Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 36
Location : Rawalpindi

PostSubject: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا   Tue 28 Sep 2010 - 5:47

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا :
سلسلہ نسب :-
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بن ابی قحافہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن مرہ بن کعب بن لوی ۔

کنیت ام عبد اللہ
:-
آپ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی کنیت ام عبد اللہ ہے آپ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے کنیت مقرّر کرنے کی درخواست کی چنانچہ آپ صل اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اپنے بھانجے ( یعنی عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰٰی عنہ ) سے اپنی کنیت رکھ لو ۔
ایک اور روایت میں آٰیا ہے ۔ آپ جب اپنی بہن کے نوائیدا فرزند حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰٰی عنھما کو بارگاہ رسالت میں لے کر حاضر ہوئیں تو نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس کے منہ میں لعاب دھن ڈال کر فرمایا یہ عبد اللہ ہے اور تم اُم عبد اللہ ۔
خواب میں سیدہ کی تصویر :-
ام المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰٰی عنھا فرماتی ہیں کہ رحمت عالمین صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تین رات مسلسل مجھے ایک ریشمی کپڑے پر تمھاری تصویر دکھائی جاتی رہی جسے جبریل علیہ السلام لے کر آتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ہے آپ کی بیوی -
اے عائشہ ! آج جو میں نے تمھارے چہرہ سے کپڑا اٹھایا تو تم اسی تصویر کے مطابق ہو ۔ فرشتہ جب تمھاری تصویر لے کر آتا رہا تو میں نے کہا تھا کہ یہ اللہ تعالٰٰی کی طرف سے ہے اس لئے یہ رشتہ ہو کر رہے گا ۔
دوسری روایت میں یہ لفظ بھی ہیں ۔ یہ تمھاری بیوی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا فرماتی ہیں جب سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ میں جنت میں سرکار ابد قرار صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہوں تو میں ہر قسم کے غم سے بے نیاز ہو گئی ۔
سیدہ کا نکاح :-
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صل اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور پیغام سنایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنھا کا نکاح آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرما دیا ہے ان کے پاس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی ایک تصویر تھی ۔
آپ کا نکاح مدینہ طیبہ میں چھ سال کی عمر میں ماہ شوال میں ہوا اور ماہ شوال میں نو سال کی عمر میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں نو سال تک رہیں ۔ جب سید عالم صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا تو اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا ماہ شوال میں شادی کی تقریب زیادہ پسند کرتی تھیں اور فرماتی تھیں ۔ میرا نکاح بھی اور رخصتی بھی شوال میں ہوئی اور مجھ سے زیادہ خوش قسمت شوہر کے نزدیک کوئی نہیں ۔
کسی زمانہ میں شوال میں طاعون کی وبا پھیلنے کے باعث لوگ اس مہینے کو منحوس سمجھتے تھے ۔ ان کے ان اوہام باطلہ کو دور فرمانے کے لئے رحمت اللعٰلمین صل اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس مہینہ میں نکاح کرنا اور رخصت کرانے کا چاہا ۔

حبیبہ ء حبیب خدا :-
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے اعظم فضائل و مناقب میں سے ان کے لئے حضور تاجدار مدینہ صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا بہت زیادہ محبت فرمانا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم اپنی نعلین مبارک میں پیوند لگا رہے تھے جبکہ میں چرخہ کاٹ رہی تھی ۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پُر نور کو دیکھا کہ آپ کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہا تھا اور اس پسینہ سے آپ کے جمال میں ایسی تابانی تھی کہ میں حیران تھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف نگاہ کرم اٹھا کر فرمایا کس بات پر حیران ہو ؟ سیدہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم آپ کے رخ روشن اور پسینہ جبین نے مجھے حیران کر دیا ہے اس پر حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
کھڑے ہوئے اور میرے پاس آئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا اے عائشہ !!
اللہ تعالٰی تمھیں جزائے خیر دے تم اتنا مجھ سے لطف اندوز نہیں ہوئی جتنا تم نے مجھے مسرور کر دیا
۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالٰی عنھا سے فرمایا ‘‘ اے فاطمہ ! جس سے میں محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو گی ؟
سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالٰی عنھا نے عرض کیا ، ضرور یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں محبت رکھوں گی ۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو عائشہ سے محبت رکھو
۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ انھوں نے کسی کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے بارے میں بد گوئی کرتے سنا تو حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا ! او ذلیل و خوار خاموش رہ ، کیا تو اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبوبہ پر بد گوئی کرتا ہے ۔
حضرت مسروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ذوق روایت !
حضرت مسروق رضی اللہ تعالٰٰی عنہ اکابر تابعین میں سے ہیں جب سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰٰی عنھا سے روایت کرتے ہیں تو فرمایا کرتے !
حدثنی الصدیقہ بنت الصدیق حبیبۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم ، مجھ سے حدیث بیان کی صدیقہ بیٹی صدیق کی محبوبہ رسول صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم نے یا کبھی اس طرح حدیث بیان کرتے حبیبۃ حبیب اللہ امرائۃ من السماء اللہ کے حبیب کی محبوبہ آسمانی بیوی !!!
سیدہ کا نازو نیاز !
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰٰی عنھا کو محبوب کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گفتگو کرنے کی بہت قدرت تھی اور وہ جو چاہتیں بلا جھجک عرض کر دیتی تھیں اور یہ اس قرب و محبت کی وجہ سے تھی جو ان کے مابین تھی ۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰٰی عنھا سے مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں اپنی گڑیاں گھر کے ایک دریچہ میں رکھ کر اس پر پردہ ڈالے رکھتی تھی ۔ سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت زید رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی تھے ۔ انھوں نے دریچہ کے پردہ کو اٹھایا اور گڑیاں حضور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دکھائیں ۔ حضور اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ سب کیا ہیں ۔ میں نے عرض کیا یہ میری بیٹیاں ہیں یعنی یہ میری گڑیاں ہیں ۔ ان گڑیوں میں ایک گھوڑا ملاحظہ فرمایا جس کے دو بازو تھے ۔ فرمایا کیا گھوڑوں کے بھی بازو ہوتے ہیں !
میں عرض کیا شاید حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے تھے اور ان کے بازو تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اتنا تبسم فرمایا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دندانہائے مبارک کشادہ ہو گئے
۔
ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوگا مگر حق تعالٰی کی رحمت اور اس کے فضل سے سیدہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم !
کیا آپ بھی جنت میں داخل نہ ہونگے مگر خدا کی رحمت سے !
فرمایا ‘‘ ہاں میں بھی داخل نہ ہوں گا مگر یہ کہ مجھے حق تعالٰی نے اپنی رحمت میں چھپا لیا ہے
۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک دن حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو نبی کریم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بڑی فراخی سے باتیں کرتے ہوئے ملاحظہ فرمایا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیدہ سے فرمایا بیٹی !
آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ہمیشہ نیاز مندی اختیار کرو ۔
جب وہاں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ وہاں سے چلے آئے تو حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو ان کی رضا کے مطابق گفتگو کرنے کی اجازت عطا فرمائی ۔ اسی اثنا میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا پھر آنا ہوا تو سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو بہت خوش پایا تو آپ بھی بہت خوش ہوئے
۔
ایک دفعہ کسی بات پر طرفین کے درمیان شکر رنجی ہوئی تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰٰی عنہ کو بلایا گیا ۔ انھوں نے حضور صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم سے اتنی سی بات کو بھی نا پسند کیا اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰٰی عنھا کو سختی سے ہدایت فرمانے لگے ۔
حضور صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ جائیے یہ ہمارا اپنا معاملہ ہے اور مسکرا دئیے
۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰٰی عنھا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کبھی تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو میں جان لیتا ہوں اور جب کبھی تم مجھ سے خفا ہوتی ہو تو بھی جان لیتا ہوں ۔ میں نے عرض کیا آپ کہاں سے پہنچانتے تھے فرمایا جب تم ہم سے خوش ہوتیں تو کہتی محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے رب عزوجل کی قسم اور جب تم ہم سے خفا ہوتی تو کہتی حضرت ابراھیم علیہ السلام کے رب کی قسم ۔
میں نے عرض کیا ہاں یا رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی تھی ۔ مطلب یہ کہ اس حال میں صرف آپ کا نام نہیں لیتی لیکن آپ کی ذات گرامی اور آپ کی یاد میرے دل میں اور میری جان آپ کی محبت میں مستغرق ہے ۔

تفقہہ فی الدین :-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا فقہاء و علماء و فصحاء بلغاء اکابر صحابہ میں سے تھیں اور حدیثوں میں آیا ہے کہ تم اپنے دو تہائی دین کو ان حمیراء یعنی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰٰی عنھا سے حاصل کرو ۔ عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے کسی کو معانی قرآن احکام حلال و حرام ، اشعار عرب اور علم انساب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے زیادہ عالم نہیں دیکھا ۔
حضرت ابو موسٰی رضی اللہ تعالٰٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضور اکرم صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم کی کسی حدیث پاک سمجھنے اور کسی دوسرے مسئلہ کے سمجھنے میں گر کوئی مشکل پیش آتی تو ہم ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے دریافت کرتے تو آپ اس مشکل کو حل فرمادیتیں کیونکہ آپ بڑی عالمہ تھیں
۔
ایمان افروز تدبیر :
ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں سخت قحط پڑا بارش نہ ہونے پر لوگ پریشانی کے عالم میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ام المؤمنین !
بارش نہ ہوئی قحط پڑ گیا ہے ۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں ۔ فرمائیے کیا کیا جائے ۔ سیدہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے فرمایا !
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر جاؤ اور قبر انور کے حجرہ مبارکہ کی چھت سے چند جگہ سے مٹی نکال کر روشندان بناؤ تا کہ قبر شریف اور آسمان کے مابین کوئی پردہ نہ رہے اور آسمان قبر شریف کو نظر آنے لگے ۔
آسمان جب قبر انور کو دیکھے گا تو رونے لگے گا اور بارش ہونے لگے گی ۔
ام المؤمنین کی اس تدبیر پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین نے عمل کیا اور روضہ انور کی چھت میں کچھ روشندان بنائے تو آسمان کو قبر انور نظر تو بارش شروع ہو گئی اور اتنی بارش ہوئی کہ گھاس اگ آئی ۔ اونٹ موٹے ہو گئے اور ان میں اتنی چربی اور گوشت پیدا ہو گیا ۔ گویا وہ موٹاپے سے پھٹنے لگے

اس سال کا نام سال ارزانی رکھا گیا !

برکات آل ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ !
ایک سفر میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہو گیا ۔ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نےاس منزل میں پراؤ ڈالا تاکہ ہار مل جائے نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس، نماز کا وقت فوت ہونے کے قریب لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰٰی عنہ کے پاس سیدہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی شکایت لائے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے پاس تشریف لائے ۔ دیکھا کہ راحت العاشقین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیدہ رضی اللہ تعالٰی عنھا پر سختی کا اظہار کیا لیکن سیدہ نے اپنے آپ جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مبارک خواب سے بیدار ہو جائیں ۔
چناچہ صبح ہوگئی اور نماز کے لئے پانی عدم دستیاب ۔
اس وقت اللہ عزوجل نے اپنے لطف و کرم سے آیت تیمّم نازل فرمائی اور لشکر اسلام نے صبح کی نماز تیمّم کے ساتھ ادا کی
۔
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا !
ماھی باَوّل برکتکم یا اٰل ابی بکر
اے اولاد ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ تمھاری پہلی برکت نہیں ہے
۔
مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمھاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد جب اونٹ اٹھایا گیا تو ہار اونٹ کے نیچے سے مل گیا گویا حکمت الہٰی عزوجل یہی تھی کہ مسلمانوں کے لئے آسانی اور سہولت مہیا کی جائے ۔
ارفع شان !
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا فرماتی ہیں کہ بہ نسبت دیگر عورتوں کے مجھے چند امتیازی حیثیتیں حاصل ہیں ۔ شکم مادر میں میری تصویر بننے سے قبل حضور اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو میری صورت دکھائی گئی ۔ مجھے حضور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے سب سے زیادہ پیار عطا فرمایا اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں میری برات کا اعلان فرمایا ۔ نیز فرماتی ہیں حضور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا وصال میرے گھر میں اور میری باری میں ہوا ۔ بوقت وصال آپ میرے سینہ اور گردن سے تکیہ لگائے ہوئے تھے اور سب سے بڑی نعمت جس سے اللہ تعالٰی نے مجھے نوازا وہ یہ کہ وصال کے وقت میرا لعاب دھن اور حضور اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا لعاب دھن جمع فرمادیا ۔ جب میرے بھائی عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہما تشریف لائے انکے ہاتھ میں مسواک تھی ۔ تاجدار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے جسم سے تکیہ لگائے ہوئے تھے سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مسواک کی طرف دیکھا میں نے سمجھا کہ حضور اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو مسواک پسند ہے لہٰذا میں عرض کیا ! کیا آپ کے لئے مسواک لوں ۔
حضور اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے سر انور سے ہاں کا اشارہ فرمایا !
میں نے مسواک لے کر حضور اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دی ۔ حضور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے دھن مبارک میں ڈالا تو وہ سخت تھی میں نے عرض کی اسے نرم کر دوں ؟
فرمایا ، ہاں
میں نے مسواک کو اپنے منہ سے چبا کر اسے نرم کر کے حضور اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دی ۔ اور آپ نے اپنے منہ میں ڈال لی ۔ اس طرح میرا لعاب اور لعاب سرور دو جہاں صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جمع ہو گئے۔
خلیفۃ المسلیمن رضی اللہ تعالٰی عنھم کے ایمان افروز اقوال !
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی برات میں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ۔ام المؤمنین پر افتراء کرنے والے منافق اور جھوٹے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم انور پر مکھی بیٹھنے سے محفوظ رکھا کیونکہ وہ نجاست پر بیٹھتی ہے پھر آپ کو ایسے اتہام سے کیونکہ محفوظ نہ فرماتا ۔
سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰٰی نے آپ کے سائے کو زمین پر نہیں پڑنے دیا تا کہ کسی کا پاؤں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے سایہ پر نہ پڑجائے تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کیوں نہ فرماتا ۔
سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں آپ کے نعلین شریف کو جب آلودگی لگی تو حضرت جبریل علیہ السلام آکر مطلع فرمائیں اگر ایسی بات ہوتی تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو الگ کرنے کا حکم بھی نازل ہو جاتا ۔

انفاق فی سبیل اللہ عزوجل !
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ اگر تم چاہتی ہو کہ جنت میں میرے ساتھ رہو تو تمھیں چاہئے کہ دنیا میں اس طرح رہو جس طرح کہ راہ چلتا مسافر ہوتا ہے کہ وہ کسی کپڑے کو پرانا نہیں سمجھتا جب تک وہ پیوند کے قابل ہے اور وہ اس میں پیوند لگاتا ہے ۔
مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا !
یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میرے لئے دعا فرمائیے کہ حق تعالٰی مجھے جنت میں آپ کی ازواج مطہرات میں رکھے
۔
سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس رتبہ کی تمنا کرتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچا کے نہ رکھو ۔ اور کسی کپڑے کو جب تک اس میں پیوند لگ سکتا ہے بیکار نہ سمجھو ۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اس وصیت و نصیحت پر اس قدر کاربند رہیں کہ کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کے نہ رکھا ۔
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو ستّر ہزار درہم راہ خدا میں صدقہ کرتے دیکھا ہے حالانکہ ان کی قمیص کے مبارک دامن میں پیوند لگا ہوا تھا
۔
ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنھما نے آپ کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے تو آپ نے اسی دن سب کو اقارب و فقراء پر تقسیم فرمادئیے ۔ اس دن روزہ سے ہونے کے باوجود شام کے کھانے کے لئے کچھ نہ بچایا ۔ باندی نے عرض کیا کہ اگر ایک درہم روٹی خریدنے کے لے بچالیتیں تو اچھا ہوتا فرمایا یاد نہیں آیا اگر یاد آ جاتا تو بچا لیتی ۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے کتب معتبرہ میں دو ہزار دو سو حدیثیں مروی ہیں ان میں سے بخاری و مسلم میں ایک سو چوہتر متفق علیہ ہیں اور صرف بخاری میں چوّن اور صرف مسلم میں سٹرسٹھ ہیں بقیہ تمام کتابوں میں ہیں ، صحابہ و تابعین میں سے خلق کثیر نے ان سے روایتیں لی ہیں ۔
وصال !
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور حکومت میں 58ھ میں 68 سال کی عمر میں ہوا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے وصال کے وقت فرمایا کاش کہ میں درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ۔
جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں ۔
باندی نے آکر وصال کی خبر سنائی تو ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنھا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی ان پر رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وہ سب سے زیادہ محبوبہ تھیں اپنے والد ماجد کے بعد
!

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Janti Zever
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 228
Join date : 01.01.2010
Age : 30
Location : United Kingdom

PostSubject: Re: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا   Tue 28 Sep 2010 - 21:10





Back to top Go down
View user profile
muhammad khurshid ali
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 371
Join date : 05.12.2009
Age : 35
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا   Wed 29 Sep 2010 - 9:03


=================================================================================
Back to top Go down
View user profile
Sponsored content




PostSubject: Re: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا   

Back to top Go down
 
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: اسلامی شخصیات :: اہل بیت عظام-
Jump to:  
Free forum | Society and Culture | Meeting | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Create a free blog