Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 مفتی فیض احمد اویسی دامت برکاتہم علیہ

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: مفتی فیض احمد اویسی دامت برکاتہم علیہ   Fri 27 Aug 2010 - 10:59

آپ کی شخصیت

مشک و عنبر کبھی تعارف کے محتا ج نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنا تعارف آ پ ہی ہوتے ہیں ۔اُستاذ العلماءحضورقبلہ مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی کی شخصیت ہمہ صفت مو صوف ہے۔ اللہ تعا لیٰ نے انہیں گونا گوں صفات اور خصوصیات کا حا مل بنایا ہے۔ حضورقبلہ مفسر اعظم پاکستان قبیلہ ’لاڑ‘ کے چشم وچراغ ہیں اوریہ قبیلہ لا ڑ حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پشت سے چلا ہے اِسی قبیلہ کے تین بھائی جو کہ غو ث صمدانی ، محبوب سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مرید تھے، کے فرمان کے مطابق ادھر بر صغیر تشریف لائے تھے اور غیر مسلموںسے جنگ لڑتے ہوئے درجہ شہادت حاصل کیا تھا ۔ حضورقبلہ مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی فنِ تعمیر کی وہ بے مثال شخصیت ہیں۔ جن کی کتابیں اِس وقت تقریباً پانچ ہزار (5000) کے قریب ہیں۔ اِس زمانہ میں در پیش ہر مسئلہ پر آ پ نے قلم اٹھا یا ہے اور ہر مسئلہ کو اپنے مخصو ص انداز میں "الم نشرح" کر کے چھو ڑا ہے ۔ بعد میں آ نے والی نسلیں مدّتوں آپ کی کُتب سے استفادہ حاصل کرتی رہیں گی "فنِ تدریس" میں آ پ اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ اسلامی علوم و فنون ہو ں یا دورہ حدیث و تفسیر آ پ کے لا کھوں شا گرد اِس و قت د نیا کے مختلف کونوں میں جہالت کے اندھیروں کو مٹاتے ہوئے علمی ضیاء پا شیاں کر رہے ہیں۔

آ پ کا اصل وطن "پکہ لا ڑاں ،ضلع رحیم یا ر خان" ہے لیکن آپ نے "بہاولپور شریف" کو شرفِ سکونت بخشا یہاں اُس وقت خارجیت کا دور دورہ تھا ۔ یہاں تک کہ سُنیت کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی، حضورقبلہ مفسرِ اعظم پاکستان کی استقامت نے بہاولپور کے حالات بدل کر رکھ دیئے۔ آج قریباً ڈیڑ ھ سو (150)مساجد سے الصلوٰة والسلام علیک یا رسول اللہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں یہ سب اُویسی صاحب کافیضان ہے۔ مزید

تا ریخِ اسلام میں ایسی شخصیات لا تعداد ہیں جو علمی اور روحانی اعتبار سے کا مل اور اکمل ہیں لیکن ان پر غلبہ کسی ایک کا ہوتا ہے۔ جیسے شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور خواجہ معین الدین اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ بہت بڑ ی علمی شخصیات ہیں۔ لیکن اِن پر غلبہ تصوّف اور روحانیت کا تھا ۔ اِس لئے اِن کا نام ”صو فیا ءکرام “ کی صف میں لکھا جاتا ہے ۔ اِسی طرح محدث ِاَعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری رحمتہ اللہ علیہ ، غزالیٔ زماں سید احمد سعید کا ظمی رحمتہ اللہ علیہ علمی و روحانی اَعتبار سے کامل و اکمل شخصیات ہیں ۔ لیکن اِن پر علم کا غلبہ تھا جس کی بناءپر آ پ کا نام "علماء و محدثین" کی صف میں آتا ہے۔ اسی طرح حضورقبلہ مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی ہر لحاظ سے کا مل و اکمل ہیں لیکن غلبہ چونکہ علم کا ہے۔ اِس لیئے آ پ کا نام علمی دنیا میں زیادہ مشہور ہے ورنہ آپ سید السالکینبرہان الواصلین ہیں اِن کا یہ روحانی مقام وہی لوگ جانتے ہیں جو اِس میدان کے شاہسوار ہیں۔


عالمِ اسلام کی ایک عظیم ہستی جو اپنی مثال آپ ہے

اللہ لکے نیک بندے ہر دور میں موجود رہے ہیں اور تا قیامت رہیں گے۔ جب تک روئے زمین پر کوئی ولی اللہ موجود ہو گا اُس وقت تک قیامت نہ آئے گی۔ اِنہی بُزرگ ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو درسِ توحید و رسالت کے لئے وقف کردیا ۔ آپ ہر لمحہ اشاعتِ دین میں مصروف رہے اور کلمہ حق کو اپنا نصب العین بنائے رکھا۔ آپ کی سیرت و کردار سے صاف عیاں ہے کہ آپ کی نگاہ میں دنیاوی جاہ و حشمت کی کچھ بھی وُقعت نہ تھی نہ ہے۔ آپ نے مال و زر اور دنیاوی مفادات کے حصول کی طرف کبھی توجہ نہ دی اور ہر د م رضائے محمدِ مصطفی صلی الله علیه و آله و سلم کے حصول میں کوشاں رہے ۔

٭ موجودہ دور کے کثیرالتصانیف اور فاضل جن کا کثرت ِتصانیف و تالیفات میں کوئی مدّ ِمقابل دکھائی نہیں دیتا٭اِن کا شمار اُن میں ہوتا ہے جو بیک وقت کئی محاذوں پر کام کررہے ہیں۔٭درس و تدریس ،وعظ و تقریر کے ساتھ ساتھ وہ محققانہ تحاریر میں بھی یگانہ روز گار ہیں۔ ٭معتدد ضخیم و عظیم کتب کے تراجم اور شارح کے با د شاہ ہیں۔٭صاحب ِعلم اور زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ ہیں۔٭آپ اہلسنت کے جیّد عالم اور یادگار اسلاف ہیں ۔٭ایامِ طالبِ علمی سے لکھ رہے ہیں اور تصانیف اور تالیف کا فطری ذوق رکھتے ہیں۔ ٭وہ سفرو حضر میں بھی قلم و قرطاس تھامے دکھائی دیتے ہیں ۔٭اِنکی فکرو قلم میں بھی برکت ہے ۔٭اندازِبیاں انتہائی شیریں، مشفقّانہ ،سادہ اور عام فہم ہے مگر عالمانہ جاہ وجلال سے بھر پورہے۔٭آپ انتہائی فقیرصفت طبیعت کے حامل، کمال درجہ سادگی ،تقویٰ ،تصوف اور عشقِ رسول صلی الله علیه و آله و سلم اسے سرشاراور اللہ ربّ العزت کے کامل ولی اور پارسا بزرگ ہیں۔٭ واعظ بھی بے مثال، خطیبِ باکمال،عابد بے ریا،عالم باعمل،صوفی با صفا،سنیوں کے پیشوا اور زہد و تقویٰ سے سرشار۔٭آپ شریعت ،طریقت ،معرفت ،اور تصوّف میں بھی اہم کردار اور خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ٭تفسیر واحادیث اور فقہ وغیرہ علوم میں ایک ماہراور کامل اُستاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ٭آپ ایک نامور مفسرِاعظم،محدثِ وقت،فقیہ العصر ،مفکرِاسلام ،رئیس التحریر،اِمام المناظرین ،اُستاذالعلماءوالفضلاء،ابوالمفتیان اورقطبِ زماں ہیں۔ ٭وطنِ عزیز ملکِ پاکستان کی وہ عظیم ہستی جن کو غزالئی زماں ،رازی دوراں ،ثانی اعلٰحضرت اوراہلسنت کا عظیم سرمایہ کہا جاتا ہے۔٭میری مرُاد اُن سے مسلک کے پاسبان،اللہ کا احسان ، مفسرِقرآن، سرچشمہ فیضان ، وہ فیضِ بےکران ، فیضان ہی فیضان، نمازی میدان ،علماءکے بھی سلطان، سنیوں کی جان ، اِک عظیم انسان ، ملک کی آن بان ،صاحبِ عرفان، وہ سحر بیان، مسلک کے ترجمان ،عظمت کا اِک نشان،اک غنیمت جان،اللہ کی اِک شان ، سب پہ مہربان،ہاں وہی جن کو "آفتابِ سلسلئہ اُویسیہ" کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ جن کا نامِ نامی اسمِ گرامی شیخ التفسیروالحدیث، اُستاذ العرب والعجم ،ابوالمفتیان ،مناظرِ اسلام، پیر ابوالصالح ، رہبرِ شریعت ، پیرِ طریقت حضرت علامہ مفتی محمد فیض احمداُویسی دامت برکاتہم العالیہ ہے۔

٭جی ہاں یہ وہی ہستی ہیں جن کو چالیس( 40) سال سے ہر سال حرمین شریفین کی حاضری نصیب ہورہی ہے۔٭جو خود بھی حافظِ قرآن اور اولاد بھی حافظِ قرآن ہے۔٭جو خود بھی عالمِ دین اور اولاد بھی علمائے کرام ہیں۔٭جوخود بھی مفتی اور بچے بھی شرعی ودینی مسائل کے رہنماہیں ۔ ٭جوخود بھی سادہ اور بچے بھی سادگی کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔٭جو اُویسی بھی ہیں،قادری بھی ہیں۔٭جو محدثِ اعظم پاکستان مولاناسرداراحمد صاحب علیہ الرحمہ کے شاگردِخاص ہیں۔٭جو آج کے دور میں تصویرِاسلاف ہیں۔٭جو مناظرِاسلام ہیں۔٭جوگستاخوں کے لئے شمشیرِبے نیام ہیں۔٭ جن کو دیکھ کر خدا یاد آجائے۔ ٭جو عشقِ رسول صلی الله علیه و آله و سلم اسے سرشارہیں۔٭جو سینکڑوں علمائے اہلسنت کے دلبرودلدارہیں۔ ٭جن کے نام کے جھنڈے گڑچکے ہیں۔ ٭جنہوں نے اپنا تن،من،دھن سُنّیت کے لئے وقف کردیا۔٭جو امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی بولی بولتے ہیں۔٭جو حضرت الحاج خواجہ محمد دین سیرانی علیہ الرحمہ (سجادہ نشین دربارِ عالیہ حضرت خواجہ محکم دین سیرانی علیہ الرحمہ ) کے خلیفۂ مجاز اورمُریدِ صادق ہیں۔٭جو حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی علیہ الرحمہ کے بھی خلیفۂ مجاز اور مُریدِ صادق ہیں۔

ربِ قدیر کی جناب میں دعا ہے کہ "وہ اپنے حبیبِ کریم صلی الله علیه و آله و سلم کے صدقہ و طفیل آپکے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے اور عمرِ خضر بخیر و عافیت و سلامتی عطا فرمائے"۔ (ا ٓمین بجاہِ طٰہٰ ویٰس)


آپ اپنی مثال آپ ہیں

حضور مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی اِنتہائی فقیر صِفت طبیعت کے حامل، کامل درجہ صاحبِ تقویٰ و تصوّف اور عشقِ رسول صلی الله علیه و آله و سلم سے سرشار اللہ تعالیٰ کے ولی کامل ہیں ۔ جو طریقت و معرفت میں بھی خدماتِ تصوّف پیش کر رہے ہیں۔ تفسیر و حدیث و فقہ و غیرہ علوم میں اُستاذالاساتذہ کی حیثیت سے ممتا ز ہیں۔آپ محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد فیصل آبادی علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید،حضرت خواجہ محمد محکم الدین سیرانی علیہ الرحمہ کے مریدِ صادق ا ور حضور مفتی اعظم ہند مولانا محمد مصطفیٰ رضا خان نوری علیہ الرحمہ المتوفی ۱۴۰۲ ھ بمطابق۱۹۸۱ء کے نامور خلیفہ ہیں۔ پہلے "حا مد آباد ،ضلع رحیم یا ر خا ن" (آپ کے آبائی گاؤں) میں تدریس کا آغا ز فرما یا جہاں تا حال اِشاعتِ دین کا مقدس پروگرام جاری ہے اور بے شمارآ پ کے تلامذہ اِندرونِ ملک و بیرونِ ملک کئی مدارس و جامعات چلا رہے ہیں۔

حضور مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی کے بارے میں ماہرِ رضویا ت، رئیس التحریر، فخرِ اَہلسنّت حضرت علا مہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری نقشبندی مدظلہ العالی (سرپرستِ اعلیٰ اِدارہِ تحقیقات ِامام احمد رضا پاکستان) اِس طرح رقم فرماتے ہیں:

"اِن کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتابوں کی فہرست حروفِ تہجی کی تر تیب پر شا ئع کی گئی ہے۔ اِس سلسلے میں مشہور مفکر اور اپنے عہد کے صاحب طرز ِادیب و محقق حضرت علا مہ پروفیسر ڈاکٹر مسعو د احمد کی اس رائے سے میں بھی اتفاق کرتا ہوں کہ حرو ف تہجی کے بجا ئے فن اور مو ضو ع کے اعتبار سے ان کی کتا بو ں کی فہرست اگر مرتب کی جا ئے تو قا رئین کو بھی اپنے پسندیدہ مو ضوع پر کتابو ں کی تلا ش میں آ سانی ہو جائے گی "۔

پر وفیسر علا مہ غلام مصطفی مجددی علیہ الرحمہ (شکرگڑھ) فرما تے ہیں:

"مجھے حضور صلی الله علیه و آله و سلم کی حدیث مبارک یا د آ رہی ہے کہ

"واللہ ما خا ف علیہم ان تشر کو امن بعدی ولکن اخا ف الا تنا فسو افیھا"

ترجمہ: "اللہ ( عزوجل ) کی قسم مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جا ﺅ گے ہا ں یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں کھو جا ﺅ گے" ۔

الحمدللہ ! ہم مشرک نہیں مگرمعا ذاللہ عزوجل دنیا دار اور زر پرست ہیں۔ میں ہر صا حب درد کے دل پر دستک دیتا ہوں کہ اگر ہم نے حضرت علا مہ مفتی محمد فیض ا حمد اویسی رضوی قدس سرہ دامت برکا تہم العا لیہ جیسے عظیم لو گوں کی قدر نہ کی تو تا ریخ ہمیں معاف نہ کرے گی۔


=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: مفتی فیض احمد اویسی دامت برکاتہم علیہ   Fri 27 Aug 2010 - 11:00

قبلہ فیضِِ ملت بحیثیت مفسرِ اعظم پاکستان

علماء تفسیر نے مفسر میں درجِ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری قرار دیا ہے۔

۱۔ صحتِ عقیدہ

۲۔ خواہشات ِ نفسانی سے مُبرّا

۳۔ عربی لُغت اور اِس کے فروغ کا علم

۴۔ قرآنی علوم کا علم

۵۔ رقتِ فضل یا دو رِربانی

حضور قبلہ مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی نے دنیا ئے تفسیر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیاہے ۔اَحناف کی مشہور و معرو ف تفسیر "روح البیان" کا "۳۰ جلدوں" میں "فیوض الرحمٰن" کے نام سے ترجمہ کر کے ترا جم کی دنیامیں اِنقلاب برپا کر دیا۔ ترجمہ فیوض الرحمٰن کی مقبولیت کا ا ندا زہ اِس بات سے لگا ئیے کہ "پا کستان" کا شاید ہی کوئی شہر ایسا ہو یا کُتب خانہ ہو جس کی زینت فیوض الرحمٰن نہ بنی ہو۔ حتیٰ کہ اب ہندوستان میں بھی شائع ہو ئی ہے اور تمام عوام و خواص اِس سے فا ئد ہ اٹھا رہے ہیں ۔بر ِ صغیر کی دو سالہ تا ریخ میں تفسیرِ مظہری (عربی ) کا ریکا رڈ بھی حضور مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی کے قلم نے توڑ ا ہے۔

"۱۰ ضخیم جلدوں“ میں عر بی تفسیر” فضل المنان فی آیا ت القرآن“ تحریر کر کے عربی تفا سیر کی دنیا میں ایک نئی تفسیر کا اضافہ کیا ہے ۔ تفسیر فضل المنان کا مقدمہ ،سور ة فا تحہ اور کچھ پاروں کی جلدیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں دیگر انتظار میں ہیں کہ کوئی مردِ مجاہد آئے اور اُنھیں چھپوا کر اِ س کارِ خیر کیلئے اپنا نام رقم کروائے۔اِس کے علاوہ تفاسیر کے میدان میں دیگر شاہکار کام بھی سر انجام دیئے ہیں۔ جن کی اجمالی تفصیل ہدیہ قا رئین ہے۔

فیضِ ملّت کی تحریر کردہ تفاسیر کا ایک اجمالی جائزہ

تفسیرِ اُویسی (اُردو،۵۱ جلدیں اورعربی الگ) ، تفسیر انک لا تھدی ، تفسیر آیة نور، تفسیر آ یة قل لا اقو ل لکم، تفسیر آ یة عندہ مفاتح الغیب، تاریخ القرآن، تقابلِ تراجمِ قرآن، تفاسیر سور ة الفا تحہ و التعوذ فی تفسیر التعوذ، تار یخ تفسیر القرآن،التحریف والبہتان العظیم فی تفسیر تفہیم القرآن ، تزئین الجنان بمکالة القرآن ،تفسیر آیة و ما اھل بہ لغیر اللہ، تفسیرامام احمد رضا، آیة قوا عد ناسخ منسوخ، فیض الرسول فی اسباب النزول(۱۰جلدیں)،احسن البیان فی اُصول تفسیرالقرآن(۳جلدیں) تفسیر بالرائے (۳جلدیں)الھلالین ترجمہ وشرح اُردو جلالین(۵جلدیں)،فیض القدیر فی اُصول التفسیر،القول الراسخ فی معرفة المنسوخ و الناسخ،احسن الشور فی روابط الآیات والسور،فتح المغلقات فی شرح المقطعات ،خیر الخلاص تفسیر سورہ اخلاص،ازالة المشتبھات فی آیات المتشابھات ،تفسیر سورہ فاتحہ تفسیر ورفعنا لک ذکرک ،اعجاز القرآن ،الاسعاف فی تفاسیر الاحناف ،فیض القرآن فی ترجمة القرآن،احسن الشورفی روابط الاسماءوالسور ۔

حضور فیض ِ ملت کے مشہور اور کامیاب مناظرے

الحمد للہ ! حضور فیضِ ملّت نے میدانِ مناظرہ میں بھی مخالفین کو ہمیشہ منہ کے بل گرایا ہے۔آپ بہترین مناظرِ اِسلام کے طور پر سامنے آئے اور اکثر مناظروں میں تو ایک جملے میں مخالفین کے چودہ طبق روشن فرما دیئے ۔ ایک بار کا ذکر ہے جب آپ حضور محدّثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد علیہ الرحمہ کے پاس زیرِ تعلیم تھے۔ ایک شخص آیا اور کہا کہ حضور ہمارے علاقہ میں مخالفین نے ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ اُلٹے سیدھے سوال کر کے بھولے بھالے سُنی مسلمانوں کو بہکا رہے ہیں ۔ آپ کوئی مناظر دیں تا کہ وہ اُن سے مناظرہ کر سکے ۔ اُس وقت فیضِ ملّت سامنے سے تشریف لا رہے تھے جو کہ اُس وقت نوجوان تھے۔ محدّثِ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ نے فرمایا "میرا شیر آرہا ہے اِسے لے جاو"۔ فیضِ ملّت کی وُسعت ِ علمی اِ س میدان میں اِ ن کا مجرّ ب ہتھیار ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جو عالمِ دین درس و تدریس کے شعبہ کو اپناتا ہے وہ واعظ وتقریر میں کہیں ہی نظر آتا ہے۔ اگر واعظ وتقریر کو اپناتا ہے تو تحریر و تالیف میں نام نہیں کرپاتا۔ اگر تحریر و تالیف کو وقت دیتا ہے تو مناظرے شاید ہی کرتا ہے۔ مگر داد دیجیئے اِ س مردِ مجاہد کو کہ جس نے کوئی میدان ایسا نہیں جہاں قدم نہ رکھا ہو اور اگر قدم رکھا تو ربِ قدیر نے اِ ن کے خلوص کے بدلے اِ نھیں غازی میدان کیا۔ آئیے دیکھتے ہیں فیضِ ملّت نے کہا ں کہاں مخالفین کو شکست کا منہ دکھایا ۔

فیضِ ملّت کے کامیاب مناظروں کی ایک جھلکی

پہلا مناظرہ:

۱۳۷۲ھ بمطابق ۱۹۵۲ء دورہ حدیث سے فراغت کے بعد بستی بہرام بلوچ میں مولوی نصیر احمد دیو بندی سے "علمِ غیب" کے موضوع پر بڑا کامیاب منا ظرہ کیا جس کی وجہ سے ساری بستی بد مذہبوں سے آج تک محفوظ ہے ۔اِ س مناظرے سے کچھ عرصہ پہلے ایک اور منا ظرہ بھی کیا تھا جس کی معلومات نہ مل سکی۔



دوسرا مناظرہ:

۱۳۹۱ ھ بمطابق ۲۷ مئی ۱۹۸۱ء بروز جمعہ مولوی عبدالکریم شاہ دیو بندی ساکن ڈیرہ غازی خان سے مناظرہ کیا۔



تیسرا مناظرہ:

۱۳۹۱ ھ بمطابق۱۹۸۱ء نواب شاہ سندھ میں مولوی عبداللہ شاہ دیو بندی سے کامیاب مناظرہ کیا۔



چوتھا مناظرہ:

۲ رجب المرجب۱۳۹۲ھ بمطابق ۲۴ اگست۱۹۷۱ء بروز منگل بمقام بنگلہ ملکانی، لیاقت پور، ضلع رحیم یا ر خان ایک مشہور دیوبندی مولوی سے مناظرہ فرمایا ۔ جس میں ہمیشہ کی طرح رب تعالیٰ نے آپ کو نصرت سے ہمکنار فرمایا۔



پانچواںمناظرہ:

۱۱ صفر ۱۴۰۵ ھ بمطابق ۲۶نومبر۱۹۸۴ء بروز منگل قصبہ بیٹ ہزاری، علاقہ جتوئی،ضلع مظفر گڑھ ۔ مولوی عبدالشکور دین پوری دیو بندی سے کامیاب مناظرہ کیا۔



چھٹا مناظرہ:

۱۴۰۷ ھ بمطابق۴مارچ ۱۹۸۶ء بروز منگل بمقام ٹیوب ویل چوہدری نورالحسن ،موضع کونڈی، ضلع لودھراں۔ مولوی اللہ بخش غیر مقلد سے کامیاب مناظرہ کیا۔



ساتواںمناظرہ:

۱۴۰۸ ھ بمطابق۱۷جون۱۹۸۷ء بروزبدھ بمقام ماڑی پلہ نزد ہیڈ اسلام ،تحصیل حاصل پور، ضلع بہاول پور میں مولوی یوسف رحمانی سے ایک منا ظرہ کیا۔ جس میں اُس کے چودہ طبق روشن فرما دیئے۔



آٹھواںمناظرہ:

ذیقعد۱۴۱۹ھ بمطابق ۳جنوری ۱۹۹۹ء بروز جمعہ بمقام غازی پور ،تحصیل شجاع آباد، ضلع ملتان۔ مولوی عبدالستار تو نسوی دیو بندی سے کامیاب منا ظرہ کیا۔



حضورقبلہ فیض ملت بحیثیت ولی کامل مرشد

آج کے مسلم معاشرہ میں پیری مُریدی کا سیلاب آیا ہوا ہے ۔جاہل، بے عمل، غرور و تکبر کے بُت نما پیروں نے اِس شعبہ کو بدنام کر دیاہے۔ کھوٹے و کھرے اور اصلی و نقلی کی پہچان مشکل ہو گئی ہے۔ گویا پیری فقیری ایک کاروباربن گیاہے۔ آج کے اِ س پُرفتن دور میں لوگوں کے تخّیل کے مطابق سب سے بڑا پیر وہ ہے جس کے پاس جتنی بڑی گاڑی ،جتنی بڑی کوٹھی ہو ۔ جس کے مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو ۔اسی طر ح جُبّہ، قبہ، دستار جتنی بڑی ہوگی اُتنا بڑا پیر ہو گا ۔جو کہ سراسر باطل سوچ اور طریقہ ہے۔ طریقہ اسلاف کو ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ بزرگوں کا طریقہ معاشرہ میں عنقا نظر آتا ہے ۔ خال خال کہیں یہ بوریا نشین مردِ دُرویش اَسلاف کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں۔ جن کو دیکھ کر واقعی ہمیں اپنے بُزرگ یاد آجاتے ہیں۔ اِمام اعظم کی فقہ، اِمام سیو طی کا فنِ تفسیرو حدیث ،غوث ِاعظم کی دعوتِ تبلیغ ،شیخ محقّق کی تحقیق ،اِمام رازی کی تفسیر اور اِمام اہلسنت کے عشق کا نمونہ نظر آتے ہیں۔ اِنہی اکابرینِ اُمت کی جیتی جاگتی تصویر "حضور قبلہ فیضِ ملّت" ہیں جو سرزمینِ بہاولپور پر جلوہ گر ہیں ۔گم گشتہ اور روحانیت کی پیاسی اِنسانیت کو عشقِ مصطفی صلی الله علیه و آله و سلم کے چھلکتے جام پلا رہے ہیں۔ گو یاا ِنہوں نے توحید ورسالت وعشقِ نبوی صلی الله علیه و آله و سلم کابے مثال مے خانہ کھولا ہوا ہے اور تشنہ گام لوگ اپنی دینی وروحانی پیاس بجھا رہے ہیں۔ یہ مردِ دُرویش قلندرانہ صفت کا مالک مردِ کامل ایک پھٹی پرانی چٹائی پر بیٹھا نہ کوئی دربار، نہ سیکورٹی گارڈ، نہ اَوقاتِ خاص، نہ پروٹوکول ،نہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ۔ گویا اپنے اِسم شریف کا عملی نمونہ بن کر ہر آنے والے کی روحانی، دینی، دنیاوی ضرورتوں کی تکمیل فرما رہے ہیں۔ عجب معاملہ ہے جو بھی مرید ہو تا ہے مرشدِ کریم "حضور قبلہ مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی" اُن کو پیر بھائی ہی کہہ کر پکارتے ہیں ۔ گویا وہ اپنے آپ کو بھی سرکار سید نا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مرید کہتے ہیں اور اپنے دستِ پاک پر بیعت ہو نے والو ں کو بھی حضور سید نا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مرید کہتے ہیں ۔ اس طرح گویا حضور فیضِ ملت اپنے دست ِاقدس پر بیعت ہو نے والے کو اپنا مرید نہیں بلکہ اپنا پیر بھائی کہتے ہیں۔ آپ کے آستانہ قدسیہ پر نہ دنبہ ،بکری کی ڈیمانڈ، نہ ڈنڈا سوٹے سے علاج اور نہ ہی تعویذات کی روایتی منڈی، نہ فروخت، نہ جھاڑ پھونک کے لمبے چوڑے طریقے، نہ پیشہ ور پیروں جیسا مصنوعی جلال و جمال، نہ چہرہ پر دہشت وحشت اور نہ لہجہ متکبّرانہ چال فرعونا نہ ۔ یہ اما مِ اہلسنت کا سچا اور پکا عشقِ محمد رسو ل اللہ صلی الله علیه و آله و سلم کی تعلیمات، سنتوں کا حقیقی داعی عامل، اِمام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فقہ (حنفی) کا عظیم پاسبان، زندگی درویشانہ ،لباس فقیرانہ ،طرزِ عمل سنتوں کا پیکر ، اخلاقِ حسنہ کا عظیم شاہکار، ملک ِپاکستان تو کیا بلادِ اسلامیہ حتیٰ کہ یورپین ممالک تک اپنی حسین مسکراہٹوں کو بکھیر کر پیغامِ عشقِ مصطفوی کو پھیلا بھی رہاہے اور عام بھی کر رہا ہے ۔ اِسے کہتے ہیں حقیقی پیری اور صحیح معنوں میں مریدی جسے دیکھ کر اللہ بھی یاد آئے اور اُس کے محبوب و مقبول بندے بھی۔ بے شک یہی ہیں انعامِ یافتہ لوگ جن پر اللہ بھی راضی اور یہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہیں۔ اِن لوگوں کی سبیل کو اپنانے کی دعا ہمیں رب ِکائنات نے اُمِ اکتاب میں سکھائی ۔

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: مفتی فیض احمد اویسی دامت برکاتہم علیہ   Fri 27 Aug 2010 - 11:00

حضورفیضِ ملّت بحیثیت فقھی اعظم

حضور قبلہ مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی نے جہاں علومِ قرآ ن اورعلومِ احادیث میں ایک مقام اورنام پیدا کیا وہاں حضور قبلہ مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی "فقہ" کے میدان میں بھی اپنی مثال آ پ ہیں اور فقہ کی دنیا میں "ثانیءابی حنیفہ" نظر آتے ہیں ۔ فتا ویٰ کی دنیا میں "اویسی" ایک نام ہے۔ آئیے آپ کو لے چلتے ہیں گلستانِ تصانیف ِاُویسی میں اور آپ کو سیر کراتے ہیں ۔ کہ حضور قبلہ مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی نے فقہ حنفی پر کو ن کونسے احسا نات کئے ہیں۔"فتا ویٰ اُویسیہ" جو کہ "۱۲جلدوں" پر مشتمل ہے ، فتاویٰ فقایت کی دنیا میں حضرت اُویسی کاایک نادر و شاہکا ر کارنامہ ہے۔ فتا ویٰ اُویسیہ کے علاوہ حضور قبلہ فیضِ ملّت کی فقہی سطح پر تصنیفی خدما ت کیا ہیں۔ اِن پر اجمالی نظر ڈالتے ہیں ۔تفصیل کیلئے ’علم کے موتی‘ فہر ست کُتبِ اُویسی قبلہ ملا حظہ فرمائیے۔

حضور قبلہ مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی کی پہلی تصنیف” کار آمد مسئلےسوالاًجواباً" پر مشتمل "کشکول اُویسی" ( ۱۰جلدوں ) پر مشتمل ہے جس کی کچھ جلدیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر علمی حلقوں میں داد وصول کر چکی ہیں۔ فقہ کے مو ضوع پر بھی شا ئع ہو چکی ہیں۔

فیضِ ملّت کی فقہ سے متعلق دیگر کُتب کی ایک جھلکی

اِمامِ اعظم ابو حنیفہ کی فقاہت، اذان جمعہ کی شرعی حیثیت ، آٹھ تر اویح بدعت ہے، اِسرارِشریعت خلا صہ بہارِ شریعت، انوارِ شریعت (فقہ حنفی کے چیدہ چیدہ مسا ئل) ،اِسلامی نصاب (عقائدِ فقہ) ، اشمارالربح فی احکام الذبح (فقہی مسائل) ، اُصولِ فقہ ، دیہا تی جمعہ ، احکامِ شریعت (سرائیکی)، بیس تراویح کی شرعی حیثیت ، برتھ کنٹرول یا ضبطِ ولادت ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور مسلمان، بیمہ زندگی،پنجا بی مترجم نما ز مع مقدمہ، حا شیہ ُاویسی، رویت ِہلا ل کی شرعی حیثیت، تار یخِ فقہ ، تلا وتِ خطبہ کے وقت حضور صلی الله علیه و آله و سلم ﷺ کا نا م چومنا (ایک اہم فتویٰ)، حلال حرام جانور، تاریخ الفقہاء، ٹیلی ویژن دیکھنا کیسا ہے؟ (ایک اہم فتویٰ)، ٹوتھ پیسٹ اور مسواک، ٹیکہ مفسد ِروز، چر مہا ئے قربانی (ایک اہم فتویٰ)، جمعہ کی شرائط و احکام، حلال جانور کی اوجھڑی کا حکم (فتویٰ)،حرمت ِسیا ہ خضاب ، خلاصتہ المیراث ( علمِ میراث پر محققانہ تصنیف)، خاندانی منصوبہ بندی، خلا صہ فتاویٰ ر ضویہ ، ننگے سر نما ز پڑ ھنے کا حکم (ایک فتویٰ) ، داڑھی منڈے کی اِما مت کا مسئلہ ، دیت المراة ، داڑھی کی شرعی مقدار، کوّا حلال ہے یا حرام ہے؟، رُکوع کی رکعت کا حکم، دفع الا ختلا ف فی مسا ئل الا ضا ف ، سید زادی سے غیرسید کا نکا ح، صلوٰ اة المریض، طلا قہ ثلا ثہ ، طب اور فقہ حنفی ، عور ت چار شا دیاں کیوں نہیں کر سکتی؟ (ایک اہم فتویٰ)، عربو ں کی طر ز پر اذان (ایک فتویٰ)، عطیہ چشم و خون (ایک فتویٰ)، غیر با لغ اِمام کے پیچھے نماز، غیر مقلدین کی ننگے سر نماز کا حکم، غیر مسلم کا ذبیحہ (فتویٰ)، غیر مرد کا نطفہ رحم میں رکھوانے کا حکم (اہم فتویٰ)، غیر مقلدین اور مسا ئلِ سفر، فیض الشبا رہ فی مسائل المسافرہ، رجب کے کو نڈ ے (ایک فتویٰ)، فقہ جعفری فقہ حنفی ، فضا ئلِ جمعةالوداع، فیصلہ ہشت مسئلہ (۱۰جلدیں)، فقہ حنفی اور و ہابی، قرٔات خلف الامام ، جرا بو ں پر مسح ناجائزہے(فتویٰ) ،قراة الفاتحہ فی الجنازہ (غیر مقلدین کا رد)، گوہ کھانا (ایک فتویٰ)، نوافل قضا عمری (فتویٰ)، نما زِ فجر کی سنتیں(فتویٰ)، نمازِ حنفی ہی نمازِ محمد ی ہے، الوضو (وضو کے مکمل احکام)، وی سی آر کے شرعی احکام، نمازِ حنفی (سرائیکی مترجم مع شرح)، جدید شرعی مسائل اور اُن کا حل ۔

حضور قبلہ مفسر اعظم پاکستان بحیثیت مدرسِ اعظم

حضور قبلہ مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی نے اِس شعبہ کی طرف بھی خصوصی توجہ فرمائی ہے۔ آپ جہا ں مفسر ، محدّث ، محقّق ، مصنّف ، مؤلف، مناظر ، شارح ، مبلّغ ہیں۔ وہاں آپ نامی گرامی” مدرسِ اعلیٰ“ بھی ہیں ۔آپ دورہء تفسیر القرآن، دورہء حدیث شریف کے علاوہ اپنے طلباء کو درسِ نظامی کا بھی درس کراتے ہیں ۔ وہاں آپ نے درسی کُتب کے تر جمہ شرح حواشی جات کی طرف خصوصی تو جہ فرما کر اِس شعبہ پر بھی احسان فرمایا ہے۔ آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ حضور قبلہ اُستا ذ العرب والعجم ، مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی فیضِ ملت نے اِس شعبہ میں کون کونسے ہیر ے بکھیرے ہیں۔

فیضِ ملّت کی تحریر کردہ تدریسی کُتب کی ایک تصویر

ابواب الصرف مع قوانین(اردو)، ایسا غوجی معہ الحل للمتعلم الحوجی (المشہوربہ شرح ایسا غوجی)، اُویسی نامہ قوانین فارسی کا مجموعہ، اُویسی عربی بول چال، اُویسیہ فی علم النحو ، اہمیت مدرس عربیہ، اَحسن الحدیث فی بیان التذکیر والتانیث(نحو)، احادیث جوا مع الکلم (علمِ حدیث) ، الفا ظ ترادفہ ، اشعار میراث مع شرح (علم میراث) ، اردو تذکیر و تا نیث، پند نامہ جامی، المحقیقات الخویہ فیما یتعلق باالتسمیہ(بسم اللہ شریف کی نحوی بحث)، التوضح الکامل فی شرح ماتہ عامل، نحو کی مشکل ترکیبیں ، ترجمہ کریما در زبان سرائیکی ، ثمرین الادیب (سوالات و جوابات برائے علماء وفضلاء)، ترجمہ اصول الشا شی، ترجمہ نحو میر مع فوائد، حاشیہ مائتہ عمل گھو ٹو ی، حا شیہ الاویسی علی العقائد النسفی(عربی)، حل المشکلات فی شرح المعلقات ، حا شیہ کریما ، حا شیہ قدوری، حواشی شرح عقائد ، حواشی ماتہ عامل ، خورشید یہ شرح کافیہ ، خلا صة الصرف ،خلا صتہ المیراث ، خلاصتہ النحو ، فضا ئلِ علم المیراث (سرائیکی ترجمہ) ، کریما شرح ابواب الصرف، شرح تہذیب کی شرح، شرح مختصر معا نی (عربی)، شرح و قایہ کی شرح(عربی)، شر ح ہدایہ کی شرح (عربی)، شرح ہدایہ منظوم ، شرح مرقات ، شرح مطول ، شرح نام حق، شر ح پند نا مہ جامی، شر ح کا فیہ ، صرف اویسی، صر ف بہائی، مع در ح اردو فضل الہی، ضوابط النحو ، علم المناظرہ ، فیض رضا شر ح کریما ، فیض النحو ، فیض المنطق ، فیض ستارہ شرح پند نامہ عطار، فیض شرح نام حق فیض یزدان شرح گلستان (اردو)، فیضِ شرح بوستان(اردو)، فیضِ دستگیر شرح صرفمیر(اردو)، فیضِ قلندرشر ح سکندر فیاضی، شرح زرادی (اردو)، فوائد منطق، الفیض الدوامی علیٰ شرح جامی، مشکل صیغے ، نعم الحامی شرح جامی، نقشہ قواعد المنطق، نقشہ قواعد الصرف ، نقشہ قواعدالنحو۔

حضورقبلہ مفسر اعظم پاکستان بحیثیت مترجم

حضور قبلہ مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی نے تراجم کی دنیا میں بھی انقلابی کار ہا ئے نمایا ں سر انجام دیئے ہیں۔ دنیائے اسلام کے مایہ ناز مصنفین کی کُتب کے تراجم کر کے عامتہ الناس کو بھر پور فائدہ اُٹھانے کا حسین موقع عطا فرمایاہے۔ آئیے دیکھتے ہیں حضرت کے قلمِ شا ہکار نے کن کن کُتب کا ترجمہ فرما یا ہے ۔ کس طرح مفسرِ اعظم سے مترجمِ اعظم بنے ہیں۔

فیضِ ملّت کی تراجم شُدہ کُتب کا ایک اور اجمالی جائزہ

بدعت چا آھی؟(سندھی) تصنیف کا اُردو ترجمہ ، بارہ ماہ کےفضا ئل ، انباءالاذکیا فی حیوٰ ة الانبیاء (عربی) کا اُردو ترجمہ ، عقیدہ حیات النبی صلی الله علیه و آله و سلم ، حلیتہ اولیاء کا اُردو ترجمہ، فتو حات مکیہ ، سفر السعا دة ترجمہ القرآن المعروف حنفی القرآن، ترجمہ دلائل الخیرات شریف، ترجمہ معہ حواشی حزب البحر ، ترجمہ قصیدہ بُردہ معہ خواص، ترجمہ اِبن ابی زید، ترجمہ جامع المعجزات ، ترجمہ بخاری شریف مع مختصر حاشیہ ، ترجمہ مسلم شریف معہ مختصر حاشیہ ، ترجمہ کریما در زبان سرائیکی ، ترجمہ فوائد فریدیہ معہ مقدمہ حواشی ، ترجمہ نور الایمان معہ حواشی ، ترجمہ تنویر الحلک معہ حواشی ، ترجمہ دیوانِ جامی بے نقطہ ، ترجمہ دیوان العا شقین ، ترجمہ دلائل النبوةبلقیس، ترجمہ تلحیض زرقانی علی المواھب ، ترجمہ مواہب لدنیہ ، ترجمہ منہا ج العا بدین ، ترجمہ اُصول الشا شی ، ترجمہ نحو میر ، ترجمہ حواشی قصیدہ غو ثیہ ، قصیدہ غوثیہ مترجم سرائیکی ، لمعتہ النور شر ح الصدور۔

حضور قبلہ مفسر اعظم پاکستان اور امام اہلسنت

عاشق ِ رسول صلی الله علیه و آله و سلم ، محا فظ ِ نا موسِ رسا لت ،پاسبانِ نظریا تِ محا بہ حضور قبلہ فیضِ ملّت ، شمس المسّنفین، شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ مفتی محمد فیض ا حمد اُویسی رضوی محدث بہاولپوری دامت برکا تہم العالیہ کو آ قا ئے نعمت مجدد دین وملت عظیم البر کت الشا ہ مولانا اِمام احمد ر ضا خان فا ضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے چھو ٹے لخت ِ جگر حضور قبلہ مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خان نوری رحمتہ اللہ علیہ سے سلسلہ قا دریہ رضویہ میں بھی خلافت بھی حا صل ہے۔

پھر حضور قبلہ مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی کی بھی وہی تحقیق ہے جو اِمامِ اہلسنت فا ضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی تحقیق ہے ۔ حالانکہ آپ کا شمار جیّدمحقّقّین میں ہوتا ہے۔ مگر آ پ نے اَعلیٰ حضر ت رضی اللہ عنہ کی تحقیق کو اپنی تحقیق مانا اوراُسی پر فتویٰ جاری فرما یا ۔ آ پ کی تحقیق اعلیٰ حضرت فا ضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی تحقیق سے بلکل متفّق ہے۔ اِتنے بڑ ے محدّث ، مفسّر ، محقّق ، مصنّف کا یہ محقّقّانہ اور دو ٹوک فیصلہ ہم سب کےلئے مشعلِ راہ ہے۔ اِس کے علاوہ اِمامِ اہلسنت کی دو (۲)جلدوں پر مشتمل "حدائقِ بخشش" جو نعت کا مجموعہ ہے کی نعت مبارک کی جامع مفصل شر ح پچیس (۲۵) جلدوں میں فر ما کر آقائے نعمت فا ضل بریلوی سے اپنی گہری عقیدت و محبت کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ یہ شرح حدائقِ بخشش کیا ہے؟ گویا ”رضوی انسائیکلو پیڈیا ہے“۔ پھر آستانہ عا لیہ بریلی شریف کی بھی حضور مفسرِ اعظم پاکستا ن مدظلہ العالی پر خصوصی توجہ ونظر ہے ۔ چند سال قبل شعبان میں جب حضور قبلہ فیضِ ملت دل کے عارضہ کی وجہ سے بیمار تھے۔ تو آستانہ عالیہ بریلی شریف (انڈیا) کے جانشین جگر گوشہ اِمام اَہلسنّت حضور قبلہ سبحان رضا خان صاحب سبحانی میاں گونجرا نوالہ سے بذریعہ روڈ جا مع اویسیہ رضویہ (بہاول پور) عیادت کے لیئے تشریف لے آئے۔ اِس سے بڑ ھ کر جا مع اویسیہ رضویہ کی خوش قسمتی اور آستانہ عالیہ بریلی شریف کی محدث بہاولپوری پر کمال محبت و شفقت اور کیسے ہو گی۔ اِس کے علا وہ متعدد چھوٹے بڑے رسا ئل اِمام اہلسنت کی شخصیت پر حضور قبلہ مفسرِ اعظم پاکستان مدظلہ العالی نے تحریر فرمائے ہیں ۔تفصیل کیلئے "علم کے موتی" فہر ست کتُبِ اُویسی قبلہ ملا حظہ فرمائیے۔

حضور قبلہ مفسر اعظم پاکستان بحیثیت محد ثِ کبیر

قارئین محترم حضور قبلہ فیضِ ملّت بحیثیت مفسرِاعظم پاکستان مدظلہ العالی کے بعد "محد ثِ کبیر" ایک بلند مقام پر نظر آتے ہیں۔ حضور قبلہ فیضِ ملّت ، رسو ل اللہ صلی الله علیه و آله و سلم ﷺ کی احا دیث ِمبا رکہ سے محبت اور حدیث فہمی میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے ہیں ۔یہ اعزاز بھی حضور قبلہ محدث بہاولپوری مدظلہ العالی کو حا صل ہے کہ آپ "شا رح صحاحِ ستہ" ہیں۔ بخاری شریف کی مکمل شرح شرح الفیض الجاری کی کئی جلدیں ما رکیٹ میں آ گئی ہیں جبکہ با قی جلدوں کی طبا عت پر کا م جا ری ہے اور سا تھ ہی سا تھ مسلم شریف، ترمذی شریف ، نسا ئی شریف ، ابنِ ما جہ شریف اور ابو داﺅ د شریف کی شرو حا ت ز یو رِ طباعت سے آراستہ ہونے کی منتظر ہیں۔ صحا ح ستہ کے علاوہ حدیث کی دنیا میں حضور قبلہ فیضِ ملّت نے جو کارہا ئے نمایاں انجام دیئے ہیں اُن پر سر سر ی نظر ڈالتے ہیں۔

فیضِ ملّت کی احادیثِ مبارکہ کی شروحات پر مبنی کُتب

شرح حدیثِ لولاک ، شر ح حدیثِ قرطاس، الحبل المتین فی تو ثیق کنت نبیا و آدم بین الماءوا لطین، جحیت حدیث ، حدیث دیگراں ، الحدیث الضعیف ،صحیح اور غیر صحیح احا دیث ، خلا صة المشکوٰ ة ، خلا صہ عینی ، فیض الجاری شرح بخار ی ، ر فع الالتباس ، فی حدیث عبا س، سلسبیل فی شرح حدیث جبرئیل، سترہ احا دیث کا جواب، شر ح حدیث افک ، شر ح حدیث قسطنطنیہ ، شر ح اربعین نووی، شر ح مشکوٰ ة المصا بیح (عربی)، علمِ غیب فیالحدیث ، دو صد ا حا دیث مع شر ح ، فیض المنعم فی شر ح مسلم، اللمعا ت فی شرح مشکوٰة ، المجموعہ فی احا دیث المو ضو عہ ، نصر المنعم فی شر ح مسلم (عربی) ، یک ہزار احادیث ، انوار المغنی شرح دار قطنی (۸جلدیں )، احا دیث مو ضوعہ ( ۲جلدیں ) ، اصطلا حا ت الحدیث ، احا دیث ِ تصوف،اول ما خلق انسان کی تحقیق ، احا دیث قیام رمضان، الاربعین فی الار بعین چہل حدیث کے چالیس اجزاء، الااحادیث النسیة، انوا ر الباری فی شرح ثلاثیات البخاری۔


Data from: http://www.faizahmedowaisi.com

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Janti Zever
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 228
Join date : 01.01.2010
Age : 30
Location : United Kingdom

PostSubject: Re: مفتی فیض احمد اویسی دامت برکاتہم علیہ   Sat 28 Aug 2010 - 9:49








Back to top Go down
View user profile
Sponsored content




PostSubject: Re: مفتی فیض احمد اویسی دامت برکاتہم علیہ   

Back to top Go down
 
مفتی فیض احمد اویسی دامت برکاتہم علیہ
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: اسلامی شخصیات :: علمائے کرام-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Sosblogs.com