Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 ) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے کر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے۔

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
legendrao



Posts : 10
Join date : 12.05.2011
Age : 36
Location : Sargodha

PostSubject: ) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے کر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے۔   Mon 29 Aug 2011 - 9:42

[right]۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکروں میں سے ایک لشکر میں تھے، لوگ کفار کے مقابلے سے بھاگ نکلے اور ان بھاگنے والوں میں، میں بھی شامل تھا پھر جب پشیمان ہوئے تو سب نے واپس مدینہ جانے کا مشورہ کیا اور عزمِ مصمم کرلیا کہ اگلے جہاد میں ضرور شریک ہوں گے۔ وہاں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کی تمنا کی کہ خود کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کردیں۔ اگر ہماری توبہ قبول ہوگئی تو مدینہ میں ٹھہرجائیں گے ورنہ کہیں اور چلے جائیں گے۔ پھر ہم نے بارگاہِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میںآکر عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم! ہم بھاگنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :
لا، بل أنتم العَکَّارون. قال : فدنونا فقبلنا يده، فقال : أنا فِئَة المسلمين.
ابوداؤد، السنن، 3 : 46، کتاب الجهاد، رقم : 2647
ابوداؤد، السنن، 4 : 356، کتاب الأدب، رقم : 5223
ترمذي، الجامع الصحيح، 4 : 215، ابواب الجهاد، رقم : 1716
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 70، رقم : 5384
بخاري، الأدب المفرد، 1 : 338، رقم : 972
قرطبي، الجامع لإحکام القرآن، 7 : 383
ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 295
ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 541، رقم : 33686
ابن موسي حنفي، معتصر المختصر، 1 : 213
حسيني، البيان والتعريف، 1 : 295، رقم : 786
مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 7 : 437
شوکاني، نيل الاوطار، 8 : 80
ابن سعد، الطبقات الکبري، 4 : 145
’’نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ (یہ سن کر ہم خوش ہوگئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس کو بوسہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوں(یعنی ان کا ملجا و ماویٰ ہوں، وہ میرے سوا اور کہاں جائیں گے)۔‘‘
2۔ امِّ ابان بنت وازع بن زارع اپنے دادا زارع بن عامر جو وفدِ عبدالقیس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے، سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے بیان کیا :
لما قَدِمنا المدينة فجعلنا نتبادرُ من رواحلِنا، فَنُقَبِّلُ يدَ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و رِجلَه.
ابوداؤد، السنن، 4 : 357، کتاب الأدب، رقم : 5225
بخاري، التاريخ الکبير، 4 : 447، رقم : 1493
طبراني، المعجم الکبير، 5 : 275، رقم : 5313
بيهقي، السنن الکبری، 7 : 102، رقم : 13365
بيهقي، شعب الايمان، 6 : 477، رقم : 8966
عسقلاني، فتح الباري، 8 : 85
عسقلاني، فتح الباري، 11 : 57
مبارکپوري، تحفة الاحوذي، 7 : 437
عسقلاني، تلخيص الحبير، 4 : 93، رقم : 1830
طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 133، رقم : 418
مزي، تهذيب الکمال، 9 : 266، رقم : 1946
زيلعي، نصب الراية، 4 : 258
عسقلاني، الدراية في تخريج احاديث الهداية، 2 : 232، رقم : 691
شيباني، الآحاد والمثاني، 3 : 304، رقم : 1684
’’جب ہم مدینہ منورہ گئے تو اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دینے لگے۔‘‘
قدمین شریفین کی برکات
جس پتھر پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنا قدمِ مبارک رکھ کر تعمیر کعبہ کرتے رہے وہ آج بھی صحنِ کعبہ میں مقامِ ابراہیم کے اندر محفوظ ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے لگنے سے وہ پتھر گداز ہوا اور اُن قدموں کے نقوش اُس پر ثبت ہو گئے۔ اللہ ربُ العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قدموں کو بھی یہ معجزہ عطا فرمایا کہ اُن کی وجہ سے پتھر نرم ہو جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدومِ مبارک کے نشان بعض پتھروں پر آج تک محفوظ ہیں۔
1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أنّ النبی صلی الله عليه وآله وسلم کان إذا مشي علي الصخر غاصت قدماه فيه و أثرت.
زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 482
سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 27، رقم : 9
[/right]
Back to top Go down
View user profile
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: ) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے کر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے۔   Mon 5 Sep 2011 - 18:54

Jazak Allah

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
 
) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے کر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے۔
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: اسلامی شخصیات :: حضرت محمد ﷺ-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | www.sosblogs.com