Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنھا

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin


Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 36
Location : Rawalpindi

PostSubject: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنھا   Tue 28 Sep 2010 - 5:46

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنھا
عبد المصطفٰٰی اعظمی صاحب رحمۃ اللہ الباری

یہ سردار مکہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن ہیں ان کی ماں صفیہ بنت عاص ہیں جوامیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی پھوپھی ہیں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح پہلے عبید اللہ بن حبش سے ہوا تھا اور میاں بیوی دونوں اسلام قبول کر کے حبشہ کی طرف ہجرت کرکے چلے گئے تھے مگر حبشہ جا کر عبیداللہ بن حبش نصرانی ہوگیا اور عیسائیوں کی صحبت میں شراب پیتے پیتے مرگیا لیکن ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے ایمان پر قائم رہیں اور بڑی بہادری کے ساتھ مصائب ومشکلات کا مقابلہ کرتی رہیں جب حضور اکرم کو ان کے حال کی خبر ہوئی تو قلب نازک پر بے حدصدمہ گزرااور آپ نے حضرت عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی دلجوئی کے لئے حبشہ بھیجا اور نجاشی بادشاہ حبشہ کے نام خط بھیجا کہ تم میرے وکیل بن کر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ میرانکاح کر دونجاشی بادشاہ نے اپنی لونڈی ابرہہ کے ذریعہ رسول اللہ کا پیغام حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس بھیجا جب حضرت بی بی ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ خوشنجری کا پیام سنا تو خوش ہوکر ابرہہ لونڈی کو انعام کے طور پر اپنا زیورا تار کر دے دیا پھر اپنے ماموں زاد بھائی حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے نکاح کا وکیل بنا کر نجاشی بادشاہ کے پاس بھیج دیا اور انہوں نے بہت سے مہاجرین کو جمع کرکے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضور علیہ الصلوتہ والسلام کے ساتھ کر دیا اور اپنے پاس سے مہربھی اداکر دیا اور پھر پورے اعزاز کے ساتھ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ حضور علیہ الصلوتہ والسلام کے پاس بھیج دیا اور یہ حضور علیہ الصلوتہ والسلام کی مقدس بیوی اور تمام مسلمانوں کی ماں بن کر حضور کے خانہ نبوت میں رہنے لگیں یہ سخاوت وشجاعت دین داری اور امانت ودیانت کے ساتھ بہت ہی قوی ایمان والی تھیں ایک مرتبہ ان کے باپ ابوسفیان جو ابھی کافرتھے مدینہ میں ان کے گھر آئے اور رسول اللہ کے بستر پر بیٹھ گئے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ذرابھی باپ کی پروا نہیں کی اور باپ کو بستر سے اٹھادیا اور کہا کہ میں ہر گز یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ ایک ناپاک مشرک ، رسول کے اس پاک بستر پر بیٹھے اسی طر ح ان کے جوش ایمانی اور جذبہ اسلامی کے واقعات عجیب وغریب ہیں جوتار یخوں میں لکھے ہوئے ہیں بہت ہی دین داراور پاکزہ عورت تھیں بہت سی حدیثیں بھی یادتھیں اور انتہائی عبادت گزاراور حضور کی بے انتہا خدمت گزازاور وفادار بیوی تھیں ۴۴ھ میں مدینہ منورہ کے اندران کی وفات ہوئی اور جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواج مطہرات کے خطیرہ میں مدفون ہو ئیں ۔
اللہ اکبر! حضرت بی بی ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کی زندگی کتنی عبرت خیز اور تعجب انگیز ہے سردار مکہ کی شہزادی ہو کر دین کے لئے پناہ گزینوں کی ایک جھونپڑی میں رہنے لگتی ہیں ۔ پھر بالکل ناگہاں یہ مصیبت کا پہاڑٹوٹ پڑ تا ہے کہ شوہر جو پردیس کی زمین میں تنہاایک سہارا تھا۔ عیسائی ہو کر الگ تھلگ ہو گیا اور کوئی دوسرا سہارا نہ رہ گیا مگرا یسے نازک اور خطرناک وقت میں بھی ذرا بھی ان کا قدم نہیں ڈگمگایا اور پہاڑ کی طرح دین اسلام پر قائم رہیں ۔ اک ذرا بھی ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا نہ انہوں نے اپنے کافر باپ کو یاد کیا نہ اپنے کافر بھائیوں بھتیجوں سے کوئی مدد طلب کی خداپر تو کل کر کے ایک نامانوس پردیس کی زمین میں پڑی خداکی عبادت میں لگی رہیں یہاں تک کہ خدا کے فضل وکرم اور رحمت للعالمین کی رحمت نے ان کی دستگیری کی اور بالکل اچانک خداوند قدوس نے ان کو اپنے محبوب کی محبوبہ بی بی اور ساری امت کی ماں بنا دیا کہ قیامت تک ساری دنیا ان کو ام المومنین (مومنوں کی ماں ) کہہ کر پکارتی رہے گی اور قیامت میں بھی ساری خدائی خدا کے اس فضل وکرم کا تماشا دیکھے گی۔
اے مسلمان عورتو! دیکھو ایمان پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے اور خدا پر تو کل کر نے کا پھل کتنا میٹھا اور کس قدر لذیذ ہوتا ہے؟ اور یہ تو دنیا میں اجرملا ہے ابھی آخرت میں ان کو کیا کیا اجر ملے گا؟ اور کیسے کیسے درجات کی بادشاہی ملے گی؟ اس کو خداکے سواکوئی نہیں جانتا ہم لوگ تو ان درجوں اور مرتبوں کی بلندی وعظمت کو سوچ بھی نہیں سکتے اللہ اکبر ! اللہ اکبر۔

یہی مائیں ہیں جن کی گود میں اسلام پلتا تھا
حیا سے انکی انساں نور کے سانچے میں ڈھلتا تھا

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
muhammad khurshid ali
Moderator
Moderator


Posts : 371
Join date : 05.12.2009
Age : 35
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنھا   Wed 29 Sep 2010 - 9:03


=================================================================================
Back to top Go down
View user profile
 
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنھا
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: اسلامی شخصیات :: اہل بیت عظام-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Create a blog