Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین   Thu 16 Sep 2010 - 10:58

امیر اہلسنت امیر دعوت اسلامی پر اٹھنے والے ایک اعتراض کے جواب میں لکھی جانے والی ایک اچھوتی تحریر
حرف ِابتدا

الحمد للّٰہ رب العالمین والصلاۃوالسلام علی سید الانبیاء والمرسلین امابعد
شورش مے خانہ انسان سے بالا تر ہے تو
زینت ِ بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو
ہو دُر ِگوشِ عروسِ صبح وہ گوہر ہے تو
جس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو

اقبال
تصویر کا پہلا رخ
آدمِ خاکی نے جب اپنی منزلِ افلاک کو چھوڑ کر جہانِ بے بنیاد کو اپنا مسکن بنایا تو ساتھ ہی طاغوت نے بھی اپنی خلشِ قلب کو ہوا دینے کے لیے آدم کی ہمراہی لی اوراس بات کی ٹھانی کہ تعلیماتِ صاحب ِحریم دوساجد ِعظیم اکی بیباکانہ سیمابی کروں گا ،اُدھررفتہ رفتہ اَبنائے آدم کی افزائش نے اس عالمِ بے رنگ و بو کو آباد کیا ،اِدھر قصہ ہابیل و قابیل سے طاغوت کی شیطنت کاری کی ابتداہوئی جو کہ انسان کا مقدر کی گئی تھی لیکن صاحبِ حریم نے بھی اس عقدہ ِمشکل کو سلجھانے کے لیے آفاقی تعلیمات کا انتظام کر رکھا تھا ،دیکھتے ہی دیکھتے خطوط ِ عالم ابنائے آدم کی پناہ گزیں ہوئے اور بتقاضائے قضاء ِمبرم انبیاء و رُسل مخلوقِ رب لم یزل کی تعلیمات کے لیے نزول فرماتے رہے آخر وہ وقت بھی آن پہنچا جب اس سلسلہ نزول وحی کو اپنے انجام کو پہنچنا تھا لیکن آج ایک ایسی بازگشت ابنائے آدم کو سنائی دی جس نے ان کو ضابطہ حیات کی تعمیل میں آسانی فراہم کر دی ،وہ بازگشت یہ تھی ''ان العلماء ورثۃ الانبیائ'' بس وقت کا تیز دھارا بڑی سرعت سے اخلاقیات ِابنائے آدم کو بہالے جانے لگا لیکن صاحب ِشریعت اکے جاں نثار علماء و اولیاء نے اس دھارے کی اپنے بازوئے علم و روحانیت سے بنداری کی ، ایک تھکا تو دوسر ا ،دوسر ے کے بعد تیسرا،تیسرے کے بعد چوتھا یکے بعد دیگرے اس دھارے کو تھامے رکھا لیکن تقدیر کو ہمارا امتحان لینا مقصود تھا کہ ان طاغوتی تابدار تخیلات کو کو ن سلجھاتا ہے۔
ایک وقت وہ آیا کہ طاغوت نے اپنا کارِمذموم چند فرشی پسران کے سپرد کیا جو اپنے پدرِاول سے دس قدم آگے تھے اب کیا تھا پہلے تو ملتِ بیضاپر چھپ چھپ کر ہنگامہ آرائی ہوتی تھی مگر اب کھلے بندوں خالق و مخلوق کی عزت و ناموس پر حملے ہونے لگے، چشمِ جہاں اس حامی کو تلاش کرنے لگی جو ان بے ہمت و لاچاربندوںکو منزلِ مراد تک پہنچائے،گردشِ افلاک کا نظارہ دیکھئے کہ جو شِ حق کی ایک تجلی نے عوجِ ثریا سے ایک نجم علم وعرفاں کو ارض مقدس کے سپر د کر دیا بقول شاعر
پھر چراغ ِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ ودمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن

پھر کیا تھا ہوائے چمنِ عالم بدلی اور فصلِ بہارگیتی نے ایک پھول کھلا دیا عشق والے ان کو پیکر ِ عشق ووفاکہتے ہیں اہل صفا ان کو پروانہ شمعِ رسالت کہتے ہیںعقل والے ان کو امام الکلام کہتے ہیں نظر والے ان کو رہبرِبصیرت کہتے ہیں، محبِ رسول و عاملین قرآن وسنت ان کو اما م اہلسنت الشاہ احمد رضاخان ص کہتے ہیں۔
بقو ل علامہ عبدالستار ہمدانی'' احمد رضا ایک وسیع النظر مدبر ،عشق رسو ل اکرم کا پیکر،اپنے وقت کا ممتاز فقیہہ ،علم وعرفان کا بہتاسمندر ،کفر وارتداد سے امتِ مسلمہ کو بچایا،ایمان کی روشنی دی ،کفر کی ظلمت کو چھانٹا،بے دینی کا پردہ چاک کیا ،صراط مستقیم پر امت رسول ا کو گامزن کیا ......جس کے قلم کی نوک سے نکلی ہوئی ہر بات بلکہ ہر لفظ ایسا جامع ،مانع اور موثر تھاکہ جس کا رد کرنامحال تھا،جس کے قاہر دلائل وشواہد پہاڑ سے بھی زیادہ اٹل تھے جو ٹالے نہ ٹل سکتے تھے ،دلائل کے میدان کا وہ شہسوار تھا،قلم کا وہ دھنی تھا،نفاذِدلائل ،سرعت ِکتابت ،زور ِبیان ،طرزِ تحریر،اثباتِ دعویٰ ،اظہار ِحق ، ابطالِ باطل، دفاعِ حق،فصاحت وبلاغت ،علم وادب فضل ودانش،وضاحت و تشریح ،تفتیشِ رموز،انسداد ِضرر، اجتہاد واستنباط،تحقیق وتدقیق،خطابت وکلام،ذہانت و فقاہت،استعداد و جلالتِ علم شعرو سخن ،فن و حکمت وغیرہ میں وہ اپنی مثال آپ تھا''۔
بس اب کیا تھا چہار سوعالم عشاق کی چہل پہل ہونے لگی گھر گھر علم و دانش کے چراغ روشن ہونے لگے رفتہ رفتہ اس چمنستانِ رسالت اکے اس گلِ نو بہار کی بوِخوش پر گستاخانِ رُسل ومرسِل علیھم السلام کی بو ِبد غلبہ پانے لگی ،ہواوہی جس کا ڈر تھاکہ چمنِ عالم میں فصل ِبہارگیتی کاجوپھول کھلاتھااب بہار ہی جاتی رہی تواس فصلِ بہارکے جاتے ہی وہ گلِ بہار بھی چل بسا،اب چہار دہانگ ِعالم میں کفر و ارتداد کا غوغہ مچ گیا ،ابنائے آدم حسرت ویاس سے کسی مصلح کی راہ تکنے لگے جورخنہِ ملتِ اسلامیہ کی پیوند کاری کرتا۔
آگیا آگیا آگیا ...........کون آگیا؟.....وہی جس کا انتظار تھاوہ جو امت ِمسلمہ کی آہ وفغاںکامداواہے ،وہ جس نے کج رو تخیلات کی بیخ کنی کرنی ہے،وہ جس نے عریاں روش کی تعمیر نو کرنی ہے، وہ جس نے سر گزشتِ طاغوت کا قرطاس چاک کر نا ہے ،وہ جس نے امت مظلومہ کو ساغر ِعشق کا جامِ آتشیں پلانا ہے ،وہ جو خیال ِفلک نشیں رکھتا ہے ،وہ جو ذوقِ تکلم سے سر مست ہے ،وہ جو پیرہنِ شرعِ مطہرہ کا زیب ِگلو ہے.....کون ہے ایساماحی شیطنت ذرانام تو بتاؤ ان کا؟
ان کو نائبِ امام احمد رضا بریلوی، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری کہتے ہیں۔کسی نے ان کو حامی سنت ،ماحی بدعت ،مونسِ اہل لغت ،نمونہ اسلاف،معجمہ فیضِ غوث ورضا ،عالم باعمل ،عاشقِ رسولِ مقبول اکہا تو کسی نے سر شارِ عشق و محبت کہا کسی نے فدائے غوث الوریٰ وفدائے مدینہ،فدائے سیدناامام احمد رضا صکہاتو کسی نے ناشر و مبلغ وپاسبان و ترجمانِ رضا کہاتو کسی نے مبلغِ اسلام و سنتِ خیر الانام کہا اورکسی نے مخدومِ اہل سنت،محسنِ ملت ،پیر طریقت کہا تو کسی نے عالِم باعمل ،پیکر ِسنت، نائبِ اعلٰحضرت ،نائبِ غوثِ اعظم،مبلغِ عصر ،عالِم نبیل،فاضلِ جلیل کہا،کسی نے محسنِ دین و ملت کہا، تو کسی نے شیخِ وقت، صاحبِ عشق و محبت کہا،کسی نے مرد ِ قلندر ، پیکر ِ صدق وصفا،مجسمہ خلوص ووفا کہا۔یہ القاب کہکشانِ فلک کے ان مہکتے ستاروں کے عطاکردہ ہیں، جو خود وقت کا کوئی مفتی ہے تو کوئی عالِم دین ، کوئی مدرسِ بے مثل ہے تو کوئی مصنف ِ کتب کثیرہ ہے کوئی خلیفہ اعلٰحضرت ہے تو کوئی جگر گوشہ شارح بخاری ہے ، ان کے اسما بالترتیب ملاحظہ فرمائیں،علامہ شریف الحق امجدی، علامہ فیض احمد اویسی ، علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی ،علامہ مفتی محمد اشفاق ،علامہ مفتی محمد اشرف سیالوی ،علامہ محمد حسن رضا،علامہ ابوداؤد محمد صادق ،علامہ گل احمد عتیقی ،علامہ مفتی ابراہیم ،علامہ عبدالستارسعیدی ،علامہ مفتی محمد خان ،علامہ محمد یا ر،علامہ صدیق ہزاروی،علامہ محمد محب الحق ،علامہ حلیم احمد اشرفی،علامہ رضا المصطفیٰ ،علامہ عظمت علی ،علامہ حافظ محمد رمضان ،علامہ عارف سعیدی ،علامہ صاحبزادہ عبدا لمالک، علامہ خاد م حسین ،علامہ محمد ناصر،علامہ سید نظام علی شاہ ،علامہ مقبو ل احمد،علامہ مفتی شوکت سیالوی ،علامہ شفیق احمد قادری ،علامہ ضیاء الحسن ،علامہ محمد امین ،علامہ گوہرعلی، علامہ احمد یار،علامہ عبدالحمیدچشتی علامہ شیرمحمدرحمھم اللہ ودامت برکاتھم العالیہ ،ان علم کے ماہتابو ںکا امیر اہلسنت کوان القاب سے نوازنا کوئی اچنبے کی بات نہیںہے بلکہ آئندہ آنے والے اوراق سے یہ عیاں ہو جائے گا کہ امیرِ اہلسنت کی عظیم ہستی ایک ایسا گوہرِ نایاب ہے کہ جن کے لیے القاب خود محتاج بیان ہوتے ہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ
آج جب کہ دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ویلج کی سی کیفیت میں دنیا کے سامنے ہے۔ سائنس و میڈیا کے اس دور میں ہر انسان مادیت وظاہریت میں اپنی فلاح و کامرانی کا متلاشی نظر آتا ہے ۔ دیگر اقوامِ عالَم کی طرح اب مسلم امہ بھی اپنے جزیا ت ِ دین کو ایک سایئنٹیفک نظر یہ انداز سے دیکھتی نظر آتی ہے۔ بنی نوع انساں کی تربیت ِاخلاق کے لیے اللہ مجدہ الکریم نے مختلف ادوار میں اپنے مقرب بندو ں انبیاء و رُسل کے ذریعے رہنمائی فرمائی ،بعد ازیں اصحاب رسو ل ،تابعین و تبع تابعین رضی اللہ عنھم نے اس فریضہ کی تکمیل کے لیے انتھک محنت و کوشش کی مگر معلم کائنات ا کے اس قول زریں' ان العلماء ورثۃ الانبیائ' بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ کے پیش نظراب جبکہ سلسلہ نبوت کانزول نبی آخر الزمان ا پر رک چکا ہے علماء ِ اسلام ہی دین کے وہ وِرثِ نباء ہیں جنہوں نے راہِ صراط سے بھٹکے ہوئے فرزندانِ آدم کو راہِ ہدایت پر گامزن کرتے رہنا ہے۔
چودھویں صدی ہجری جہاںآفتابِ نصفِ نہار لے کر شروع ہوئی جس میںنظریاتِ بنی نوع انساں ایک جدید رنگ لے کر سامنے آئے زعماء اسلام کو جدید اذھان سے نمٹنے کے لیے مختلف طرق سے افہام و تفہیم سے کام لیناپڑا، لیکن دور جدید اس امر کا مقتضی تھا کہ عصرِحاضر کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکمت ِ عملی سے تبلیغ دین کا کام سرانجا م دیا جائے لہٰذا تاریخ نے ایک مرتبہ پھر ورق گردانی کی جس کے نتیجہ میں باب المدینہ کراچی سے ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جس نے اپنی قوم کی طاغوتی طاقتوں سے بازیابی کے لیے وہ آفاقی تعلیمات جن کا معلمِ کائنات انے علماء کو وارث ٹھہرایا تھا تبلیغِ دین کا کام شروع کیا ،دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک نے چہار دانگ عالم میں عشقِ رسول ا کی ضوفشانی کی اور نفس و شیطان کے دام تذویر سے انسانوں کو باہر نکالا ،آن کی آن اس تحریک کے چرچے عوام سے اب علماء میں بھی ہونے لگے، علماء بہت خوش تھے کہ اجتماعی تبلیغِ دین کی کمی جو ہم ایک عرصہ سے محسوس کر رہے تھے چلو کسی نے تو اس کا م کابیڑا سنبھالالیکن اسی اثناء میں شیطان نے بھی اپنا کام تیز کر دیا ، کیونکہ شیطان کو اپنے مذموم مقاصد ختم ہوتے دکھائی دے رہے تھے لہٰذااس نے لوگوں کے دلوں میں ایسی باتیں ڈالنی شروع کیں جس سے اس کامقصد لوگوںکو اِس عظیم فریضہ سے بازرکھناتھااِس مذموم مقصد کے لیے اور تو اس کو کوئی سوجھی نہ اس نے امیرِتحریک کے بارے میںیہ غوغہ مچایا کہ'' امیر تحریک تو عالِم دین ہی نہیں ہیں''یہ ایک ایسا نظریہ تھاجس کی وجہ سے اُسے اپنی طاغوتی چال کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی تھی کیوں کہ وہ اپنے اس نظریہ کی رو سے یہ باور کروانا چاہ رہاتھا کہ کیونکہ تحریک دعوت اسلامی کو مریدینِ علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری کی وجہ سے عروج ملا تھا اور مسند ارشاد پر فائز ہونے کے لیے عالِم دین ہونا شرط ہے اگر وہ اپنے اس نظریہ میں کامیاب ہوتا ہے تو تمام مریدین کی بیعت ٹوٹ جاتی ہے جس کی بنا پر امت مسلمہ کی عظیم روحانی و تبلیغی تحریک کی بنیاد کمزورہو جاتی ہے ۔لہٰذاسادہ لوح عوام کے علاوہ بعض اکابر بھی ان شکوک و شبہات کا شکار ہوئے ، یہ ابلیس لعین کاوار ایساتھا جس کی بنیاد سراسر جھوٹ پر مبنی تھی ،امیر دعوتِ اسلامی کا ان جلیلُ القدر علماء ِاہلسنت میں شمار ہوتاہے جنہوں نے شجر اسلام کی آبیاری کی،اب ایساتوہو نہیں سکتاکہ امیرِ تحریک اپنے سر پر کوئی علامتی نشان کندہ کر لیں جس سے دیکھنے والے کو معلوم ہو کہ حضرت موصوف عالم بھی ہیں اور ان کو فلاں علومِ درسیہ و علوم اسلامیہ پر دسترس حاصل ہے اور حضرت نے فلاں معروف درس گاہ سے استفادہ علم کیاہے۔حالانکہ شواہد موجود ہیں کہ جمیع علماء اسلام آپ کو ایک جلیل القدر عالم دین گردانتے ہیں اور آپ نے باقاعدہ علوم اسلامیہ کااستنباط کیاہے اور سب سے اہم بات یہ کہ عوام ِاہلسنت آپ کو اپنا امیر تسلیم کرتی ہے ۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ دعوت اسلامی اہلسنت کی نمائندہ تبلیغی تحریک ہے اور اگر ایسے نظریات کاباب ابھی سے بند نہ کیا گیا توناگہاںشیطان اپنے طاغوتی مشن میں کامیاب ہو جائے گااور اگر مولٰنامحمدالیاس قادری صاحب کی طرح دیگر علماء اہلسنت کو اِسی طرح ہدف تنقید بنایاجاتارہاتو ہوسکتا ہے صفحہ ہستی میں یارسول اللہ اکی صدا بلند کرنے والے شایدڈھونڈنے سے ہی ملیں ۔
بندہ ناچیز کی یہ ادنیٰ سی کاوش میرے اوقات کا ایک قیمتی مصرف ہے جس کو میں نے عوام وخواص کی عدالت میں بعجزونیاز پیش کر دیا ہے تاکہ علماء پر اعتراضات کرنے سے پہلے ذرایہ سوچ لیاکریں کہ علماء اس قوم میں روح محمدی اپھونکنے کاکام کر رہے ہیںہم علماء پر اعتراض کر کے حقیقت میں قلب ِابلیس کوہر دم خوش کر رہے ہیں اور ابلیس لعین اپنے چیلوںکو پکار پکار کر کہ رہا ہے کہ !
وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتانہیں ذرا
روحِ محمدی اس کے بدن سے نکال د و!

علامہ ابن حکیم
سیدمبشررضاسنی قادری
علم
علم ایک ایسا بحرِ بے کنار ہے کہ جس کے غواص کو وہ نایا ب گوہر نصیب ہو تے ہیں جن کی قیمت خود گوہر بار کو بھی معلوم نہیں ہوتی بازارِ خرد کے گوہر شناس پر اس کی قیمت خوب عیاں ہے اور کیوں نہ ہو کہ خالق ِکل خود صفتِ علم سے موصوف ہے بقول شاعر
علم کے حیرت کدے میں ہے کہاں اس کی نمود
گل کی پتی میں نظر آتا ہے راز ِہست و بود
اللہ د علم والوں کی شان میں فرماتا ہے :
''اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ'' اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
(القرآن ، فاطر ٢٨)
حقیقت تو یہی ہے کہ مالک نے عالمِ رنگ و بو کی تزیین ہی اپنے اپنی صفات کو آشکار کرنے کے لیے کی تو بتقاضائے بشریت ومخلوق ہم پر یہ حق ہے کہ اس خالق کی ہمہ وقت خشیت و بندگی کی جائے اور یہ کار ِبندگی باحسن صرف صاحب ِ علم ہی سر انجام دے سکتے ہیں،یقینا ہر ذی شعور اس امر کا متمنی ہے کہ خالق حقیقی کی ہر دم خشیت کی جائے اور پھر خشیت کا پیمانہ ہمیں خود مخشی الیہ نے دے دیا کہ علم ہی ایک ایسی کلید ہے جس سے قفل ِخشیٰ وورا کھلے گا۔ اب علم کس کو حاصل کرناچاہیے، کیا اس کی کوئی قیودات وپابندیاں ہیں؟ اس کے لیے شارع علیہ التحیہ والثناء اہماری رہنمائی فر ماتے ہیں۔ سرورِلالہ رخاں اارشاد فرماتے ہیں :
''من یرد اللہ بہ خیراً یفقھہ فی الدین''اللہ تعالیٰ جس کے لیے خیر کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطافرماتاہے۔
(صحیح بخاری ١/١٦ مطبوعہ نور محمد کراچی)
آپ انے دوسری جگہ ارشادفرمایا :
''لا حسد الا فی اثنتین رجل اتاہ اللہ مالافسلطہ علی ھلکتہ فی الحق ورجل اتاہ اللہ الحکمۃ فھو یقضی بھا ویعلمھا'' صرف دو چیزوں پر رشک کرنا مستحسن ہے ،ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہواور وہ اس کو نیکی کے راستہ میں خرچ کرتا ہو ، اور ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے حکمت دی ہو وہ اس کے مطابق فیصلے کرے اور اس کی تعلیم دے ۔
(صحیح بخاری ١/١٧ مطبوعہ نور محمد کراچی)
مذکورہ بالا سطور سے معلوم ہوا کہ علم کا حصو ل ہر کس وناقص کو ضروری ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ علم وہی ضروری ہے جس کے لیے جزاء و خیر کی نوید سنائی گئی ہے نہ کہ وہ جو وبال ِ جاں ہو لہٰذا علم کے قبل از حصول اس کا تعین ضروری ہے کہ کہیں بے فائدہ کی تگ ودو میں گمراہی کے راستہ کا مسافر نہ بن جائے ۔حجۃ الکاملین امام الواصلین حضرت ابوالحسن سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش لاہوری صفرماتے ہیں:
''واضح رہے کہ انسان کی عمر مختصر ہے اور علم کی کوئی اتھاہ نہیں ،اس لیے تمام علوم کا حاصل کرنا فرض نہیں ہے ،مثلاً علمِ نجوم ،طب،حساب ،اور عجائبات عالَم کا علم ،البتہ اتنا علم ضروری ہے جتنا شریعت سے متعلق ہو ،مثلاً اتنا علم نجوم جس سے رات کے اوقات کی تعیین کی جاسکے، علم طب اس قدر کہ صحت کی حفاظت کی جاسکے،اسی طرح علم حساب اتنا جس سے وراثت ،ضروری لین دین ،یا عِدت وغیرہ کے مسائل حل ہو سکیں ،الغرض اتنا اور اسی قدر فرض ہے جس سے عمل درست ہو اللہ تعالی نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو بے فائدہ علم حاصل کرتے ہیں''۔ (کشف المحجوب صفحہ ٨٨)
علم کی تعریف
علم کی تعریف دواعتبار سے کی گئی ہے:
(١)متکلمین وحکماء کے اعتبار سے (٢)شریعت ِ محمدیہ کی جانکاری کے اعتبار سے
متکلمین وحکماء کے نزدیک علم کی تعریف:۔علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی فرماتے ہیں:
''ا لعلم صفۃ یتجلی بھا المذکور لمن قامت ھی بہ۔۔۔۔۔۔۔الخ'' ــعلم ایک ایسی صفت ہے جس کے سبب وہ چیز منکشف اور واضح ہو جاتی ہے جس انسان کے ساتھ وہ صفت قائم ہو۔یعنی وہ چیز ایسی ہو جس کاذکر کیا جاسکے اور اس کو تعبیر کیاجاسکے خواہ وہ چیز موجود ہو یامعدوم ہو،یہ تعریف حواس کے ادراک اور عقل کے ادراک کوشامل ہے ۔خواہ عقل کے ادراکات ،تصورات ہوں یاتصدیقات ،اور تصدیقات خواہ یقینیہ ہوںیاغیریقینیہ،لیکن اس تعریف میں انکشاف کو مکمل انکشاف پر محمول کرناچاہیے جو ظن کو شامل نہیں ہے ،کیوںکہ علم ان کے نزدیک ظن کامقابل ہے ،اور جب اس تعریف میں انکشاف کو انکشاف تام پر محمول کریں گے تو پھر علم کی تعریف سے تصورات اور ظن خارج ہوجائیں گے اورصر ف جزم باقی رہے گا''۔
(شرح عقائد النسفی ص١١مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
شریعت ِ محمدیہ کی جانکاری کے اعتبار سے علم کی تعریف:۔حضور داتا گنج بخش ھجویری صعلم کی تعریف یو ں فرماتے ہیں:
''علم اوصاف ِحمیدہ میں سے ہے اس کی تعریف معلوم چیزوں کااحاطہ اور ان کی وضاحت ہے اس کی بہتر تعریف یہ ہے کہ علم ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعے انسان عالم ہو جاتاہے ''۔
(کشف المحجوب ص٩١مطبوعہ فرید بکسٹال لاہور)
المفرد فی غریب القرآن میں علم کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے :
''ا لعلم :ادراک الشئی بحقیقتہ وذلک ضربان احدھما ادراک ذات الشئی والثانی الحکم علی الشئی بوجود شئی ھو موجود لہ او نفی شئی ھو منفی عنہ فالاول ھو المتعدی الی مفعول واحد نحو لا تعلمونھم اللہ یعلمھم وا لثانی المتعدی الی مفعولین نحو قولہ :فان علمتموھن مومنات وقولہ :یوم یجمع اللہ الرسل الی قولہ :لاعلم لنافاشارۃ الی ان عقولھم طاشت والعلم من وجہ ضربان :نظری وعملی فالنظری مااذاعلم فقد کمل نحو العلم بموجودات العالم والعملی مالایتم الابان یعمل کالعلم بالعبادات ومن وجہ آخر ضربان:عقلی وسمعی واعلمتہ وعلمتہ فی الاصل واحد الاان الاعلام اختص بماکان باخبار سریع والتعلیم اختص بمایکون بتکریر وتکثیر حتی یحصل منہ اثرفی نفس''کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا علم ہے اور علم کی دو اقسام (١)کسی چیز کی ذات کا ادراک کرنا(٢)کسی چیز پر وجود ِ شئ کا اسطرح حکم لگانا کہ فلاںچیز موجود ہے یا اسطرح حکم لگانا کہ فلاں چیز موجودنہیں ہے ۔پہلی قسم متعدی بیک مفعول ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے 'تم ان کو نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے 'اور دوسری قسم متعدی بدو مفعول ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے'تم ان عورتوں کو مومن جانو 'اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے 'جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا'اللہ کے اس قول تک کہ 'ہمیں کسی چیز کا علم نہیں ہے'اور علم کی ایک دوسری تقسیم بھی ہے جسکی دو انواع ہیں (١)نظری (٢)عملی :نظری یہ کہ جب کسی چیز کا علم ہو گیا تو وہ علم مکمل ہو گیا جیسے موجودات کا علم۔عملی یہ ہے کہ جب تک عمل نہ ہو علم مکمل نہ ہو گا جیسا کہ عبادات کا علم ۔اور دوسری نوع عملی کی بھی دو قسمیں ہیں (١)عقلی(٢)سمعی :اعلام(کسی کو علم دینا)اور تعلیم حقیقت میں ایک ہی چیز ہیںفرق صرف یہ ہے کہ اعلام اخبارِ سریعہ کے ساتھ خاص ہے اور تعلیم تکرار و کثرت ِ مباحثہ کے ساتھ خاص ہے یہاں تک کہ اس تکرار و کثرت ِ مباحثہ سے نفس میں اثرپیدا ہو جائے۔
(المفرد فی غریب القرآن ١/ ٣٤٣ )
علم کی اقسام
شیخ عبد الحق محدث دہلوی بخاریصعلم کی اقسام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔
''علم دین کی دو اقسام ہیں ایک وہ کہ جس پر قرآن و حدیث کے سمجھنے کا دارو مدار ہے جیسے لغت ، نحو اور صرف وغیرہ کا علم ، دوسرے وہ جو عقیدے ،عمل اور اخلاق سے تعلق رکھتا ہے ان کے علاوہ ایک علم وہ ہے جو نور ہے اِس سے خدائے تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اِس کو علمِ حقیقت کہتے ہیں قرآن و حدیث میں جس علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے وہ حسب درجہ علم کی ان تمام قسموں کو شامل ہے''۔
(ماخوذ از اشعۃ اللمعات )
اعلحٰضرت فاضل بریلوی صارشاد فرماتے ہیں :
''ہاں آیات و احادیث دیگر کہ فضیلت ِعلماء و ترغیب علم میں وارد ، وہاں ان کے سوا اور علومِ کثیرہ بھی مراد ہیں جن کا تعلم فرض کفایہ یاواجب یا مسنون یامستحب ، اس کے آگے کوئی درجہ فضیلت و تر غیب اور جوان سے خارج ہو ہر گز آیات و احادیث میں مراد نہیں ہو سکتا اوران کاضابطہ یہ ہے کہ وہ علوم جو آدمی کو اس کے دین میں نافع ہوں خواہ اصالۃًجیسے فقہ وحدیث وتصوف بے تخلیط وتفسیر قرآن بے افراط وتفریط خواہ وساطۃً مثلا ً نحو و صرف و معانی و بیان کہ فی حد ذاتہاامر دینی نہیں مگر فہم قرآن وحدیث کے لئے وسیلہ ہیں''۔
(فتاویٰ رضویہ جدید ٢٣/٦٢٦)
خلاصہ بحث یہ ہے کہ وہ علوم جن سے قرآن وحدیث سمجھ میں آجائے اور اس سے مسائلِ فقہیہ واضح ہو جائیں وہ تمام علوم علمِ دین کی اقسام سے ہیں ۔
علم کی تعریف میں علماء کا اختلاف
علم ایک ایسی چیز ہے کہ اس میں علماء ِاسلاف کا قدیم اختلاف پایا جاتارہا ہے اسی اختلاف کی طرف شارح بخاری بھی گئے ہیں ۔شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی ص فرماتے ہیں :
''صحیح یہ ہے کہ علم اجلیٰ بدیہات سے ہے ہر خاص و عام جانتا ہے کہ علم کیا چیز ہے اسلئے یہ اصطلاحی تعریف سے مستغنی ہے نیز اسکی تعریف بہت زیادہ مشکل ہے ہزار ہاسال غور و خوض بحث و تمحیص کے بعد بھی آج تک منقح نہ ہو سکی ہمارے حضرات ماتریدیہ نے علم کی تعریف یہ کی ہے ،علم ایک ایسا نور ہے جو اللہل نے انسان کے قلب میں پیدا فرمایا ہے کہ اس سے جس چیز کا تعلق ہوتا ہے وہ منکشف ہو جاتی ہے جیسے آنکھ میں دیکھنے کی قوت ہے ۔''
(نزھۃ القاری شرح البخاری ١/٣٤٨)
عالِم چونکہ علم کی صفت سے موصو ف ہوتاہے اس لیے یاد رکھناچاہیے کہ علم دین کی بھی کچھ اقسام ہیں جیسے صرف ،نحو ،بلاغت ،ادب ،فقہ ، اصو ل ِفقہ،تفسیر ،اصول ِتفسیر،حدیث اصول ِحدیث،فلسفہ،منطق ،وغیر فنون کاعلم۔ اب علماءِ اسلاف میں اس چیز کا اختلاف پایاجاتاتھاکہ کن فنون کاماہر عالم کہلاتاہے آئیے ہم کچھ علماء کرام کی تصریحات بیان کرتے ہیں۔
اعلٰحضرت فاضل بریلوی ص فرماتے ہیں:
''علمِ دین فقہ و حدیث ہے منطق و فلسفہ کے جاننے والے علماء نہیں ''۔
(فتاویٰ رضویہ جدید ١٠ /٤٥٥)
اعلٰحضرت فاضل بریلوی ص ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
''بس ہر علم میں اسی قدر دیکھ لینا کافی کہ آیا یہ وہی عظیم دولت نفیس مال ہے جو انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام نے اپنے ترکہ میں چھوڑا جب تک تو بیشک محمود اور فضائل جلیلہ موعودہ کا مصداق ، اور اس کے جاننے و الے کو لقب عالم و مولوی کااستحقاق'' ۔
(فتاویٰ رضویہ جدید٢٣/٦٢٧)
یہ علم کا اختلاف وہی ہے جس کو آ ج تک کوئی نہیں سلجھا سکا جس کی رائے میں جو تعریف اچھی ہوتی ہے وہ اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عالم کی بھی تعریف کرتاہے کیونکہ عالم کی تعریف معلق ہے علم کی تعریف پر جب علم کی تعریف میں ہی اختلاف ہوگا تو عالم کی تعریف کرنے میں دشواری ہوگی ۔
راقم الحروف بحمدہ تعالیٰ صد ہا دلائل اس عنوان کے تحت قائم کر سکتاہے بخوف ِطوالت اب معیارِعلم کے بارے بیان کیا جاتاہے ۔
معیار ِعلم
علم کی تعریف و قیودات جاننے کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ شریعت نے کس علم کو علم کہا ہے اور کس کی نفی کی ہے ۔
علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا:
''عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ انہ قال لیس العلم عن کثرۃالحدیث ولکن العلم من کثرۃالخشیۃ''ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ علم کثیر مباحثہ کانام نہیں بلکہ علم اللہ سے بہت زیادہ ڈرنے کا نام ہے ۔
(تفسیر ابن کثیر ٣/٥٥٥ )
علامہ قرطبیص علم کی تعریف کے بارے رقم طراز ہیں :
''قال احمد بن صالح المصری عن ابن وھب عن مالک قال ان العلم لیس بکثرۃ الروایۃ وانماالعلم نور یجعلہ اللہ فی القلب''احمد بن صالح مصری ،ابن وھب کی روایت سے بیان کرتے ہیں کہ امام مالک فرماتے ہیں علم کثیر روایات کرنے کا نام نہیں اور بیشک علم توایک ایسا نور ہے جس کو اللہ دل میںنقش کرتاہے
(تفسیر قرطبی ١٤/ ٣٤٣ )
حقیقت تو یہ ہے کہ علم چاہے جتنا بھی ہو بے فائدہ و وبالِ جان ہے جب تک یہ کہ علم کے ساتھ عمل ،خشیت الٰہی ،عجز و انکساری وغیر ہ امور لازمہ کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔
فضائلِ علم
فضائل علم پر علماء نے بہت کچھ لکھاہے حصول برکت اور مناسبتِ مو ضوع کے تحت میں بھی چند نصوص سے فضائل علم بیان کرتاہوں ۔
''اللہ لکا ارشاد ہے :
''وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْماً '' اے میرے رب مجھے علم زیادہ دے۔
(القرآن ،طہٰ١١٤)
علامہ ابن حجر عسقلانیص فرماتے ہیں:
'' کہ اس آیت کریمہ سے علم کی فضیلت واضح ہوتی ہے اسلئے کہ اللہ مجدہ الکریم نے اپنے پیارے حبیب ِلطیف کو علم کے علاوہ کسی دوسری چیز کی زیادتی کے طلب کرنے کا حکم نہیں فرمایا''۔
(فتح الباری شرح البخاری ١/١٣٠)
مذکورہ بالا روایت سے علم کی فضیلت باخوبی عیاں ہوتی ہے کہ وہ چیز جس کے طلب زیادتی پر خالقِ کل مصر ہوااورگر علم کے علاوہ کسی اور چیز میں فضیلت ہوتی تو اللہ تعالیٰ آپ ا کو اس چیز میںزیادتی کے حصول کی تعلیم فرماتا بہر حال ہم کو بھی چاہیے کہ حصولِ علم کے لیے ہر دم کوشاں رہیں۔
''اِنَّمَایَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ'' اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
(القرآن ، فاطر ٢٨)
حضرت ابن عباسثسے روایت ہے :
''العلم حیاۃ الاسلام و عماد الدین''علم اسلام کی زندگی اور دین کا ستون ہے۔
(کنز العمال ١٠/٧٦)
زندگی ایک ایسی چیز ہے جس پر کسی امر مطلوب کی اساس ِبقا ہو ، جس طرح کہاجاتاہے کہ 'معاشرہ کی زندگی اور بقابھائی چارگی سے ہے ' اسی طرح اسلام کے بارے بھی کہاگیا کہ اس کی زندگی اور اس کے باقی رہنے کادارومدار علم سے ہی ہے ۔اسی طرح ستون بھی اس کو کہتے ہیں جس پر عمارت کی چھتوں کابوجھ ہوتاہے اور وہ اس کو مضبوط و قائم کیے رکھتاہے ۔ لہٰذا علم کو بھی ستون سے اس لیے تعبیر کیاگیا کہ علم بھی عمارت اسلام کو ستون کی طرح قائم کیے رکھتا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے :
''تدارس العلم ساعۃ من اللیل خیر من احیائھا'' رات میں ایک گھڑی علم کاپڑھنا پوری رات جاگنے سے بہتر ہے ۔
(مشکوٰ ۃ ص٣٦مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
خوش قسمت ہیںوہ طالب علم جن کی راتوں کی نیندکتب بینی ،سبق یادکر نے اور سبق کے تکرار کرنے میںگزرتی ہیں وہ اس حدیث پاک کے مصداق ہیں۔طلباء کو اس حدیث سے درس حاصل کرناچاہے کہ بغیر نوافل و اذکار سے صرف علم دین کے لیے تھوڑی دیر جاگنا پوری رات عبادت کرنے کا درجہ رکھتاہے مزید اس حدیث پاک کے بارے پڑھیے ۔
حضرت ملا علی قاری ص تحریر فرماتے ہیں:
'' اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ایک گھنٹہ آپس میں علم کی تکرار کرنا ، استاد سے پڑھنا،شاگرد کو پڑھانا ،کتاب تصنیف کرنا یا ان کامطالعہ کرنا رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے''۔
(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ١/٢٥١)
حضرت ام ہا نی رضی اللہ عنہا سے رو ایت ہے کہ سرکار اقدس انے ارشاد فرمایا :
''العلم میراثی و میراث الانبیاء قبلی ''علم میری میراث ہے اور جو مجھ سے پہلے انبیاء گزرے ہیں ان کی میراث ہے''۔
(کنزالعمال ١/٧٧)
''حضرت انس بن مالک ص بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہاکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:یا رسول اللہا !کون ساعمل سب سے افضل ہے ؟آپ ا نے فرمایا اللہل کاعلم ،اس نے دوبارہ آکر وہی سوال کیا، آپ نے اس کو وہی جواب دیا،اس نے کہایا رسول اللہا !میں نے تو آپ سے صرف عمل کے متعلق سوال کیاہے آپ نے فرمایاعمل کم ہویازیادہ اس کے ساتھ تمہیں علم نفع دے گااور جہل تم کو نفع نہیں دے گاخواہ اس کے ساتھ عمل کم ہو یازیادہ ''۔
(نوادر الاصول ٤ / ١٠١ مطبوعہ دار الجیل بیروت،الجامع الصغیر رقم الحدیث:١٢٤٠،جمع الجوامع رقم الحدیث ٣٦٥٩ ، کنزالعمال رقم الحدیث:٢٨٧٣١)
مولٰناسعیدی اس حدیث کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن فضائل اعمال میں اس سے استدلال صحیح ہے۔
(تبیان القرآن ٨/٦١١)
ابو جعفر نے کہا عالم کی موت ابلیس کے نزدیک ستر عابدوں کی موت سے زیادہ محبوب ہے۔
(شعب الایمان ٢/٢٦٧مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
مذکورہ بالا تمام بحث سے واضح ہو ا کہ علم حاصل کرنا بہت درجہ واہمیت رکھتاہے ۔
عالم کی تعریف
اعلٰحضرت فاضل بریلوی ص فرماتے ہیں :
''ضابطہ یہ ہے کہ وہ علوم جو آدمی کو اوس کے دین میں نافع ہوں خواہ اصالۃ ًجیسے فقہ و حدیث و تصوف بے تخلیط و تفسیر قرآن بے افراط وتفریط خواہ وساطۃ ً مثلاً نحو و صرف و معانی وبیان کہ فی حد ذاتہا امر دینی نہیں مگر فہیم قرآن وحدیث کے لیے وسیلہ ہیں اور فقیر غفر اللہ تعالیٰ اس کے لئے عمدہ معیارعرض کرتاہے مراد متکلم جیسے خود اوس کے کلام سے ظاہر ہوتی ہے دوسرے کے بیان سے نہیں ہو سکتی مصطفی ا جنھوں نے علم و علماء کے فضائل عالیہ وجلائل غالیہ ارشاد فرمائے اونھیں کی حدیث میں وارد ہے کہ علماء وارث انبیاء کے ہیں انبیاء نے درم و دینار ترکہ میں نہ چھوڑے علم اپنا ورثہ چھوڑا ہے جس نے علم پایا اوس نے بڑاحصہ پایااخرج ابو داؤدوالترمذی وابن ماجہ وبن حصان والبیھقی عن ابی درداء رضی اللہ تعالی عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یقول فذکر الحدیث فی فضل العلم وفی آخر ان العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوادیناراولادرھماوانما ورثوا العلم فمن اخذبحفظ واقربس ہر علم میں اسی قدر دیکھ لینا کافی کہ آیا یہ وہی عظیم دولت نفیس مال ہے جو انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام نے اپنے ترکہ میں چھوڑا جب تو بیشک محموداورفضائل جلیلہ موعودہ کا مصداق اوراس کے جاننے والے کو لقب عالم و مولوی کا استحقاق ورنہ مذموم و بد ہے جیسے فلسفہ و نجوم یا لغو و فضول جیسے قافیہ و عروض یا کوئی دنیا کا کام جیسے نقشہ و مساحت بہر حال اون فضائل کا موردنہیں نہ اوس کے صاحب کو عالم کہہ سکیں ائمہ دین فرماتے ہیں جو علم کلام میں مشغول رہے اوس کا نام دفترعلماء سے محو ہو جائے''۔ (فتاویٰ رضویہ قدیم ١٠/١٦،١٧)
حضرت علی ص عالم کی تعریف و علامات کے بارے ارشاد فرماتے ہیں :
''ان الفقیہ حق الفقیہ من لم یقنط الناس من رحمۃ اللہ و لم یرخص لھم فی معاصی اللہ تعالیٰ ولم یومنھم من عذاب اللہ ولم یدع القرآن رغبۃ عنہ الی غیر ہ انہ لا خیر فی عبادۃ لا علم فیھا ولاعلم لافقہ ولاقراۃ ولا تدبر فیھا'' سچافقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اللہ تعالیٰ کی معصیت میں لوگوں کو رخصت نہ دے اور نہ ہی لوگوں کو مکمل طور پر اللہ کے عذاب سے امان دے اور قرآن کے (اصولوں)سے اعراض کرتے ہوئے کسی شخص کیلئے قرآن کو نہ چھوڑے کیونکہ ایسی عبادت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں علم نہ ہو اورنہ ایسے علم میں بھلائی ہے جس میں فقاہت نہ ہو اور نہ ہی ایسی قراء ۃ ِ قرآن میں بھلائی ہے جس میں غور و فکر نہ ہو۔
(تفسیر قرطبی١٤/ ٣٤٤ )
عالم کی فضیلت
عالم ہو ناایک ایسا متاعِ دنیوی واخروی ہے کہ جس کو یہ حاصل ہو تاہے وہ مخلوق عالَم سے ممتاز ہو تا ہے چند فضائل ملاحظہ فرمائیں۔
دارمی نے مکحول سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا :
''ان فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناھم تلا ھذا الایۃ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ان اللہ وملائکتہ واھل سماواتہ واھل ارضیہ والنون فی البحر یصلون علی الذین یعلمون الناس الخیر''عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میر ی فضیلت تم میں سے ادنا پرپھر آپ انے یہ آیت تلاوت کی 'بے شک اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب ِعلم ہیں'بےشک اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمانوں والے اور زمین والے اور سمند ر کی مچھلیاں اس پررحمت بیجھتے ہیں جس کو وہ لوگوں میں سے بہتر عالم تصو ر کرتے ہیں۔ (تفسیر قرطبی ١٤/٣٤٤ )
''ان العلماء ورثۃ الانبیاء ''بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں علیھم الصلاۃ والسلام ۔
(سنن ابی داود ، ٢/١٥٧)
اعلحضرت فاضل ہندص ارشاد فرماتے ہیں:
''اولیائے کرامث فرماتے ہیں :صوفی جاہل شیطان کا مسخرہ ہے اس لئے حدیث میں آیا حضو رسید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فقیہ واحد اشد علی الشیطان من ا لف عابد رواہ الترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما (ایک فقیہ شیطان پر ہزاروں عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔ اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا )بے علم مجاہدہ والوں کو شیطان انگلیوں پر نچاتاہے ،منہ میں لگام ناک میں نکیل ڈال کر جد ھر چاہے کھینچے پھر تاہے ''۔
(فتاویٰ رضویہ جدید ٢١/٥٢٨)
کیاعالم کے لیے سند یافتہ ہونا ضروری ہے ؟
یہ نکتہ محل ِغور ہے کہ کیا عالم ِ دین وہی ہے جس کے پاس ایک کاغذ کا ٹکرا جس کو عام مفہوم میں سند سے تعبیر کرتے ہیں موجود ہو؟اگر ایسا ہی ہے تو آج کے جدید دور میں پرنٹنگ پریس کی سہولت موجود ہے جس کو عالم بننے کا جذبہ جاںگزیںہووہ پریس سے رابطہ کر کے ایک کیا سینکڑوں اسناد ترتیب دے لے ۔ یہ امر اہل نظر پرخوب عیاں ہے کہ میدانِ ِعلم میں سند کی کوئی حیثیت نہیں ہے علم وہ ہے جو دل و دماغ میں ہو اور اس کا احساس اس صاحب کے قول و فعل سے ہوتا ہے ۔
اعلیٰحضرتص سے جب اس قسم کا سوال ہوا تو آپ نے اس کا جواب ارشاد فرمایا :
''مسئلہ کیا فرماتے ہیں علماء دین اس باب میں کہ اگر کوئی شخص جس نے سوائے کتب فارسی اور اردو کے جو کہ معمولی درس میں پڑھی ہوں اور اوس نے کس مدرسہ اسلامیہ یا علماء گرامی سے کوئی سند تحصیل علم نہ حاصل کی ہو اگروہ شخص مفتی بنے یا بننے کا دعویٰ کرے اور آیات قرآنی اور احادیث کو پڑھکر اوس کا ترجمہ بیان کرے اور لوگوں کو باورکراوے کہ وہ مولوی ہے تو ایسے شحص کا حکم یافتوی اور اقوال قابل تعمیل ہیں یا نہیں اور ایسے شخص کا کوئی دوسرا شخص حکم نہ مانے تو اسکے لئے شریعت میں کیا حکم ہے۔
الجواب: سند کوئی چیز نہیں بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی اون کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سند یافتو ں میں نہیں ہوتی۔علم ہونا چاہیے اور علم الفتویٰ پڑھنے سے نہیں آتا جب تک مدتہاکسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیا ہو ۔مفتیان کامل کے بعض صحبت یافتہ کہ ظاہری درس تدریس میں پورے نہ تھے مگر خدمت علماء کرام میں اکثر حاضر رہتے اور تحقیق مسائل کاشغل اون کا وظیفہ تھا فقیر نے دیکھا ہے کہ وہ مسائل میں آجکل کے صد ہا فارغ التحصیلوں بلکہ مدرسوں بلکہ نام کے مفتیوں سے بدرجہازائد تھے پس اگر شخص مذکورفی السوال خواہ بذات خود خواہ بفیض صحبت علماء کاملین علم کافی رکھتاہے جو بیان کرتاہے غالباً صحیح ہوتا ہے اوسکی خطا سے اوس کا صواب زیادہ ہے تو حرج نہیں ''۔
(فتاویٰ رضویہ قدیم١٠/٢٣١)
مفتی جلال الدین امجدی صاحب لکھتے ہیں کہ:
''علم حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طالب علم بن کر کسی مدرسہ میں اپنا نام لکھائے اور پڑھے جیسا کہ رائج ہے بلکہ اس کا مطلب یہ کہ علمائے اہلسنت سے ملاقات کرکے شریعت کا حکم ان سے معلوم کرے یا معتبر اور مستند کتابوں کے ذریعہ حلال وحرام اور جائز وناجائز کی جانکاری حاصل کرے ''۔
(علم اور علماء از مفتی جلال الدین امجدی ص٢٤)
علماء ِسو ء کی مذمت
جہاں پر علم و علماء کے فضائل و برکات ہیں وہاں بے عمل علماء کے لیے شریعت نے بہت سختی اختیار کی ہے ۔
حضور داتاصاحب صغافل علماء کے بارے فرماتے ہیں :
''غافل علماء وہ ہیں جنہوں نے اپنے دل کاقبلہ دنیاکو بنارکھاہے شریعت میں رخصتوں اور آسانیوں کی تلاش میں رہتے ہیں بادشاہوں کے حواری و پجاری ہیں اور ان کی سرکار دربار کے طواف کو وظیفہ حیات سمجھتے ہیں مخلوق میں جاہ ومرتبہ ان کے نزدیک معراج ہے فخر وغرور کی بدولت اپنی چالاکی اور عیاری پر فخر کرتے ہیں زبان وبیان میں تکلف و بناوٹ سے کام لیتے ہیں ،اساتذہ اور ائمہ پر طعن وتشنیع کرتے ہیں بزرگان دین کے بارے میں نہایت ہلکے پن کااظہار کرتے ہیں اگر دونوں جہاں بھی ان کے ترازو کے پلڑے میں رکھ دیئے جائیں تو کچھ بار نہ پاسکیں حسد اور عناد ان کی فطرت اور خمیر بن چکاہے ،الغرض یہ ساری باتیں علم کے دائرے سے باہر ہیں علم تو ایسی نعمت ہے جس سے اس قسم کی تمام جاہلانہ باتیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں''۔
(کشف المحجوب ص١٠٠)
علماء کی تذلیل وتحقیرکرنا کیساہے ؟
علماء سوء کی مذمت پڑھنے کے بعد ہم بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے بارے جوبات بات پر علماء کو تعن و تشنیع کرتے نہیں چوکتے اور معاذ اللہ کچھ تو ایسے ہیں جو علماء ِحق کو گالیاں بھی دیتے ہیں ان لوگوں کے لیے شریعت نے حکم ِکفر لگایا ہے اس موضوع پر ہم علماء ِ کرام کی کچھ تصریحات بیان کرتے ہی ۔
اعلٰحضرت فاضل ِبریلوی ص کا ایک فتویٰ حاضرِخدمت ہے جو انشاء اللہ اس عنوان کو کفایت کرے گا۔
''مسئلہ :کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عالم و فقیہ کو گالی دے یا حقارت کرے تو اس کے اوپر حکم کفر جاری ہو گا یا نہیں اور اکثر عوام الناس اس زمانے میں عالموں کو گالی دیتے اور حقارت اور غیبت کرتے ہیں ۔بینو ا توجروا
الجواب:غیبت تو جاہل کی بھی سو اصور مخصوصہ کے حرام قطعی و گنا ہ کبیرہ ہے قرآن عظیم میں اسے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا فرمایا اور حدیث میں آیا رسول اللہ ا فرماتے ہیں ایا کم و الغیبۃ فان الغیبۃ اشد من الزنا ان الرجل قدیزنی ویتوب فیتوب اللہ علیہ و ان صاحب ا لغیبۃ لایغفر لہ حتی یغفر لہ صاحبہ غیبت سے بچو کہ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے کبھی ایسا ہوتاہے کہ زانی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اوس کی توبہ قبول فرمالیتاہے اور غیبت کرنے والے کی بخشش ہی نہ ہو گی ،جب تک وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی تھی ،رواہ ابن ابی الدنیافی ذم الغیبۃ و ابو الشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبداللہ و ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہم یوہیں بلاوجہ شرعی کسی مسلمان جاہل کی بھی تحقیر حرام قطعی ہے ۔رسو ل اللہ افرماتے ہیںبحسب امری من الشران یحقر اخاہ المسلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ و عرضہ و مالہ آدمی کے بد ہونے کو یہ بہت ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کی تحقیر کرے مسلمان کی ہر چیز مسلمان پر حرام ہے خون آبرومال رواہ مسلم عن ابی ھریرۃرضی اللہ عنہ اسی طرح کسی مسلمان جاہل کوبھی بے اذن شرع گالی دینا حرام قطعی ہے ۔رسول اللہ ا فرماتے ہیں سباب المسلم فسوق مسلمان کو گالی دینا گنا ہ کبیرہ ہے رواہ البخاری و مسلم والترمذی وا لنسائی وابن ماجہ وا لحاکم عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور فرماتے ہیں اسباب المسلم کا لمشرف علی الہلکۃ مسلمان کو گالی دینے والا اوس کی مانند ہے جو عنقریب ہلاکت میں پڑا چاہتاہے رواہ الامام احمد و البزاز عن عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہما بسند جید اور فرماتے ہیں ا من آذی مسلما فقد آذانی و من آذانی فقد آذی اللہ جس نے کسی مسلمان کو ایذادی اوس نے مجھے ایذادی او رجس نے مجھے ایذادی اس نے اللہ کو ایذادی رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بسند حسن جب عام مسلمانوں کے باب میں یہ احکام ہیںتو علماء کرام کی شان تو ارفع وا علی ہے ۔حدیث میں ہے رسول اللہافرماتے ہیں لایستخف بحقہم الا منافق علماء کے حق کو ہلکا نہ جانے گامگر منافق رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃرضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں الا یستخف بحقہم الا منافق بین النفاق اون کے حق کو ہلکا نہ سمجھے گا مگر کھلا منافق رواہ ابو الشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہمااورفرماتے ہیں الیس من امتی من لم یعرف لعالمنا حقہ جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیںرواہ احمد وا لحاکم وا لطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر اگر عالم کو اس لئے براکہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اوسکی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتا ہے گالی دیتا تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق وفاجر ہے اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اوس کے کفر کا اندیشہ ہے ۔ خلاصہ میں ہے من ابغض عالما من غیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر منح الروض الازہر میں ہے الظاہر انہ یکفر الخ واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم''
(فتاویٰ رضویہ قدیم ١٠/١٤٠)
مذکورہ بالا تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ عالم کی تحقیر و تذلیل کتنا بڑا گناہ ہے او ربسا اوقات یہ گناہ قصداً کرنے سے حد کفر تک پہنچ جاتاہے ،لہٰذا ہمیں بھی غور کر لینا چاہیے کہ کہیں ہم بھی اس کبیرہ گنا ہ میں ملوث تو نہیں ،کبھی ایسابھی ہو تا ہے کہ جب ہم دوستوں میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اگر کوئی ہمارا دوست کسی عالم دین کی توہین کر تا ہے تو ہم بھی اس کی ہا ں میں ہا ں ملاتے چلے جاتے ہیں یاد رکھیے کفر یہ کلام پر ہاں کرنا کافر کرد یتا ہے۔
عالم دین سے قطع تعلقی کرنا
ہمارے بعض بد نصیب مسلمان بھائی ایسے بھی ہیں جو شیطان کے بہکاوے میں آ کر علماء سے لا تعلقی کااظہار کر بیٹھتے ہیںکیونکہ شیطان تو پہلے ہی سے اولاد آدم کا دشمن ہے اور اسے معلوم ہے کہ اگر عوامی طبقہ علماء کے قریب آگیاتو یہ بے راہ روی سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور مجھے اپنے مذموم مقصدمیں کامیابی نصیب نہیں ہوگی ۔ یادرکھیئے عالم دین سے محض اپنے ذاتی ونفسانی بغض کی وجہ سے لاتعلق ہونا بہت بڑے گناہوں کاباب کھولنے والا ہے ۔
اسی مسئلہ کے بارے اعلٰحضرت فاضل بریلوی صسے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
''مسئلہ ٥١:ایک عالم نے اپنے متعدد وعظوں میں سود خوری ،شراب فروشی ، شراب نوشی ، بیع لحم خنزیر ، اکل غیر مذبوح مرغ ،زناکاری ،لواطت واغلام کی حرمت قرآن و حدیث سے بیان کی اور میراث کے مسئلے میں محمد ن لاء (شریعت محمدی)کو چھوڑ کر ہندو لاء (ہندو دھرم)قبول کرنے کو کفر ِ صریح بتلایا جس جماعت میں یہ باتیں تھیں بجائے اس کے کہ ان باتوں کو ترک کردیتے اور توبہ واستغفار کرتے اور خدا ل و رسول ا کے حکم کے آگے سر جھکادیتے خلاف اس کے ضد اور نفسانیت میں آن کر اپنی جماعت کواکٹھا کر کے اتفاق کر لیا کہ جماعت کا کوئی فرد اپنے ہاں اس عالم کے وعظ کی مجلس منعقدنہ کر ے اور اگرکیا تو جماعت سے خارج کر دیا جائیگا ،آیا اس صورت میں شرعاًاس جماعت کا کیا حکم ہے اور دوسرے مسلمانوں کو شرعاً اس جماعت سے قطع تعلق کرناچاہیے یانہیں ؟بدلائل شرعیہ جواب لکھ کر عند اللہ ماجورہوں۔
الجواب:اس صورت میں جماعت سخت ظالم اور عذاب شدید کی اور اس آیت کریمہ کی مصداق ہے ،واذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم فحسبہ جھنم اورجب اس سے کہاجائے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرئیے تو اسے گناہ،مزید ضد (اورطیش)پر آمادہ کرے اورابھارے ،پس (بد نصیب)کے لئے دوزخ ہی کافی ہے۔ (القرآن٢،٢٠٦)اگروہ لوگ توبہ نہ کریں تو مسلمانوں کو ان سے قطع تعلق چاہیے ورنہ بحکم احادیث کثیرہ وہ بھی ان کے ساتھ شریک عذاب ہونگے اوشک ان یعمھم اللہ بعقاب منہ (قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیںاس کے عذاب میں شامل اورشریک فرمائے)واللہ تعالیٰ اعلم''
(فتاویٰ رضویہ جدید، ٢٤/١٧٣،١٧٤)
عالِم دین کوہلکا جاننا
عالم دین کو ہلکاجاننے والے کے بارے میںسرکارِدوعالم اکی چند احادیث ملاحظہ فرمائیں
المعجم الکبیر میں ہے :
''لایستخف بحقھم الامنافق''عالم کو ہلکا نہ جانے گا مگر منافق ۔
(المعجم الکبیر،حدیث٧٨١٩،٨/٢٣٨)
کنزالعمال میں ہے :
لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق رواہ ابو الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما'' ان کے حق کو ہلکا نہ سمجھے گا مگر کھلا منافق اسے ابو الشیخ نے التوبیخ میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری صسے روایت کیا۔
(کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ رقم الحدیث٤٣٨١١،١٦/٣٢)
مسند امام احمد بن حنبل صمیں ہے:
''لیس من امتی من لم یعرف لعالمنا حقہ رواہ احمد و الحاکم والطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ''ان کے حق کو ہلکا نہ سمجھے گامگر کھلا منافق اسے ابو الشیخ نے التوبیخ میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ص سے روایت کیا۔
(مسند امام احمد بن حنبل حدیث عبادہ ابن صامت ٥/٣٢٣)
خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے :
''من ابغض عالما من غیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر''جو کسی عالم سے بغیر سبب ظاہری کے عداوت رکھتا ہے اس کے کفر کا اندیشہ ہے ۔
(خلاصۃ الفتاویٰ،کتاب الفاظ الکفر الفصل الثانی ٤/٣٨٨)
منح الروض میں ہے : ''الظاھر انہ یکفر'' ظاہر یہ ہے کہ وہ کافر ہو جائے گا۔
(منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء صفحہ١٧٣)
اپنے آپ کو عالم یا مولوی کہنا
اعلٰحضرت فاضل بریلوی ص ارشاد فرماتے ہیں:
''اپنے آپ کو بے ضرورت شرعی مولوی صاحب لکھنابھی گناہ و مخالف حکم قرآن عظیم ہے قال اللہ تعالیٰ ھواعلم بکم اذانشاکم من الارض واذانتم اجنۃ فی بطون امھٰتکم فلاتزکواانفسکم ھواعلم بمن اتقیٰ اللہ تمھیں خوب جانتا ہے جب اوس نے تمھیں زمین سے اوٹھان دی اورجب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں چھپے تھے تو اپنی جانوں کو آپ اچھا نہ کہو خداخوب جانتاہے جو پرہیز گار ہے اورفرماتا ہے الم ترالی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشاء کیا تونے نہ دیکھا اون لوگوں کو جوآپ اپنی جان کو ستھرابتاتے ہیں بلکہ خدا ستھرا کرتا ہے جسے چاہے ۔حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں من قال انا عالم فھوجاھل جواپنے آپ کو عالم کہے وہ جاہل ہے رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما بسند حسن ہاں اگرکوئی شخص حقیقت میں عالم دین ہو اور لوگ اوس کے فضل سے ناواقف اور یہ اس سچی نیت سے کہ وہ آگاہ ہو کر فیض لیں ہدایت پائیں اپنا عالم ہونا ظاہر کرے تومضائقہ نہیں جیسے سیدنا یوسف علیٰ نبیناالکریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا تھا انی حفیظ علیم ۔''
(فتاویٰ رضویہ قدیم١٠/٩٥،٩٦ )

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc


Last edited by Administrator on Fri 17 Sep 2010 - 7:25; edited 1 time in total
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Janti Zever
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 228
Join date : 01.01.2010
Age : 30
Location : United Kingdom

PostSubject: Re: امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین   Thu 16 Sep 2010 - 20:43


Madinah post kuch nahi kia k mughe hi nazar nahi arha Rolling Eyes

Back to top Go down
View user profile
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین   Fri 17 Sep 2010 - 7:40

امیر اہلسنت بحیثیت عالم دین
علم دین کی تعریف و قیودات اور حاملِ علم دین کے فضائل و مناقب بیان کرنے کے بعد اب ہم موضوعِ کتاب کی جانب آتے ہیں ۔امیر اہلسنت کا شمار ملتِ اسلامیہ کے ان نامور علماء ومشائخ میںہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی حصول ِ علم وتبلیغ ِ علم میںصرف کردی ہے یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاںہے کہ وہ عظیم کا م جس کو تمام علماء کو انفرادی و اجتماعی طور پر کرنا چاہیے تھاوہ کارِحسن اللہ تعالیٰ لنے صرف ایک عظیم الشان ہستی سے لے لیا اگر چہ بعض علماء ومشائخ ایسے بھی ہیںجنہوں نے اپنی وسعت کے مطابق امورِ تبلیغیہ کو سرانجام دیا ہے۔ اگرکوئی مفتی ہے تو افتاء کے ذریعے ،کوئی مدرس ہے تو اپنی بے مثل تدریس سے ،کوئی مقرر ِشعلہ بیان ہے تو اپنی تقریر کے ذریعے ،کوئی محرر ہے تو اپنی تحریر کے ذریعے دین اسلام کے مختلف مورچوں سے امور تبلیغیہ کو سنبھالے ہوئے ہے۔ لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے کسی کو راہ ِفرار نہیں کہ بہت کم علمائے کرام ایسے ہوںگے کہ جن کوجمیع ذرائع تبلیغیہ کو بروئے کار لانے کی توفیق حاصل ہوئی ہو ۔
عظیم مبلغ :۔اگر ہم امیر اہلسنت کے کارناموں پر نظر کریں تو پتہ چلتاہے کہ وہ عظیم ہستی جس نے اپنی پوری زندگی شریعت ِ محمدیہ کی نشر واشاعت میں صرف کر دی اگر تقریر کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ امام البیان ہیں کیونکہ بیان ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے خود افصح الفصحاء و ابلغ البلغاأانے ارشاد فرمایا تھا:
''ان من البیان لسحرا بعض بیان جادو ہیں ۔
(مشکوۃ شریف ص٤٠٩)
اس سے مراد یہ ہے کہ بیان ایک ایسا منتر ہے کہ اس کے سننے والے پر جادو جیسا اثر کرکے اس کو بے راہ روی سے ہٹا کر راہِ حق کا مسافر بنانے کا کام کرتاہے ۔امیر اہلسنت نے بھی اس کلیہ ِشرعیہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے زود اثر بیانات سے تقدیر امتِ مسلمہ بدل ڈالی آپ کے بیانات پر توجہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ خود بیان نہیں فرمارہے بلکہ ھادی امت ا آپ کی مکمل رہنمائی فرمارہے ہیںاسی لیے آج بینا نظر کو نصف النھار کی مانند دکھائی دے گاکہ جو اصلاح معاشرہ امیر اہلسنت کے بیانات کے ذریعے سے ہوئی ہے وہ اصلاح کسی اور ذریعہ تبلیغ سے نہیں ہوئی ۔
شہباز ِتحریر:۔اسی طرح اگر امیر اہلسنت کو ہم میدان ِ تصنیف میں دیکھتے ہیں تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ جیسے آپ قاری کے حالات سے آگاہ ہیں اور جو خطائیںوہ سابقہ زندگی میں کر چکا اپنے انہی گناہوں کو وہ امیرِاہلسنت کی کتاب میںپڑ ھ رہا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ دام ظلہ العالی کو عوام کی دکھتی نبض پر ہاتھ رکھنے کا فن باخوبی آتاہے آپ جیسے نباضِ قوم محررین میں سے گنے چنے ہیں۔
امامِ اہل صَفائ:۔جب ہم آپ کومیدانِ عمل میں دیکھتے ہیںتواپنے اسلاف علماء ومشائخ ِعظام کی یاد تازہ ہو جاتی ہے امیر اہلسنت ایک ایسے صوفی ِ باصفا ہستی ہیں جن کا عمل امتِ مسلمہ کے لیے مشعل ِ روز گار ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر کسی پیر کا عمل ملاحظہ کرناہو تو اس کے مریدوں میںدیکھ لو تو جان جاؤ گے کہ اس کا پیر کتنا باعمل ہے ۔تحریک ِدعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائیوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہو تا ہے کہ سنتِ مصطفی کریم اکی چلتی پھرتی تصویریں ہیں ،امیر اہلسنت کا ہم پر یہ احسان ہے کہ آپ دامت برکاتھم العالیہ نے ایسی سنتوں سے متعارف کروایا جن کو مسلمان بھول چکے تھے ۔نبی غیب داںا نے ارشاد ہے:
''عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من تمسک بسنتی عند فساد امتی فلہ اجر مائۃ شھید'' حضرت ابو ھریرہصنے کہا کہ رسول کریم ںنے فرمایا کہ جو شخص میری امت میں (عملی و اعتقادی )خرابی پیدا ہونے کے وقت میری سنت پر عمل کرے گا اس کو سو شہید کا ثواب ملے گا۔
(انوارالحدیث بحوالہ مشکواۃص٦٨)
سب جانتے ہیں کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کی خبر سرکارِ دوجہاں ا نے دی تھی یہ مادیت پرستی کا دور جس میں سنتِ کریمہ پر عمل کرنا لوگوں پر بہت گراں ہے ۔
امیر اہلسنت اپنے عمل پر ایسے مستقیم ہیںکہ راقم الحروف کو ایک مدرسہ کے ناظم صاحب نے بتایا جن کو امیر اہلسنت کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہو ا ہے ان کا کہنا ہے کہ جب امیر دعوتِ اسلامی نے اپنے مریدوں کو یہ حکم ارشاد فرمایا کہ قفلِ مدینہ (دعوتِ اسلامی کی اصطلاح میںکم بولنے کو کہتے ہیں)لگالو تو اس سے پہلے آپ نے خود تقریباً پانچ سال تک زبان کی حفاظت کی طرف توجہ دی جب دیکھا کہ اب مجھے اس پر استقامت مل گئی ہے تو آپ نے اپنے محبین کو زبان کی حفاظت کا مشورہ دیا ۔
میدانِ اردو ادب کا سپاہی:۔ بلا مبالغہ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ امیر اہلسنت کی نابغہ روزگار ہستی دنیائے اردو ادب کی ایک ایسی جانی پہچانی شخصیت ہیں کہ جن کے اردو ادب سے آج لاکھوں مسلمانوں کی اردو درست ہوئی ہے ۔آپ کی جتنی بھی تحاریر مارکیٹ میں آگئی ہیں آپ خود ملاحظہ فرماسکتے ہیں کہ آپ نے مشکل مقامات پر اعراب لگادیئے ہیں اور ایک ادیب جانتاہے کہ کسی اردوعبارت پر اعراب لگانا کتنا دشوارعمل ہے ۔
ادب چونکہ شعرو شاعری سے متعلق ہے لیکن سخن پرداری ایک ایساملکہ ہے جو ہمیں اردو زبا ن کو درست بولنے کا انداز بتاتاہے ۔اگرہم امیر اہلسنت کو شاعری کے میدان میں دیکھتے ہیں تو آپ کی شاعری میں سخنِ رضانظر آتاہے اور میدانِ اردو ادب کے شاہسوار جانتے ہوں گے کہ اعلحضرتص کی نعتیہ شاعری کتنی محتاط اور دلنواز ہے جس میں ادب بھی موجود ہے تو آداب بارگاہ نبوی ا بھی ملحوظ ہے اور یہی سب کچھ امیر اہلسنت کے نظم و نثر میں دکھائی دیتا ہے۔
عوام وخواص میں سلسلہ ِ مراتب
اعلٰحضرت فاضل بریلوی صعوام وخواص میں تراتبِ علمی بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
''اگرائمہ مجتہدین انکی شرح نہ فرماتے تو علماء کچھ نہ سمجھتے اور علماء کرام اقوال ِائمہ مجتہدین کی تشریح وتوضیح نہ کرتے تو ہم لوگ ارشادات ِ ائمہ کے سمجھنے سے بھی عاجزرہتے اوراب اگر اہل علم عوام کے سامنے مطالب کتب کی تفصیل اورصورت خاصہ پر حکم کی تطبیق نہ کریں تو عام لوگ ہر گز ہرگز کتابوں سے احکام نکال لینے پر قادرنہیں ہزار جگہ غلطی کریں گے اور کچھ کا کچھ سمجھیں گے ،اس لئے یہ سلسلہ مقررہے کہ عوام آج کل کے اہل علم ودین کا دامن تھامیں اوروہ تصانیف علمائے ماہرین کا اوروہ مشائخ فتویٰ کا اور وہ ائمہ ھدیٰ کا اور وہ قرآن وحدیث کا ، جس شخص نے اس سلسلے کو توڑا وہ اندھاہے ،جس نے دامن ہادی ہاتھ سے چھوڑا عنقریب کسی عمیق(گہرے )کنویں میں گراچاہتاہے''۔
(فتاویٰ رضویہ جدید ٢١/٤٦١،٤٦٢)
اعلٰحضرت فاضل بریلوی ص کی اس ترتیب کوملاحظہ کر نے کے بعد معلوم ہو ا کہ عوام کو تو حکم ہے کہ علماء سے رجوع کریں اورعلماء کو حکم ہے کہ وہ تصانیف ماہر علماء سے استفادہ کریں میں نے اس عبارت کو انڈر لائن کر دیاہے تا کہ دیکھنے میں آسانی ہو سکے۔اور حقیقت میں یہی عالم کی تعریف ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے مسائل کو ازخود استنباط کر سکے اوریہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ علم کے حصو ل کے موجودہ دور میں مختلف ذرائع ہیں کو ہم بالتفصیل بیان کرتے ہیں ۔
تعلیم کے مروجہ ذرائع
دور حاضر میں علم و آگہی حاصل کرنے کے مندرجہ ذیل ذرائع ہیں:
(١)مدرسہ واسکول:
یہ ذریعہ ِتعلیم بہت اہم ونافع ہے کیو نکہ ہمارے اکثراسلا ف بھی اسی ذریعہ سے ہی علم وفقاہت کے منارہ پر چڑھے۔
(٢)پرنٹنگ و الیکٹرانک میڈیا:
یہ ذریعہ تعلیم آج کے اس دور میں بہت رائج ہے آپ خود ملاحظہ فرمالیں کہ نت نئ کتب،رسائل وجرائد ،ٹیلی ویزن و کمپیوٹر ،وی سیڈیز وآڈیو کیسٹس اس ذریعہ تعلیم کی زندہ مثالیں ہیں۔
(٣)افواہِ رجال:
وہ حضرات جن کا واسطہ عوام و خواص سے بلاواسطہ ہوتارہتا ہے ان کو بھی طرح طرح کی معلومات ہوتی رہتی ہیں اور اگر اسکا رابطہ علماء وفقہاء سے ہو تو علماء سے سن کر یا پوچھ کر بھی ایک علمی ذخیرہ اکھٹا ہو جاتا ہے اور اس ذریعہ تعلیم کی طرف اللہ مجدہ الکریم کا کلام ِبے عیب بھی ہماری رہنمائی کرتاہے:
''فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ'' تو اے لوگوعلم والوںسے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں۔
(القرآن، النحل ٤٣)
اعلٰحضرت فاضل بریلوی صسے کسی نے سوال کیا:
''عرض :کتب بینی ہی سے علم حاصل ہوتاہے ؟ارشاد:یہی کافی نہیں بلکہ علم افواہ رجال سے بھی حاصل ہوتاہے''۔ (ملفوظات اعلٰحضرت ص٢٣)
اعلٰحضرت فاضل بریلوی صکی بیان کردہ توضیح سے معلوم ہو گیا کہ علم افواہ رجال یعنی لوگوں سے سن کر معلومات کاذخیرہ اپنے ذھن نشیں کر لینے سے بھی حاصل ہوتاہے ۔
(٤)خارجی مطالعہ:
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک مصروف شخص اپنے وقت سے فارغ وقت نکال کر کچھ کتب بینی کر لے ،اس طر ح بھی آہستہ آہستہ ایک کثیر علمی ذخیرہ اکٹھا ہو سکتا ہے ،اسی طرح ایک طالب ِ علمِ دین اپنے اسباق کے علاوہ دوسری متعلقہ کتب کے مطالعہ سے دوسرے طلباء سے زیادہ ذہین و فہیم ہو جاتاہے ۔
امیر اہلسنت کا ذریعہ تعلیم
امیر اہلسنت نے جہاں اسکول کی تعلیم (جو کہ آپ نے بھارت سے حاصل کی آپ پاکستان آنے سے پہلے بھارت میں مقیم تھے )حاصل کی تووہاں علم دین کو بھی اپنی مشعل راہ بنایا ۔اس سلسلے میںآپ دامت برکاتہم العالیہ کو بچپن ہی سے علم و علماء سے گہرا شغف رہاآپ کا یہ معمول رہتاکہ دیگر کاموں کے علاوہ آپ علماء کی مجالس میں رہتے اور مسائل شرعیہ میں استفسارفرماتے اس کے علاوہ علماء کرام کی کتب بینی اور علمی مناظرے آپ کا ایک مخصوص ذوق تھا۔آپ نے باقاعدہ طور پر تحصیل درسیات کے لیے دارالعلوم امجدیہ کراچی سے رابطہ استوار رکھا ۔کراچی کی یہ عظیم درس گاہ ہی نے آپ کو نکھارا اور آپ کی علمی تشنگی کو دور کیا ۔
استادِامیراہلسنت کا اپنے شاگردکے بارے تاثر
امیر دعوت اسلامی کے علمی مقام وذوق کو بیان کرتے ہوئے ایک ایسی شخصیت کا ہم حوالہ پیش کرتے ہیں جن کے پاس امیر اہلسنت اپنی زندگی کا ایک حصہ ٢٢سال حصول علم کے لیے آتے رہے ۔ایک استفتاء کے جواب میں جو کچھ بیان ہوا ہم من وعن بیان کر رہے ہیں۔
''امیر اہلسنت کی سنیت کا بیان''کے عنوان سے وقار الفتاویٰ میں مفتی وقارالدین صاحب کا ایک تاریخی فتویٰ موجود ہے۔
''الاستفتاء :۔محترم جناب مفتی وقار الدین صاحب !السلام علیکم ورحمۃ اللہ
گزارش یہ ہے کہ کاٹھیا واڑ (انڈیا )کے کچھ دیہاتیوں میں مولانا محمد الیاس قادری صاحب کے بارے میں یہ مشہور کیا جارہا ہے کہ یہ دیوبندیوں کے ایجنٹ ہیں اور آگے چل کر کھل جائیں گے ۔برائے مہر بانی آپ ان کے مسلک کی پوزیشن کو واضح فرمائیں ۔عین نوازش ہوگی ۔
سائل :محمد اقبال
الجواب:۔دعوت اسلامی کے بانی مولوی محمدالیاس قادری صاحب کو میں تقریباً ٢٢سال سے جانتا ہوں وہ برابر میرے پاس آتے جاتے رہتے تھے اور مسائل پوچھ پوچھ کر ہی وہ مولوی بنے اورا ن کو یہ جماعت قائم کرنے کے لئے بھی ہم لوگوں نے تیار کیا تھا اور میں نے ان کو خلافت بھی دی وہ میرے خلیفہ بھی ہیں ان کے سنی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے پکے سنی ہیں ۔اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شیدائی ہیں ۔ان کے متعلق دیوبندیت کا شبہ کرنا سخت ناجائز ہے اور یہ وہی گمان ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا گیا:
''اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ'' یعنی بے شک کوئی گمان گناہ ہو جاتاہے (الحجرات٤٩آیت ١٢)
لہٰذا مسلمانوں کو ایسے شبہات نہیں کرنے چاہئیں اور جو لوگ اس قسم کے شبہات ظاہر کرکے دعوت اسلامی کو بدنام کر رہے ہیں انہیں خدا سے ڈرنا چاہیے ۔وقار الدین غفر لہ
(وقار الفتاویٰ٢/ ٢٠٢)
اس فتویٰ کی رو سے نہ صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری صاحب کی حصو ل علم کے لیے کتنی کاوشیں رہی بلکہ اس تحریر کو ملاحظہ فرمانے کے بعد قاری کو یہ احساس بھی ہوگا کہ جن ذی قدس اسلاف کے متعلق ہم کتب میں پڑھتے تھے یا پھر علماء وخطباء کی زبانی سنتے تھے کہ ہمارے اسلاف حصول علم کی تگ ودو میں کوچہ کوچہ ،نگر نگر ،ڈگر ڈگر ،اور ملک بہ ملک سفر کرتے رہے اور بعض اسلاف کے بارے تو یہاں تک سنا کہ چالیس چالیس سا ل تک علم کے حصو ل کی خاطر گھر سے دور رہے وہی ایک جھلک امیر اہلسنت و امیر دعوت اسلامی میں بھی نظر آتی ہے اور یہ فتویٰ آپ کے علمی شغف کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
مفتی وقار الدین صاحب کامختصر تعارف
وقار الفتاویٰ کی پہلی جلد کے شروع میں آپ کاجو تعا رف لکھا گیا ہے اس کو ہم مختصر انداز میں بیان کرتے ہیں تاکہ قارئین کوامیر اہلسنت کے استاد صاحب کی علمی حیثیت واضح ہو سکے ۔
''جامع معقو ل ومنقول ،یعسوب العلماء ،پیر طریقت ،رہبر شریعت،مفتی اعظم پاکستان حضرت قبلہ علامہ مفتی محمد وقارالدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے عہد کے نابغہ روز گار ہستی کے مالک تھے ۔اللہ تعالیٰ لکے بندوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ تعریف کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ الفاظ تعریف اس کے محتاج ہوتے ہیں کہ وہ ان پاک باز لوگوں کی شان میںتحریر کیے جائیں ؎
حسن کامل بے نیاز از منت مشاطگاں
کاملاں را احتیاج جبہ و دستار نیست

عالم ربانی حضرت قبلہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد وقار الدین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی ۔
یکم جنوری ١٩١٥ء مطابق ١٤صفر المظفر ١٣٣٣پیلی بھیت (ہندوستان)میں آپ پیدا ہوئے اور آپ کا نام محمد وقار الدین رکھا گیا۔ہوش سنبھالتے ہی آپ کو مدرسہ آستانہ شیریہ میں مذہبی تعلیم کے لیے داخل کروا دیا گیا۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ میں ایک مولانا حبیب الرحمٰن تھے جو آپ کہ مولانا وصی احمد محدث سورتی کے خاص شاگرد وں میں سے تھے اور دوسرے مولاناعبدالحق تھے یہ انتہائی قابل استاذ تھے اور اکثر کتابوں کی عبارات آپ کو زبانی یاد تھیں۔حضرت نے چار سال اس مدرسہ میں تعلیم پائی ۔ اسکے بعد آپ کے استاد محترم مولانا حبیب الرحمٰن نے آپ کو مشورہ دیا کہ اب آپ مزید تعلیم کے لیے بریلی شریف چلے جائیں ۔ چناچہ مولانا حبیب الرحمٰن نے ہی آپ کو بریلی شریف کے دارالعلوم ''منظرالاسلام''میں داخلہ دلوایا۔
بریلی شریف میں اس وقت صدر مدرس صدرالشریعہ حضرت علامہ امجدعلی الرحمہ مصنف 'بہارِشریعت' تھے اور دیگر مدرسین میں محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت مولانا احسان الہٰی ،حضرت مولانا سردار علی خان جو کہ اعلیٰ حضرت کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔اور مہتمم مولانا تقدس میاںتھے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنی تدریسی زندگی کاآغازمشرقی پاکستان کے ایک مدرسہ دارالعلوم احمدیہ سنیہ سے کیا کچھ عرصہ بعد حضرت مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ مغربی پاکستان پہنچے تو پہنچتے ہی جب دارالعلوم امجدیہ کے مہتمم حضرت قبلہ علامہ محمد ظفر علی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شیخ الحدیث عبدالمصطفیٰ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کو آپ کی آمدکی پاکستان اطلاع ہوئی تو دونوں احباب آپکے پاس تشریف لائے اور دارالعلوم امجدیہ کی علمی سرپرستی فرمانے کی درخواست کی ۔ حضرت نے ان حضرات کو جواب دیا کہ ''علامہ ازہری میرے ہم سبق ہیں اور پھر بریلی میں ایک ساتھ تدریس کی او راس کے علاوہ استادزادے بھی ہیں توکہیں ایسا نہ ہو کہ ایک جگہ رہنے سے اتنے عرصہ کی دوستی میں کسی قسم کی شکر رنجی پیداہو جائے''علامہ ازہری نے فرمایا کہ آپ مجھے جانتے ہیں اور میں آپ کو انشاء اللہ ہمارے درمیان دوستی میں مزید پختگی آئے گی ۔ چناچہ ان حضرات کے اصرار پر حضرت نے١٩٧١ء ہی میں امجدیہ میں اپنی خدمات پیش کردیں ۔
ا س کے بعدآپ دارالعلوم امجدیہ کراچی میں بحیثیت ناظم تعلیمات رہے اس کے ساتھ ساتھ آپ شعبہ دارالافتاء اور مسند شیخ الحدیث پرفائز رہے ۔ اللہ تعالیٰ لکے فضل و کرم سے آپ نے کئی علوم حاصل کیے جنکی فہرست کو اگر دیکھا جائے توحیر ت تو ہوتی ہے کہ ایک شخص اپنی مختصر سی زندگی میں اتنے علوم حاصل کر سکتا ہے ؟ بے شک اللہ تعالیٰ جسے نوازنا چاہتؒ سبب (یعنی بلاوجہ)رنج(بغض)رکھتا ہے تو مریض القلب و خبیث الباطن ہے(یعنی دل کا مریض اور ناپاک باطن والا)ہے اوراس (یعنی خواہ مخواہ بغض رکھنے والے)کے کفرکااندیشہ ہے،''خلاصہ''میںہے،من ابغض عالما من غیرسبب ظاھر خیف علیہ الکفریعنی جو بلا کسی ظاہری وجہ کے عالم دین سے بغض رکھے اس پر کفر کا خوف ہے ۔''(فتاویٰ رضویہ ج ١٠ص١٤٠مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)شریعت و ع

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین   Fri 17 Sep 2010 - 7:45

مجددکی شناخت اور مجددین کی فہرست
کتاب مذکورہ میں ہی سعیدی صاحب نے علامات مجدد پربھی روشنی ڈالی ہے بغیر کسی تبدل کے ہم اس کو اسی طرح لکھتے ہیں :
''علامات مجدد۔مجدد کی علامات مندرجہ ذیل ہیں
٭عشق رسول امیں ڈوب کر اپنی قلبی بصیرت اور خداداد صلاحیتوں سے بدعقیدگی وبد مذہبی بے دینی اور الحاد کا خاتمہ کرے ۔''
٭سرکار رسالت مآب اکی شان اقدس میں گستاخی و بے ادبی کرنے والوں کا قلع قمع کرے ۔
٭سراج الامۃ حضرت امام اعظم ص کی فقہ پر اور دیگر شرعی مسائل سے گردو غبار کوصاف کرکے انہیں عملی طور پر نافذ کرائے۔
٭قندیل نورانی شہباز لامکانی حضرت غوث الاعظم جیلانی ص کا سچا وارث بن کردین اسلام اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احیا ء کرے ۔
٭وہابیہ دیوبندیہ کی نام نہاد تبلیغ سے پھیلائی جانے والی بد مذہبی کاخاتمہ کردے
٭بے حیائی بے غیرتی فحاشی و عریانی کے سیلاب کے سامنے بندھ باندھ دے ۔
٭اور خواتین کو چادرو چار دیواری سے روشناس کر کے پردہ نشیں بنائے ۔
٭توحید خدا وندی اورشان رسالت اشان صحابہ اہلبیت و شان اولیاء ث کا صحیح معنوں میں محافظ بن کر ان کے منکر ین پرقہر خداوندی کی بجلی بن کر گرے ۔
٭سلطنت دین اسلام کا خلیفہ بن کر ایمان کے لٹیروں کو بے نقاب کر دے ۔
٭عشق رسول امیں سر شار ہو کر مذہبی بگلوں کے فریب کو چاک کرے۔
٭اپنے تجدیدی کارناموں سے امت مسلمہ کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کے دین وایمان کوتازہ کردے اور سر کار دوعالم اکی مردہ سنتوں کو زندہ کر دے ''۔
(پندرہویں صدی کا مجدد کون ؟ص١٤،١٥)
پھر آگے مجدد کی شرائط کے بارے لکھتے ہیں کہ:
''محققین علماء اور مشائخ عظام نے مجدد کی شرئط اور اس کی پہچان کچھ اس طرح بیان کی ہیں کہ مجدد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک صدی کے آخر اور دوسری کی ابتداء میں اپنی دینی خدمات علم و فضل عالمانہ شان و شوکت تقویٰ و پرہیز گاری کی بے مثال شہرت رکھتا ہواس کے ہم عصر علماء اس کے متعلق اسکے احیاء سنت کے کام کا ذکر تے ہوں اور دین میں داخل کی گئی برائیوں اور بدعات کے خلاف برسرپیکار ہو سنن رسول ااور دین اسلام کی ترویج و اشاعت اس کی زندگی کامشن ہو اس کی دینی خدمات اور احیاء سنت کاکام زبان زد عام ہو اس کے احیاء دین و سنت سے متعلق اس کی مساعی جمیلہ رنگ لارہی ہو تو جس عالم دین نے کسی صدی کا آخر ی حصہ نہ پایا ہو یاپایا ہو مگر اس میں اس کی دینی خدمات کی شہرت نہ ہوئی ہو تو ایسا عالم دین مجدد نہیں بن سکتا اور یہ بات بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر صدی میں پوری روئے زمین پر صرف ایک ہی مجدد ہو بلکہ ایک سے زائد مجدد بھی ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مختلف علاقوں میں جہاں دین اسلام کو خطرات ہوں وہاں اللہ تعالیٰ مختلف مجدد ین بھیج دے تاکہ وہ دین اسلام کی اصلی کیفیت کو اجاگر کر سکیں ''۔
(پندرہویں صدی کا مجدد کون ؟ص١٦)
یہ مکمل رو داد تو امیر اہلسنت کے اعلان مجددیت کے بارے تھی جو آپ نے ملاحظہ فرمالی لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ ہم سابقہ دوار کے مجددین کی بھی ایک فہرست نذرقارئین کر دیں۔
پہلی صدی کے مجدد خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبداللہ العزیز ص ہیں آپ کی پیدائش ٩ھ میں اور وصا ل ١٠١ھ میں ہوا اس اعتبار سے آپ کو دوسری صدی کا مجدد کہنا چاہیے لیکن تمام علماء کا اسی بات پر اتفاق ہے کہ آپ پہلی صدی کے مجدد ہیں ۔
دوسری صدی کے مجدد سیدنا امام شافعی وسیدنا امام حسن بن زیادث ہیں ۔
تیسری صدی کے مجدد قاضی ابو العباس بن شریح شافعی ،امام ابو الحسن اشعری اور محمد بن جریر طبری ثہیں ۔
چوتھی صدی کے مجدد امام ابو بکر باقلانی وامام ابو حامد اسفرائنی ثہیں ۔
پانچویں صدی کے مجدد قاضی فخر الدین حنفی وامام محمد بن غزالیث ہیں ۔
چھٹی صدی کے مجدد امام فخر الدین رازی ص ہیں ۔
ساتویں صدی کے مجدد امام تقی الدین بن دقیق العید صہیں ۔
آٹھویں صدی کے مجدد امام زین الدین عراقی ،علامہ شمس الدین جزری اور علامہ سراج الدین بلقینیث ہیں ۔
نویں صدی کے مجدد امام جلال الدین سیوطی اور علامہ شمس الدین سخاویثہیں۔
دسویں صدی کے مجدد امام شہاب الدین رملی اور ملا علی قاری ثہیں ۔
گیارہویں صدی کے مجدد امام ربانی ،مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی حضرت علامہ میر عبدالواحد بلگرامی مصنف سبع سنابل شریف ہیں ،شیخ عبدالحق محدث دہلوی ث۔
بارہویں صدی کے مجدد شہشاہِ ہند ابو المظفر محی الدین اورنگزیب بہادر عالمگیر بادشاہ غازی ،حضرت سیدی شاہ کلیم اللہ چشتی دہلوی ،حضرت شیخ غلام نقش بند لکھنوی ،اور حضرت قاضی محب اللہ بہاری ثہیں ۔بعض لو گوں نے اپنی خوش اعتقادی کے باعث شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ث کو بھی بارہویں صدی کا مجدد کہا ہے مگر تصریحاتِ علماےء اسلام کے مطابق ان کا شمار مجددیں میں نہیں ہے کیونکہ شاہ صاحب کی پیدائش ١١١٤ھ میں اور وفات١١٧٦ھ میںہوئی ہے تو صاحب علم و فضل ہونے کے باوجود انھوں نے نہ تو کسی صدی کا آخر پایا اور نہ کسی صدی کا آغاز ۔
تیرھویں صد ی کے مجدد شاہ ولی اللہ صاحب محدث دھلوی صکے فرزند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دھلوی ص متولد١١٥٩ھ متوفی ١٢٣٩ھ
چودہویں صدی کے مجدد امام اہلسنت اعلحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی صہیں۔
پندرھویں صدی کے عظیم مجدد
مذکورہ بالا سطور سے کھلی چشموںدیکھا جاسکتاہے کہ الحمد للہ عزوجل صدی حاضرہ کا مجدد کو ن ہے؟ اور یہ میرا دعویٰ نہیں ہے بلکہ علماء اہلست کے عظیم ستون کا قول ہے اسی پر ہی بس نہیں بلکہ 'پندرھویں صدی کا مجددکون؟'نامی کتاب پرجس میںدلائل و براھین سے مزین کر کے امیر اہلسنت کی مجدد یت کو ثابت کیا گیاہے اوررئیس التحریرمصنفِ کتب کثیرہ شیخ الحدیث والتفسیرمناظرِ اسلام حضرت علامہ مولانا مفتی محمدفیض احمداویسی صاحب کی تقریظ بھی ہے او رقارئین اکرام جانتے ہوںگے کہ کسی کتاب پرتقریظ مؤید دعویٰ ہوتی ہے ۔

مجدد مائۃ حاضر ہ رزم گاہ حق وباطل میں
امیر اہلسنت حضر ت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کی مقدس زندگی کے کارناموں پر ایک نگاہ ڈالیں توصاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ مجدہ الکریم نے اپنے اس بندہ خاص کو اپنے دینِ متین کی حفاظت و صیانت کے لیے ہی پیدا فرمایا ہے ۔ دین کی تجدید و تبلیغ ، اسلام کی حمایت و نصرت ہی آپ کی فرضِ منصبی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
دورحاضر جس میں فتنہ ہائے زمانہ ہرآن منہ کھولے کھڑے ہیں ایک ایسا دور جس میں قو م بے راہ روی کو شکار ہو،جس میں لوگ گناہوں کو اپنی تہذیب کا ایک حصہ قراردیتے ہوں،جس میں تمدنی معاشرتی ،اخلاقی ، روحانی ،سماجی ضوابطکاجنازہ نکل چکاہو،جھوٹ، غیبت ،چغلی ،وعدہ خلافی،بے پردگی ،سنتوںسے دوری ،گاناباجا ،زنا،چوری ،ڈکیتی ،قتل و غارت گری،شراب نوشی وغیرہ وغیرہ غیر شرعی امورِ زندگی رائج ہوں ، ایسادور مقتضی ہے ایک ایسے مصلح کا جو قوم کو اللہ کی عطا کردہ تجدیدی طاقت سے ان عریاں خیالات کو پاش پاش کر دے جو اپنے علم و عمل سے بے راہررہ عوام کو قرآن و سنت کی روشنی سے روشناس کروائے یقینا ان شرائط پر ہم امیر اہلسنت کو پورا اترتادیکھتے ہیں جنہو ں نے ہمارے معاشرہ سے گناہوں کے ناسورکو نکالنے کے لیے حتی المقدور کوشش کی اور آپ مدظلہ العالی اس کوشش میں کامیاب بھی رہے جس کو ہر باخبر جانتا ہے۔

تبلیغیوں کا ہو لناک فتنہ عظیم
کراچی کے جس ماحو ل میں امیر اہلسنت نے بلوغت کی آنکھ کھولی تو آپ نے دیکھا کہ ناموس رسل و مرسِل پر اغیارامہ نہیںبلکہ مسلمان کہلانے والے اور مسلمان ہو کر غیر مسلم طاقتوں کے ذرخرید غلاموں کے حملے عروج پارہے ہیں وہ لوگ جو ہر سو یہ کہتے سنائی دیئے گئے کہ ''(١)اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے پر قادر ہے (٢)افعالِ قبیحہ مقدور باری تعالیٰ ہیں (٣)رب تعالیٰ اپنی مثل پیدا کرنے پر قادر ہے (٤)غیب کی بات جاننے میں انبیاء اور شیطان برابر ہیں (٥)یہ جان لیناچاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے(٦)خدا چاہے تو کروڑوں محمد پیدا کردے(٧)اللہ کی شان بہت بڑی ہے کہ سب انبیاء اور اولیاء اس کے رو برو ایک ذرہ ناچیز سے بھی کمتر ہیں(٨)انبیاء ہمارے بڑے بھائی ہیں (٩)نبی مر کر مٹی میں ملنے والے ہیں (١٠)حضور کا علم غیب مجنون اور چوپایوں کی طرح ہے (١١)تبلیغی علماء حضور کے استاد ہیں (١٢)شیطان اور ملک الموت کا علم نص سے ثابت ہے نبی پاک کا علم ثابت نہیں(١٣)امتی عمل میں انبیاء سے بڑ ھ بھی جاتے ہیں (١٤)حضور کے بعد بھی نبی آسکتاہے (١٥)نماز میں حضور کا خیال گدھے کے خیال سے بد تر ہے (١٦)یارسو ل اللہ کہنے والوں کا قتل جائز ہے ۔وغیرہ وغیرہ اور حیرت یہ کہ یہی قائلینِ عقائد ِفاسدہ نگر نگر،ڈگرڈگر اپنے عقائد ِباطلہ کا پرچار ایک تحریکی رنگ میں کر رہے ہیں ،تو آپ کا دل فرط ِعشق میں ناشکیبا ہو ااور آپ نے بھی ایک ایسی تحریک کا قصد فرمایا جس میں عشق و محبت رسول بھی ہوتو علم و عمل بھی پھر وہ وقت بھی آہی گیا جس میں غیبی ذرائع نے آپ کو قائد منتخب کر لیا اور اس کا مکمل حال آپ سابق تحریر میں ملاحظہ کر آئے ہیںاور اس کے متعلقات کو آئندہ بحث میں انشاء اللہل سلجھاتے ہیں۔
تبلیغیوں کی بیخ کنی پر کوشش بلیغ کی وجہ
اس موضوع کو سلجھانے کے لیے ہم مولانا حبیب الرحمٰن سعیدی صاحب کی کتاب کاایک قطع پیش کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں:''اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دعوت اسلامی جس کے قیام کا مقصد اکابرین اہلسنت کی نظر میں تبلیغی جماعت کا راستہ روکنا تھا اس نے اپنی ذمہ داری خوب نبھا ئی ہے کہ ان کے زیاںکا رنمازی گلی گلی کوچہ کوچہ گاؤں گاؤں قریہ قریہ نماز اور کلمے کی نمائش کرنے والے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں پہلے بھی کبھی انہوں نے کسی غیر مسلم کو کلمہ نہیں پڑھایا انکے منصوبے جات میں یہی شامل ہوتاتھا کہ کفر کی مشین گنوں اور گنوں ،رائفلوں سے لیس ہو کر قبلہ و کلمہ گو مسلمانوں پر کفر و شرک کے فتوے لگا کر انہیں کا فر و مشرک بنانا مزارات کے گنبدڈھانا اور قبور کو مسمار کرنا یہ سب کچھ تو یہ کرتے تھے مگران سے پوچھاجائے کہ کبھی تم نے گرجاو کلیسا کے خلاف بھی دوجملے بولے ؟ کیا تمہارے سالانہ اجتماع دیکھنے کے بعد تمہارے زہد و تقویٰ ہ پارسائی سے متاثرہو کر کوئی داخل اسلام ہوا ؟ تو اس کا جواب نفی میں ملتا ہے اوراگردعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت کی تبلیغ نوعیت کاسرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ تبلیغی جماعت کے ارکان کلمے پر زوردیتے ہیں جبکہ دعوت اسلامی کے وابستگان صاحب کلمہ کا عشق پڑھاتے ہیں''۔
(اسلام کا نظام تبلیغ ص٣٧)
جس دور میں دعوت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی اس وقت اہل حق ایک ایسے مسیحا کے متلاشی تھے جو ان کے ایمان و ایقان کا محافظ ثابت ہو ۔دعوت اسلامی کے وجود میں آتے ہی اہل ایمان نے دیکھا کہ باطل کو کیسے منہ کی کھانی پڑی اور وہ لوگ جو کل کہا کرتے تھے کہ ہم ملت مسلمہ کے مصلح ہیں لیکن اس نعرہ کی آڑ میں وہ لوگ جو کچھ کرتے تھے وہ عوام اہلسنت سے پوشیدہ نہیں ہے آخر کار دعوت اسلامی نے نہ صرف باطل کا منہ کالا کیا بلکہ وہ عقائد ِ فاسدہ جو وہ لوگ لوگوں کے دلوں میں ڈال چکے تھے ان کی بھی بیخ کنی کی ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ ل کا احسان عظیم ہے کہ اس فتنہ پرور دور میں جہا ں اپنے ایمان کو محفوظ رکھنا بہت مشکل ہے دعوت اسلامی نے امت مسلمہ کی تربیت ِ اعمال و عقائد میں مقدمۃُ الجیش کا کام کیا ۔
اخلاقیات ِمعاشرہ کا مُصلِح
امیراہلسنت کی تعلیمات کی اولین ترجیحات میں اخلاقیات ِمعاشرہ کی اصلاح ہے۔ اس امر کے لیے آپ نے عام روایتی انداز ِ تبلیغ سے ذرہ ہٹ کر زمانہ کے تقاضوںکوپوراکر تے ہوئے جدید اندازِفکر سے کا م کیا ہے آپ کی تعلیمات پر اگر نظر کی جائے تو ہمیںمعلوم ہو گا کہ آپ کی تعلیات تو وہی غزالی و رومی جیسی ہیں جن کی ذود اثر تعلیمات نے اس دورکے تقاضو ں کے مطابق تبلیغ فرمائی تھی لیکن آپ چونکہ سائنس ومیڈیا کے دور سے تعلق رکھتے ہیںلہٰذا آپ نے ایک ایسا سائٹفک ذریعہ تبلیغ اپنایا کہ لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ اس نظریہ کو قبول کیا ۔
اصلاحِ معاشرہ کی تربیت ِنو اور اس کالائحہ عمل
٭72بہتر مدنی انعامات:۔٧٢مدنی انعامات کی صورت میں دعوت اسلامی سے وابستہ ہو کر زندگی گزارنے کا ایک لائحہ عمل دیا، جس پر عمل کرناامیر اہلسنت کی طرف سے ہراسلامی بھائی کے لیے ضروری ہے اس مدنی انعامات میں جہان نماز ،روزہ ،حج ،زکوٰۃجیسے ارکان اسلام موجود ہیں وہاں عقائدِاہلسنت بھی موجودہیں اسی طرح اخلاقیات کے اعتبارسے جھوٹ ،غیبت،چغلی ، وعدہ خلافی جیسے موذی قلبی گناہوں سے محبین دعوت اسلامی کو روکاگیا ہے ۔یہ لائحہ عمل ایک کارڈکی صورت میں ملتاہے جس کو ہر روزایک عامل ِ مدنی انعامات پُرکرتاہے اس طر ح ہر ماہ اس کارڈکوپُرکر کے وہ اپنے نگران اسلامی بھا ئی کو دیتاہے اور یہ سلسلہ در سلسلہ مرکز دعو ت اسلامی کراچی میں جاتاہے ۔
٭مدنی قافلہ :۔تبلیغ دین کی اصلی روح جو ہم کو حجۃ الودع میں نظر آتی ہے وہ یہی ہے کہ آقادوعالم ا نے اصحاب ثکو یہ حکم ارشاد فرمایا کہ جو تم نے سیکھاہے اب تم پر حق ہے کہ دوسروں تک اس کا پیغام پہنچاؤ اس ارشادِنبی ا سنانا تھاکہ مبلغ اعظم ا کے جاںنثار دنیاکے مختلف اسفار پر روانہ وہ گئے۔ آج دینا کے مختلف مقامات پر جو اصحاب رسول ث کے مزارات نظر آتے ہیںوہ انہی تبلیغی اسفار کا ہی نتیجہ ہیں۔اصحاب رسول ثکی اس یاد کو تازہ کر نے کے لیے دعوت اسلامی والے بھی آج ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی جانب تبلیغ دین کے لیے سفر کرتے ہیںاسی کو دعوت اسلامی کی اصطلاح میں مدنی قافلہ کہتے ہیں۔ آج دعوت اسلامی نہ صرف پاکستان میں بلکہ دیناکے56ممالک سے زائد میں اپنے آپ کو متعارف کر واچکی ہے اور باقاعدہ طور پران ممالک میں دعوت اسلامی کا نیٹ ورک قائم ہے
٭ اجتماعات:۔دعوت اسلامی کے بنیادی تحریکی امور میں سے ایک علاقائی و صو بائی و ملکی سطح پر اجتماعات منعقد کر نا بھی ہے ۔انہی اجتماعات کی برکت ہے کہ دعوت اسلامی دن بارھویں رات چھبسویں ترقی کر رہی ہے اور دعوت اسلامی کے اجتماعات میں علماء دعوت اسلامی کے بیانات سے دن بدن لوگوں کی تقدیریں بدل رہی ہیں ۔اب تو بین الاقوامی سالانہ تین روز ہ ملتان شریف میں ہونے والے اجتماع کی برکت سے دعوت اسلامی کا پیغام پوری دنیا میں پہنچانے کی سعی کی جارہی ہے ۔اب تک تحریک کا پیغام دنیا کے 56ممالک میں پہنچ چکا ہے
٭مجلس شوری و مشاورتیں:۔امۃ مسلمہ کا پسمندہ ہو نے کا ایک سب سے بڑاسبب ان کا کسی بھی کام کو نظم و ضبط سے نہ کرنا ہے جس کام میں تنظیم نہیں ہوتی وہ ادھورا و نامکمل رہ جاتاہے اور انسان کی ترقی و کامرانی کے امکان کم رہ جاتے ہیں ۔
اسی لیے دعوت اسلامی اپنا ہر کام نظم سے کرتی ہے دعوت اسلامی چونکہ ایک عالمی تحریک ہے اورعالمی سطح پر کام کرنے میں آسانی پیداکرنے کے لیے امیراہلسنت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری صاحب نے ہر کام کی علیحدہ علیحدہ مجالس ترتیب دے دی ہیں جیسے عالمی امور کی بجاآوری کے لیے مجلس شوریٰ جو عالمی مسائل کو حل کرتی ہے ۔اسی طرح صوبائی مجالس،شہر سطح کی مجالس ، علاقائی سطح کی مجالس وغیرہ۔
٭مسجد ،جیل،گونگے بہرے،اسلامی بہنوں کی مجالس:۔دعوت اسلامی کا تعلق چونکہ محراب ومنبر سے ہے جہاں سے پیغام ِ قرآن و سنت کو عوام تک پہنچانے میں آسانی رہتی ہے اسی لیے مساجد کے مسائل کو ڈیل کرنے کے لیے ایک علحدہ مجلس ترتیب دی گئی ہے ۔اب تو الحمدللہ بدنامِ زمانہ لوگ جن کو منہ لگاناکوئی پسند نہیں کرتاتھا۔ دعوت اسلامی ان لوگوں کو بھی سدھارنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میری مراد جرائم پیشہ افراد ہیں جو جیلوں میں سڑرہے ہیں اور اسلامی بھائی جیلوں میں جاجا کر ان کو قاری ،عالم ،مفتی بنانے کی سعی کر رہی ہے ۔گونگے بہرے اسلامی بھائی جو ہمارے معاشرہ کا ایک ہم کردار ہیں جن کی تربیت بھی انتہائی ناگزیر ہے ان کی اصلاح کے لیے بھی مجالس ترتیب دی گئی ہیں جو اشارہ کی زبان سے ان کی تربیت کرتے ہیں۔اسلامی بہنیں جو کہ جنس مخالف سے تعلق رکھتی ہیں اور اس جنس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر ایک عورت سدھر جائے تو ایک معاشرہ کو سلجھاسکتی ہے،ان کی تربیت کے لیے بھی مجالس کی ترکیب بنائی گئی ہے الحمدللہل اب اسلامی بھائیوں کی طرح اسلامی بہنوں میں بھی عالمی سطح پر اجتماعات و ابلا غ وتبلیغ کاسلسلہ جاری ہے ۔
٭مدارس وجامعات:۔دعوت اسلامی کے قائدعلامہ مولانا محمد الیاس قادری صاحب چاہتے ہیں کہ ہمارا ہر سنی مسلمان نہ صرف عام معلومات رکھتاہو بلکہ ہر ایک عالم و فاضل شخص بن جائے اس کے لیے دعوت اسلامی کی طرف سے جگہ جگہ مدرسۃالمدینہ کے نام سے حفظ وناظرہ کے مدارس قائم ہیں جو لاکھوں طلباء کو قاری و حافظ بنا چکے ہیں اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے،جامعۃالمدینہ کے نام سے دسیوں جامعات ملک بھر میں قائم ہیں جن میں درس ِنظامی کورس کروایا جاتا ہے جس کے ذریعے تاحال سینکڑوں علماء و فضلاء فارغ التحصیل ہوگئے ہیں
٭دارالافتاء ومجلس تحقیقاتِ شرعیہ:۔دعوت اسلامی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ الحمدللہ عزوجل جامعات المدینہ کے تحت تخصص فی الفقہ کے نام سے چار سالہ کورس کروایا جارہا ہے جس کے ذریعے دسیوں مفتیان ِ اکرام فارغ التحصیل ہو کر دارالافتاء کے اہم شعبہ میں کام کر رہے ہیں اور مفتیان اکرام کی تربیت کے لیے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف شہروں میں دارالافتاء اہلسنت کے نام سے دارالافتاء قائم ہیں۔اسی طرح ایک مجلس تحقیات ِشرعیہ کاانعقاد کیاگیا ہے جودورحاضر کے دقیق و جدید مسائل میں غورخوض کر کے عوا م کے لیے آسانی فراہم کررہی ہے ۔
٭المدینۃالعلمیۃ:۔نشر واشاعت کے حوالہ سے دعوت اسلامی نے المدینۃ العلمیہ کے نام سے ایک مجلس ترتیب دی ہے اس مجلس کے تحت مزید شعبہ جات کام کر رہے ہے(١)شعبہ کتب اعلٰحضرت (٢)شعبہ درسی کتب(٣)شعبہ اصلاحی کتب(٤)شعبہ تراجم کتب(٥)شعبہ تفتیش کتب(٦)شعبہ تخریج کتب
٭مدرسۃالمدینہ برائے بالغاں،صدائے مدینہ:۔وہ حضرات جو دنیوی مصروفیات کی بنا پر دینی و شرعی معلومات سے محروم ہیں وہ لوگ جن کو قرآن حکیم درست مخارج کے ساتھ نہیںپڑھنا آتا ان تک تعلیم پہنچانے کے لیے مدرسۃ المدینہ کے نام سے رات کے مدارس کا اہتمام یا جاتاہے جو پاکستان کی اکثر وبیشتر مساجد میں لگائے جاتے ہیں ۔اور وہ لوگ جو فجر میں سستی کی وجہ سے نماز سے محروم رہتے ہیں ان کو اٹھانے کے لیے اسلامی بھائی صبح لوگوں کو اٹھاتے ہیں اسی کو دعوت اسلامی کی اصطلاح میں صدائے مدینہ کہتے ہیں ۔
٭ویب سائٹ ،الیکٹرک وپرنٹڈ میڈیا:۔جدید تقاضوںکو پورا کرتے ہوئے دعوت اسلامی کی اپنی ویب سائٹس بھی ہیں(www.dawateislami.org,www.dawateislami.net) جس میں عام انسان کے لیے اتنی معلومات اردو زبان میں رکھ دی گئی ہے کہ ہم بلامبالغ یہ کہہ سکتے ہیںکہ اردو زن کی دینا بھر کی سب سے بڑویب سائٹس جس میں اسلامی معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ دعوت اسلای کی ہی ویب سائٹس ہیں ،اسی طرح نشر واشاعت کے لیے مکتبۃ المدینہ کے نام سے ایک بک سیل پوائنٹ ترتیب دیا گیا ہے جو علماء اہلسنت کی کتب کی ترسیل رعائتی داموں کر رہا ہے ۔
تحریک و دعوت کے تدریجی مراحل
''اسلام کا نظام تبلیغ اور دعوت ِاسلامی ''جس کو علامہ حبیب الرحمٰن سعیدی صاحب نے تحریر فرمایا ہے اس کتا ب میں پاک وہند میں تبلیغ دین کے مختلف ادوار مختصر مگر جامع انداز سے سلجھایا گیا ہے ،کتاب مذکورہ کا ایک ایک حرف مذکورہ عنوان کو زینت بخشتا ہے ،چونکہ اس کتاب کو مکمل اس جگہ تحریر کرنا مشکل ہے ذوقِ مطالعہ کے لیے اصل کتاب سے استفادہ حاصل کریں ،میں یہاں چیدہ چیدہ کچھ بیا ن کرتاہوں ملاحظہ ہو:
''اہلسنت کا تنظیمی انحطاط :۔اہلسنت و جماعت کے مسلک و عقیدہ کے حامل فرمانرواؤں نے برصغیر پاک و ہند پر مسلسل گیارہ سا ل تک حکومت کی اسی دور میں حجاز مقدس اور دیگر اسلامی ممالک سے علماء اسلام اور مشائخ عظام نے تشریف لاکر کفرستان ہند کو نو ر اسلام سے منور فرمایا ۔ لاکھوں اور کروڑوں بتو ں کے پجاریوں کو ایک خدا کی معرفت عطا فرماکر انھیں خالق کائنات کی بارگاہ اقدس میں سر بسجود کر دیا ۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خاندان مغلیہ کے زوال کے ساتھ ہی اہلسنت و جماعت کے تنظیمی انحطاط کا آغاز ہو گیا۔
انگریز کے خلاف فتویٰ جہاد:۔محدث کبیر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی کے فتویٰ جہاد سے ١٨٥٧ء میں انگریز وں کے خلاف جنگ آزادی کی ابتداء ہوئی تو لاکھوں سنی نوجونوں نے اپنے قائد حضرت فضل حق خیر آبادی کی پکا ر پر لبیک کہتے ہوئے سروں پر کفن باندھے میدان جہاد میں کود پڑے لیکن ان میں تنظیم نہ ہونے کی بناء پر انگریز کی محدود مگر منظم قوت نے انھیں اعلیحدہ محازوں پر کچل دیا ۔
اکابر ین اھلسنت کو سزائیں:۔ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی کو کالے پانی کی سزا ہوئی جبکہ دیگر عمائدین و اکابرین پر بھی ظلم و ستم کے پہاڑتو ڑے گئے کیونکہ انگریز کو سب سے زیادہ خطرہ علماء اہلسنت سے ہی تھا چنا چہ انھیں درختوں سے باندھ کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا سر عام پھا نسی دی گئی کا لے پانی بھیجا گیا ان شہیدان ملک و ملت میں ریئس المجاہدین حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی شہید مولانا کفایت علی کافی شہید، امام المجاہدین سید احمد شاہ مدارسی، غازی اسلام حضرت مولانا فضل رسول بدایونی ،علامہ فیض احمد عثمانی ،شہید حریت مولانا وہاج الدین مردآبادی، مجاہد جلیل مولانارسول بخش کاکوروی ،حضرت مولانا صدر الدین آزردہ اور ان کے احباب و تلامذہ شامل تھے ۔
کتب خانے نذر آتش :۔یہ وہ مقدس گروہ ہے جس نے فرنگی سامراج سے ٹکرلے کر حرمت اسلام کا تحفظ فرمایا انگریز حکمرانوں نے نہ صرف ان اکابرین ملت کی زندگیوں کے چراغ کو گل کیا بلکہ انہوں نے اہلسنت و جماعت کی لائبریریوںسے نادر و نایاب علمی کتب کو چن چن کر نذر آتش کیا او رباقی ماندہ کتب کو بھی ردی میں ضائع کر دیا اس طرح یہ انمول علمی جواہر پارے مٹی میں ملادئےے ۔
اس کے بعد برصغیر پاک و ہند میں پھیلے ہوئے دینی مدارس کو نیست و نابود کردیا گیا عربی اور فارسی کی جگہ انگریز ی تعلیم لازمی قرادی گئی مدارس سے ملحق وقف جائیداد یں بھی حکومت نے غصب کر لیں ۔انگریز جب بزعم خود اہلسنت و جماعت کو ختم کر چکا تو ان کے شاندار ماضی کے کھنڈرات پر اپنے نظریات کے محل کھڑے کرنے شروع کردئےے۔
انگریز کی حاشیہ بردار تحریکیں :۔اس مذموم مقصد کیلئے انہوں نے اول بد نام زمانہ لارڈمیکاولے کا نظام تعلیم جاری کیا اور بعد ازیں اپنے حاشیہ برداروں اور مذہبی شترمرغوں کے ذریعے مختلف ادارے اور تحریکیں شروع کروائیں ان میں سر سید کی تحریک علی گڑھ ۔سید احمد بریلی اور اسماعیل دہلوی کی وہابی تحریک، مرزا قادیانی کی تحریک قادیانیت اور مدرسہ دیوبند وغیرہ وغیرہ شامل ہیں چنانچہ شرپسند عناصر نے انگریز سرکار معاونت و سر پر ستی میں اسلام کے بنیادی عقائد میںتو ڑ پھوڑ شروع کردی اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں نقش نگاری کرتے رہے تاہم اہلسنت کی تہذیبی اور علمی راکھ میں ابھی تک شرر باقی تھے مجاہد تحریک آزادی حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی کے بعد شاہ فضل رسول بدایونی، اعلیٰ حضرت امام الشاہ احمد رضا خان بریلوی، خواجہ ضیاء الدین سیالوی ،حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ علی پور ی ثجیسے عمائدین وکابرین نے اپنی صفوں کی شیرازہ بندی کی اور باغیان دین کاقلع قمع کیا لیکن مخالفین کو چونکہ انگریز سرکار کی سر پر ستی حاصل تھی اس لئے وہ ایسے متحرک او رمنظم ہوئے کہ تاریخ کے صفحات پر پھیل گئے اور اہلسنت و جماعت اپنی تمام ترخوبیوں اور کثرت تعداد کے باوجود صحیح مقام نہ پاسکے ۔
اکابرین اہلسنت کااندازہ نہ کر سکنا:۔اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ا س زوال کا ایک بڑا سبب ہمارے اکابرین کا حالات کا اندازہ نہ کرناہے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں او رخوبیوں کے باوجود پیش منظر سے ہٹے رہے او راس موقع پر مخالفین نے ہر طرح او رہر محاذ پر قبضہ کیئے رکھا جس میں انہیں کا میابی بھی ملی جبکہ اہلسنت کے اکابر ین عوام اہلسنت کو کوئی بھی منظم نمائندہ تنظیم مہیا نہ کر سکے اپنی علٰیحدہ علٰیحدہ علاقائی تنظیموں کے ذریعے دشمن کامقابلہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔
منظم ہونے کی کوشش :۔لیکن جو پانی سر سے اوپر گزر گیا تو پھر ہمارے اکابرین آل انڈیا سنی کا نفرنس کے نا م سے منظم ہونا شروع ہوئے انہوں نے پورے برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض کے طوفانی دور ے کیئے عوام میں مذہبی سیاسی شعور پید ا کیا انہیں آزادی کا سنہرا خواب دکھایا اور مسلم لیگ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ہدایت کی او رمختلف شہروں میں بڑی بڑی سنی کانفرنس منعقد کیں پہلی سنی کانفرنس 1897ء دوسری 1925ء تیسری 16,17 مئی 1927 چوتھی 20,22مئی 1930پانچواں 1935ء چھٹی 1939ء اورساتویں عظیم الشان آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس 27تا30 اپریل 1946ء اس کانفرنس کے روح رواں او ررہنمایان ملت میں امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پور ی محدث اعظم ہند سید محمد کچھوچھوی صدر الافاضل سیدنعیم الدین مراد آبادی مبلغ اسلام شاہ عبدالعلیم صدیقی امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعیدشاہ کاظمی شاہ محمد عارف اللہ قادری مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری مولانا ابو البرکات سید محمد احمد قادری مولانا عبد الحامد بدایونی شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی ثجیسے یگانہ روز گار بزرگ شامل تھے لیکن اس وقت ان بزرگوں نے اپنی علٰیحدہ تنظیم بنانے کی بجائے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا اس وقت تو شاید یہ وقت کا تقاضہ بھی تھا کہ تما م مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر انگریز او رہند و کی مشترکہ طاقت کا صحیح طور پر مقابلہ کر سکیں ۔
قیام پاکستان کے بعد مخالفین کاقبضہ :۔ بالآخر علماء و مشائخ اہلسنت ١٤اگست ١٩٤٧ء کو قیام پاکستان کے فریضے سے عہدہ برآ ہوگئے اور واپس اپنی خانقاہوں میں جلوہ افروز ہوگئے جس کا نقصان یہ ہوا کہ مسلم لیگ کی قیادت نے علماء حامیان پاکستان کی بجائے علماء مخالفین پاکستان کو دستور ساز اسمبلی اور دیگر اداروں میں جگہ دی اور علماء اہلسنت کو بالکل نظر انداز کر دیا ۔بعد ازاں جب مسلم لیگ پر سرمایا داروں اور جاگیر داروں نے قبضہ کیا تو انہیں راہ راست پر لانا اور ان سے نفاذاسلام کی توقع رکھنا عبث تھا۔قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد علماء اہلسنت کو یہ احساس شدت سے ستارہاتھا کہ ہماری علٰیحدہ نمائندہ تنظیم ہونی چاہیے تھی جو ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ۔
حضور غزالی زماں کی کاوش :۔امام اہلسنت غزالی زماںحضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ اس مایوس اور پریشانی کے عالم میں بار ان رحمت کا پہلا قطرہ بنے انہوں نے اہلسنت کی اس زبوں حالی پر سنجیدگی سے غور کرناشروع کیا انہوں نے اس سلسلے میں غازی کشمیر حضرت علامہ صاحبزادہ سید ابو الحسنات محمد احمد قادری کو ایک خط ٤مارچ ١٩٤٨ء کو لکھا جس میں انتہائی درد مندی سے دکھی دل کے ساتھ انہیں حالات سے آگاہ کیا گیا اہلسنت کے انتشار پر رنج وغم کا اظہار کیا گیا انہوں نے خط میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ نے تحریک پاکستان کے مخالفین کو اہم ذمہ داریاں سونپ دی ہیں او رمجاہدین تحریک آزادی کے قافلے کو نظر انداز کر دیا ہے لہٰذا اہلسنت کو ایک امیر کی قیادت میں متحد و منظم ہونا چاہیے ۔
جمیعت علماء پاکستان کا قیام:۔ امام اہلسنت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی نے اہلسنت کی تسبیح کے بکھرے ہوئے دانوں کو اکھٹا کرنے کیلئے ٢٨۔٢٧مارچ١٩٤٨ء کو مدرسہ عربیہ اسلامیہ انوارالعلوم ملتان میں اکابر علماء و مشائخ اہلسنت کا ایک اجلاس طلب کیا اس اجلاس جے یو پی کی تشکیل کی گئی مرکز ی قیادت کا انتخاب ہو ا مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادری صدر اورعلامہ سید احمد سعید کاظمی ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے جبکہ دیوان سید آل رسول اجمیری مولاناعبد الحامد بدایونی مفتی صاحب داد خان خواجہ قمر الدین سیالوی او رمولانا عبدالغفور ہزاروی نائب صدر قرار پائے نائب ناظم اعلیٰ کی ذمہ داریا ں حضرت مولاناغلام معین الدین نعیمی اور مرتضیٰ احمد خان میکش کوسونپی گئیں ۔مولانا قلندر علی خان مرکزی ناظم اطلاعات چنے گئے ،اس انتخاب کے بعد جمعیت علماء پاکستان کی قیادت نے تنظیمی سرگرمیوں کو تیز کر دیا۔ ان دنو ں باغیان اسلام انگریز کے چیلے اولاد مکمل طور پر ہر محاذ پر منظم ہو چکے تھے اور سیاسی محاذ پرجمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نمائندگی کر رہی تھی مذہبی نوعیت کے حساس مسائل کیلئے تنظیم اہلسنت کام کررہی تھی ۔تبلیغی میدان میں تبلیغی جماعت سر گرم عمل تھی او راسکول وکالج کی سطح پر جمعیت طلباء اسلام اور اسلامی جمعیت طلبہ اپنے مشن کی تکمیل کیلئے سرگرداں تھی
جماعت اہلسنت او راے ٹی آئی کا قیام: ۔ان تشویش ناک حالات میں جمعیت علماء پاکستان کے قیام کے بعد امام اہلسنت حضرت علامہ سیداحمد سعید کاظمی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد و عقیدت مند اپنے عہد کے شعلہ نوا خطیب پاکستان علامہ محمد شفیع اوکاڑوی رحمہ اللہ علیہ نے 1956ء میں جماعت اہلسنت کی بنیاد رکھی اس دور میں جماعت اہلسنت کے پلیٹ فارم پر زیادہ تر تبلیغی کام ہوا سنی حلقوں میں علم و عمل کی تحریک کو ابھارہ گیا لیکن اس وقت جماعت اہلسنت ملک گیر حیثیت اختیار نہ کر سکی ۔اسکے ساتھ ہی امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃاللہ علیہ نے 1967ء میں اپنے ایک ہونہار مرید جو بہت متحرک اورمذہبی درد رکھتے تھے حاجی محمد حنیف طیب سعیدی کے ذمہ یہ کا م سونپا کہ وہ کالج اسکول کی سطح پر مخالفین کے اثر ورسوخ کامقابلہ کرنے کیلئے کام کریں چناچہ محسن اہلسنت الحاج حاجی محمد حنیف طیب سعیدی نے مفتی جمیل احمدنعیمی، محمدیعقوب قادری، عبدالستار اسماعیل فاروق مصطفائی ،یونس اسماعیل، انور کمال راجپوت ،محمد رفیق او رمحمد شفیع کی مشاورت سے صرافہ بازار میٹھا در کی سبزمسجد میں ١٩جنوری ١٩٦٨ء میں انجمن طلباء اسلام کا تاسیسی اجلاس منعقد کیااے ٹی آئی عشق مصطفی ؐ کی یہ عالمگیرطلباء تحریک بد عقیدگی اور دہریت کی موت ثابت ہوئی ۔۔۔۔
قیام دعوت اسلامی کی پہلی کوشش:۔لیکن دوسر ا جو کچھ نہ کچھ تبلیغی نوعیت کاکام جماعت اہلسنت کے پلیٹ فارم سے ہورہاتھا وہ یکسر ختم ہو گیا جبکہ انگریز سرکار کے تنخواہ دار مولوی الیاس کاندھلوی (مکالۃالصدیقین)کی تبلیغی جماعت جو انگریز کےاایماء پر ہی قائم ہوئی تھی وہ مسلمانوں سے دین ویمان کی دولت چھیننے میں عجلت سے کام کررہی تھی تو ایسے حالات میں امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃاللہ علیہ نے٥دسمبر١٩٧٨ء کو رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری مصنفِ' تبلیغی جماعت ' جو اس وقت انڈیامیں دعوت اسلامی طرز کی ایک جماعت کی بنیاد رکھ چکے تھے کو ایک مکتوب کے ذریعے پاکستان آنے کی دعوت دی ٢٨دسمبر ١٩٧٨ء کو دعوت اسلام کے قیام کے سلسلے میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں ایک اجلاس منعقدہوا جس میں علامہ ارشد القادری سمیت دیگر اکابرین نے شرکت کی دوسرااجلاس جامع مسجد گلزار حبیب کراچی میں خطیب پاکستان حضرت علامہ شفیع اوکاڑوی کی میز بانی میں ہو ا چونکہ اوکاڑوی صاحب جماعت اہلسنت کے تحت تبلیغی امور سر انجام دے چکے تھے اس لئے علماء نے انہیں یہ ذمہ داری سونپنا چاہی لیکن انہوں نے اس سے معذرت کر لی اس اجلاس میں شریک امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمۃ ،علامہ ارشد القادری، خطیب پاکستان حضرت مولانامحمد شفیع اوکاڑوی، مفتی وقارالدین اور علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی قابل ذکر ہیں۔
امیر اہلسنت کی نامزدگی :۔اجلاس میں خطیب پاکستان کے انکار کے بعد شرکاء میں سے غالب گمان یہی ہے کہ وقار الدین علیہ الرحمۃ نے حضرت مولانامحمد الیاس قادری کانام پیش کیا آپ اس وقت ایک تنظیم بنام' انجمن اشاعت اسلام' قائم کرکے اس کے ذریعے وسیع پیمانے پر کام کرنے کا جذبہ رکھتے تھے آپ عظیم مجاہد جواں مرد جواں ہمت او رخدمت مسلک اہلسنت سے سرشار تھے آپ کے وجود میں عشق رسول اکا خمار تھا اعلیٰ کرداراو راعلیٰ گفتار کے مالک تھے ۔تقویٰ ،پرہیز گاری کے پیکر تھے اور دینی حلقوں میں اچھی شہرت رکھتے تھے۔انجمن طلباء اسلام کی کئی نشستوں میں آپ درس بھی دے چکے تھے اسلیئے حضرت قبلہ مفتی (وقارالدین)صاحب کی تجویز پر اکابرین اہلسنت نے حضرت مولانامحمد الیاس قادری کو اجلاس میں فوری طور پر بلوایااو راس کام کی ذمہ داری سے آگاہ کیاتو حضرت صاحب نے ایک دن کی مہلت مانگی دوسرے ہی دن قائد اہلسنت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کے دولت کدے پر حضرت مولانا محمد الیاس قادری نے یہ دینی ذمہ داری اس شرط پر قبول کی کہ ''میر ے کام میں مداخلت کوئی نہیں کرے گا میں اپنی آزاد پالیسی کے ذریعے کام کروں گا''اکابرین اہلسنت نے دیکھاکہ ان کے اندرٹیلنت بھی ہے او رجذبہ و صلاحیت بھی ،تو یہ عظیم ڈیوٹی انہیںسونپی تو اس پر آپ دعوت اسلامی کایہ کام لے کر چلے ۔
پہلا تاسیسی اجلاس:۔١١جنوری ١٩٧٩ء کی شب یہ وہ روشن شب تھی کہ جب کاغذی بازار کی نور مسجد میں حضرت امیر اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ نے اپنے بارہ دوست واحباب کو جمع کر کے دعوت اسلامی کاتاسیسی اجلاس منعقد کیالیکن راہرو ملتے گئے کارواں بنتاگیاکے مصداق دعوت اسلامی کی پھیلتی ہوئی دعوت کے نتیجے میں سنی مسلمانوں کی کثیر تعداداس قافلے میں شامل ہوتی چلی گئی اور اب عصر حاضر میں دعوت اسلامی ایک بہت بڑی تنظیم ہے اور پھر دعوت اسلامی کے بڑھتے ہوئے کام کے پیش نظریہ عظیم کام شہرت دوام حاصل کرنے والی مسجد جامع مسجد شہیدمیں منتقل کرناپڑا۔
دعوت اسلامی کے سات نکات:۔دعوت اسلامی کا نصب العین درج ذیل سات نکات تھے
١۔ارکان اسلام :توحید و رسالت اور دیگر ضروریات دین پر ایمان لانااور نماز،روزہ،زکوۃ،حج، کے مسائل سیکھنا اور ان پر عمل کرنا۔
٢۔اتباع سنت :سرکاردو عالم اکی پاکیزہ سنتوں کے مطابق اپنی زندگی کواستوارکرنا۔
٣۔ذکرودرودبھیجنا:روزانہ ذکرالٰہی اورتلاوت قرآن کیلئے وقت نکالنااورسرورکونین ا پر کثرت سے درود بھیجنا
٤۔حقوق العباد :۔والدین کے حقوق ،اولاد کے حقوق،زوجین کے حقوق ،پڑوسیوں کے حقوق اور بندوں کے حقوق کا ہمیشہ پاس کرنا۔
٥۔کسب حلال:۔حلال روزی کے لیے جدوجہد کرنا۔
٦۔اخلاص و ایثار :۔ہر کام خلوص کے ساتھ کرنا اور دین کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار رہنا۔
٧۔امربالمعروف و نہی عن المنکر:۔نیکیاں کرنااور دوسروں کو ان کی رغبت دلانابرائیوں سے بچنا اور دوسروں کو ان سے بچانا۔
قیام دعوت اسلامی کاپس منظر :۔گویا جن حالات میں دعوت اسلامی کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا اس وقت انگریز اپنے ایجنٹوں کے ذریعے برصغیر میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں کوشاں تھا اور اسکے آلہ کار اسلام کالبادہ اوڑھے ہوئے ذیاب فی الثیاب لب پر کلمہ دل میں گستاخی کے مصرعہ پیراتھے مسلمانان برصغیر میں افتراق و انتشار کی آگ بھڑ کارہے تھے اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ جبب بھی کبھی انسانی قدروں کو پامال کیا گیا اخلاق و کردار کی دھجیاں اڑائی گئیں اقامت دین اور جدید دینی تعلیمات کی آڑمیں مسلمانوں کوصحابہ و اہل بیت اطہار اور اولیائے کرام و صوفیاء عظام ثسے برگشتہ کیا گیا اصلاح و تجدید کے نام پر مخصوص متنازعہ او رشخصی نظریات پھیلائے گئے منفی نظریات دھونس ودہشت کے زور سے ٹھونسنے کی کوششیں ہونے لگیں غلبہ حق کے نام پر بد مذہبی او ربے دینی کا زہر پھلایاگیااحکام شرح کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی حقوق اللہ کو پس پشت ڈال دیا گیا حقوق انسانی کے مجسمہ پر کاری ضرب لگانے کی کوششیں کی گئیں۔
اھل حق کا قافلہ:۔تو فطرت کی اس پکار پر لبیک کہنے والے اٹھ کھڑے ہوئے اورانسانیت کو شرف کے مقام سے گرا کر اسفل السافلین میں شامل کرنے والوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے وہ مردان حریت باطل کے ہتکھنڈوں کے سامنے فولاد کی دیوار ثابت ہوئے اور اپنے جواں عزائم اور ارادوں کے ساتھ برائی کے بڑھتے ہوئے طوفانوں کے سامنے بندھ باندھ کر کھڑے ہوگئے ان کے حوصلے اور جرات کے تحت دریا اپنا رخ بدلنے پر مجبور ہوگئے اور ہواؤں نے اپنی سمت تبدیل کر لی اور اہل حق پکار اٹھے
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
دعوت اسلامی بھی ایسے جان نثاراور سرفروش سنی مسلمانوں کی تنظیم ہے کہ جس نے برائی کے ہر سیلاب کے سامنے بندھ باندھ دیا اور قرآن و سنت کے مطابق انسانی زندگی کے ذریعے رضا الٰہی کا حصول اپنا مقصد ٹھرایا اور اس کے حصو ل کے لیے کوشاں ہوگئی اور اس مقصد کیلئے تبلیغ اسلام کے میدان کو معرکہ حق وباطل کا مرکز ٹھرایا۔
دعوت اسلامی اور عشق رسول ا :۔ کسے علم تھا کہ ١١ جنوری ١٩٧٩ء کی اس بابرکت شب میں عروس البلاد ساحل سمندرسے اٹھنے والی صوم وصلاۃ و تبلیغ اسلام کی یہ عالمگیر تحریک بد مذہبی و بد عقیدگی لادینیت اور دہریت کی موت ثابت ہو گی دعوت اسلامی نے ضلالت و گمراہی کے سیلاب میں گھرے مسلمانوں کے قلوب میں اسلام کی حقیقی روح عشق مصطفی اکی شمع فروزاں کی اور مسلمانوں میں سنن رسول اکو عام کیا انہیں تقویٰ و پر ہیز گاری کا پیکر بن کر تبلیغ میں مصروف کر دیا یہ دعوت اسلامی ہی کی برکت ہے کہ آج لاکھوں نوجوانوں کے چہرے سنتِ رسول اسے مزین ہیں اور ان کے سروں پر عمامے شریف کے تاج سجے ہوئے ہیںاور ان اسلامی بھائیوں نے لوگوں کے دلوں میں اسلامی روح بیدار کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد ٹھرا یا ہواہے، محبت رسول اکا پر چار ان کی اولین ترجیح ہے اور محبت ِرسول اکے پر چار کو دعوت اسلامی نے اس لیے زندگی کا مقصد قرار دیا ہے کہ یہی وہ جذبہ جو کہ غزوہ بدر و احد و غزوہ تبوک و خندق میں صحابہ اکرامث کے کا م آیا تھا۔''
(اسلام کا نظام تبلیغ اور دعوت ِاسلامی از علامہ حبیب الرحمٰن سعیدی ص١٤تا٢٥)
آپ نے ملاحظہ کیا کہ دعوت اسلامی کن ادوارمیں رونما ں ہوئی اور آپ نے یہ بھی ملاحظہ کیاکہ امیر دعوت اسلامی کو کن علماء نے منتخب کیا یہاںمیںان عقل سے عاری اور متعصب حضرات سے پوچھتا جو کہتے ہیں کہ امیر دعوت اسلامی عالم دین نہیں ہیں کیا وہ علماء جنہوں نے مولانامحمد الیاس قادری صاحب کو ایک ایسی تحریک کے لیے منتخب کیا جس میںتبلیغ کے لیے ہر قدم پر تعلیم و تعلم سے واسطہ پڑتاہے کیاوہ علماء اس چیزسے ناواقف تھے یا پھر ان کے پیش نظر یہ تھا کہ مولاناموصوف توصرف ایک عابد ہیں،ایک متقی ہیںیاصرف ایک عام مسلمان ہیں؟؟؟
بحرِ دعوتِ دین کا دھارا
الحمد للہل دعوت اسلامی عالم اسلام کی ایک ایسی معروف تحریک ہے جس سے استفادہِ عام کاحصول ہوا ہے جس کو ہر ذی شعور باخوبی جانچ سکتا ہے۔ راقم کی مندرجہ تحریرسے بہر حال یہ تو عیاںہوگیا کہ تحریکِ دعوت اسلامی ہمارے معاشرہ کے لیے کتنی ضروری چیز ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر میں اپنے ان حباب سے گزارش کرتا ہوں جو بات بات میں ایک ایسی تحریک کو قلماً و سخناً نقصان پہچانے کی کوششِ لا حاصل کر رہے ہیں جو ہمارے قلوب و اذہان کاایک جز لا ینفق ہے ہمیں تو تحریک کا شکریہ اداکرنا چاہیے جس نے ہم کو راہ راست کا مسافر بنایا ۔دیکھیں!انسان غلطی کا پتلا ہے بھولنا انسان کی سرشت میں شامل ہے اگر تحریکی ارکان و تحریکی پیچیدہ عناصر سے کو ئی ایسا عمل رو پزیر ہوتا ہے جو ہمارے فہم میں غلط ہے یا کوئی ایسا عمل جو ہماری طبیعت کے غیر موافق ہوتا محسوس ہوتا ہے تو ہمیں تحریک کی دیگر تعمیری پہلوں کو دیکھنا چاہیے نہ کہ منفی پہلوں کو اجاگر کر نا چاہیے۔
بعض عوام اس بات کے شاقی ہیں کہ اسلامی بھائی اپنے پیرکی مدح سرائی میںمبالغہ آرئی سے کام لیتے ہیں اور اپنے شیخ کودیگر مشائخ و علماء سے بالا سمجھتے ہیں اور امیر اہلسنت کے نام کے ساتھ ایسے ایسے القابات منسوب کرتے ہیں جو بہت عظیم اشخاص کا ہی حصہ ہیں اور پیر صاحب کے سامنے ان کے مریدین و محبین مناقب عطاریہ پڑھتے ہیں تو امیر اہلسنت خاموشی اختیار کرتے ہیںاور میں اپنی سابق تحریر میں اعلٰحضرت علیہ الرحمہ کے حوالہ سے بیا ن کر آیا ہوں کہ اگر کو ئی عالم و مرشد سمجھتاہے کہ میری مناقب و توصیفی کلمات سے عوام کی رغبت میری جانب مبذول ہو گی جس کی بنا پر میں ان کی تربیتِ اخلاق کر سکوں گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایک مستحسن عمل ہے ایسے معترض احباب سے میں عرض کرتا ہوں کہ اگر تو ایسا ہے ہی نہیں یہ آپ کی فقط ایک غلط فہمی ہے یا پھر غلط رپورٹنگ کا پیش خیمہ ہے اور اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ کا اعتراض درست ہے تو میں گزارش کرتاہوںکہ اس میں شرعی حرج کیاواقع ہورہاہے۔مزید امام اہلسنت کی ایک توضیح ملاحظہ فرمائیں انشاء اللہل جوابِ اعترا ض پر ایک مستند دلیل ثابت ہو گا۔
ایک سائل نے اعلٰحضرت فاضل بریلوی صسے سوال کیا کہ کوئی پیر اپنی مدح میں اشعار سنے اور مریدوں کو انعامات دے تو اس کے بارے شرع کا کیا حکم ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب عنایت فرماتے ہوئے فرمایا:
''....ہاں اگر تعریف واقعی ہو تو اگرچہ تاویل معروف و مشہور کے ساتھ ، جیسے شمس الائمہ و فخر العلماء و تاج العارفین وامثال ذالک (اماموں کے آفتاب ،اہل علم کے لئے فخر،اور عارفوں کے تاج ،اور اسی قسم اور نوع کے دوسرے توصیفی کلمات جو ممدوح کی تعریف و توصیف ظاہر کریں )کہ مقصود اپنے عصر یا مصر کے لوگ ہوتے ہیں اور اس پر اس لئے خوش نہ ہو کہ میری تعریف ہو رہی ہے بلکہ اس لئے کہ ان لوگوں کی ان کونفع دینی پہنچائے گی سمع قبول سے سنیں گے جو ان کو نصیحت کی جائے گی تو یہ حقیقۃً حب ِ مدح نہیںخبر نصح مسلمین ہے اور وہ محض ایمان ہے۔''
(فتاویٰ رضویہ جدید ٢١/٥٩٧)
فتویٰ مرقومہ سے عیاں ہو گیاکہ اگرکوئی شیخ یا قائد اپنے تعریفی کلمات کوبنیت حسنہ سنے یا لکھوایے جس سے عوام کو اپنی طرف مرغوب کرنا مقصود ہو ، تاکہ لوگ دعوتِ دین کو توجہ سے سنیں تو یہ غیر شرعی نہیں بلکہ ایک مستحنہ عمل ہے ۔
عالم معصوم نہیں ہوتا
اگر کسی شخص کو کسی عالم دین میں کسی قسم کی خامی یا بے عملی محسوس ہوتی ہوتو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ شخص اِس کو اپنا نکتہ تنقید بنالے، شرعاً و اخلاقاًیہ درست نہیں ہے۔امیر اہلسنت کی شخصیت ہمارے لیے مزدہ جانفزا ہے ، اگر کسی کو ان میں بھی کسی قسم کی کوئی کوتاہی و خامی دکھائی دیتی ہے تو ہم کو اس بارے میں زباں درزی سے گریز کرنی چاہے اور مصلحت ِشرعیہ کا تقاضہ بھی یہی ہے اگرچہ امیر اہلسنت کی عظیم روحانی ہستی کے بارے لاکھوں لوگ گواہی دے سکتے ہیں کہ آج تک ہم نے آپ کی ذات میں کوئی غیر شرعی کام نہیں دیکھا ۔
امام اہلسنت فرماتے ہیں:
''مقاصد شرع سے ماہر خوب جانتاہے کہ شریعت مطہرہ رفق و تیسیرپسند فرماتی ہے، نہ معاذاللہ تضییق و تشدید ،ولہٰذا جہاں ایسی دقتیں واقع ہوئیں علمائے کرام انھیں روایات کی طرف جھکے ہیں جن کی بناء پر مسلمان تنگی سے بچیں رد المختار کی کتاب الحدود میں ہے :ھو خلاف الواقع بین الناس و فیہ حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ یہ لوگوں میں مروج کے خلاف ہے اور بہت بڑاحرج ہے کیونکہ اس سے پوری امت کو گنہگار ٹھہرانالازم ہے ''۔ (فتاویٰ رضویہ جدید١١/١٥١)
اور اصول شرع ہے کہ:
''اذلیس من قضیۃ الشرع الکریم والعقل السلیم رد شئی خفیف بار تکاب ثقیل عظیم ''شریعت مطہرہ او ر عقل سلیم اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ معمولی چیز کو کسی عظیم اور بھار ی چیز کے ارتکاب سے ختم کیاجائے۔
علماء کا اختلاف رحمت ہے
اختلافات ہماری زندگی کا ایک حصہ ہیں اگر اختلاف نہ ہو تو ہمیںاپنی غلطیوںکا احساس کس طرح ہو اور پھر اختلافات ہمیں جینے کی نئی راہیں متعین کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں لیکن جہاں تک علماء کے باہمی اختلافات کی بات ہے تو کبھی تو یہ عوام پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیںتو کہیں یہی اختلافات عوامی امنگوں کی دجھیاں بکھیرتے دکھائی دیتے ہیں اسی طرح کسی بھی قوم کے علماء جو کہ اس قوم کے مذہبی سپوت ہوتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہ قوم کو مذہبی رواداری سکھا تے ہیں اور قوم ان کے اقوال و افعال کو مذہبی حجت سمجھتے ہیں اسی طرح علماء اسلام کا بھی حال ہے کہ یہ علماء دین شرع متین کے سپوت ہیں اور امت مسلمہ ان کو اپنا پیشواہ و رہبر تسلیم کرتے ہیںاگر ان میں باہمی اختلافات ہوںتو عوام ان اختلافات کوغلط ا رنگ دیتے ہیں جو کو بعد ازیں ایک بہت بڑے نقصان کا باعث بنتے ہے او راگر دقیق نظری سے دیکھا جائے تو اسلام میں رخنہ درازی کا ایک باعث یہ اختلافات ِ علماء بھی ہے چاہے یہ اختلافات فروعی ہی کیوں نہ ہوں کیوں کہ عوام کی سمجھ میں یہ اصولی و فروعی کی دقیق ابحاث آنے والی نہیںہیں اگرچہ علماء کا اختلاف رحمت ہے لیکن اگر علماء کرام ان فراعی ابحاث کو نشرو اشاعت کے بازار کی زینت بنائیں گے تو بہت مشکل ہے کہ امت ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہو سکے۔

علامہ سعیدی ا س کے بارے رقم طراز ہیں :
''اصول دین اور عقائد میں اختلاف ناجائز ہے اسی طرح بغض و حسد کی بناپر کسی عالم کادوسرے سے اختلاف بھی جائز نہیں ،البتہ مسائل فرعیہ میں اختلاف جائز ہے اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی غیب داں نے ارشاد فرمایا ''میری امت کا اختلاف رحمت ہے ''۔
(الجامع الصغیر ١/٤٨ )
اس حدیث کو نصر المقدسی صنے 'الحجۃ' میں اور امام بیہقی صنے' الرسالۃ الاشعریۃ' میں بغیر سند کے ذکر کیا ہے اورحلمی قاضی حسین ا

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
muhammad khurshid ali
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 371
Join date : 05.12.2009
Age : 35
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین   Fri 17 Sep 2010 - 8:30




=================================================================================
Back to top Go down
View user profile
Janti Zever
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 228
Join date : 01.01.2010
Age : 30
Location : United Kingdom

PostSubject: Re: امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین   Sun 19 Sep 2010 - 8:45













Ya Attar Peer har mushkil cheer.


Back to top Go down
View user profile
sohnee

avatar

Posts : 68
Join date : 15.12.2009
Age : 32
Location : rawalpindi

PostSubject: Re: امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین   Thu 23 Sep 2010 - 10:01

Back to top Go down
View user profile
Sponsored content




PostSubject: Re: امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین   

Back to top Go down
 
امیر دعوتِ اسلامی بحیثیت عالم دین
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: اسلامی شخصیات :: علمائے کرام-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Free blog