Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 امارات میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: امارات میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   Mon 15 Feb 2010 - 10:19

بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
وَالصَّلٰوۃ وَالسَّلامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیم
امارات میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
از: محمد اشرف آصف جلالی ؔ


عید ربیع الاوّل شریف ایک اسلامی تہوار ہے ۔ جس کی خوشیوں کا احساس و ادراک نگر نگر ، شہر شہر اور دیس دیس میں کیا جاتا ہے ۔ یہ جان والوں اور ایمان والوں کی عید ہے ۔اسے جاننے ، ماننے اور منانے والوں کے طبقات و درجات اور انواع و اجناس بے شمار اور انجمنیں اور تنظیمیں لا محدود ہیں ۔ جن کی محبت بھری سرگرمیاں کائنات میں ہر طرف پھیل جاتی ہیں یہاں تک کہ سمندروں کی گہرائیوں میں بھی جاری رہتی ہیں اور آسمانوں کی رفعتوں میں بھی انعقاد پذیر ہوتی ہیں اور بقول اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ:
؂ کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے

گذشتہ سال ۱۴۲۰ھ؁ /۱۹۹۹ء؁ اسی ماہ رحمت و نور میں ’’متحدہ عرب امارات ‘ ‘ کے شیدایان رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعوت اخلاص پر بندہ امارات پہنچا ۔ دوبئی شارجہ اور ابوظہبی میں ارباب ذوق کے اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔
دوبئی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سرکاری سطح پے منائی جاتی ہے ۔ میری نظر سے وزارت اوقاف کا لیٹر گذرا جو ۳ صفر ۱۴۲۰ھ؁ /۱۸ مئی ۱۹۹۹ء؁ کو مدیر اوقاف کی طرف سے ا ئمہ و خطبا اور مختلف شعبہ جات میں خدمات دینیہ میں مصروف علماء کرام کی طرف بھیجا گیا ۔ اس میں ہجرت ، میلاد شریف ، معراج شریف ، غزوہ بدر اور لیلۃ القدر کی تقاریب کا بطور خاص ذکر تھا اور علماء کرام سے کہا گیا تھا کہ ان مواقع پر وزارت اوقاف جو پروگرام مرتب کرتی ہے ان میں بڑ ھ چڑ ھ کر شرکت کی جائے ۔
پھر دوبئی اوقاف کی طرف سے مدیر اوقاف شیخ عیسیٰ بن عبداللہ بن مانع الحمیری نے مختلف اداروں ، مدارس کالجز اور عامۃ الناس کی طرف ۲ صفر ۱۴۲۰ھ؁ بمطابق ۱۷ مئی ۱۹۹۹ء؁ ایک لیٹر جاری کیا جس کا عنوان تھا ’’ المسابقۃ الدینیۃ فی ذکری المولد النبوی‘‘ ، ’’میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یاد میں دینی مقابلہ‘‘
یہ پروگرام عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مناسبت سے بڑ ی معنویت کا حامل تھا ۔ سرکاری ہینڈ بل میں تین قسم کے مقابلوں کی تفصیل تھی ۔
پہلا مقابلہ ۱۲ سال کے بچوں کیلئے رکھا گیا کہ وہ نبی ا کرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق کریمہ ، رحمت ، حلم اور ہدایت کے بارے میں کم از کم پچاس صحیح احادیث زبانی یاد کریں ۔ ساتھ ہی درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ ‘ضروری کوائف اور امتحانات کی تاریخ کا ذکر تھا ۔ دوسرا مقابلہ ، مقابلہ قصیدہ خوانی تھا کہ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات طیبہ یا خلق عظیم اور میدان دعوت میں آپ کے طریق کار سے متعلق فصیح عربی میں ایسا قصیدہ جو تیس اشعار سے کم اور پچاس سے زائد نہ ہو پیش کیا جائے ۔ مطبوعہ قصیدے کو ترجیح دی گئی یہ مقابلہ ہر عمر کے حضرات و خواتین کیلئے تھا ۔
تیسرا مقابلہ ۔ مقالہ نویسی :
حضور ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات مبارکہ کے دینی ، ا جتماعی ، سیاسی ، اخلاق اور عسکری پہلو کے متعلق ایک جامع مقالہ لکھا جائے جو فل سکیپ تین صفحات سے کم اور پانچ سے زائد نہ ہو ۔ سطور میں فاصلہ مناسب ہو اور عبارات نحوی اور املائی غلطیوں سے پاک ہوں ۔
وزارت اوقاف اور اس کے مختلف شعبہ جات کے عملے کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں تھی ۔ہر مقابلے میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے حضرات کیلئے عمرے کے ٹکٹ اور وہاں رہائش اور طعام کا بندوبست کیا گیا جبکہ دسویں نمبر تک اور مختلف انعامات رکھے گئے تھے ۔
اوقاف کی طرف سے مختلف مساجد اور مدارس میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محافل منعقد کی جاتی ہیں ۔ سب سے بڑ ی محفل میلاد جس کا انعقاد وزارت اوقاف کرتی ہے وہ مسجد الراشدیہ الکبیر میں ۱۱ ربیع الاوّل شریف کو منعقد ہوتی ہے ۔ بڑ ے خوبصورت اور دلکش پوسٹرز سے اس کی دعوت کو عام کیا جاتا ہے ۔ جن پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے ’’الاحتفال بالمولد النبوی شریف ‘‘ اس اجتماع کی کاروائی براہِراست دوبئی ٹیلیویژن سے ٹیلی کاسٹ کی جاتی ہے ۔شب ولادت جب یہ اجتماع ختم ہوتا ہے تو شیخ عیسیٰ مانع وزیر اوقاف اور دوسرے شیوخ رات کو اسی وقت مدینہ شریف حاضری کیلئے چلے جاتے ہیں ۔
شیخ عیسیٰ مانع کے استاذ شیخ عید العویر میں بہت بڑ ی محفل میلاد کا بندوبست کرتے ہیں ۔ جس کے اختتام پر انواع و اقسام کے کھانوں سے شرکاء کی تواضع کی جاتی ہے ۔ دوبئی میں مقیم مصری باشندگان مسجد ابوعبیدہ میں اپنی طرف سے میلاد کانفرنس کا اہتمام کرتے ہیں ۔ جبکہ یہاں مقیم مدراسی مسلمان ۱۲ دن تک مسجد الکویتی میں محافل عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انعقاد کرتے ہیں ۔ بنگالی عید میلاد کی خوشیوں کے اظہار کیلئے تقاریب کا علیحدہ بندوبست کرتے ، جبکہ پاکستانیوں کا انداز ہی نرالہ ہے ۔
دوبئی اوقاف کے وزیر شیخ عیسیٰ مانع زید مجدہٗ نے میلاد شریف سے متعلق ایک نہایت عمدہ اور جامع کتاب تصنیف کی ہے ۔ جسے وزارت اوقاف کی طرف سے طبع کر کے مفت تقسیم کیا گیا ۔ اس کا نام ’’بلوغ المامول فی الاحتفاء والاحتفال بمولد الرسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘ ہے ۔ اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر اس کے سات ایڈیشن آ چکے ہیں ۔ اس کے دیباچے میں شیخ عیسیٰ مانع نے لکھا ہے :
لا یشک عاقل صادق الحب بان الاحتفال بالمولد النبوی الشریف ھوالاحتفاء بہ والاحتفاء بہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم امر مقطوع بمشر وعیتہ۔
اس بات میں میں کوئی سچی محبت رکھنے والا ذی عقل شک نہیں کر سکتا کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محافل کے انعقاد کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکریم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکریم کرنا قطعی طور پر ثابت ہے ۔
اس کتاب کی چار فصلیں ہیں ۔ پہلی فصل میں انہوں نے قرآن مجید سے دلائل پیش کئے ہیں جبکہ دوسری میں سنت مطہرہ سے دلائل جمع کئے ہیں ۔ تیسری فصل دلیل اجماع سے عبارت ہے اور چوتھی فصل میں میلاد شریف کے بارے میں پیش کئے گئے شبہات اور منکرین کے اعتراضات کے جوابات دئیے گئے ہیں ۔
اس کے آخر میں عارف باللہ سید امین المکی الحنفی کا قصیدہ ہے ۔ جس کے چند اشعار یوں ہیں :
یا لیلۃ الاثنین ماذا صافحت

یمناک من شرف اشم و من غنی
کل اللیالی ا للبیض فی الدنیا لھا

نسب الیک فانت مفتاح السنا
فالقدر والأعیاد والمعراج من

حسناتک اللاتی بھرن الاعینا

’’اے پیر کی رات تیرے دائیں ہاتھ میں کتنی گراں قدر شرافتیں اور کس قدر سرمایہ ہے ۔ دنیا میں جتنی راتوں کے دامن میں بھی نور ہے تمہاری نسبت ہے چنانچہ تم ہر چاندنی کی کلید ہو ۔ لیلۃ القدر ، عیدا لفطر ، عیدالاضحی اور شب معراج کی آنکھوں میں تیرا ہی نور ہے ‘‘
حضرت شیخ عیسیٰ مانع کا قلم مختلف موضوعات پر عرب ممالک میں گھسے ہوئے ایک مخصوص مکتبہ فکر کے بے لگام لکھاریوں کا محاسبہ کرتا نظر آتا ہے ۔ آپ نے کشف الغمہ میں ’’بدعت‘‘ کے مفہوم میں تجاوز کرنے والے لوگوں کا شدت سے ردّ کیا اور مسلم اُمّہ کے جمہور کو بدعتی قرار دینے والوں کی خوب خبر لی۔
جب عرب شریف کے نجدی عالم ابن عثیمین نے حضرت امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کے مقبول عام قصیدہ بردہ شریف کے چند اشعار پر اعتراض کیاتو حضر ت شیخ عیسیٰ نے اس کے ردّ میں ’’القول المبین فی بیان علو مقام خاتم النبیین ‘‘ لکھی اور دندان شکن جواب دیا ۔گذشتہ سال ربیع الاوّل کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے اخبارات کو بھی میں نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشیوں میں شریک پایا ۔
امارات کے کثیر الاشاعتی اخبار البیان میں ۱۲ ربیع الاوّل شریف ۱۴۲۰ھ؁ / ۲۵ جون ۱۹۹۹ء؁ کو ابوظہبی حکومت کے مشیر سید علی ہاشمی کا بڑ ا محبت بھرا اور جامع مضمون شائع ہوا۔انہوں نے لکھا:
’’کان الاحتفال بذکری مولد الرسول الاعظم والسید المصطفے ٰ المکرم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم من سمات أھل الفضل والخیر والفلاح و قد حرص اھل العلم من اصلح اللہ بواطنھم قبل ظواھرھم اشد الحرص علی اظہار مشاعر الود والتقدیر والاحترام لذکری مولدہ صلی اللہ علیہ وسلم وقد تظافر السلف الصالح وما زال الخلف الذین استقاموا علی الطریقۃ یتسابقون لاحیاء ھذہ الذکری ذلک لان مولدہ صلی اللہ علیہ وسلم ھو ایذان بالقضاء علی لیل الشرک والجھالۃ و بمولدہ آن اوان بزوغ فجر العلم والخیر والھدایۃ ۔
’’رسول اعظم حضرت مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا میلاد منانا اصحاب فضیلت اور اہل خیر و فلاح لوگوں کی علامات میں سے ہے ۔ وہ اہل علم اللہ تعالیٰ نے جن کے ظاہر سے پہلے ان کے باطن کی اصلاح فرمائی ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا میلاد شریف منانے کیلئے اپنے جذبات محبت و عقیدت کا اظہار کرنے کے بڑ ے خواہاں ہوتے ہیں ۔ سلف صالح اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں لوگ ہمیشہ سے عید میلاد شریف میں بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لیتے آئے ہیں کیونکہ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے میلاد شریف ہی نے شرک و جہالت کی رات کا خاتمہ کیا اور آپ کی ولادت ہی سے علم خیر اور ہدایت کی فجر طلوع ہونے کا وقت آ ن پہنچا ‘‘۔
محترم سید علی ہاشمی صاحب نے مزید لکھا:
واذا کان المسلمون الیوم فی مشارق الارض و مغاربھا یحتفلون بذکری مولدہ صلی اللہ علیہ وسلم فانما یحتفلون بذکری مولد کرائم الاخلاق۔
آج دنیا کے مشرق و مغرب میں مسلمان جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یوم میلاد منا رہے ہیں تو وہ اس سے صرف آپ ہی کا نہیں بلکہ اخلاق عظیمہ کا میلاد بھی منا رہے ہیں ۔
سید ہاشمی صاحب نے اپنے طویل آرٹیکل کے آخر میں لکھا:
احقّ الناس بالاحتفال بھذہ الذکری العظیمۃ ھذہ البلاد الامارات العربیہ المتحدہ
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم منانے کا سب سے زیادہ حق متحدہ عرب امارات کا ہے ۔
یہ مضمون بمنا سبۃ یوم مولدہ الشریف من معالم الوفا للرسول الکریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عنوان سے طبع ہوا ۔ یہی مضمون ۱۲ ربیع الاوّل شریف کو روزنامہ الخلیج میں بھی شائع ہوا ۔ نیز الخلیج میں ۱۲ ربیع الاوّل شریف کو اسامہ طہ کا مضمون ’’من وحی مولد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ شائع ہوا ۔ اس اچھوتے مضمون کا ابتدائیہ یوں تھا:
کما تطلع الشمس بانوارھا فتفجر ینبوع الضوء المسمی النھار یولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیوجد فی الانسانیۃ ینبوع النور المسمی الدین
حین اذان اللہ تعالیٰ با کرام البشریۃ بعد مسیرتھا الطویلۃ المشحونۃ بالمتاعب اذن سبحانہ تعالیٰ بمیلاد النبی الجلیل صلی اللہ علیہ وسلم و جعلہ خاتما للنبوات
’’جیسے سورج اپنے انوار سے طلوع ہوتا ہے تو روشنی کا ایک چشمہ پھوٹتا ہے جسے دن کہا جاتا ہے نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پیدا ہوتے ہیں تو انسانیہ میں ایک نور کا سرچشمہ پھوٹتا ہے جسے دین کہا جاتا ہے ۔
بشریت اپنے طویل سفر میں تھکاوٹوں سے چکنا چور ہو چکی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ اسے نواز دے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے میلاد شریف کا اذن دیا اور آپ کو تمام نبوتوں کا خاتم بنایا ۔
دوبئی میں حضرت علامہ قاری غلام رسول صاحب ایک بڑ ی متحرک مذہبی شخصیت ہیں ۔ آپ لا ہور کے علاقہ سا ہو واڑ ی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جہاں آپ نے جامعہ تعلیمات اسلامیہ قائم کیا ہے ۔ آپ نے حافظ الحدیث پیر سید محمد جلال الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ مرکزی جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف منڈی بہاؤ الدین میں آپ سے اکتساب فیض کیا۔
ڈیرہ دوبئی کی جامع مسجد النطیم میں آپ خطابت اور امامت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ اس مسجد کو دینی پروگراموں کے لحاظ سے پورے امارات میں مرکزیت حاصل ہے ۔ پاکستان ، انڈیا اور دیگر ممالک سے اہم علماء و مشائخ یہاں تشریف لاتے رہتے ہیں ۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے موقعہ پر آپ (قاری صاحب) دیگر احباب اہلسنّت کے تعاون سے بڑ ی بڑ ی محافل کا اہتمام کرتے ہیں ۔ گذشتہ سال ان محافل میں خطاب کیلئے مجھے مدعو کیا گیا ۔ چنانچہ بندۂ ناچیز ۱۵ جون ۱۹۹۹ء؁ کو دوبئی پہنچا ۔ ائیرپورٹ پر محترم قاری غلام رسول صاحب اپنے چند احباب کے ساتھ موجود تھے ۔ ائیر پورٹ سے ہم مسجد النطیم پہنچے ۔ قاری العصر قاری غلام رسول صاحب مجھ سے قبل دوبئی پہنچ چکے تھے ۔آپ نے بھی انہی محافل میلاد شریف میں شرکت کرنا تھی ۔ چنانچہ تمام پروگراموں میں ہم اکٹھے رہے ۔ قاری صاحب کے سوزِ تلاوت اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہدیہ عقیدت سے وجد و سرور کا سماں چھا جاتا تھا ۔ حضرت مولانا محمدضیاء اللہ قادری (سیالکوٹ )بھی تقاریب میلاد شریف کے سلسلے میں وہاں تشریف لے گئے تھے ۔ مولانا قاری غلام رسول صاحب خطیب اعظم دوبئی نے تمام پروگرام مرتب کئے ہوئے تھے ۔ چنانچہ ۱۷ جون جمعرات کو ہم نے مرکز اہلسنّت ابوظہبی میں پہنچنا تھا ۔
الحاج محمد اسماعیل ضیائی انجینئر ٹی وی دوبئی نے ہمیں ساتھ لے کر جانا تھا ۔ چنانچہ بندہ اور قاری غلام رسول ضیائی صاحب کی گاڑ ی میں ساڑ ھے پانچ بجے شام دوبئی سے ابوظہبی کیلئے روانہ ہوئے ۔ وسیع و عریض اور صاف سڑ ک پر گاڑ ی دوڑ تی جا رہی تھی اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی نعت ’’واہ کیا جودو کرم ہے اے شہ بطحا تیرا ‘‘ کی کیسٹ چل رہی تھی ۔ وقفے وقفے کے بعد حاجی محمد اسماعیل ضیائی صاحب کے فون کی گھنٹی بج رہی تھی ۔ ابوظہبی سے احباب کے پوچھنے پر آپ انہیں بتا رہے تھے کہ اب ہم فلاں مقام پر پہنچ آئے ہیں ۔ اتنا وقت ہمیں مزید لگ جائے گا ۔ ابوظہبی پہنچنے پر مرکز اہلسنّت کے ناظم اعلیٰ حاجی عبداللطیف ‘صدر رابطہ کمیٹی الحاج محمد اقبال اور نائب صدر رابطہ محمد شفیق نے ہمارا استقبال کیا اور ہم ان کے ہمراہ مرکز اہلسنّت پہنچے ۔
مرکز اہلسنّت کے ہال کو بڑ ے سلیقے سے سجایا گیا تھا ۔ حضرت مولانا محمد عباس رضوی صاحب آف گوجرانوالہ جو اس وقت مرکز میں خدمت دین پر مامور تھے ‘نقیب محفل بنے تھے ۔ سامعین کے چہرے کھلے ہوئے تھے ۔ قاری صاحب کی تلاوت نعت کے بعد بندہ ناچیز نے ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم برہان خدا ‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی ۔ بعد میں مرکز کی کیسٹ لائبریری اور دیگر شعبہ جات کا دورہ کیا۔ یہاں محترم عبدالمجید جلالی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی جو محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سرشار اور پیکر اخلاص ہیں ۔ عمرہ شریف کے ویزہ سے متعلق ان سے بات چیت ہوئی۔
ابوظہبی میں بزم حمد و نعت کی طرف سے ۲۱ روزہ محافل میلاد شریف کا اہتمام کیا گیا تھا جو کہ۱۳ جون سے ۱۱ جولائی تک جاری رہیں ۔
پروگرام سے فراغت کے بعد ہم ابوظہبی سے شارجہ پہنچے تو رات کے دو بج چکے تھے ۔ حاجی محمد اسماعیل صاحب کی رہائش پے قیام ہوا ۔ ابوظہبی میں رات کو بھی بلاکی گرمی تھی اور لو چل رہی تھی۔ چند لمحات بھی باہر کھڑ ا ہونا مشکل تھا ۔ وہاں ائیر کنڈیشن ہی میں کاروبار زندگی چل رہا ہے ۔
خطبہ جمعہ میں نے سونا پور کی جامع مسجد فیض مدینہ شریف میں دینا تھا ۔ شارجہ سے ہم یہاں پہنچے شدت کی گرمی تھی وضو کیلئے جو پانی تھا وہ بھی نہایت گرم تھا ۔ بہرحال جمعۃ المبارک کے خطبہ میں ’’حسن مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ‘‘کے موضوع پر مفصل خطاب ہوا ۔ یہاں ہی مولانا محمد ا کرم جلالی سیالکوٹی سے ملاقات ہوئی جو شارجہ میں دین متین کی خدمت کر رہے ہیں ۔ فیض مدینہ کا مرکز صوفی محمد نذر صاحب کے زیر نگرانی چل رہا ہے ۔
رات کو شارجہ میں نبا عبدالرحمن کی وسیع چھت پر محفل میلاد منعقد ہونی تھی ۔ فقیر زینت القراء قاری غلام رسول کے ہمراہ مقررہ وقت پر پہنچ گیا ۔ اس محفل کا انعقاد پیر محمد سیف اللہ گیلانی نے کیا تھا ۔ بندہ نے ’’رحمۃ للعالمین ‘‘ ﷺ پر گفتگو کی ۔
۲۰ جون بروز اتوار وزیر اوقاف حضرت شیخ عیسیٰ مانع سے ملاقات ہوئی اور کئی امور پر تبادلۂ خیال ہوا ۔ ۲۱ جون کو بردبی الکرامہ کی جامع الکبیر میں ’’درود و سلام ‘‘کے موضوع پر خطاب ہوا ۔ ۲۲ ج۲ن کو ’’دوبئی لیبر سپلائی‘‘ کے وسیع ہال میں محفل میلاد سجائی گئی ۔ یہاں بندہ نے ’’سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت پر شفقت‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا ۔
۲۳ جون کو محمد درسہ المعروف محمد بھائی کی کوٹھی پر منطقہ ہمدان میں نہایت شان و شوکت سے محفل میلاد کا اہتمام کیا گیا ۔ یہاں ’’علم غیب رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘ کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔
۲۴ جون کو جامع مسجد النطیم الراس ڈیرہ دوبئی میں ’’میلاد شریف کی شرعی حیثیت ‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔
۲۵ جون کو خطبہ جمعہ جامع مسجد النطیم میں دیا ۔ جمعہ سے قبل والدین رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور بعد میں ’’ ورفعنا لک ذکرک ‘‘پر گفتگو کی۔
۲۵ جون رات کو جامع مسجد یوسف امان سونا پور میں ’’ آمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم احسان عظیم ‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا ۔ اس مسجد میں قاری اظہر اسلام قادری خدمت دین کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ۔
۲۶ جون کو پاکستان سوشل سنٹر پر دوبئی میں پروقار محفل میلاد شریف منعقد کی گئی بندہ ناچیز نے یہاں ’’منصب نبوت ‘‘پر تفصیلی خطاب کیا ۔
۲۷ جون کو حاجی عبدالرزاق اے آر وائی ٹریڈرز کی کوٹھی پر محفل میلاد نہایت محبت و عقیدت سے منعقد کی گئی ۔ بندہ نے یہاں ’’خلق عظیم‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا ۔
۲۸ جون کو مسجدحاجی ناصر یوسف باقرروڈ پر بہت بڑ ا جلسہ میلاد شریف تھا ۔ بندہ نے یہاں ’’محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ نیز وہاں کے ایک غیر مقلد عالم انس مدنی کے دلائل کا جواب دیاجو اس نے اللہ تعالیٰ کی جہت اور مکان ثابت کرنے کیلئے دیئے تھے ۔
محترم صوفی عبدالمجید جلالی صاحب کی مخلص کوششوں سے عمرہ شریف کا ویزہ لگ گیا۔ چنانچہ ناچیز یکم جولائی سے ۱۲ جولائی تک حرمین شریفین کی حاضری سے بہرہ ور ہوا اس کا ذکر علیحدہ کروں گا ۔ (انشاء اللہ) عمرہ شریف سے واپس دوبئی پہنچنے پر ۱۴ جولائی کو حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری زید مجدہٗ کی صدارت میں ’’شارع نائف‘‘ پر خطاب کیا۔
۱۵جولائی کونماز عصر کے بعد حضرت میاں جمیل احمد صاحب کے زیر صدارت ایک اور اجتماع میں خطاب کیا ۔ بعد از نماز عشاء شارجہ میں محمد رفیق نورانی صاحب کے ہاں منعقدہ حلقہ میں ’’تقویٰ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی ۔
۱۶ جولائی کو مسجد النطیم میں خطبہ جمعہ دیا ۔ اسی رات کو بعد از نماز عشاء شارجہ میں غیر مقلد علماء سے مناظرہ کرنا تھا ۔ چنانچہ بندہ حاجی عبدالعزیز صاحب ، قاری محمد ریاست صاحب اور محترم محمد سعید صاحب کے ہمراہ وقت مقررہ پر شارجہ پہنچا اور افریقہ ہال کے قریب جامع مسجد حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ میں مولوی یوسف بستوی ، مولوی عبدالروف سلفی اور مولوی گلاب خان کے ساتھ وہابی عقائد و نظریات کے بطلان پر تاریخی گفتگو ہوئی جو تقریباً ڈیڑ ھ گھنٹے تک جاری رہی اور حدیث شریف سے جو دلائل بندہ نے پیش کئے آخری وقت پر غیر مقلد علماء سے ان کا کوئی جواب نہ بن سکا ۔ اس پوری گفتگو کی تفاصیل انشاء اللہ تعالیٰ علیحدہ رقم کی جائیں گی۔

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
 
امارات میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: رضائے محمد ﷺ لائبریری :: اسلامی مہینے :: ربیع الاول و میلاد النبی-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Create a free blog