Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 101 مدنی پھول

Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:30


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ؕ
اَمَّا بَعْدُ فاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ

101 مَدَنی پھول

شيطٰن لاکھ روکے مگر یہ رسالہ (32صفحات) مکمَّل پڑھیں، ان شاءَ اللہ عزوجل کافی سنّتیں سیکھنے کوملیں۔

دُرُود شریف کی فضیلت

رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم ، رَحمتِ عالَم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے:قِیامت کے روز اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہیں ہو گا، تین شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں ہوں گے۔ عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ کون لوگ ہوں گے؟ارشاد فرمایا:(1)وہ شخص جو میرے اُمّتی کی پریشانی دُور کرے (2) میری سُنّت کو زِندہ کرنے والا(3) مجھ پر کثرت سے دُرود شریف پڑھنے والا۔ (البدور السّافرۃ فی امور الا خرۃ للسیوطی ص ۱۳۱حدیث ۳۶۶ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نَوشَۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سُنّت سے

مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

سینہ تِری سُنّت کا مدینہ بنے آقا
جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اب مختلف عنوانات پر مَدَنی پھول قبول فرمایئے،پیش کردہ ہر ہر مَدَنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبول علٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگارنِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین سے منقول مَدَنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو '' سنّتِ رسول '' نہیں کہہ سکتے ۔

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:31

''السَّلامُ علیکُم'' کے گیارہ حُرُوف کی نسبت سے سلام کے 11 مَدَنی پھول

(1)مسلمان سے ملاقات کرتے وقت اُسے سلام کرنا سنّت ہے (2) مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصہ 16صَفْحَہ 102 پر لکھے ہوئے جُزیئے کا خلاصہ ہے:'' سلام کرتے وَقت دل میں یہ نیّت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اِس کا مال اور عزّت و آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں ان میں سے کسی چیز میں دَخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں ''(3) دن میں کتنی ہی بار ملاقات ہو، ایک کمرہ سے دوسرے کمرے میں بار بار آنا جانا ہو وہاں موجود مسلمانوں کو سلام کرنا کارِ ثواب ہے (4)سلام میں پہل کرنا سنّت ہے(5) سلام میں پہل کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کامُقرَّب ہے (6) سلام میں پہل کرنے والا تکبُّر سے بھی بری ہے ۔ جیسا کے میرے مکّی مَدَنی آقا میٹھے میٹھے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ باصفا ہے : پہلے سلام کہنے والا تکبُّر سے بَری ہے۔ (شُعَبُ الایمان ج۶ ص ۴۳۳ ) (7) سلام (میں پہل) کرنے والے پر 90 رَحمتیں اور جواب دینے والے پر 10 رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں (کیمیائے سعادت ) (Cool السَّلامُ علیکم کہنے سے 10 نیکیاں ملتی ہیں ۔ ساتھ میں وَ رَحمَۃُ اللہ بھی کہیں گے تو 20نیکیاں ہو جائیں گی ۔ اور وَبَرَکاتُہ،شامل کریں گے تو 30 نیکیاں ہو جائیں گی۔ بعض لوگ سلام کے ساتھ جنَّتُ المقام اور دوزخُ الحرام کے الفاظ بڑھا دیتے ہیں یہ غلط طریقہ ہے۔ بلکہ مَن چلے تو معاذاللہ یہاں تک بک جاتے ہیں: آپ کے بچّے ہمارے غلام ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 22 صَفْحَہ409 پر فرماتے ہیں : کم از کم السَّلامُ علیکم اوراس سے بہتروَرَحمَۃُ اللہ ملانا اور سب سے بہتر وَبَرَکاتُہ، شامل کرنا اور اس پر زِیادَت نہیں۔ پھرسلام کرنے والے نے جتنے الفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اعادہ تو ضَرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے۔ اس نے السَّلامُ علیکم کہا تو یہ وعَلَیکُمُ السَّلام وَرَحمَۃُ اللہ کہے۔ اورا گر اس نے السَّلامُ علیکم وَ رَحمَۃُ اللہ کہا تو یہ وَعَلیکمُ السَّلامُ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہٗ کہے اوراگر اس نے وبَرَکاتُہٗ تک کہا تویہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زِیادَت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم(9) اِسی طرح جواب میں وَعَلَیکُمُ السَّلامُ وَ رَحمَۃُ اللہِ وَ بَرَکاتُہٗ کہہ کر 30 نیکیاں حاصِل کی جا سکتی ہیں (10) سلام کا جواب فوراً اور اتنی آواز سے دینا واجِب ہے کہ سلام کرنے والا سُن لے (11) سلام اور جوابِ سلام کا دُرُست تلفُّظ یاد فرما لیجئے ۔ پہلے میں کہتاہوں آپ سُن کر دوہرایئے: اَلسَّلامُ عَلَیکُمْ(اَسْ۔ سَلا۔مُ ۔ عَلَے ۔ کُمْ) اب پہلے میں جواب سناتا ہوں پھر آپ اس کو دوہرایئے: وَعَلَیکُمُ السَّلام (وَ۔عَ۔لَیکُ۔مُسْ۔سَلام) ۔ طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صفحات) نیز 120 صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو
ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا
جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد






=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:35


''ہاتھ ملانا سنّت ہے'' کے چودہ حُرُوف کی نسبت سے ہاتھ ملانے کے 14 مَدَنی پھول

(1)دومسلمانوں کابوقتِ ملاقات سلام کر کے دونوں ہاتھوں سے مُصافَحَہ کرنا یعنی دونوں ہاتھ ملانا سنّت ہے(2) رخصت ہوتے وَقت بھی سلام کیجئے اورہاتھ بھی ملا سکتے ہیں (3)نبی مُکَرَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا ارشادِ معظَّم ہے:''جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہوئے مُصافَحہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خیریت دریافت کرتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے درمیان سو رحمتیں نازل فرماتاہے جن میں سے ننانوے رحمتیں زیادہ پرتپاک طریقے سے ملنے والے اور اچھے طریقے سے اپنے بھائی سے خیریت دریافت کرنے والے کے لئے ہوتی ہیں۔'' ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطَّبَرَانِیّ ج۵ ص ۳۸۰ رقم ۷۶۷۲)

(4) ''جب دودو ست آپس میں ملتے ہیں اور مُصافَحَہ کرتے ہیں اور نبی( صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ) پردُرُود پاک پڑھتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ '' (شُعَبُ الْاِیْمَان لِلْبَیْہَقِیّ حدیث ۸۹۴۴ ج ۶ ص ۴۷۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

(5)ہاتھ ملاتے وقت درود شریف پڑھ کر ہو سکے تو یہ دعا بھی پڑھ لیجئے: ''یَغفِرُ اللہُ لَنَا وَ لَکُم'' ( یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفِرت فرمائے) (6)دو مسلمان ہاتھ ملانے کے دَوران جو دعا مانگیں گے اِن شاءَ اللّٰه عزَّوَجَلَّ قَبول ہوگی ہاتھ جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کی مغفرت ہو جائے گی اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَل (مُسنَد اِمام احمد بن حَنبل ج۴ ص۲۸۶ حدیث ۱۲۴۵۴ دارالفکر بیروت)

(7) آپس میں ہاتھ ملانے سے دُشمنی دُور ہوتی ہے (Cool فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہے:جو مسلمان اپنے بھائی سے مُصافَحہ کرے اورکسی کے دل میں دوسرے سے عداوت نہ ہو تو ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ دونوں کے گزَشتہ گناہوں کو بخش دے گا اورجو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی طرف مَحَبَّت بھری نظر سے دیکھے اور اُس کے دل یا سینے میں عداوت نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (کَنْزُ الْعُمّال ج۹ ص ۵۷)

(9)جتنی بار ملاقات ہو ہر بار ہاتھ ملا سکتے ہیں (10) دونوں طرف سے ایک ایک ہاتھ ملانا سنّت نہیں مصافحہ دو ہاتھ سے کرنا سنّت ہے (11) بعض لوگ صِرف اُنگلیاں ہی آپس میں ٹکڑا دیتے ہیں یہ بھی سنت نہیں (12) ہاتھ ملانے کے بعد خود اپنا ہی ہاتھ چوم لینا مکروہ ہے۔ ہاتھ ملانے کے بعد اپنی ہتھیلی چوم لینے والے اسلامی بھائی اپنی عادت نکالیں (بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص۱۱۵ مُلَخَّصاً)

(13) اگر اَمرَد ( یعنی خوبصورت لڑکے) سے ہاتھ ملانے میں شہوت آتی ہو تو اس سے ہاتھ ملانا جائز نہیں بلکہ اگر دیکھنے سے شہوت آتی ہو تو اب دیکھنا بھی گناہ ہے (دُرِّمُختارج۲ ص۹۸ دار المعرفۃ بیروت )

(14)مُصافَحَہ کرتے (یعنی ہاتھ ملاتے) وقت سنّت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہئے۔ (بہارِ شريعت حصّہ ۱۶ص۹۸)

طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صفحات ) نیز120صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ )

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:36

''ایک چپ ہزار سکھ'' کے بارہ حُرُوف کی نسبت سے بات چیت کرنے کے 12 مَدَنی پھول

(1)مسکرا کر اور خندہ پیشانی سے بات چیت کیجئے (2) مسلمانوں کی دلجوئی کی نیّت سے چھوٹوں کے ساتھ مُشفِقانہ اور بڑو ں کے ساتھ مُؤدَّ با نہ لہجہ رکھئے اِن شاءَ اللّٰه عزَّوَجَلَّ ثواب کمانے کے ساتھ ساتھ دو نوں کے نزدیک آپ مُعزَّز رہیں گے (3)چلاّ چلاّ کر بات کرنا جیسا کہ آجکل بے تکلُّفی میں اکثر دوست آپس میں کرتے ہیں سنّت نہیں(4)چاہے ایک دن کا بچّہ ہو اچّھی اچھی نیّتوں کے ساتھ اُس سے بھی آپ جناب سے گفتگو کی عادت بنایئے۔ آپ کے اخلاق بھی اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمدہ ہوں گے اور بچّہ بھی آداب سیکھے گا (5) بات چیت کرتے وقت پردے کی جگہ ہاتھ لگانا، انگلیوں کے ذَرِیعے بدن کا میل چُھڑانا، دوسروں کے سامنے با ربار ناک کوچھونا یاناک یا کان میں انگلی ڈالنا ، تھوکتے رہنا اچھی بات نہیں ، اس سے دو سرو ں کوگِھن آتی ہے(6)جب تک دوسرا بات کر رہا ہو ،اطمینان سے سنئے۔ اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع کر دینا سنّت نہیں (7) بات چیت کرتے ہوئے بلکہ کسی بھی حالت میں قہقہہ نہ لگائیے کہ سر کار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا (Coolزیادہ باتیں کرنے اور بار بار قہقہہ لگانے سے ہیبت جاتی رہتی ہے (9 )سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے: ''جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اسے دُنیا سے بے رغبتی اور کم بولنے کی نعمت عطا کی گئی ہے تو اس کی قربت وصحبت اختیار کرو کیونکہ اسے حکمت دی جاتی ہے۔'' (سُنَن ابن ماجہ ج۴ص۴۲۲حدیث ۴۱۰۱)
(10) فرمانِ مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم : '' جو چُپ رہا اُس نے نَجات پائی ۔' ' (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ ص۲۲۵ حدیث ۲۵۰۹)

مراٰۃ المناجیح میں ہے :حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ: گفتگو کی چار قسمیں ہیں : (۱) خالِص مُضِر(یعنی مکمَّل طور پر نقصان دِہ) (۲) خالِص مفید(۳) مُضِر (یعنی نقصان دِہ) بھی مفید بھی(۴) نہ مُضِر نہ مفید۔ خالص مُضِر(یعنی مکمَّل نقصان دِہ ) سے ہمیشہ پرہیز ضَروری ہے، خالِص مفید کلام(بات) ضَرور کیجئے ،جو کلام مُضِر بھی ہومفید بھی اس کے بولنے میں احتیاط کرے بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں وَقت ضائِع کرنا ہے ۔ا ن کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہٰذا خاموشی بہتر ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۴۶۴)

(11)کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصدبھی ہونا چاہیے اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے (12)بدزبانی اور بے حیائی کی با تو ں سے ہر وقت پرہیز کیجئے ، گالی گلوچ سے اجتناب کر تے رہئے اور یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو بِلا اجازتِ شَرعی گالی دینا حرام ِقَطعی ہے (فتاوٰی رضویہ،ج۲۱،ص۱۲۷) اور بے حیائی کی بات کرنے والے پر جنّت حرام ہے ۔حُضُور تا جدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: '' اس شخص پر جنّت حرام ہے جو فُحش گوئی (بے حیائی کی بات ) سے کام لیتا ہے ۔' ' ( کتابُ الصَّمْت مع موسوعۃالامام ابن ابی الدنیا، ج۷ص۲۰۴ رقم ۳۲۵ المکتبۃ العصریۃ بیروت)

طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صفحات) نیز 120 صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب '' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:38

''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن '' کے ستَّرہ حُرُوف کی نسبت سے چھینکنے کے آداب کے17 مَدَنی پھول

دوفرامَین مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم :(1) اللہ عَزَّوَجَلَّ کو چھینک پسند ہے اور جماہی ناپسند ۔ (بُخارِی ج ۴ ص۱۶۳حدیث۶۲۲۶)

(2)جب کسی کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے تو فِرِشتے کہتے ہیں: رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ اور اگر وہ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ کہتا ہے تو فِرِشتے کہتے ہیں: اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رَحم فرمائے۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیْر ج۱۱ ص۳۵۸ حدیث ۱۲۲۸۴ )

(3)چھینک کے وَقت سر جھکایئے ، منہ چُھپایئے او رآوا ز آہِستہ نکالئے، چھینک کی آواز بُلند کرنا حَماقت ہے ۔ (رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۸۴)

(4)چھینک آنے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا چاہیے

(خزائنُ العرفان صَفْحَہ3پر طَحطاوی کے حوالے سےچھینک آنے پرحمدِ الہٰی کو سُنّتِ مُؤَکَّدہ لکھا ہے ) بہتر یہ ہے کہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کلِّ حَال کہے (5) سننے والے پر واجِب ہے کہ فو راً یَر حَمُکَ اللہ ''( یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے)کہے ۔ اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والاخود سن لے ۔(بہارِشريعت حصّہ۱۶ص۱۱۹ )(6)جواب سن کر چھینکنے والاکہے:''

یَغْفِرُاللہُ لَنَاوَلَکُمْ '' (یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفِرت فرمائے ) یا یہ کہے : '' یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ '' (یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ تمہیں ہدایت دے اورتمہارا حال درست کرے)۔ (عالَمگیری ج ۵ ص ۳۲۶)

(7) جو کوئی چھینک آنے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کلِّ حَال کہے اور اپنی زبان سارے دانتوں پر پھیر لیا کرے تو اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔ ( مراٰۃُ المناجیح ج۶ ص۳۹۶)

(Cool حضرتِ مولائے کائنات ، علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:جوکوئی چھینک آنے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کلِّ حَال کہے تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مبتَلانہیں ہوگا۔ (مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِيْح ج۸ ص۴۹۹تَحتَ الحدیث ۴۷۳۹)

(9)چھینکنے والے کو چاہیے کہ زورسے حمد کہے تا کہ کوئی سنے اور جواب دے۔ (رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۶۸۴ )

(10)چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجِب ہے، دوسری بار چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے تو دو بارہ جواب واجِب نہیں بلکہ مُستَحَب ہے۔ (عالَمگیری ج ۵ ص۳۲۶)

(11)جوا ب اس صورت میں واجب ہوگاجب چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے اور حمد نہ کرے تو جواب نہیں ۔ (بہارِشريعت حصّہ۱۶ص۱۲۰ )

(12)خطبے کے وقت کسی کو چھینک آئی تو سننے والا اس کو جواب نہ دے ۔ (فتاوٰی قاضی خان ج۲ ص۳۷۷)

(13)کئی اسلامی بھائی موجود ہوں تو بعض حاضِرین نے جواب دے دیا تو سب کی طرف سے جواب ہوگا مگر بہتریہی ہے کہ سارے جواب دیں ۔ (رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۶۸۴)

(14)دیوار کے پیچھے کسی کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا تو سننے والا اس کا جواب دے۔ (ایضاً) (15) نَما زمیں چھینک آئے توسُکوت کرے (یعنی خاموش رہے) اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہہ لیا تو بھی نَماز میں حَرَج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارِغ ہو کر کہے۔ (عالَمگیری ج ۱ ص ۹۸ )

(16) آپ نَماز پڑھ رہے ہیں اور کسی کو چھینک آئی اور آپ نے جواب کی نیّت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہہ لیا تو آپ کی نماز ٹوٹ جائے گی۔ (عالَمگیری ج ۱ ص۹۸)

(17)کافِر کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہاتو جواب میں یَھْدِ یْکَ اللہُ ( یعنی اللہُ عزَّوَجَلَّ تجھے ہدایت کرے ) کہاجائے۔ (رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۸۴)

طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب'' بہارِ شریعت '' حصّہ16 (312صَفَحات ) نیز 120صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چندسُنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نَوشَۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

سُنّتیں عام کریں دین کا ہم کام کریں
نیک ہو جائیں مسلمان مدینے والے

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:39

''یانبیَّ ا للہ'' کے نو حُرُوف کی نسبت سے ناخُن کاٹنے کے9 مَدَنی پھول

(1)جُمُعہ کے دن ناخن کاٹنامُستَحَب ہے۔ ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جُمُعہ کا اِنتظار نہ کیجئے (دُرِّمُختارج۹ص۶۶۸)

صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ مولیٰنا امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں :منقول ہے:جو جُمُعہ کے روز ناخُن تَرَشوائے (کاٹے)اللہ تعالیٰ اُس کو دوسرے جُمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جُمُعہ کے دن ناخُن تَرَشوائے (کاٹے) تو رَحمت آئیگی اور گُناہ جائیں گے (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتَارج۹ص۶۶۸، بہارِشريعت حصّہ۱۶ ص ۲۲۵،۲۲۶)

(2) ہاتھوں کے ناخُن کاٹنے کے منقول طریقے کاخُلاصہ پیشِ خدمت ہے: پہلے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شُرو ع کر کے ترتیب وار چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) سَمیت ناخن کاٹے جائیں مگر انگوٹھا چھوڑدیجئے ۔اب اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) سے شروع کرکے تر تیب وار انگوٹھے سَمیت ناخن کاٹ لیجئے۔اب آخِرمیں سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹا جائے۔ (دُرِّمُختارج۹ص۶۷۰، اِحْیاءُ الْعُلُوم ج ۱ ص ۱۹۳ )

(3) پاؤں کے ناخُن کاٹنے کی کوئی ترتیب منقول نہیں ، بہتر یہ ہے کہ سیدھے پاؤں کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی)سے شُروع کر کے تر تیب وار انگو ٹھے سَمیت ناخُن کاٹ لیجئے پھر اُلٹے پاؤں کے انگو ٹھے سے شُرو ع کر کے چھنگلیاں سَمیت ناخن

کاٹ لیجئے۔(اَیضاً)(4) جَنابت کی حالت (یعنی غُسل فرض ہونے کی صورت ) میں ناخُن کاٹنامکروہ ہے۔ (عالَمگیری ج ۵ ص۳۵۸)

(5) دانت سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے اور اس سے برص یعنی کوڑھ کے مرض کا اندیشہ ہے۔ (اَیضاً) (6) ناخُن کاٹنے کے بعد ان کو دَفن کر دیجئے اور اگر ان کو پھینک دیں تو بھی حَرَج نہیں ۔ (اَیضاً)(7)ناخن کا تَراشہ (یعنی کٹے ہوئے ناخن) بیتُ الْخَلاء یا غسل خانے میں ڈال دینا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے ۔ (اَیضاً)(Cool بدھ کے دن ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں کہ برص یعنی کوڑھ ہوجانے کا اندیشہ ہے البتہ اگر اُنتالیس(39) دن سے نہیں کاٹے تھے، آج بد ھ کو چالیسواں دن ہے اگر آج نہیں کاٹتا توچالیس دن سے زائد ہوجائیں گے تو اس پر واجِب ہوگا کہ آج ہی کے دن کاٹے اس لیے کہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے۔( تفصیلی معلومات کے لیے فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد22 صَفْحَہ 574 ،685 ملاحظہ فرمالیجئے) (9)لمبے ناخن شیطان کی نشست گاہ ہيں یعنی ان پر شیطان بیٹھتا ہے ۔ ( اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج۲ص۶۵۳ )

طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صَفَحات )نیز 120 صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو
ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

سنتیں عام کریں دین کا ہم کام کریں نیک ہو جائیں مسلمان مدینے والے

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:40

''چل مدینہ'' کے سات حُرُوف کی نسبت سے جوتے پہننے کے 7 مَدَنی پھول

فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم :(1)جوتے بکثرت استعمال کرو کہ آدمی جب تک جوتے پہنے ہوتا ہے گویا وہ سُوار ہوتا ہے۔( یعنی کم تھکتا ہے) (مُسلِم ص۱۱۶۱ حدیث۲۰۹۶ )

(2) جوتے پہننے سے پہلے جھاڑ لیجئے تاکہ کیڑا یا کنکر وغیرہ ہوتو نکل جائے(3) پہلے سیدھا جوتا پہنئے پھر ُالٹا اور اُتارتے وَقت پہلے اُلٹا جوتا اُتاریئے پھر سیدھا۔فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : جب تم میں سے کوئی جوتے پہنے تو دائیں(یعنی سیدھی ) جانب سے اِبتداء کرنی چاہیے اور جب اُتارے تو بائیں(یعنی الٹی) جانب سے اِبتِداء کرنی چاہیے تاکہ دایاں (یعنی سیدھا)پاؤں پہننے میں اوّل اور اُتارنے میں آخِری رہے۔ (بُخاری ج ۴ ص ۶۵ حدیث۵۸۵۵ )

نزھۃُ القاری میں ہے :مسجد میں داخِل ہوتے وقت حکم یہ ہے پہلے سیدھا پاؤں مسجد میں رکھے اور جب مسجد سے نکلے تو پہلے اُلٹا پاؤں نکالے ۔ مسجد کے داخلے کے وقت اس حدیث پر عمل دشوار ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرّحمٰن نے اس کا حل یہ ارشاد فرمایا ہے :جب مسجد میں جاناہو تو پہلے اُلٹے پاؤں کو نکال کر جوتے پر رکھ لیجئے پھر سیدھے پاؤں سے جوتا نکال کر مسجد میں داخل ہو۔ اور جب مسجد سے باہر ہوتواُلٹا پاؤں نکال کر جوتے پر رکھ لیجئے پھر سیدھا پاؤں نکال کرسیدھا جوتا پہن لیجئے پھراُلٹا پہن لیجئے۔ ( نزہۃ القاری ج ۵ ص۵۳۰ فرید بک اسٹال )

(4)مَرد مردانہ اور عورت زَنانہ جوتا استعمال کرے(5)کسی نے حضرتِ سیِّدتُنا عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ ایک عورت (مردوں کی طرح) جوتے پہنتی ہے۔ انھوں نے فرمایا: رسولُ اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ عليه وسلم نے مردانی عورَتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ( اَ بُو دَاو،د ج۴ ص ۸۴ حديث۴۰۹۹ )

صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: یعنی عورَتوں کو مردانہ جوتا نہیں پہننا چاہیے بلکہ وہ تمام باتیں جن میں مردوں اور عورَتوں کا امتیاز ہوتا ہے ان میں ہر ایک کودوسرے کی وَضع اختیار کرنے(یعنی نقّالی کرنے) سے مُمانَعَت ہے، نہ مرد عورت کی وَضع(طرز) اختیار کرے، نہ عورت مرد کی۔ (بہارِشريعت حصّہ۱۶ص ۶۵ مکتبۃ المدینہ )

(6) جب بیٹھیں تو جوتے اتا ر لیجئے کہ اِس سے قدم آرام پاتے ہیں(7)(تنگدستی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ )اوندھے جوتے کو دیکھنا اور اس کو سیدھانہ کرنا'' دولتِ بے زوال '' میں لکھا ہے کہ اگر رات بھر جوتا اوندھا پڑا رہا تو شیطان اس پر آن کر بیٹھتا ہے وہ اس کا تخت ہے۔ (سنی بہشتی زیور حصہ ۵ ص۶۰۱)

استعمالی جُوتا اُلٹا پڑا ہوتو سیدھا کردیجئے ۔طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب ،بہارِ شریعت حصّہ 16 (312صفحات) نیز 120 صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:42

'' مدینے کی حاضِری'' کے بارہ حُرُوف کی نسبت سے گھر میں آنے جانے کے 12 مَدَنی پھول

(1)جب گھرسے باہَر نکلیں تو یہ دُعا پڑھئے : '' بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ'' ترجمہ ـ: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے ،میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ پر بھروسہ کیا ۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوَّت۔ (ابوداو،د، ج۴ ص۴۲۰ حدیث۵۰۹۵) اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس دعاکوپڑھنے کی بَرَکت سے سیدھی راہ پر رہیں گے ، آفتوں سے حفاظت ہو گی اور اللہُ الصَّمَدعَزَّوَجَلّ َکی مدد شاملِ حال رہے گی(2) گھرمیں داخل ہونے کی دعا:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیۤ اَسْأَ لُکَ خَیْرَ الْمَوْلَجِ وَ خَیْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللہِ وَلَجْنَا وَ بِسْمِ اللہِ خَرَجْنَا وَ عَلَی اللہِ رَبِّنَا تَوَ کَّلْنَا۔ (اَیضاً۔حدیث۵۰۹۶)
کی اور نکلنے کی بھلائی مانگتاہوں،اللہ عزَّوَجَلَّ کے نام سے ہم (گھر میں ) داخل ہوئے اور اسی کے نام سے باہر آئے اور اپنے رب اللہ عزَّوَجَلَّ پر ہم نے بھروسہ کیا ) دعا پڑھنے کے بعد گھر والوں کو سلام کرے پھر بارگاہِ رسالت میں سلام عرض کر ے اس کے بعد سورۃُ الِاخلاص شریف پڑھے۔ اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَل روزی میں بَرَکت ، اور گھر یلو جھگڑوں سے بچت ہو گی(3) اپنے گھر میں آتے جاتے محارِم ومَحرمات (مَثَلاً ماں، باپ ، بھائی،بہن، بال بچّے وغیرہ)کوسلام کیجئے(4) اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لئے بغیر مَثَلاً بسم اللہ کہے بِغیر جو گھر میں داخل ہوتا ہے شیطان بھی اُس کے ساتھ داخِل ہو جاتا ہے (5) اگر ایسے مکان(خواہ اپنے خالی گھر) میں جانا ہو کہ اس میں کوئی نہ ہو تو یہ کہئے: اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْن (یعنی ہم پر اوراللہ عزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں پر سلام )فِرِشتے اس سلام کا جواب دیں گے۔ ( رَدُّالْمُحتارج۹ ص ۶۸۲)

یا اس طرح کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ (یعنی یا نبی آپ پر سلام ) کیونکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی رُوحِ مبارَک مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرما ہوتی ہے۔ (بہارِشريعت حصّہ۶ا ص۹۶، شرح الشّفاء للقاری ج۲ص۱۱۸)

(6) جب کسی کے گھر میں داخل ہونا چاہیں تو اِس طرح کہئے : السلامُ علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ (7) اگر داخلے کی اجازت نہ ملے تو بخوشی لوٹ جائیے ہو سکتا ہے کسی مجبوری کے تحت صاحبِ خانہ نے اجازت نہ دی ہو (Coolجب آپ کے گھر پر کوئی دستک دے تو سنّت یہ ہے کہ پوچھئے: کون ہے؟ باہَر والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے : مَثَلاً کہے:'' محمد الیاس۔'' نام بتانے کے بجائے اس موقع پر'' مدینہ! ''، میں ہوں!'' ''دروازہ کھولو'' وغیرہ کہنا سنّت نہیں (9) جواب میں نام بتانے کے بعد دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوں تا کہ دروازہ کھلتے ہی گھر کے اندر نظر نہ پڑے (10) کسی کے گھر میں جھانکنا ممنوع ہے ۔بعض لوگوں کے مکان کے سامنے نیچے کی طرف دوسروں کے مکانات ہوتے ہیں لہٰذا بالکونی وغیرہ سے جھانکتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے گھروں میں نظر نہ پڑے (11) کسی کے گھر جائیں تو وہاں کے انتِظامات پر بے جا تنقید نہ کیجئے اس سے اُس کی دل آزاری ہو سکتی ہے (12) واپَسی پر اہلِ خانہ کے حق میں دُعا بھی کیجئے اور شکریہ بھی ادا کیجئے اور سلام بھی اور ہو سکے تو کوئی سنّتوں بھرا رسالہ وغیرہ بھی تحفۃً پیش کیجئے۔ طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ 16 (312صفحات) نیز 120 صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو
ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا
جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:44

'' اِثمد '' کے چار حُرُوف کی نسبت سے سُرمہ لگانے کے 4 مَدَنی پھول

(1)سُنَنِ ابن ماجہ کی روایت میں ہے '' تمام سُرموں میں بہتر سرمہ ''اِثمد'' (اِث۔مِد) ہے کہ یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگا تا ہے ۔'' (سُنَن ابن ماجہ ج۴ص ۱۱۵ حدیث ۳۴۹۷ )

(2) پتھّر کا سُرمہ استعمال کرنے میں حرج نہیں اور سیاہ سرمہ یا کاجل بقصدِ زینت (یعنی زینت کی نیّت سے)مرد کو لگانا مکروہ ہے اور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں۔ ( فتاوٰی عالمگیری ج۵ ص۳۵۹)

(3) سُرمہ سو تے وقت استِعمال کرنا سنت ہے ۔ (مراٰۃالمناجیح ،ج۶،ص۱۸۰)

(4)سرمہ استعمال کرنے کے تین منقول طریقوں کاخلاصہ پیش خدمت ہے: (۱)کبھی دونوں آنکھوں میں تین تین سَلائیاں (۲) کبھی دائیں (سیدھی ) آنکھ میں تین اور بائیں (الٹی) میں دو ،(۳)تو کبھی دونوں آنکھوں میں دو دو اور پھر آخِر میں ایک سَلائی کو سُرمے والی کر کے اُسی کو باری باری دونوں آنکھوں میں لگایئے ۔ (انظر:شُعَبُ الْاِیمان ،ج ۵ ص ۲۱۸ ۔ ۲۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اس طرح کر نے سے اِن شاءَ اللہ تینوں پر عمل ہوتا رہے گا میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تکریم کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سیدھی جانب سے شرو ع کیا کرتے،لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں سُرمہ لگایئے پھر بائیں آنکھ میں ۔طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صفحات ) نیز 120صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے ۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   Wed 18 Jan 2012 - 16:45

''کاش!جنّتُ الْبقیع ملے'' کے پندرہ حُرُوف کی نسبت سے سونے،جاگنے کے 15 مَدَنی پھول

(1) سونے سے پہلے بستر کواچھی طرح جھاڑلیجئے تاکہ کوئی مُوذی کیڑا وغیرہ ہو تو نکل جائے (2) سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیجئے: اَ للّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحیٰ ترجَمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتا ہوں) ( بُخارِی ج۴ص۱۹۶ حدیث ۶۳۲۵)

(3) عصر کے بعد نہ سوئیں عقل زائل ہونے کا خوف ہے۔فرمانِ مصطفٰی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : ''جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے ہی کو ملامت کرے۔'' (مسند ابی یعلی حدیث ۴۸۹۷ ج۴ ص۲۷۸)

(4) دوپہر کوقیلولہ ( یعنی کچھ دیر لیٹنا) مستحب ہے۔ (عالَمگیری ج ۵ ص ۳۷۶ )

صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:غالِباً یہ ان لوگوں کے لیے ہوگا جو شبِ بیداری کرتے ہیں، رات میں نمازیں پڑھتے ذکرِ الٰہی کرتے ہیں یا کُتب بینی یا مطالعے میں مشغول رہتے ہیں کہ شب بیداری میں جو تکان ہوئی قیلولے سے دَفع ہوجائے گی ۔ (بہارِشريعت حصّہ۶ا ص ۷۹ مکتبۃ المدینہ)

(5) دن کے ابتدائی حصے میں سونا یا مغرب و عشاء کے درمیان میں سونا مکروہ ہے۔ (عالَمگیری ج ۵ ص ۳۷۶ ) (6) سونے میں مستحب یہ ہے کہ باطہارت سوئے اور(7) کچھ دیرسیدھی کروٹ پر سیدھے ہاتھ کو رخسار (یعنی گال) کے نیچے رکھ کر قبلہ رُو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر (اَیْضاً) (Cool سوتے وَقت قَبْر میں سونے کو یاد کرے کہ وہاں تنہا سونا ہوگا سوا اپنے اعمال کے کوئی ساتھ نہ ہوگا(9) سوتے وقت یادِ خدا میں مشغول ہو تہلیل و تسبیح وتحمید پڑھے (یعنی لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ- سُبْحٰنَ اللہ-اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔ کا ورد کرتا رہے) یہاں تک کہ سوجائے، کہ جس حالت پر انسان سوتا ہے اُسی پر اٹھتا ہے اور جس حالت پر مرتا ہے قیامت کے دن اُسی پر اٹھے گا (اَیْضاً)(10) جاگنے کے بعد یہ دعا پڑھئے : ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْۤ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ . ( بخاری ج۴ص۱۹۶ حدیث ۶۳۲۵)

ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (11) اُسی وَقت اس کا پکا ارادہ کر ے کہ پرہیز گاری وتَقویٰ کریگا کسی کو ستائے گا نہیں۔ ( فتاوٰی عالَمگیری ج ۵ ص ۳۷۶)

(12) جب لڑکے اور لڑکی کی عمر دس سال کی ہوجائے تو ان کو الگ الگ سُلانا چاہیے بلکہ اس عُمر کا لڑکا اتنے بڑے(یعنی اپنی عمر کے) لڑکوں یا (اپنے سے بڑے )

مَردوں کے ساتھ بھی نہ سوئے (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص۶۲۹)

(13)میاں بیوی جب ایک چار پائی پر سوئیں تو دس برس کے بچّے کو اپنے ساتھ نہ سُلائیں، لڑکا جب حدِشَہوت کوپَہنچ جائے تو وہ مَرد کے حکم میں ہے ( دُرِّمُختار ج۹ص۶۳۰)

(14) نیند سے بیدار ہوکرمِسواک کیجئے (15)رات میں نیند سے بیدار ہوکر تہَجُّد ادا کیجئے تو بڑی سعادت ہے۔سیِّدُ المُبَلِّغین،رَحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا : ''فرضوں کے بعد افضل نَماز رات کی نماز ہے۔'' (صَحِیح مُسلِم ،ص ۵۹۱ حدیث ۱۱۶۳)

طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صفحات)نیز120صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو
ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

مُبَلِّغین و مُبَلّغِات کی خدمات میں معروضات

ہر سنّتوں بھرے بیان کے آخِر میں حتَّی الامکان کچھ نہ کچھ سنّتیں پڑھ کر سنایئے۔سُنَتیں بتانے سے قبل پَیریگراف نمبر(۱) اور بتانے کے بعد نمبر(۲) پڑھ کر سنایئے ۔(مُبَلّغِات آخِری پیرے میں سے قافلے والا حصّہ بیان نہ فرمائیں)
(1)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

ہر ہر مَدَنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبول علٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے کہ ان میں سُنّتوں کے علاوہ بُزُرگارنِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبین سے منقول مَدَنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو '' سنّتِ رسول '' نہیں کہہ سکتے ۔
(2)طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صفحات)نیز120صَفَحات کی کتاب'' سنّتیں اور آداب'' ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Sponsored content




PostSubject: Re: 101 مدنی پھول   

Back to top Go down
 
101 مدنی پھول
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: رضائے محمد ﷺ لائبریری :: اسلامی کتابیں اور مضامین :: رسائلِ رضویہ و عطاریہ-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Sosblog.com