Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeWed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeTue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeThu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeThu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeSun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeSun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeSun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeWed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeWed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

 

 حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا

Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
Administrator

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 39
Location : Rawalpindi

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Empty
PostSubject: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeTue 28 Sep 2010 - 5:40

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا
عبد المصطفٰٰی اعظمی صاحب رحمۃ اللہ الباری


یہ رسول اللہحضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کی سب سے پہلی بیوی اور رفیقہ حیات ہیں یہ خاندان قریش کی بہت ہی باوقاروممتاز خاتون ہیں ان کے والد کا نام خویلدبن اسد اور ان کی ماں کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے ان کی شرافت اور پاک دامنی کی بنا پر تمام مکہ والے ان کو "طاہرہ "کے لقب سےپکارا کرتے تھے انہوں نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے اخلاق و عادات اور جمال صورت و کمال سیرت کو دیکھ کرخودہی آپ سے نکاح کی رغبت ظاہر کی چنانچہ اشراف قریش کے مجمع میں با قاعدہ نکاح ہوا یہ رسول اللہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کی بہت ہی جاں نثار اوروفاشعار بیوی ہیں اور حضور اقدس حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuhکو ان سے بہت ہی بے پناہ محبت تھی چنانچہ جب تک یہ زندہ رہیں آپحضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور یہ مسلسل پچیس سال تک محبوب خدا کی جاں نثاری و خدمت گزاری کے شرف سے سر فراز رہیں حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کو بھی ان سے اس قدر محبت تھی کہ ان کی وفات کے بعد آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuhاپنی محبوب ترین بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کرتے تھےکہ خدا کی قسم!خدیجہ سے بہتر مجھےکوئی بیوی نہیں ملی جب سب لو گوں نے میرے ساتھ کفرکیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لا ئیں اورجب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دےدیا اور انہیں کے شکم سے اللہ تعالٰی نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔
اس بات پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuhکی نبوت پر یہی ایمان لائیں اور ابتداء اسلام میں جب کہ ہر طرف آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کی مخالفت کا طوفان اٹھا ہوا تھا ایسے خوف ناک اور کٹھن وقت میں صرف ایک حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ہی ذات تھی جو پروانوں کی طرح حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh پرقربان ہورہی تھیں اور اتنے خطر ناک اوقات میں جس استقلال واستقامت کے ساتھ انہوں نے خطرات ومصائب کا مقابلہ کیا اس خصوصیت میں تمام ازواج مطہرات پر ان کو ایک ممتاز فضیلت حاصل ہے۔
ان کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی آئی ہیں چنانچہ حضور اکرم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh نے فرمایا کہ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے زیادہ اچھی اور باکمال چار بیبیاں ہیں ایک حضرت مریم دوسری آسیہ فرعون کی بیوی تیسری حضرت خدیجہ چوتھی حضرت فاطمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh
ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمدحضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh یہ خدیجہ رضی اللہ عنھا ہیں جو آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuhکے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں جب یہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب عزوجل کا اور میرا سلام کہہ دیجئے اور ان کو یہ خوشخبری سنادیجئے کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کو ئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی۔
سرکار دو جہاں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh نے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی محبت آخر عمر تک حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپحضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh باربار حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنھا کا ذکر فرماتے رہتے تھے ہجرت سے تین برس قبل پینسٹھ برس کی عمر پا کر ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے اندر انہوں نے وفات پائی اور مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان حجون ) جنت المعلی ( میں خود حضور اقدس حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuhنے ان کی قبر انور میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپر دخاک فرمایا اس وقت تک جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh نے انکی نماز نہیں پڑھائی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی وفات سے تین یا پا نچ دن پہلے حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوگیا تھا ابھی چچا کی وفات کے صدمہ سے حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh گزرے ہی تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کا انتقال ہو گیا اس سانحہ کا قلب مبارک پر اتنا زبردست صدمہ گزرا کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuhنے اس سال کا نام "عام الحزن" )غم کا سال)رکھ دیا۔

تبصرہ:
حضرت ا م ا لمومنین بی بی خدیجہرضی اللہ عنھاکی مقدس زندگی سے ماں بہنوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے کہ انہوں نے کیسے کٹھن اور مشقت کے دور میں حضور اکرم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا اور سینہ سپر ہو کر تمام مصائب و مشکلات کا مقابلہ کیا اور پہاڑ کی طرح ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رہیں اور مصائب وآ لام کے طوفان میں نہایت ہی جاں نثاری کے ساتھ حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Pbuh کی دلجوئی اور تسکین قلب کا سامان کرتی رہیں اور ان کی ان قربانیوں کا دنیاہی میں ان کو یہ صلہ ملا کہ ر ب العلمین کا سلام ان کے نام لے کر حضرت جبر ئیل علیہ السلام نازل ہوا کرتے تھے اس سےمعلوم ہوا کہ مشکلات وپر لیشا نیوں میں اپنے شوہر کی دلجوئیاں اور تسلی دینے کی عادت خدا کے نزدیک محبوب وپسندیدہ خصلت ہے لیکن افسوس کہ اس زمانے میں مسلمان عورتیں اپنے شوہروں کی دلجوئی تو کہاں !
الٹے اپنے شوہروں کو پریشان کرتی رہتی ہیں کبھی طرح طرح کی فرمائشیں کر کے کبھی غصہ میں منہ پھلا کر ۔
اسلامی بہنو! تمہیں خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اپنے شوہروں کا دل نہ دکھاؤ اور ان کو پریشانیوں میں نہ ڈالا کرو بلکہ آڑےوقتوں میں اپنے شوہروں کو تسلی دے کر ان کی دلجوئی کیا کرو۔

یہی مائیں ہیں جن کی گود میں اسلام پلتا تھا
حیا سے انکی انساں نور کے سانچے میں ڈھلتا تھا

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  23wn1n8

قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
http://razaemuhammad.123.st
muhammad khurshid ali
Moderator
Moderator
muhammad khurshid ali

Posts : 371
Join date : 05.12.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Empty
PostSubject: Re: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  Icon_minitimeWed 29 Sep 2010 - 9:02

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  755444

=================================================================================
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا  231
Back to top Go down
 
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: اسلامی شخصیات :: اہل بیت عظام-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Latest discussions