Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 نماز کے اوقات

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: نماز کے اوقات   Sat 12 Dec 2009 - 7:12

لۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعَلَمِیۡنَ والصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ سَیِّدِالۡمُرسَلِیۡنَ
اَمَّابَعۡدُ فَاَعُوۡذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ط بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمَ ط


نماز کے اوقات مع مختصر تفصیل

نمزکے اوقات پر ایک تحقیق (قیصر مصطفیٰ عطاریّ)

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں خاص اور مقررہ
وقتوں میں فرض کی ہیں نماز اسی وقت صیح اور عنداللّٰہ قابلِ قبول ہوگی جب
وہ اللّٰہ عزوجل اور اس کے رسول مکرمﷺ کے حکم کے مطابق اپنے صیح وقت پر
ادا کی جائے گیا۔

آیات قرآنی و احادیث
ارشاد باری تعالیٰ ہے
إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (١٠٣) ۵، سورة نساء۱۰۳)
ترجمہ: بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہو فرض ہے۔
سورةروم میں پنجگانہ نماز کے وقتوں کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے۔
فَسُبْحَانَ
اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ (١٧)وَلَهُ الْحَمْدُ فِي
السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ (١٨)
۲۱، سورة روم ۱۷،۱۸)

ترجمہ: تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرو اور صبح ہو۔ اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمینوں میں اور کچھ دن رہے جب تمہیں دوپہر ہو۔
حکیم
الامت مفتی احمد یار خان نعیمی نورالعرفان میں اس آیت کی تفسیر لکھتے ہیں
کہ شام میں مغرب اور عشاءکی نمازیں آگئی اور صبح میں نماز فجر ۔ تین
نمازیں یہ ہوئیں۔ تمام آسمان و زمین والے خصوصیت سے ان اوقات میں تسبیح و
تحمید کرتے ہیں۔ عَشِیَّا میں نماز عصر اور تُظ±ھِرُو±نَ
میں نماز ظہر مراد ہے کیونکہ ظہر ظہرہ سے بنا ہے یعنی دوپہر۔ خیال رہے کے
عربی میں صبح سے دوپہر تک غدا، دوپہر سے رات تک کے اول حصہ تک عشاءاور نصف
رات کے بعد کو سجور کہتے ہیں۔

ایک اور جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ
وَأَقِمِ
الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ
الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ
(١١٤)
۱۲، ہود ۱۱۴)

ترجمہ: اور نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں۔
حضرت
صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے
ہیں کہ دن کے دونوں کناروں سے صبح اور شام مراد ہے زوال سے قبل کا وقت صبح
میں اور بعد کا شام میں داخل ہے صبح کی نماز فجر اور شام کی نماز ظہر و
عصر ہیں اور رات کے حصوں کی نمازیں مغرب و عشاءہیں۔

احادیث مبارکہ:
روایت
ہے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺنے
ظہر کا وقت جب کہ سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر
ہوجائے جب تک کہ عصر نہ آئے اور عصر کا وقت جب تک ہے کہ سورج زرد نہ
پڑجائے اور نماز مغرب کا وقت جب تک ہے کہ شفق غائب نہ ہوجائے اورعشاءکی
نماز کا وقت رات کے درمیانی آدھے تک ہے اور نماز صبح کا وقت صبح چمکنے سے
اس وقت تک ہے کہ سورج نہ چمکے۔ جب سورج چمک جائے تو نماز سے بازرہو کیونکہ
سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے (مسلم، مشکٰوة مترجم ص ۱۳۸)

نماز فجر
حضرت
ابوہریرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
میری اُمت ہمیشہ فطرت یعنی دین حق پر رہے گی جب تک فجر کی نماز کو اُجالے
اور روشنی میں پڑھتی رہے گی۔ (طبرانی)

حضرت
رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ
فجر کی نماز اُجالے میں پڑھو کے اس میں بہت بڑا ثواب ہے۔ (ترمذی، ابوداود، دارمی، مشکٰوة مترجم ص ۱۴۵)

نماز فجر کا وقت
نماز
فجر کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتا ب یعنی سورج چمکنے تک
رہتا ہے۔ صبح دو قسم کی ہے ایک صبح کاذب اس سفیدی کو کہتے ہیں جو مشرق کی
جانب کنارہ¿ آسمان پر طولاً پھیلتی ہے اور جلدی
غائب ہوجاتی ہے اور اندھیرا سا ہو جاتا ہے اس سے فجر کا وقت شروع نہیں
ہوتا۔ دوسری صبح صادق اُس روشنی و سفیدی کو کہتے ہیں جو آسمان کے کنارہ پر
عرضاً (چوڑائی) میں پھیلتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے۔ حتٰی کے تمام آسمان پر
پھیل جاتی ہے زمین پر روشنی اور اُجالا ہو جاتا ہے۔ اس سے نماز فجر کا وقت
شروع ہوتا ہے اور سورج چمکنے تک رہتا ہے۔ (سنی بہشتی زیور)

گھڑی کے مطابق
گھڑی
کے حساب سے پاکستان (راولپنڈی) میں نماز فجرکا کم ازکم وقت 1گھنٹہ 20منٹ
اور زیادہ سے زیادہ 1گھنٹہ 42منٹ ہوتا ہے۔ 28فروری کو فجر کا وقت 1گھنٹہ
20منٹ ہوتا ہے جو 11مارچ سے بڑھنا شروع ہوتا ہے اور 13جون کو فجر کا وقت 1
گھنٹہ 42منٹ ہو جاتا ہے ۔ 01جولائی سے فجر کا وقت پھر کم ہونا شروع ہوتا
ہے اور 20ستمبر کو پھر 1گھنٹہ 20منٹ ہو جاتا ہے۔ 17 اکتوبر کو فجر کا وقت
بڑھنا شروع ہوتا ہے اور 18دسمبر کو فجر کا وقت 1گھنٹہ 28منٹ ہوجاتا ہے
26دسمبر فجرکا وقت کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ نمازفجر اور مغرب کا وقت ایک
ہی ہوتا ہے (نوٹ: یہاں نماز مغرب کا وقت لیا گیا ہے)تحقیق۔

نماز ظہر
روایت
ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ فرمایا رسول اللّٰہ ﷺ نے کہ
ظہر ٹھنڈی کرو کیونکہ گرمی کی تیزی دوزخ کی بھڑک سے ہے آگ نے اپنے رب سے
شکایت کی تھی کہ اے رب میرے بعض نے بعض کو کھا ڈالا رب نے اُسے دوسانسوں
کی اجازت دی ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں یہ وہی تیز گرمی اور
ٹھنڈک ہے جسے تم محسوس کرتے ہو۔ (بخاری، مسلم، مشکٰوة مترجم ص ۱۴۱)

نماز ظہر کا وقت
ظہر
کی نماز کا وقت سورج کے دوپہر سے ڈھلنے (زوال) کے بعد شروع ہوتا ہے اور ہر
چیز کا سایہ دوگناہ ہونے تک رہتا ہے سوائے اصلی سایہ کے۔ عین دوپہر کے وقت
ہر چیز کا جو سایہ ہوتا ہے اُسے اصلی سایہ کہتے ہیں اور یہ موسم اور
علاقوں کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتا ہے ۔ دن جتنا گھٹتا ہے اصلی سایہ
بڑھتا جاتا ہے اوردن جتنا بڑھتا ہے اصلی سایہ کم ہوتا جاتا ہے ۔ یعنی
سردیوں میں اصلی سایہ زیادہ ہوتا ہے اور گرمیوں میں کم ہوتا ہے ۔ جب سورج
دوپہر سے ڈھلنے لگتا ہے تو یہ سایہ مشرق کی جانب بڑھنے لگتا ہے تو اسی
لمحے سے ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔ پھر ہر چیز کا سایہ دوگنا (دومثل)
ہونے تک رہتا ہے۔(سنی بہشتی زیور)

گھڑی کے مطابق
گھڑی کے حساب سے نماز ظہر کا وقت پاکستان (راولپنڈی) میں کم از کم 3گھنٹے 19منٹ اور زیادہ سے زیادہ 5۵
گھنٹے01منٹ ہوتا ہے 24 دسمبر کو ظہر کا وقت 3 گھنٹے 19منٹ ہوتا ہے پھر
بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کے 24 جون کو 5 گھنٹے اور 01 منٹ ہو جات ہے۔ پھر
03جولائی کو کم ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ 20 دسمبر کو پھر 3گھنٹے
19منٹ ہوجاتاہے۔ (تحقیق)

نماز عصر
روایت
ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ یہ منافق کی نماز ہے
کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے حتیٰ کہ پیلا پڑجائے اور شیطان کے
دوسینگوں کے نیچے آجائے تو کھڑا ہو کر چار چونچے ماریں کہ ان میں اللہ کا
تھوڑا ہی ذکر کرے۔ (مسلم، مشکٰوةمترجم ص۱۴۲)

روایت
ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺنے کہ جس کی نماز عصر
جاتی رہی گویا اُس کا گھر بار اور مال لٹ گیا۔ (بخاری، مسلم، مشکٰوةمترجم
ص ۱۴۲)

روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہﷺ نے جو سورج نکلنے سے
پہلے فجر کی ایک رکعت پا لے اُس نے فجر پالی اور جو سورج ڈوبنے سے پہلے
عصر کی ایک رکعت پالے اس نے عصر پالی۔ (مسلم، بخاری، مشکٰوةمترجم ص۱۴۳)

نماز عصر کا وقت
عصر
کا وقت ظہر کا وقت ختم ہونے سے غروب آفتاب تک ہے یعنی ہر چیز کے سائے کے
دومثل (دُوگنا) ہونے کے بعد عصر کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے اور سورج
ڈوبنے تک رہتا ہے۔ بلاعذر سفر وغیرہ کے عصر کی نماز پڑھنے میں اتنی دیر
کرنا کہ سورج زرد ہوجائے مکروہ تحریمی ہے۔ بہتر و افضل یہ ہے کہ ظہر مثل
اول میں پڑھیں اور عصر مثل ثانی کے بعد پڑھیں ۔ (سنی بہشتی زیور)

گھڑی کے مطابق
گھڑی
کے مطابق ہمارے ملک پاکستان (راولپنڈی ) میں عصر کا وقت کم از کم 01گھنٹہ
39منٹ اور زیادہ سے زیادہ 02 گھنٹے 14 منٹ ہوتا ہے۔ 24نومبر کو عصر کا وقت
01 گھنٹہ 39منٹ ہوتا ہے جو 19جنوری تک 01گھنٹہ 39منٹ تک رہتا ہے (01:39 یا
01:40) ۔ 20جنوری سے عصر کا وقت رفتہ رفتہ بڑھنا شروع ہوتا ہے اور 17جون
کو عصر کا وقت بڑھ کر 02گھنٹے 14منٹ ہو جاتا ہے 22جون کو عصر کا وقت پھر
کم ہونا شروع ہو جاتاہے۔(تحقیق)

نماز مغرب
روایت
ہے حضرت ابو ایوب انصاری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ میری امت
بھلائی پر یا فطرت پر رہے گی جب تک مغرب کو تاروں کے گہنا جانے تک پیچھے
نہ کرے۔ (ابوداود، مشکٰوةمترجم ص ۱۴۴)

نمازمغرب کا وقت
مغرب
کا وقت سورج غروب ہونے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور شفق غائب ہونے تک رہتا
ہے شفق اس سفیدی کا نام ہے جو مغرب کی جانب سرخی ڈوبنے کے بعد شمالاً
جنوباً صبح صادق کی طرح پھیلتی رہتی ہے۔ (سنی بہشتی زیور)

گھڑی کے مطابق
گھڑی
کے حساب سے پاکستان (راولپنڈی) میں نماز مغرب کا کم ازکم وقت 01گھنٹہ
20منٹ اور زیادہ سے زیادہ 01گھنٹہ 42منٹ ہوتا ہے۔ 28فروری کو مغرب کا وقت
01گھنٹہ 20منٹ ہوتا ہے جو 11مارچ سے بڑھنا شروع ہوتا ہے اور 13جون کو مغرب
کا وقت 01گھنٹہ 42منٹ ہو جاتا ہے ۔01 جولائی سے مغرب کا وقت پھر کم ہونا
شروع ہوتا ہے اور 20ستمبر کو پھر 01گھنٹہ 20منٹ ہو جاتا ہے۔ 17اکتوبر کو
مغرب کا وقت بڑھنا شروع ہوتا ہے اور 18دسمبر کو مغرب کا وقت01 گھنٹہ 28منٹ
ہوجاتا ہے 26دسمبر مغرب کا وقت کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ نمازفجر اور مغرب
کا وقت ایک ہی ہوتا ہے (نوٹ: یہاں نماز مغرب کا وقت لیا گیا ہے)۔ (تحقیق)

نماز عشاء
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہﷺ نے
کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت پر مشقت ڈال دوں گا تو انہیں حکم
دیتا کہ عشاءکو تہائی یا آدھی رات تک پیچھے کرے۔ (ترمذی، احمد، ابن ماجہ، مشکٰوةمترجم ص۱۴۴)

نماز عشاءکا وقت
عشاءکی نماز کا وقت مغرب کی طرف سفیدی ڈوبنے سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق تک رہتا ہے ۔ (سنی بہشتی زیور)
گھڑی کے مطابق
گھڑی کے حساب سے پاکستان (راولپنڈی)میں عشاءکی نماز کا وقت کم ازکم 06گھنٹے 09منٹ اور زیادہ سے زیادہ 11گھنٹے ۷
منٹ ہوتا ہے 18جون کو عشاءکا وقت 06گھنٹے 09منٹ ہوتا ہے جو 25جون سے بڑھنا
شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ 19دسمبر کو عشاءکا وقت 11گھنٹے 7منٹ ہو جاتا ہے
23دسمبر کے بعد عشاءکا وقت پھر کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔(تحقیق)

ممنوع اور مکروہ اوقات

سورج نکلتے وقت، سورج ڈوبتے وقت اور ٹھیک دوپہر کے وقت کوئی بھی نماز
پڑھنی جائز نہیں لیکن اس دن کی عصر اگر نہیں پڑھی ہے تو سورج ڈوبنے کے وقت
پڑھ لے مگر عصر میں اتنی دیر کر کے نماز پڑھنا سخت گناہ ہے۔

2۔ ان تینوں وقتوں میں قرآن مجید کی تلاوت بہتر نہیں اچھا یہ کہ اس دوران کلمہ، تسبیح یا درود شریف وغیرہ پڑھنے میں مشغول رہے۔
3۔ جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو اس وقت سے لے کر تقریباً ۲۰ منٹ تک کوئی نماز جائز نہیں۔ سورج نکلنے کے ۲۰ منٹ بعد جب سورج ایک لاٹھی کے برابر اونچا ہوجاہے اس کے ہر نماز (فرض، سنت، نفل یا قضائ) پڑھنی چائیے۔
4۔ جب سورج ڈوبنے سے پہلے پیلا پڑجائے اس وقت سے سورج ڈوبنے تک کوئی نماز جائز نہیں۔ (سنی بہشتی زیور)
سنت و نوافل کی ممانعت
1۔ صبح صادق سے سورج نکلنے تک فجر کی دو رکعت فرض اور دو رکعت سنت کے علاوہ کوئی بھی نفل نماز پڑھنی منع ہے۔

اقامت شروع ہونے سے جماعت ختم ہونے تک کوئی بھی سنت و نفل پڑھنی مکروہ
تحریمی ہے۔ (اگر فجر کی سنت پڑھنے کے بعد جماعت میں شامل ہو سکتا ہے تو
سنت پڑھ لے لیکن اگر جماعت نکلنے کا خدشہ ہے تو سنت پڑھنے کی اجازت نہیں
لیکن باقی نمازوں میں اقامت شروع ہونے کے بعد سنت ادا کرنے کی اجازت نہیں)۔

3۔ نماز عصر پڑھ لینے کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نفل نماز مکروہ ہے قضاءنمازیں سورج ڈوبنے سے ۲۰ منٹ پہلے تک پڑھ سکتا ہے۔
4۔ سورج ڈوبنے کے بعد اور مغرب کے فرض پڑھنے سے پہلے کوئی نماز جائز نہیں۔
5۔ جس وقت امام اپنی جگہ سے جمعہ کے خطبہ کے لیے کھڑا ہو اس وقت سے لے کر نماز جعمہ ختم ہونے تک کوئی نماز سنت و نفل جائز۔

عین خطبہ کے درمیان (جمعہ، عیدین، گرہن، نمازاستسقائ، نکاح) کوئی نماز سنت
و نفل جائز نہیں۔ ہاں البتہ صاحب ترتیب کے لیے جمعہ کے خطبہ کے درمیان
قضاءنماز کو پڑھنا لازم ہے۔

7۔ عید کی نماز سے پہلے مسجد، گھر یا عیدگاہ میںنفل نماز مکروہ ہے۔
8۔ عیدین کی نماز کے بعد بھی عیدگاہ یا مسجد میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے ہاں گھر میں نفل پڑھ سکتا ہے۔
9۔ عرفات میں جو دو نمازیں ظہر و عصر ملا کر پڑھتے ہیں ان کے درمیان اور بعد میں کوئی نفل و سنت پڑھنا مکروہ ہے۔
10۔ مزدلفہ میں جو دو نمازیں مغرب و عشاءملا کر پڑھتے ہیں ان کے درمیان میں سنت و نفل مکروہ ہے بعد میں نہیں۔
11۔ فرض نماز کا وقت جارہا ہویعنی صرف فرض ادا ہوسکتے ہیں تو اس وقت ہر نماز یہاں تک کہ سنت فجر و ظہر پڑھنا بھی مکروہ ہے۔
12۔
جس بات سے دل ہٹے اُس کو دور کرسکتا ہے تو دور کیے بغیر نماز مکروہ ہے۔
مثلاً بھوک ہے اور کھانا موجود ہو تو کھانا کھا کر نماز پڑھے ۔ اگر پیشاب
کی حاجت ہے تو پیشاپ کر کے نماز پڑھے۔ (سنی بہشتی زیور)

چند ضروری مسائل

زوال کے وقت کا تعلق سورج سے ہے نہ کہ گھڑی سے، اس لیے زوال کا وقت سورج
کی پہلی کرن نکلنے سے 20 منٹ بعد تک ، سورج کی آخری کرن ڈوبنے سے لے کر 20
منٹ پہلے تک اور ضحوہ کبری ٰ (یعنی ہر چیز کا
سایہ اس کےے برابرہو) سے لے کر نماز ظہر کا وقت داخل ہونے تک ہوتا
ہے۔عموماً عوام میں مشہور ہے کہ زوال کا وقت ٹھیک 12 بجے ہے جو کہ غلط ہے
کیونکہ یکم جنوری میں زوال کا وقت 11:26 پر شروع ہوتا ہے ہے اور 12:12تک
رہتا ہے جبکہ اکتوبر کوزوال کا وقت 11:09 منٹ پر شروع ہوتا ہے اور 11:52
پر ختم ہوتا ہے۔ اس دوران کوئی بھی نماز و سجدہ تلاوت وغیرہ جائز نہیں۔

2۔ جمعہ اور ظہر کا وقت ایک ہی ہے البتہ اگر نمازجمعہ کی جماعت نہ مل سے تو پھر ظہر ادا کرے گے۔
3۔ عیدالفطر اور عیدالضحیٰ کی نماز کا وقت سورج کے بقدر ایک نیزہ بلند ہونے (یعنی طلوع آفتاب کے 20یا 25 منٹ کے بعد) سے ضحوہ کبریٰ یعنی نصف النھار شری تک ہے مگر عیدالفطر میں دیر کرنا اور عید الضحیٰ جلد پڑھنا مستحب ہے۔(نماز کے احکام،ص 441)
4۔نماز
کا وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دی یا دوران نماز اذان کا وقت داخل ہوا تو
دونوں صورتوں میں اذان دوبارہ دینی ہو گی۔)نماز کے احکام)


غروب آفتاب سے کم از کم بیس منٹ قبل نماز عصر کا سلام پھر جانا چائے ۔
نماز عصر میں جتنی تاخیر ہو افضل ہے جبکہ وقت ِ کراہت سے پہلے پہلے ختم
ہوجائے پھر اگر اس نے احتیاط کی اور نماز میں تطویل کی (یعنی طول دیا) کہ
وقت کراہت وسط نماز میں آگیا جب بھی اس پر اعتراض نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 5، کتاب الصلوٰة، باب الاوقات)

قیصر مصطفی عطاری
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
sohnee

avatar

Posts : 68
Join date : 15.12.2009
Age : 32
Location : rawalpindi

PostSubject: Re: نماز کے اوقات   Tue 15 Dec 2009 - 16:14

Back to top Go down
View user profile
Janti Zever
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 228
Join date : 01.01.2010
Age : 31
Location : United Kingdom

PostSubject: Re: نماز کے اوقات   Wed 13 Jan 2010 - 20:14




Back to top Go down
View user profile
Sponsored content




PostSubject: Re: نماز کے اوقات   

Back to top Go down
 
نماز کے اوقات
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: اسلامی فقہ :: فقہ حنفی-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Create a blog