۔ اور مبارزوں میں ہمت مقابلہ نہ رہی۔ سیدنا وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے قلب روشن پر پہنچے۔ جو مبارز سامنے آتا اس کو نیزہ کی نوک پر اٹھا کر خاک میں پٹخ دیتے۔ یہاں تک کی نیزہ پارہ پارہ ہو گیا۔ تلوار میان سے نکالی اور تیغ زنوں کی گردنیں اڑا کر خاک میں ملا دیں۔ جب اعداء جنگ سے تنگ آ گئے تو عمرو بن سعد نے حکم دیا کہ سپاہی اس نوجوان کے گرد ہجوم کر کے حملہ کریں اور ہر طرف سے یکبارگی ٹوٹ پڑیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب حسینی دولھا زخموں سے چور ہو کر زمین پر تشریف لائے تو سیاہ دلان بد باطن نے ان کا سر کاٹ کر حسینی لشکر کی طرف اچھال دیا۔ ماں اپنے لخت جگر کے سر کو اپنے منہ سے ملتی تھی اور کہتی تھی اے بیٹا، میرے بہادر بیٹا! اب تیری ماں تجھ سے راضی ہوئی۔ پھر وہ سر اسکی دلہن کی گود میں لا کر رکھ دیا۔ دلہن نے ایک جھرجھری لی اور اسی وقت پروانہ کی طرح اس شمع جمال پر قربان ہو گئی اور اس کی روح حسینی دولھا سے ہم آغوش گئی۔
سر خروئی اسے کہتے ہیں کہ راہ حق میں
سر کے دینے میں ذرا تو نے تامل نہ کیا
اسکنکما اللہ فرادیس الجنان و اغرقکم فی بحار الرحمۃ والرضوان۔
( سوانح کربلا ص 118 تا 123 شبیر برادز لاہور )
علامہ ابو الفرج ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عیون الحکایات میں نقل کرتے ہیں، “ تین شامی گھڑ سوار بہادر، نوجوان بھائی اسلامی لشکر کے ساتھ غزوہ پر روانہ ہوئے، لیکن وہ لشکر سے الگ ہو کر چلتے اور پڑاؤ ڈالتے تھے۔ اور جب تک کفار کا لشکر ان پر حملہ نہ کرتا وہ لڑائی میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ ایک مرتبہ رومی ( عیسائیوں ) کا ایک بڑا لشکر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا اور کئی مسلمانوں کو شہید اور کئی کو قیدی بنا لیا۔ یہ بھائی آپس میں کہنے لگے،“ مسلمانوں پر ایک بڑی مصیبت نازل ہو گئی ہے اور ہم پر لازم ہے کہ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر جنگ میں کود پڑیں، یہ آگے آئے اور جو مسلمان باقی بچے تھے ان سے کہنے لگے، “ تم ہمارے پیچھے ہو جاؤ اور ہمیں ان سے مقابلہ کرنے دو۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہارے لئے کافی ہوں گے۔ پھر یہ رومی لشکر پر ٹوٹ پڑے اور رومیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ رومی بادشاہ ( جو ان تینوں کی بہادری کا منظر دیکھ رہا تھا ) اپنے ایک جرنیل سے کہنے لگا، “ جو ان میں سے کسی نوجوان کر گرفتار کرکے لائے گا میں اسے اپنا مقرب اور سپہ سالار بنا دوں گا۔“ رومی لشکر نے یہ اعلان سن کر اپنی جانیں لڑا دیں اور آخر کار ان تینوں بھائیوں کو بغیر زخمی کئے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ رومی بادشاہ بولا، ان تینوں سے بڑھ کر کوئی فتح اور مال غنیمت نہیں، پھر اس نے اپنے لشکر کو روانگی کا حکم دے دیا اور ان تینوں بھائیوں کو اپنے ساتھ اپنے دارلسلطنت قسطنطنیہ لے آیا اور ان کو عیسائی ہونے کے لئے کہا اور بولا، اگر تم عیسائی ہو جاؤ تو میں اپنی بیٹیوں کی شادی تم سے کر دوں گا اور آئندہ بادشاہت بھی تمہارے حوالے کر دوں گا۔ ان بھائیوں نے ایمان پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی یہ ایمان کش پیشکش ٹھکرا دی اور بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں فریاد کی بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ درباریوں نے جواب دیا، “ یہ اپنے نبی کو پکار رہے ہیں، بادشاہ نے ان بھائیوں سے مخاطب ہو کر کہا، “ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تین دیگوں میں تیل خوب کھولا کر تم میں سے ہر ایک کو ایک دیگ میں پھنکوا دونگا۔“ پھر اس نے تیل کی تین دیگیں رکھ کر ان کے نیچے تین دن تک آگ جلانے کا حکم دیا۔ ہر دن ان بھائیوں کو ان دیگوں کے پاس لایا جاتا اور بادشاہ اپنی پیشکش ان کے سامنے رکھتا کہ عیسائی ہو جاؤ تو میں اپنی بیٹیوں کی شادی بھی تم سے کر دوں گا اور آئندہ بادشاہت بھی تمہارے حوالے کر دونگا۔ یہ تینوں بھائی ہر بار ایمان پر ثابت قدم رہے اور بادشاہ کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ تین دن کے بعد بادشاہ نے بڑے بھائی کو پکارا اور اپنا مطالبہ دہرایا، اس مرد مجاہد نے انکار کیا۔ بادشاہ نے دھمکی دی میں تجھے اس دیگ میں پھنکوا دونگا۔ لیکن اس نے پھر انکار کیا۔ آخر بادشاہ نے طیش میں آکر اسے دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا جیسے ہی اس جوان کو اس کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا گیا، آناً فاناً اس کا سب گوشت پوست جل گیا اور اس کی ہڈیاں اوپر ظاہر ہو گئیں، بادشاہ نے دوسرے بھائی کے ساتھ بھی اسی طرح کیا اور اسے بھی کھولتے تیل میں پھنکوا دیا۔ جب بادشاہ نے اتنی کڑے وقت میں بھی انکی اسلام پر استقامت اور ان مصائب پر صبر دیکھا تو نادم ہو کر اپنے آپ سے کہنے لگے،“ میں نے ان ( مسلمانوں ) سے زیادہ بہادر کسی کو نہ دیکھا اور یہ میں نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ پھر اس نے چھوٹے بھائی کو لانے کا حکم دیا اور اسے اپنے قریب کرکے مختلف حیلے بہانوں سے ورغلانے لگا لیکن وہ نوجوان اس کی چالبازی میں نہ آیا اور اس کے پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی، اتنے میں اس کا ایک درباری بولا، “ اے بادشاہ اگر میں اسے پھسلا دوں تو مجھے انعام میں کیا ملے گا ؟ بادشاہ نے جواب دیا، “ میں تجھے اپنی فوج کا سالار بنا دونگا۔“ وہ درباری بولا مجھے منظور ہے، بادشاہ نے دریافت کیا، “ تم اسے کیسے پھسلاؤ گے ؟ درباری نے جواباً کہا، “ اے بادشاہ تم جانتے ہو کہ عرب کے مرد عورتوں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ بات سارے رومی جانتے ہیں کہ میری فلانی بیٹی حسن و جمال میں یکتا ہے اور پورے روم میں اس جیسی حسین کوئی اور نہیں۔ تم اس نوجوان کو میرے حوالے کر دو میں اسے اور اپنی اس بیٹی کو تنہائی میں یکجا کر دونگا اسے پھسلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بادشاہ نے اس درباری کو چالیس دن کی مدت دی اور اس نوجوان کو اس کے حوالے کر دیا، وہ درباری اس لیکر اپنی بیٹی کے پاس آیا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ لڑکی نے باپ کی بات پر عمل پیرا ہونے پر رضا مندی کا اظہار کیا، وہ نوجوان اس لڑکی کے ساتھ اس لڑکی کے ساتھ اس طرح رہنے لگا کہ دن کو روزہ رکھتا رات بھر نوافل میں مشغول رہتا۔ یہاں تک کہ مقررہ مدت ختم ہونے لگے تو بادشاہ نے اس لڑکی کے باپ سے نوجوان کا حال دریافت کیا۔ اس نے آ کر اپنی بیٹی سے پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ میں اسی پھسلانے میں ناکام رہی یہ میری طرف مائل نہیں ہو رہا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دونوں بھائی اس شہر میں مارے گئے اور انکی یاد اسے ستاتی ہے لٰہذا بادشاہ سے مہلت میں اضافہ کرالو اور اسے اور مجھے اس شہر، جس میں اس کے بھائی مارے گئے، کے علاوہ کسی اور شہر میں پہنچا دو۔ درباری نے سارا ماجرا بادشاہ کو کہہ سنایا۔ بادشاہ نے مہلت میں اضافہ کر دیا اور ان دونوں کو دوسرے شہر پہنچانے کا حکم دے دیا۔ وہ نوجوان یہاں بھی اپنے معمول پر قائم رہا یعنی دن میں روزہ رکھتا اور رات بھر عبادت میں مصروف رہتا، یہاں تک کہ جب مہلت ختم ہونے میں تین دن رہ گئے تو وہ لڑکی بے تابانہ اس نوجوان سے عرض گزار ہوئی، “ میں تمہارے دین میں داخل ہونا چاہتی ہوں اور یوں وہ مسلمان ہو گئی پھر انہوں نے یہاں سے فرار ہونے کی ترکیب بنائی وہ لڑکی اصطبل سے دو گھوڑے لائی اور اس پر سوار ہو کر یہ اسلامی سلطنت کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایک رات انہوں نے اپنے پیچھے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی۔ لڑکی سمجھی کہ عیسائی سپاہی ان کا پیچھا کرتے ہوئے قریب آ پہنچے ہیں۔ اس لڑکی نے نوجوان سے کہا، “ آپ اس رب سے جس پر میں ایمان لا چکی ہوں دعا کیجئے کہ وہ ہمیں دشمنوں سے نجات عطا فرمائے، نوجوان نے پلٹ کر دیکھا رو حیران رہ گیا کہ اس کے وہ دونوں بھائی جو شہید ہو چکے تھے فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان گھوڑوں پر سوار ہیں۔ اس نے ان کو سلام کیا پھر ان سے ان کے احوال دریافت کئے وہ دونوں کہنے لگے۔ ہم ایک ہی غوطے میں جنت الفردوس میں پہنچ گئے تھے اور اللہ عزوجل نے ہمیں تمہارے پاس بھیجا ہے اس کے بعد وہ لوٹ گئے۔ اور وہ نوجوان اس لڑکی کے ساتھ ملک شام پہنچا اور اس کے ساتھ شادی کر کے وہیں رہنے لگا۔ ان شامی بھائیوں کا قصہ ملک شام میں بہت مشہور ہوا اور ان کی شان میں قصیدے کہے گئے جب کا ایک شعر یہ ہے۔
سیعطی الصادقین بفضل صدق
بجدۃ فی الحیدۃ و فی الممات
ترجمہ: عنقریب اللہ تعالٰی سچوں کو سچ کی برکت سے زندگی اور موت میں نجات عطا فرمائے گا۔ اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ ( عیون الحکایات ص 197، 198 دارلکتب العلمیۃ بیروت )
میٹھے میٹھے اسلامیئ بھائیو! دیکھا آپ نے ان تینوں شامی بھائیوں نے کیسا ایمان پر استقامت کا مظاہرہ کیا، ان کے دلوں میں ایمان کس قدر راسخ ہو چکا تھا، یہ عشق کے صرف دعوے کرنے والے نہیں حقیقی معنٰی میں مخلص عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تھے۔ دونوں بھائی جام شہادت نوش کرکے جنت کی سرمدی نعمتوں کے حقدار بن گئے۔ اور تیسرے نے روم کی حسین ترین لڑکی کی طرف دیکھا تک نہیں اور دن رات رب عزوجل کی عبادت میں مصروف رہا اور یوں جو بہ نیت شکار آئی تھی خود اسیر بن کر رہ گئی۔ اس حکایت سے یہ معلوم ہوا کہ مشکلات میں سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مدد چاہنا اور یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پکارنا اہل حق کا طریقہ ہے۔
یارسول اللہ کے نعرہ سے ہم کو پیار ہے
انشاءاللہ عزوجل دو جہاں میں اپنا بیڑہ پار ہے
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
راحت دنیا کے منہ پر ٹھوکر مار دی
اس شامی نوجوان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عزم و استقلال اور ایمان پر استقامت مرحبا! ذرا غور تو فرمائیے! نگاہوں کے سامنے دو عزیز از جان بھائی جام شہادت نوش کر گئے مگر اس کے پائے ثبات کو ذرا بھی لغزش نہیں آئی۔ نہ دھمکیاں ڈرا سکیں نہ ہی قید و بند کی صعوبتیں اسے اپنے عزم سے ہٹا سکیں۔ مصائب و آلام کا ہجوم اس کو اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلا سکا حق و صداقت کا حامی مصیبتوں کی کالی کالی گھٹاؤں سے بالکل نہ گھبرایا۔ طوفان بلا کے سیلاب سے اس کے پائے ثبات میں جنبش تک نہ ہوئی۔ خدا و مصطفٰے عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا شدائی دنیا کی آفتوں کو بالکل خاطر میں نہ لایا۔
بلکہ راہ خدا عزوجل میں پہنچنے والی ہر مصیبت کا اس نے خوش دلی کے ساتھ خیر مقدم کیا، نیز دنیا کے مال اور حسن و جمال کا لالچ بھی اس کے عزائم سے اس کو نہ ہٹا سکا اور اس مرد غازی نے اسلام کی خاطر ہر طرح سے راحت دنیا کے منہ پر ٹھوکر مار دی۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
ہے ٹھوکر سے دو نیم صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو چیز ہے لذت آشنائی
شہادت سے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
آخر کار اللہ عزوجل نے رہائی کے بھی خوب اسباب فرمائے۔ وہ رومی لڑکی مسلمان ہو گئی اور دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک بھی ہو گئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ بھی دونوں جہاں کی سرخروئی کے تمنائی ہیں تو دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفر کرتے رہنے کا معمول بنا لیجئے۔!

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
muhammad khurshid ali
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 371
Join date : 05.12.2009
Age : 36
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: حسینی دولھا رضی اللہ تعالٰی عن   Wed 23 Dec 2009 - 10:47

Back to top Go down
View user profile
 
حسینی دولھا رضی اللہ تعالٰی عن
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: رضائے محمد ﷺ لائبریری :: اسلامی کتابیں اور مضامین :: رسائلِ رضویہ و عطاریہ-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Create your own blog