Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 گیارہویں اولیاء و علماء کی نظر میں

Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: گیارہویں اولیاء و علماء کی نظر میں   Fri 26 Mar 2010 - 7:01


گیارہویں اولیاء و علماء کی نظر میں

پیش لفظ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی بعدہ

امابعد! گیارہویں شریف ایک ایسا نیک عمل ہے کہ صدیوں سے مسلمانوں میں جاری ہے لیکن تحریک وھابیت کے بعد گوناگوں اعتراضات کی زد میں ہے۔ فقیر نے اس رسالہ میں ثابت کیا ہے کہ گیارہویں شریف ایصالِ ثواب کا دوسرا نام ہے اسی لئے اُصولی طور تو اس پر کوئی اعتراض نہیں، ہاں جاہلوں کا منہ کون بند کرے۔ فقیر اس رسالہ سے ایسے جاہلوں کو دندان شکن جواب دیا جا سکتا ہے۔ عرصہ سے اس کا مضمون تیار تھا مولٰی عزوجل بطفیل حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم و بصدقہ غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فقیر اور ناشر کی مساعی قبول فرما کر ہم سب کیلئےتوشہء راہ آخرت اور مستفیدین کیلئے مشعلِ راہ ہدایت بنائے۔ آمین
مدینے کا بھکاری الفقیر القادری ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی غفرلہ تعالٰی
بہاولپور ۔ پاکستان
23 جمادی الاول 1421ھ 24 اگست 2000ء بروز جمعرات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علٰی رسولہ الکریم

امابعد! تحریک وہابیت سے بہت سے مسائل کھڑے ہوگئے ان میں سے ایک مسئلہ گیارہویں شریف بھی ہے۔ یہ کوئی اختلافی مسئلہ نہ تھا کیونکہ یہ حضور غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایصال ثواب کا نام ہے اور ایصال ثواب کے نجدی وہابی، دیوبندی منکر نہیں صرف نام اور طریقہ بدلا ہے اور شرعی قانون ہے کہ طریقہ اور نام بدلنے سے شریعت اور کام نہیں بگڑتا۔ جب کہ ایصالِ ثواب کے نام کو “گیارہویں“ کہا جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں فقیر اس رسالہ میں ان علماء کرام و اولیاء عظام کی عبارات دکھاتا ہے جو تحریک وہابیت سے پہلے اور بعد کو اس کے جواز کے نہ صرف قائل بلکہ عامل تھے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ اسے ناجائز کہنے والے وہابی، دیوبندی ہیں اور ان کی اسلاف صالحین کے سامنے کوئی وقعت نہیں اسی لئے اہل اسلام اپنے موقف پہ مضبوط رہیں۔
وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم وصلی اللہ علی حبیبہ الکریم وسلم علی آلہ واصحابہ اجمعین۔ 5 ذوالحجہ 1409ھ

مقدمہ
چونکہ دلائل گیارہویں فقیر نے ایک علیحدہ رسالہ میں لکھے ہیں یہاں صرف علماء کرام کی تصریحات و دیگر عجیب و غریب ابحاث لکھے۔
فضیلت علم و علماء:- علماء کا علم اسلام کا ایک بہترین جوہر ہے اور اس جوہرِ علمی سے ہی اسلام کی بہار ہے جب دنیا سے علم و علماء اٹھ گئے قیامت ہو جائیگی۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، عالم کی فضیلت عابد پر وہی ہے جیسی میری فضیلت امت پر۔ اور حضور نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے علماء کو انبیاء علیہم السلام کا وارث بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں علماء کی ہدایات پر اسلام کی نشوونما ہوتی رہتی ہے۔
مسئلہ گیارہویں کا حل بھی علماء و اولیاء عظام سے کرانا چاہئیے فقیر چند معتبر و مستند علماء کرام و اولیاء عظام رحمہم اللہ تعالٰی کی تصریحات پیش کرتا ہے تاکہ منکر کو انکار کی گنجائش نہ ہو اور گیارہویں شریف کے عامل کو تسکین و تسلی نصیب ہو۔

عبارات اکابر علماء و اولیاء رحمہم اللہ تعالٰی
ذیل میں فقیر ان علماء و اولیاء عظام رحمہم اللہ تعالٰی کی تصریحات عرض کر رہا ہے جنکے سامنے وہابی، دیوبندی فضلاء خود کو انکا طفل مکتب کہلانے سے شرماتے ہیں یہ علماء کرام و اولیاء عظام ہیں جن پر اسلام کو ناز ہے۔

(1) شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ:-
حضرت شیخ عبدالحق محقق برحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کا ارشاد پیش کیا جاتا ہے۔
وقد اشتھر فی دیار ناھذا الیوم الحادی عشر وھو المتعارف عند مشایئخنا من اھل الھند من اولادہ۔
بے شک ہمارے ملک میں آج کل گیارہویں تاریخ مشہور ہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولاد و مشائخ میں متعارف ہے۔ (ماثبت بالسنۃ عربی صفحہ68 )

تعارف شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ:-
اشرف علی تھانوی آپ کو حضوری ولی اللہ مانتا ہے۔ (الافاضات الیومیہ) ان شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کے متعلق غیر مقلدین کے نواب صدیق حسن بھوپالی لکھتے ہیں کہ “شیخ کی مساعی جمیلہ سے ہندوستان میں حدیث کی بڑی اشاعت ہوئی۔ حدیث اور ترویجِ سنت میں شیخ موصوف کو جو شرف و فضیلت حاصل ہے اس میں ان کا کوئی سہیم و شریک نہیں۔“ نواب بھوپالی ہی لکھتے ہیں کہ “حق ایں است کہ شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ در ترجمہ بفارسی یکے از افراد ایں افت است عقل اوریں کاروبار خصوضا دریں روزگار احد سے معلوم نیست وللہ یختص برحمتہ من شاء بندئہ عاجز دردیں برقربت شریف اور سیدہ نمی تراند گفتن کہ کدام روح و ریحان برکاتش مشاھدہ نمود۔ (تقصار صفحہ112 عجالہ نافعہ صفحہ25) نواب صدیق حسن بھوپالی اپنی دوسری کتاب میں لکھتا ہے کہ “توالیف ایشادر بلادِ ہند قبول و شہرت تمام واردہم نافع و مفید افتادہ۔ کاتب حروف بزیارت مرقد شریف مکرر فیضیاب شدہ و کشتے عجیب و دبستگی غریب دراں مقام یافتہ۔ (اتحاف اضبلا صفحہ304 عجالہ نافعہ صفحہ35) (شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ معروف شخصیت ہیں جنکے علم و عمل کے فریقین نہ صرف معترف بلکہ مداغ ہیں)
شیخ عبدالوہاب مکی علیہ الرحمۃ:-
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ اپنے شیخ اور مُرشد شیخ عبدالوہاب قادری متقی مکی علیہ الرحمۃ کا طریقہما ثبت بالسنہ صفحہ 68 میں بیان فرماتے ہیں۔
قلت فبھذہ الروایہ یکون عرسہ تاسع الربیع الاخر وھذا ھوالذی ادرکنا علیہ سیدنا الشیخ الامام العارف الکامل الشیخ عبدالوھاب القادری المتقی المکی فانہ قدس سرہ کان یحافظ یوم عرسہ رضی اللہ عنہ ھذا التاریخ اما اعتماد اعلی ھذہ الرویۃ اوعلی مارای من شیخہ الشیخ الکبیر علی المتقی اومن غیرہ من المشائخ رحمھم اللہ تعالٰی۔
“ہم کہتے ہیں کہ اس روایت کے مطابق (حضرت غوث اعظم) کا عرس مبارک 9 ربیع الاخر کو ہونا چاہئیے۔ ہم نے اپنے پیرو مُرشد سیدنا امام عارف کامل شیخ عبدالوہاب قادری متقی مکی قدس سرہ کو پایا ہے کہ شیخ قدس سرہ العزیز آپ (غوث اعظم) کے عرس کے دن کیلئے یہی تاریخ یاد رکھتے تھے لیکن اس روایت پر اعتماد کرتے ہوئے یا اس سبب سے کہ اپنے پیرو مُرشد شیخ کبیر علی متقی قدس سرہ یا اور کسی بزرگ کو دیکھا ہو۔“
فائدہ:- نہ صرف ایک ولی اللہ کے متعلق ہے بلکہ مشائخ کاملین سے گیارہویں ثابت ہے۔

شیخ امان اللہ پانی پتی علیہ الرحمۃ:-
شیخ امان اللہ پانی پتی علیہ الرحمۃ کے حالات میں شیخ المحدثین عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ:- یاز دہم ماہ ربیع الآخر عرس غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی علیہ کرد۔ (اخبار الاخیار شریف صفحہ 242 مطبوعہ دیوبند)
ماہ ربیع الاخر شریف کی گیارہ تاریخ کو حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عرس مبارک کیا کرتے تھے۔
فائدہ:- یہ شیخ امان اللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ولی کامل پونے چھ سو سال پہلے پانی پت ہند میں مشہور بزرگ گزرے ہیں اس وقت سے گیارہویں شریف کے عامل تھے جبکہ ابھی وھابیت نجدیت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ گیارہویں شریف تو بدعت نہ ہوئی یہ بعد کو پیدا ہوکر شور مچا رہے ہیں تو در حقیقت یہی خود ہیں۔
مرزا مظھر جانِ جاناں علیہ الرحمۃ:-
ملفوظات مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمۃ میں وہ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں جو کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کی تصنیف لطیف “کلماتِ طیبات“ میں ہے کہ
“در منامے دیدم کہ در صحرائے وسیع چبوترہ ایست کلاں و اولیاء بسیار در آنجا حلقہ مراقبہ دارند و دروسط حلقہ حضرت خواجہ نقشبند دوزانو حضرت جنید قدس اللہ اسرارھم مجتبے نشستہ اندو آثار استغنا از ما سواد کیفیات حالات فنابر سیدالطائقہ ظاہر ست ہمہ کس از انجابر خاستند گفتم کجا میروند کسی گفت باستقبال امیر المؤمنین علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ پس حضرت امیر تشریف فرما شد ند۔ شخصے گیم پوش سروپا برہنہ ژولیدہ موہمراہ حضرت امیر نمودار گشت آنحضرت دستش دردست خود بکمال تواضع و تعظیم گرفتہ اند گفتم ایں کیست کسے گفت خیرالتابعین اویس قرنی است آنجا حجرہ مصفادر کمال نورانیت ظاہر شدہمہ عزیز ان در آں حجرہ در آمدند گفتم کجار فتند کسے گفت امروز عرس حضرت غوث الثقلین ست بتقریب عرس تشریف بروند۔“
(ترجمہ) میں نے خواب میں ایک وسیع چبوترہ دیکھا جس میں بہت سے اولیاء کرام حلقہ باندھ کر مراقبہ میں ہیں۔ اور ان کے درمیان حضرت خواجہ نقشبند دوزانو اور حضرت جنید تکیہ لگاکر بیٹھے ہیں۔ استغنا ماسواءاللہ اور کیفیاتِ فنا آپ میں جلوہ نما ہیں۔ پھر یہ سب حضرات کھڑے ہوگئے اور چل دئیے میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے ؟ تو اُن میں سے کسی نے بتایا کہ امیر المؤمنین حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے استقبال کیلئے جا رہے ہیں۔ پس حضرت علی المرتضٰی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ اک گلیم پوش ہیں جو سر اور پاؤں سے برہنہ ذولیدہ بال ہیں۔ حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ان کے ہاتھ کو نہایت عزت اور عظمت کے ساتھ اپنے مبارک ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں۔ تو جواب ملا کہ یہ خیرالتابعین حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں پھر ایک حجرہ شریف ظاہر ہوا جو نہایت ہی صاف تھا اور اس پر نور کی بارش ہو رہی تھی۔ یہ تمام باکمال بزرگ اس میں داخل ہوگئے، میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو ایک شخص نے کہا آج حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عُرس (گیارہویں شریف) ہے۔ عرس پاک کی تقریب پر تشریف لے گئے ہیں۔ (کلمات طیبات فارسی صفحہ 77، 78 مطبوعہ دہلوی )

تعارف مظھر جانِ جاناں:-
مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمۃ کے متعلق مولوی ابو یحیٰی امام خاں نوشہروی (جوکہ اہلحدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں) نے اپنی کتاب “ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات“ میں اُن کو “اہلحدیث“ لکھا ہے۔

تبصرہ اویسی غفرلہ:-
غیر مقلدین نے صرف اپنے نمبر بڑھانے کے لئے انہیں اپنا ہمنوا لکھ دیا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مرزا جانجاناں سلسلہء نقشبندیہ کے سرتاج ہیں قاضی ثناءاللہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی تفسیر مظہری انہی کے نام سے موسوم ہے اور مرزا جانجاناں پایہ کے ولی اللہ ہیں انہوں نے گیارہویں شریف کی عظمت کس شان سے بتائی کہ اس میں سیدنا علی المرتضٰی اور سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہم کی شمولیت کا ذکر کیا اور گیارہویں شریف کی محفل پُرنور کی بارش کا مشاہدہ کیا۔ لیکن افسوس ہے کہ ان کو اپنا پیشوا مان کر پھر بھی محفل گیارہویں شریف کے خلاف بکواسات کرتے ہیں۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ:-
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا مظہر جانجاناں علیہ الرحمۃ کے ملفوظات اپنی تصنیف لطیف “کلماتِ طیبات“ میں جمع فرمائے ہیں۔ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کو بھی یہ غیر مقلدین اہلحدیث “اہلحدیث“ شمار کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں اگر واقعی ان کو اپنا آدمی سمجھتے ہو تو پھر اُن کے عقائد اور نظریات کو شرک و بدعت کہتے ہو۔
“نہ خوف خدا نہ شرم نبی“ اویسی غفرلہ کہتا ہے “یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں۔“
ابوالکلام آزاد کے والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ نے سچ فرمایا ہے۔
وہابی بے حیاء ہیں یارو
انکو تڑاتڑ جوتے مارو
(تذکرہ ابوالکلام)

تعارف شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ:-
آپ ہمارے تو پیشوا ہیں ہی۔ آپ تیرہویں صدی کے مجدد ہیں اس کا دیوبندیوں کو بھی اقرار ہے اور غیر مقلدین وہابی بھی آپکو اپنا پیشوا قرار دیتے ہیں۔ اور “ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات“ صفحہ 16 پر ان کو بھی اہلحدیث قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ:- “شاہ عبدالعزیز صاحب کی علمی و روحانی سرگرمیاں محفل قال و حال تک ہی محدود نہیں بلکہ مسلمانوں کی عام رفاہ کا خیال بھی ہر وقت دامنگیر ہے۔“
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کی تصانیف مثلاً فتاوٰی عزیزی، تحفہ اثناء عشریہ، تفسیر عزیزی کو بھی ابو یحیٰی امام خاں نوشہروی نے “اہلحدیث کی علمی خدمات“ قرار دے کر اپنے مسلک کی ہی کتابیں تسلیم کی ہیں۔
آپ ملفوظاتِ عزیزی میں گیارہویں شریف کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ “روضہ حضرت غوثِ اعظم راکہ کافی گویند تاریخ یازدہم بادشاہ وغیرہ اکابرانِ شہر جمع گشتہ بعد نمازِ عصر کلام اللہ و قصائد مدحیہ و آنچہ حضرت غوث در وقت غلبہ حالات فرمودہ اندو شوق انگیز بے مزا میر تا مغرب میخوانند بعد ازاں صاحب سجادہ درمیان وگرد اگرد مریدان نشستہ و صاحب حلقہ استادہ ذکر جہر میگو یند دریں اثناء بعضے رواجد و سوزش ہم میشودراز چیزے از قبیل ساطق خواندہ آنچہ تیارمی باشد از مثل طعام و شیرینی نیاز کردہ تقسیم کردہ نماز عشاء خواندہ رخصت میشوند۔“
(ترجمہ) حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارکہ پر گیارہویں تاریخ کو بادشاہ غیر شہر کے اکابر جمع ہوتے۔ نمازِ عصر کے بعد مغرب تک کلام اللہ کی تلاوت کرتے اور حضرت غوث اعظم کی مدح اور تعریف میں منقبت پڑھتے، مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور اُن کے ارد گرد مریدین اور حلقہ بگوش بیٹھ کر ذکر جہر کرتے۔ اسی حالت میں بعض پر وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی۔ اس کے بعد طعام شیرنی جو نیاز تیار کی ہوتی تقسیم کی جاتی اور نمازِ عشاء پڑھ کر لوگ رخصت ہو جاتے۔ (ملفوظاتِ عزیزی فارسی صفحہ22 مطبوعہ میرٹھ)

نوٹ:- الحمدللہ تاحال یہی طریقہ بغداد شریف میں آستانہ عالیہ پر مروج ہے گیارہ ربیع الثانی کو جاکر خود مشاہدہ کریں۔ الحمدللہ ہم نے یہ حال اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

مذید فتوے:- سوال: درمقدمہ مہندی ہاکہ شب یازدہم ربیع الثانی روشن میکنندو منسوب بجناب سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز مے نمایند و نذر و نیازمے آرند و فاتحہ مے خوانند۔
جواب: روشن کردن مہندی حضرت سید عبدالقادر اینہم بدعت سیئہ است زر کہ ہمچو مفسد و قباحت در تعزیہ ساختن است ہمیں قسم در مہندی متصور است و فاتحہ خواندان و ثواب آل بارواح طیبہ رسانیدن فی نفسہ جائز ودرست است۔
اب سوال اور جواب کا اُردر میں ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ سوال حاجی محمد ذکی دیوبندی نے کیا ہے۔
سوال:- اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ مہندی شب یازدہم ربیع الآخر میں روشن کرتے ہیں۔ اور اُس کو منسوب ساتھ جناب عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کرتے ہیں اور نذر و نیاز و فاتحہ کرتے ہیں ؟
جواب:- روشن کرنا مہندی حضرت سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کا یہ بھی بدعت سیئہ ہے اس واسطے کہ جو قباحت تعزیہ داری میں ہے وہی قباحت مہندی میں بھی ہے اور فاتحہ پڑھنا ثواب اس کا ارواح طیبہ کو پہنچانا فی نفسہ جائز ہے۔ (فتاوٰی عزیزی فارسی ج1 صفحہ74، 75، مطبوعہ دہلی۔ فتاوٰی عزیزی اردو صفحہ166 مطبوعہ کراچی)

فائدہ:- شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے واضح الفاظ میں گیارہ ربیع الثانی کو سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی روح مقدس کو فاتحہ کا ثواب پہنچانا جائز قرار دیا ہے۔ اہل سنت و جماعت حضرات بھی گیارہویں شریف میں ایصال ثواب ہی کرتے ہیں۔
مذید براں: ملفوظاتِ عزیزی میں تو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے رمضان شریف کے ماہ مقدس میں بڑے عرس بیان فرمائے ہیں۔ 3 رمضان کو سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا عرس مبارک اور 16 رمضان کو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا عرس مقدس 21 رمضان کو علی المرتضٰی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کا عرس مبارک اور خواجہ نصیرالدین چراغ دہلوی کے عرس مبارک بھی بیان فرمائے ہیں۔ اصل فارسی کی عبارت ملاحظہ ہو۔
عرس کلاں دریں ماہ (رمضان) مبارک اند تاریخ سوم عرس حضرت فاطمہ و در شانزد ہم عرس حضرت عائشہ و حضرت علی بتاریخ نوزدہم زخمی شدند و درشب یکم رحلت فرمود و عرس نصیرالدین چراغ دہلی۔ (ملفوظات عزیزی فارسی صفحہ50 مطبوعہ میرٹھ)

عرس ہی عرس:-
عرس کا لفظ سنکر مخالفین کو شرک و بدعت کا ہیضہ ہو جاتا ہے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد اعراس کا ذکر کرکے ان کے مرض کو اور بڑھا دیا ہے اور گیارہویں شریف بھی حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا عرس ہے جسے بڑی گیارہویں کہا جاتا ہے۔

نوٹ:- مذکورہ بالا حوالہ جات ان اولیاء و علماء کے عرض کئے جو مخالفین کو مسلم ہیں چند مذید دیگر بزرگوں کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

علامہ فیض عالم بن ملا جیون علیہ الرحمۃ:-
“طعامیکہ روز عاشورہ بروحانیت حضرت امامین شہیدین سیدی شباب اہل جنت ابی محدن الحسن وابی عبداللہ الحسین تیار میکنند ثواب آں برائے خدا نیاز آنحضرت میکنند واز ہمیں جنس است طعام یازدہم کہ عرس حضرت غوث الثقلین کریم الطرفین قرۃ العین الحسنین محبوب سبحانی، قطب الربانی سیدنا و مولانا فردا لا فراد ابی محمدن الشیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی است چوں مشائخ دیگر راغر سے بعد سال معین میکر دند آنجناب راہر درما ہے قرار دادہ اند۔“
(ترجمہ) عاشورہ کے روز امامین شہیدین سیدنا شباب اہل الجنۃ ابو محمد حسن اور ابو عبداللہ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما کیلئے کھانا تیار کرتے ہیں۔ خدا تعالٰی کی بارگاہ میں اس کی نیاز کا ثواب ان کی روح پُر فتوح کو پہچاتے ہیں۔ اور اسی قسم سے گیارہویں شریف کا کھانا ہے جو کہ حضرت غوث الثقلین، کریم الطرفین، قرۃ العین الحسنین محبوب سبحانی، قطب ربانی سیدنا و مولانا فردا الافراد ابو محمد شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عرس مبارک ہے۔ دیگر مشائخ کا عرس سال کے بعد ہوتا ہے۔ حضرت غوثِ پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عرس مبارک ہر ماہ ہوتا ہے۔ (وجنیر القراط فارسی صفحہ82 )

شاہ ابو المعالی علیہ الرحمۃ:-
شاہ ابو العالی قادری لاہوری علیہ الرحمۃ نے تحفہ قادریہ صفحہ 90 پر سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عرس مبارک کے متعلق تحریر فرمایا ہے۔

علامہ برخوردار علیہ الرحمۃ کا عقیدہ:-
علامہ برخوردار محشی نبراس علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ: ممالک ہندو سندھ وغیرہ میں آپ کا عرس 11 ربیع الثانی کو ہوا کرتا ہے۔ اس میں انواع و اقسام کے طعام و فواکہ حاضرین علماء و اہل تصوف، فقراء درویشاں کے پیش کئے جاتے ہیں۔ وعظ اور بعض نعتیہ نظمیں بھی بیان ہوتی ہیں۔ اُس عرس شریف میں ارواحِ کاملین کا بھی حضور ہوتا ہے خصوصاً آپ کے جد امجد حضرت علی المرتضٰی شیر خدا ابو الائمۃ الاتقیاء بھی تشریف لاتے ہیں۔ کماثبت عند ارباب المکاشفۃ۔ (سیرت غوث اعظم صفحہ275)
ّعلامہ برخوردار محشی نبراس علیہ الرحمۃ کی تصنیفِ لطیف “سیرت غوثِ اعظم“ کے صفحہ 276 کے حاشیہ پر گیارہویں شریف کی ابتداء اس طرح لکھی ہے کہ:-
“پیر عبدالرحمٰن نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پیرانِ پیر حضرت غوث الاعظم ہر گیارہویں کو حضرت سیدالانبیاء کا عرس کیا کرتے تھے۔ اس لئے غوث اعظم علٰی نبینا وعلیہ السلام کے چونکہ شیدائی تقلید و اطاعت آنجناب گیارہویں کرتے ہیں۔ چونکہ یہ انتساب بآں عالی جناب تھا۔ فلٰہذا بطریق(تسبیح فاطمہ) گیارہویں حضرت پیرانِ پیر مشہور ہوئی۔“ (حاشیہ سیرت غوث الاعظم صفحہ 276)

داراشکوہ اور علامہ مفتی غلام سرور علیہما الرحمۃ:-
داراشکوہ نے سفینۃ الاولیاء صفحہ 72 میں اور مفتی غلام سرور لاہوری علیہ الرحمۃ نے “خزینۃ الاصفیاء فارسی جلد1 صفحہ99“ میں سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عرس اور گیارہویں شریف کے جواز کے متعلق تحریر فرمایا ہے۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ:-
دیوبندی اکابر ک پیرو مُرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی گیارہویں شریف اور بزرگان دین کے عرس مبارک کے متعلق فرماتے ہیں۔
“پس بہ ھئیت مروجہ ایصال کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور گیارہویں حضرت غوث پاک قدس سرہ کی دسویں، بیسویں، چہلم، ششماہی، سالانہ وغیرہ اور توشہ حضرت شیخ احمد عبدالحق ردولوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اور سہ منی حضرت شاہ بو علی قلندری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ و حلوائے شب براءت اور دیگر طریق ایصالِ ثواب کے اسی قاعدے پر مبنی ہیں۔“ (فیصلہ ھفت مسئلہ صفحہ8 مطبوعہ دیوبند )
فائدہ:- حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کو اہلحدیث کے ھفت روزہ “الاعتصام“ لاہور میں آسمانِ ملت پر دین ہدٰی کے درخشندہ ستارے، دنیائے علم و ادب میں شاندار مقام حاصل کرنے والا لکھا ہے۔ (الاعتصام لاہور صفحہ7، 9 مارچ 1956ء)

انتباہ :- ممکن ہے غیر مقلد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی نہ مانیں لیکن دیوبندیوں کو تو ضرور ماننا چاہئیے کیونکہ آپ ان کے پیرومرشد ہیں اور مرشد کا گفتہ “گفتہ اللہ بود“ مسلم قاعدہ ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ اس مرشد کی بھی نہیں مانیں گے بلکہ اس مرشد کی مانیں گے جو ان جیسوں کا بڑا مرشد ہے۔

واہ ابن تیمیہ (علیہ ما علیہ)
نجدی اور غیر مقلدین وہابی اور بعض دیوبندی ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام مانتے ہیں بلکہ تجربہ کرلیں کہ جملہ عالم اسلام کے علماء اور مجتہدین انکے نزدیک ابن تیمیہ کے بالمقابل کچھ نہیں لیکن وہ بھی لنگرِ غوثیہ کیلئے تیس اونٹوں کا بوجھ بھجواتا تھا۔ چنانچہ علامہ ابراہیم دوربی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں۔
کان العلامہ ابن تیمیہ یرسل من دمشق الشام نذو راواعانات للحفرۃ الکیلانیتہ لاجل الدرس والتدریس واطعام الطعام وذلک فی اواخر ربیع الاول وکانت تلک القافلۃ تحتوی علے ثلاثین بعیرا (از نام و نسب صاحبزادہ گولڑوی)
علامہ ابن تیمیہ دمشق (شام) سے نذرانے اور لنگر غوثیہ کیلئے ربیع الاول کے اواخر میں تیس اونٹوں کا بوجھ بغداد بھیجتا تھا۔

گیارہویں شریف:-
ابن تیمیہ حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وصال کے بعد دمشق میں پیدا ہوا اور خوب چمکا۔ ممکن ہے اپنی ذات کو چمکانے کیلئے ابتدائی دور میں یہ کھیل کھیلا ہو ورنہ وہ اولیاء دشمنی بالخصوص حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کیلئے ہمارے دور کے وھابیو نجدیوں کا امام تو تھا۔ لیکن ییقن مانئے کہ یہ سارا ساز و سامان تھا گیارہویں شریف کیلئے کیونکہ ربیع الاول کی آخری تاریخوں سے اونٹوں کا قافلہ دمشق سے چلکر ربیع الثانی کے پہلے ہفتہ میں ہی پہنچ سکتا ہے اور یہی ہفتہ گیارہویں شریف کے لنگر کیلئے سامان جمع کرانے کا ہے۔ دمشق سے بغداد تک جانے والے زائرین فقیر کے تخمینہ کی تصدیق کرینگے جبکہ یہ سفر خود فقیر نے بس کے ذریعہ ربیع الثانی 1421ھ پہلے ہفتہ میں کیا ہے۔ دمشق سے بغداد تک صحرا ہی صحرا اور بیابان علاقہ جات کہ اب بس ائرکنڈیشن کے سفر سے ہمارا حال دیدنی تھا تو انکا سفر کیسے طے ہوتا ہوگا جو صدیوں پہلے پیدل یا اونٹوں وغیرہ کے سفر کرتے تھے۔

انکشاف اویسی غفرلہ:-
ابن تیمیہ متلون مزاج تھا موج میں آیا تو لکھ دیا کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعل پاک کو نعیل (تصغیر) سے کہنا اور مدینہ کی گرد و غبار کی توہین کفر اور قائل واجب القتل ہے اس پر “الصارم المسلول“ ایک ضخمیم کتاب لکھ دی پھر دماغ خراب ہوا تو لکھ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزار کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا حرام ہے اس پر عالم اسلام کے علماء کرام و اولیاء عظام نے احتجاج کیا تو حکومت وقت نے ابن تیمیہ کو قید کر دیا اور اسی قید میں ہی مرا۔
تفصیل دیکھئے فقیر کا رسالہ “ابن تیمیہ و علمائے ملت“ اسی متلون مزاجی کا نتیجہ ہوا کہ ابتداء میں گیارہویں شریف کے لئے اونٹوں کی قطار نذرانہ کے طور لنگر غوثیہ میں بھیجتا رہا پھر دماغ خراب ہوا تو کتاب “الوسیلہ“ لکھ کر ثابت کیا کہ انبیاء اولیاء کو وسیلہ بنایا شرک ہے وہ زندہ ہوں یا مُردہ بلکہ مُردہ تو خود ہماری دعاؤں کا محتاج ہے پھر وہ ہماری خاک مدد کریگا۔ وغیرہ وغیرہ

نظم گوہر
جب اپنے غوث پاک کی آتی ہے گیارہویں!
سب کو بہار تازہ دکھاتی ہے گیارہویں!
ہوتی ہیں دھوم دھام سے عالم میں مجلسیں
کانوں کو مدحِ غوث سناتی ہے گیارہویں
اجر عظیم اہل مجلس کو ملتے ہیں !
رحمت خدائے پاک کی لاتی ہے گیارہویں
کیسے تزک سے ہوتی ہیں ہر سمت محفلیں
منکر کو دبدبہ یہ دکھاتی ہے گیارہویں
ہوتا ہے ہر مُرید کا کیا باغ باغ دل
گل گلشن جماعت دکھاتی ہے گیارہویں
مشتاق دل مُریدوں کا ہوتا ہے شادماں
مثلِ عروس جلوہ دکھاتی ہے گیارہویں
گوھر بنا قصیدہ سنانے کا ہے تو شوق
لیکن یہ دیکھنا ہے کب آتی ہے گیارہویں
بگواے اہل سنت روز وشب از صدق ایقانی
اعثنا یارسول اللہ ! مدد اے شاہ جیلانی

فائدہ:- مولانا غلام رسول گوہر قصوری مرحوم حضرت امیر الملۃ سیدنا پیر جماعت علی شاہ صاحب پوری رحمۃ اللہ علیہ کے صادق مرید تھے نقشبندی ہونے کے باوجود حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے متعلق اپنے رسالہ انوار الصوفیہ (قصور) میں تحقیقی مضامین سپرد قلم فرماتے تھے۔ گیارہویں پر بہترین رسالہ لکھا اس رسالہ میں فقیر نے ان کے مضامین بھی سپرد قلم کئے ہیں۔ فجزاہ اللہ خیر الجزاء

گیارہویں کیا ہے ؟
رسالہ ھذا کی ابتداء میں فقیر نے عرض کیا ہے کہ گیارہویں دراصل وہی ایصال ثواب ہے جو قرآن مجید و احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ جسے حضور غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وجہ سے نام تبدیل کیا گیا ہے اور قاعدہ عرض کیا ہے کہ شے کے نام بدلنے سے کام نہیں بگڑتا مثلاً حضور علیہ السلام کے زمانہ میں تعلیم گاہ کا نام صفہ تھا اور اب اس کے کئی نام ہیں۔ مدرسہ، مکتب، اسکول وغیرہ وغیرہ۔
اور یہ گیارہویں بھی وہی ایصالِ ثواب ہے اس کا طریقہ ہر جگہ اکثر یونہی ہے کہ حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ عقیدت و محبت رکھنے والے بہ تقاضائے عشق و محبت گیارہویں کے دن یا اس سے اول یا بعد کو محفل گیارہویں کو زیب و زینت بخشتے ہیں اور آپ کا تذکرہ منظوماً منثوراً کرتے ہیں اور واعظین وعظ فرماتے اور نعت خوانانِ خوش الحان نعتیں پڑھتے ہیں اور سب حاضرین محفل ادب سے بیٹھے ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود شریف کثرت سے پڑھتے ہیں اور اخیر میں نیاز تقسیم کرتے ہیں اور کبھی بغیر محفل جمائے ویسے ہی ختم دلاتے ہیں اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں چنانچہ حضرت عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا فرمایا کہ “دوم آنکہ بہ ہئیت اجتماعیہ مردماں کثیر جمع شوند و ختم کلام اللہ کنند و فاتحہ برشیرنی یا طعام نمودہ تقسیم درمیان حاضرین نمایند ایں قسم معمول در زمانہء پیغمبر خدا و خلفاء راشدین نبود اگر کسے ایں طور بکند باک نیست زیرا کہ دریں قسم قبح نیست بلکہ فائدہ احیاء و اموات را حاصل می شود (فتاوٰی عزیزی صفحہ40)
ہر سال ایک معین تاریخ پر بزرگوں کی قبور کی زیارت کے واسطے جانے کے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا ہے کہ بزرگوں کی زیارت کے لئے جانے کی تین صورتیں ہیں ایک یہ ہے کہ ایک یا دو شخص عام لوگوں کی اجتماعی ہئیت کے بغیر بزرگوں کی قبور پر محض زیارت اور استغفار کے لئے جائیں، اس قدر از روئے روایات ثابت ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہئیت اجتماعیہ کے ساتھ جمع ہوں اور کلام شریف کا ختم کریں اور مٹھائی طعام پر فاتحہ پڑھ کر حاضرین میں تقسیم کریں، یہ قسم پیغمبر خدا اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں عمل میں نہیں آئی۔ اگر کوئی شخص اس طرح کرے تو مضائقہ نہیں اس لئے کہ اس میں کوئی بُرائی نہیں بلکہ اس سے زندوں اور مُردوں کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
(فائدہ) اس سے ثابت ہوا کہ اسی طرح اگر کوئی شخص بہت سے لوگوں کو جمع کرکے حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روح مبارک کو ثواب پہنچانے کی نیت سے کلام اللہ شریف کا ختم کرکے یا وعظ شریف کروا کر یا درود شریف پڑھوا کر یا نعت خوانی کروا کر مٹھائی یا کھانے پر ختم شریف پڑھ کر حاضرین محفل میں تقسیم کرے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی بُرائی نہیں ہے بلکہ اس میں زندوں اور مُردوں کا فائدہ ہے۔ زندہ دلوں سے پوچھئے کہ گیارہویں شریف کرنے سے کتنی برکتیں ہوتی ہیں تفصیل کیلئے فقیر کا رسالہ مطبوعہ “برکات و فضائل گیارہویں شریف“ پڑھئے۔ اور عام مُردوں کو یوں فائدہ نصیب ہوتا ہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جملہ مومنین و مؤمنات کیلئے جو فوت ہو چکے ہیں دعائے مغفرت کی جاتی ہے۔ اور زندوں کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ان کیلئے دعائیں مانگی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ انہوں نے وعظ شریف اور نعت خوانی سن کر اور علماء و مشائخ کی جو اس پاک محفل میں آئے ہیں زیارت کرکے ثوابِ عظیم حاصل کیا اور ایسی نیک محفلوں میں بیٹھنا بھی بڑی سعادت ہے۔ حدیث شریف میں ہے ھو قوم لا یشقی جلسیھم “وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشین بدبخت نہیں رہتا“ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “جنت میں سرخ یاقوت کے ستون ہوں گ ان کے دروازے کھلے ہوں گے وہ اس طرح روشن ہوں گے جس طرح ستارے“ آپ سے پوچھا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ان میں کون رہیں گے ؟ آپ نے فرمایا “جو ایک دوسرے سے محض اللہ ہی کے واسطے ملتے ہیں اور محبت کرتے ہیں۔“ طبرانی میں ایک حدیث ہے کہ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی زیارت کیلئے گھر سے نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اسے رخصت کرتے ہیں اور اس کیلئے مغفرت کی دعاء کرتے ہیں اگر کوئی کسی نیک مجلس میں بیٹھتا ہے تو ایسی دس بُری مجلسوں میں بیٹھنے کا کفارہ ہو جاتا ہے۔
فائدہ:- گیارہویں شریف کی مجلس جس میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہوتا ہے اور اس کے اولیاء کے احوال بیان کئے جاتے ہیں۔ درود شریف پڑھا جاتا ہے، نعت خوانی ہوتی ہے۔ اہل ایمان اللہ ہی کیلئے ایک جگہ پر محبت کے ساتھ بیٹھتے ہیں اس میں آنے والوں کو کتنا فائدہ حاصل ہوتا ہوگا ؟ یہ تو وہی سمجھ سکتے ہیں جنہیں اولیاء کرام سے عقیدت ہے لیکن جنہیں اولیاء کرام سے بغض و عناد ہے انکا حال دورِ حاضرہ میں کسی سے مخفی نہیں ہزاروں واقعات ہر سنی مسلمان کے سامنے وھابیوں، دیوبندیوں کی طرف سے پیش ہوتے ہیں۔ ایک واقعہ حضرت امر الملۃ سیدنا سید جماعت علی شاہ صاحب علی پوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا ملاحظہ ہو۔
فرمایا کہ میں ایک دفعہ حیدرآباد میں تھا، سنا کہ ایک شخص نے امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فاتحہ کرکے بریانی پکاکر لوگوں کو کھلائی اور پڑوسی کے مکان میں بھی کچھ کھانا بھیج دیا، پڑوسی مرد گھر پر نہ تھا اس کی عورت نے کھانا لے لیا جب مرد واپس آیا تو مرد سے بیان کیا کہ پڑوسی نے کھانا بھجوایا ہے، مرد نے دریافت کیا کہ کس قسم کا کھانا ہے معلوم ہوا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فاتحہ کا کھانا ہے، پڑوسی مرد نے یہ سنتے ہی اس کھانے کو جو عمدہ قسم کی بریانی تھی اپنے گھر کے باہر موری غلاظت کی بہتی تھی اس میں لیجاکر پھینک دیا، نہ صرف پھینک دیا بلکہ جوتے سے روند ڈالا اور کہا کہ اس پر غیر اللہ کا نام آیا اس لئے یہ کھانا تو خنزیر سے بھی زیادہ پلید ہو گیا اور کھانے کے لائق نہ رہا۔ اب اس بارے میں مسئلہ سناتا ہوں غور سے سنو! پنجاب میں میں ایک دن گھوڑے پر سوار کسی گاؤں کو جا رہا تھا۔ راستہ میں ایک زمیندار نے ایک کھیت سے آکر میرا گھوڑا روک کر کہا کہ مسئلہ سمجھا دو، میں نے کہا کونسا ؟ اس نے کہا رات کو ہمارے گاؤں میں ایک مولوی آیا، اس نے ساری رات ہماری نیند خراب کی اور یہی کہتا رہا کہ جس چیز پر غیر اللہ کا نام آئے وہ حرام ہو جاتی ہے کیا یہ سچ ہے ؟ میں نے کہا کہ یہ کھیت کس کا ہے کہنے لگا میرا ہے اس کے ہاتھ ایک بچہ بھی تھا میں نے دریافت کیا یہ بچہ کس کا ہے اس نے میرا ہے اس کے ساتھ بیل بھی تھے۔ میں نے پوچھا یہ بیل کس کے ہیں ؟ اس نے کہا میرے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ مولوی کے کہنے کے مطابق تیرا کھیت تجھ پر حرام ہو گیا اور تیرا بچہ بھی حرام کا ہوا اور تیرے بیل بھی تیرے لئے حرام ہو گئے، اس وجہ سے کہ ان پر تیرا نام آیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے، اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میں نے مسئلہ سمجھ لیا ہے میں نے اس سے کہا کہ اس سے آگے بھی سمجھ لے اس مولوی سے میری طرف سے پوچھو کہ اس کی ماں پر کس کا نام پکارا جاتا تھا، رب کی جورو پکاری جاتی تھی یا اس کے باپ کی جورو، یاد رکھو کہ کوئی چیز کسی انسان پر حلال نہیں ہوتی جب تک اس چیز پر اللہ کے بغیر کسی اور چیز کا نام نہ آئے، نکاح اسی غیر اللہ کے نام کے آنے کا نام ہے ورنہ کسی لڑکی کو اللہ کی بندی کہہ دیا جائے اور کسی کے نام سے اس کو مقید نہ کیا جائے وہ کسی پر حلال نہیں ہو سکتی۔“ (ملفوظاتِ امیر ملت صفحہ133 مطبوعہ قصور)
خلاصہ یہ کہ گیارہویں شریف کا مطلب یہ ہے کہ حلال، پاک چیز از جنس ماکول و مشروب تیار کرکے فقراء و مساکین وغیرھم کو کھلا پلاکر اس کا ثواب حضور پُرنور حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روح کو پہنچایا جاتا ہے۔

گیارہویں کی وجہ تسمیہ :-
(1) کلیات جدولیہ فی احوال اولیاء اللہ، المعروف بتحفۃ الابرار صفحہ29 میں بحوالہ تکملہ ذکرالاصفیاء گیارہویں کی وجہ تسمیہ یہ لکھی ہے کہ آپ ہر ماہ میں گیارہ تاریخ چاند کو عرس رسالتمآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے اس وجہ سے گیارہویں آپ کے نام سے مشہور ہے۔ (2) انوار الرحمٰن (فارسی) مطبوعہ لکھنؤ صفحہ97 میں ہے جب کسی جانور یا چیز پر کسی بزرگ، نبی یا ولی کا نام لیا جائے مثلاً پیر کا بکرا، اسماعیل کی بھیڑ، عبدالجبار کا دنبہ، غوث پاک کا دنبہ، غوث اعظم کی گیارہویں تو اس جانور کو خدا کا نام لیکر ذبح کیا جائے اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر کھاویں پیویں تو وہ حلال اور طیب ہے اور وہ چیز بابرکت ہو جاتی ہے اور خوش اعتقاد کی روحانی، جسمانی بیماریاں اس کے استعمال سے دور ہو جاتی ہیں۔ پیر کا بکرا اور اسماعیل کا دنبہ کہنے سے وہ حرام نہیں ہو جاتے، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام جو کافر لوگ بتوں کے نام سے منسوب کرتے تھے اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں فرمایا وہ حلال ہیں، ان میں حرمت کدھر سے آگئی ؟ جب اللہ تعالٰی کا نام لیکر ذبح کیا گیا وہ حلال طیب ہیں۔ خداوند تعالٰی قرآن مجید میں فرماتا ہے “کلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ“ ہاں اگر بوقت ذبح پیر صاحب یا کسی اور شخص کا نام لیکر خواہ وہ بت ہو یا دیوی وغیرہ، ذبح کیا جائے تو وہ حرام ہے اور وما اھل لغیراللہ کا یہی مطلب ہے جس کی تفسیر قرآن مجید نے وما ذبح علٰی النصب سے کی ہے یعنی جو جانور بتوں کا نام لیکر ذبح کیا جائے وہ حرام ہے (اس مسئلہ کی تحقیق حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف مبارک “اعلاء کلمۃ اللہ“ کا مطالعہ کیجئے یاد رکھئے فقیر کا رسالہ “پیر کا بکرا“)

عقیدت کی دنیا:-
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے رسالہ “اعلاء کلمۃ اللہ فی بیان مااہل بہ لغیر اللہ“ میں ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک بکرا گیارہویں شریف کیلئے پرورش کرتے تھے اور سال بھر اس کو خوب کھلاتے پلاتے اور ازراہِ محبت اسے اپنی بغل میں لیتے اور اس کو چومتے اور فرماتے “اوئے پیر دیا لیلیا!“ بکری کے نو عمر بچے موٹے تازے کو کہتے ہیں یعنی اسے وہ پیر کا بکرا۔ کسی نے کیا خوب فرمایا ہے۔
سگِ درگاہِ میراں شوچوں خواہی قربِ ربانی!
کہ بر شراں شرف دارند سگِ درگاہِ جیلانی!
یونہی امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا واقعہ جو آپ کی گیارہویں کی عقیدت کے بارے میں ہے۔ قابل تقلید ہے اس کی تفصیل دیکھئے فقیر کا رسالہ “امام احمد رضا کا درسِ ادب“ مطبوعہ کراچی۔ (3) حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا وصال گیارہ ربیع الآخر کو ہوا چنانچہ تفریح الخاطر شریف میں حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال شریف کے متعلق لکھا ہے:- وفی لیلۃ الاثنین بعد صلواۃ العشاء احدی عشرۃ من ربیع الثانی سنۃ خمسمائۃ وستین (تفریح الخاطر صفحہ129)
اور آپ کا وصال شریف سوموار کی شب کو عشاء کی نماز کے بعد 11 ربیع الثانی 561ھجری کو ہوا۔
اور قاعدہ ہے کہ جس تاریخ میں کسی بزرگ ولی اللہ کا وصال ہواس میں (ایصالِ ثواب کرنے سے) خیر اور برکت اور نورانیت اکثر اور وافر ہوتی ہے مگر دوسرے دنوں میں وہ خیرو برکت و نورانیت حاصل نہیں ہوتی۔ چنانچہ وقد ذکر بعض المتاخرین من مشائخ المغرب ان الیوم الذی وصلوا فیہ الٰی جناب العزۃ وحظائر القدوس یرجی فیہ من الخیر والکرمۃ والبرکۃ والنوریۃ اکثر واوفومن سائر الایام۔ (ماثبت بالسنہ صفحہ 69) یعنی مشائخ مغرب نے ذکر کیا ہے کہ جس دن کہ وہ ولی اللہ درگاہ الٰہی اور جنت میں پہنچے اسی دن خیرو برکت اور نورانیت کی امید دیگر دنوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔
اور آداب الطالبین میں ہے:-
اذااردت ان تنخد ولیمۃ فاجتھد بادراک یوم موتہ والساعۃ التی نقل فیھا روحہ لان ارواح الموتی یاتون فی ایام الاعراس فی کل عام فی ذلک الموضع فی تلک الساعۃ فینبغی ان یطعم الطعام والشراب فی تلک الساعۃ فان بذلک یفرح ارواحھم دفیہ تاثیر بلیغ فاذا اواشیاء من الماکو لات والمشر وباتوبات ہفر جون ویدعون لھم والا یدعون علیھم
یعنی جب تو کسی ولی اللہ یا اللہ کے نیک بندے کا ختم دلانا چاہے تو اس کے انتقال (وصال) کے دن اور اس ساعت کا خیال رکھ کیونکہ موتی کی روحیں ہر سال ایام اعراس (اس کے دنوں میں) اس مکان میں اسی ساعت میں آتی ہیں، جب تو اس دن اس ساعت کھانا کھلائے گا اور پانی پلائے گا اور قرآن کریم اور درود شریف اور صحیح اور مؤدب کلام باشرع حضرات سے بہ حسن صورت پڑھواکر ایصالِ ثواب کریگا تو ان کی روحیں خوش ہوں گی اور باقی محفل اور صاحبِ خانہ کیلئے دعاء خیر کریں گی اور اس تاریخ اور ساعت میں ایصال ثواب کرنے میں تاثیر بلیغ ہے اگر اس کا رکس ہوگا یعنی بے نماز، بے دین، تارکِ سنت، گستاخ، بیہودہ اور لایعنی کلام پڑھنے والے ہوں گے تو وہ مقبول خدا بددعاء کریں گے۔

تبصرہ اویسی غفرلہ:-
یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سال کے ابتداء میں ہر سال شہدائے احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کا یہی حال رہا پھر تابعین سے تاحال اہلسنت کے علماء مشائخ کے اعراس یوم وصال میں پابندی سے کئے جا رہے ہیں اس کی یہی وجہ ہے کہ صاحب عرس کی یوم وصال خصوصی توجہ ہوتی ہے۔ تفصیل دیکھئے فقیر کے رسالہ “عرس کا ثبوت“ میں۔


(4) گیارہویں والا رضی اللہ تعالٰی عنہ:-
حضور غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ گیارہویں کے دن آنے والی شب بارہویں کی مناسبت سے نہایت شان و شوکت سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیاز پکا کر فقراء و مساکین کو کھلاتے زندگی بھر یہی طریقہ بالاتزام رہا اور اعزہ و اقارب کو اس کے قائم رکھنے کی وصیت کی اسی معنی پر سرکار بغداد غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ “گیارہویں والے“ کے نام سے مشہور ہو گئے۔ اور خود گیارہویں ان کے نام سے مشہور ہوئی۔
(5) چنانچہ مولانا گوہر مرحوم نے مولانا کریم بخش مرحوم کے حوالہ سے عبارت ذیل نقل فرمائی۔ “درخواں آوردہ است حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہ در کتاب مسئلہ معلوم نمود کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یازدہم ماہ ربیع الاول رحلت فرمودہ بودپس بریں وتیرہ نیا یازدہم نیاز آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم طعام پختہ بمسکیناں خور اندے تازندگی حیات خودزیں وظیفہ گاہے شک نیا ور دور حلت بریں وصیت کرد۔“ (رسالہ گیارہویں شریف مطبوعہ قصور)
فائدہ:- یہ چند وجوہ گیارہویں کی تسمیہ کے فقیر کو میسر ہوئے ممکن ہے اور وجوہ بھی ہوں لیکن حق کے متلاشی کیلئے اتنا کافی ہے ہاں منکر ضدی کیلئے ہزار وجود بھی بے سود ہیں۔

وصال غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ تاریخ 11 کے نکات
ہر محبوب خدا کے وصال کا دن ہزاروں برکتوں سے مالا مال ہوتا ہے اور پیروں کے پیر سیدنا محی الدین دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ تو جملہ اولیاء کرام کے سردار ہیں ان کے وصال کے دن کی برکات کا کیا کہنا۔ اس تاریخ 11 کے چند عجیب نکات ملاحظہ ہوں۔ (1) حدیث شریف میں ہے ان اللہ یحب الوتر۔ (مشکوٰۃ ترمذی)
“اللہ تعالٰی طاق (ایک“ ہے اور طاق کو پسند رکھتا ہے، گیارہ کا عدد اس لحاظ سے متبرک ہے۔ (2) یوسف علیہ السلام نے گیارہ ستارے خواب میں دیکھے تھے اور آپ کے گیارہ بھائی آپ کو ایذاء دینا چاہتے تھے مگر بوجہ گیارہ ہونے کے ایذاء دینے میں ناکام رہے۔ (3) فتح الربانی کی مجلس صفحہ54 میں ذکر ہے کہ سجادے بھی گیارہ ہیں۔ (4) تفسیر عزیزی وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سحر کئے تاگے پر گیارہ گرہیں تھیں۔ اللہ تعالٰی نے ان کے دفعیہ کے لئے گیارہ آیتیں معوذتین کی نازل فرمائیں، قرآن کریم میں اللہ تعالٰی کے 11 پر ضرب 9= 99 ہیں اس طرح رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بھی 11 پر ضرب 9= 99 نام ہیں۔ (5) غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بھی غوثِ پاک کے وقت میں گیارہ ہزار گیارہ سو اولیاء ہوئے ہیں۔ (فتح العزیز) (6) صلوٰۃ الاسرار یا نمازِ غوثیہ میں گیارہ مرتبہ دورد شریف پڑھ کر گیارہ قدم بغداد شریف کی طرف چلنا تعلیم فرمایا گیا ہے۔ (ازہار انوار)

فائدہ:- اس مسئلہ کی تحقیق کیلئے فقیر کا رسالہ “گیارہ قدم“ پڑھئے۔

(6) گیارہویں تاریخ بہت بڑے اعلٰی امور کی یادگار ہے حضرت علامہ عبدالرحمٰن صفوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا۔ لان اللہ اکرم فیہ من جماعۃ من الانبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام اصطفی آدم و رفع ادریس و استوت سفینہء نوح علی الجودی یوم عاشوراء واتخذاللہ ابراھیم خلیلا یوم عاشوراء وغفرللہ لداؤد یوم عاشوراء ورد اللہ علی سلیمان ملکہ فیہ و تزوج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدیجۃ و خلق اللہ السموٰات والارض۔ والقم و آدم و حواء کل ذالک فی یوم عاشوراء۔ (نزہۃ المجالس جلد اول صفحہ 74مطبوعہ مصر)
ترجمہ:- اللہ تبارک و تعالٰی نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جماعت سے اکرام کیا انبیاء کا اسی تاریخ میں چنا آدم کو اور اٹھایا ادریس کو۔ اور ٹھہرایا سفینہ نوح کو جودی پہاڑ پر دن عاشورے کے۔ اور ابراہیم خلیل اللہ کو اللہ تعالٰی نے بچایا آگ سے دن دسویں کو۔ اور بخشش فرمائی داؤد کی دن دسویں کو اور ملک واپس دیا سلیمان کو دن دسویں اور پیدا فرمایا اللہ تعالٰی نے آسمانوں اور زمین کو اور قلم کو اور آدم کو اور حوا علیہم السلام کو دن دسویں کو۔
نہ صرف یہ بلکہ بیشمار اور بھی۔ فقیر ایک نقشہ پیش کرتا ہے اس میں واضح ہوگا کہ گیارہ تاریخ میں کیسی کیسی فضیلتیں اور یادگاریں مخفی ہیں۔
نقشہ دن دسواں اور رات گیارہویں
تعداد۔۔۔۔۔۔۔ یادگار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گیارہویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ قلم قدرت کو پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
2۔ لوح محفوظ پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
3۔ قلم کا لوحِ محفوظ پر تقدیر کا عالم لکھنے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
4۔ ساتوں زمینوں کو بنائے جانے کا دن۔۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
5۔ ساتوں آسمانوں کو پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
6۔ اللہ تبارک و تعالٰی کا عرش پر غلبہ فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
7۔ سورج کو پیدا فرماکر روشن کرنے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
8۔ چاند کو پیدا فرما کر تابانی بخشنے کا دن۔۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
9۔ ستاروں کو پیدا فرما کر روشنی دینے کا دن۔۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
10۔ آسمانوں کو چاند ستاروں اور سورج سے زینت ملنے کا دن۔۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
11۔ پہاڑوں کو زمین کی میخیں بنانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
12۔ سمندروں اور دریاؤں کو پیدا کرنے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
13۔ جنت کو پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
14۔ دوزخ کو پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
15۔ حوضِ کوثر کو پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
16۔ حُوریں پیدا فرمانے کا دن۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
17۔ غلمان پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
18۔ فرشتے پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
19۔ رضوان پیدا فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
20۔ جنت کے محلات تعمیر فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
21۔ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
22۔ حضرت ادریس علیہ السلام کو مکانِ بلند ملنے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
23۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشی کو کنارہ ملنے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
24۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش مبارک کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
25۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خلعت خلیلی حاصل کرنے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
26۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے نار کے گلزار بننے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
27۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول ہونے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
28۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی مصیبت دور ہونے کا دن۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
29۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کیلئے دریا میں رستہ بننے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
30۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کے دشمن فرعون کے دریا میں غرق ہونے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
31۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کے دشمن فرعونیوں کے غرق ہونے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
32۔ حضرت یونس علیہ السلام ک مچھلی کے پیٹ سے رہائی ملنے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
33۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا آسمانوں پر اٹھائے جانے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
34۔ حضرت یونس علیہ السلام کے شہر والوں کی توبہ قبول ہونے کا دن۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہویں
35۔ حضرت نوح علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کے روزہ رکھنے کا دن۔۔۔۔ دن دسواں اور رات گیارہو

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
Janti Zever
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 228
Join date : 01.01.2010
Age : 31
Location : United Kingdom

PostSubject: Re: گیارہویں اولیاء و علماء کی نظر میں   Sat 27 Mar 2010 - 23:17

Back to top Go down
View user profile
 
گیارہویں اولیاء و علماء کی نظر میں
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: رضائے محمد ﷺ لائبریری :: اسلامی مہینے :: ربیع الثانی(عشرہ غوث اعظم-
Jump to:  
Forumotion.com | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Create your own blog