Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ربیع الاول اور پیر کے دن کیوں تشریف لائے

Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ربیع الاول اور پیر کے دن کیوں تشریف لائے   Wed 10 Feb 2010 - 8:59

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ربیع الاول اور پیر کے دن کیوں تشریف لائے


امام ابن الحاج مالکی قدس سرہ ( متوفی 737 ھ ) کے جواہر فرمودات سے ان کی تصنیف “ المدخل “ ہے جس کی ایک فصل میں حضور سید عالم و عالمیان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماہ ربیو الاول اور پیر کے دن ورود مسعود کی وجہ حکمت لکھتے ہوئے فرماتے ہیں “ اگر کوئی کہے اس کی کیا وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رمضان میں تشریف نہ لائے جب کہ اس ماہ مبارک کے اور بھی بے شمار خصائص و فضائل ہونے کے * بھی ہے کہ اس میں ( بنی نوع انسان کے لئے مکمل اور آخری ضابطہ حیات) قرآن کریم کا نزول ہوا ، نیز اس کی ایک شب ایسی ہے جس کی عبادت ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے اور نہ ہی محرم میں جس کی بزرگی و کرامت ابتدائے آفرینش سے برقرار ہے ، تشریف آوری ہوئی ۔ اسی طرح نہ ہی شب برات میں ( جو بے پایاں رحمتوں اور برکتوں کی حامل ہے ) آپ کی آمد ہوئی ۔ اور نہ ہی آپ شب جمعہ ( جو کہ ہر دو بے شمار برکات کے موجب ہیں ) میں تشریف لائے۔ آپ کا مذکورہ ایام متبرکہ میں ورود مسعود کیوں نہ ہوا ، اور ربیع الاول اور یوم پیر کے ساتھ اختاص کیوں ہوا؟
اس کی چار وجوہ ہیں :
وجہ اول :
پہلی وجہ تو یہ ہے جو ایک حدیث سے معلوم ہوتی ہے ۔
ان اللہ خلق الشجر یوم الاثنین
کہ اللہ تعالٰی نے درخت پیر کے دن پیدا فرمائے ۔
اور اس کی تخلیق میں ایک نہایت عمدہ اشارہ و انتباہ اس جانب ہے کہ اس دن جل شانہ نے وہ اشیاء پیدا کیں جن کے ساتھ انسان کی بقائے حیات وابستی ہے اور سنت الہیہ بھی یہی ہے ( کہ وہ اشیاء کو متعلق باسباب فرماتا ہے ) مثلا خوراک اور اس کے اسباب ، رزق ، پھل اور وہ چیزیں جو انسان کو غذا و دوا کا کام دیتی ہیں اور جن کے سہارے انسان جی سکتا ہے ( اس دن ) پیدا فرمائیں۔ لہذا جن اشیاء سے انسان کی بقا ہے انہیں پالینے کے بعد ان کی رؤیت سے ہی انسان کے دل میں خوشی ، مسرت ، اطمینان و تسکین کی ایک لہر دورتی ہے اور انبساط نفس و انشراح صدر کا سامان خود بخود فراہم ہو جاتا ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ماہ ربیع الاول شریف اور یوم پیر شریف میں ورود مسعود بھی امت کے لئے دل کا چین ، آنکھوں کا سکون ہے۔ کیونکہ آپ کا وجود باجود تمام خیر و برکت کا جامع ہے۔ صلوات اللہ علیہ وسلمہ ۔
وجہ دوم :
لفظ “ ربیع“ کے مادہ سے ہی عقلمند کو اشارہ ہو جاتا ہے کہ آپ کا ورودمسعود کی نوید جانفزا جو ماہ ربیع الاول شریف ہوئی تو اس میں نیک فالی کا واضح مفہوم موجود ہے ۔ اور اشیاء سے اچھا شگون لینے کی اصل سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے ( اسی لئے ) شیخ الاسلام امام ابو عبد الرحمٰن صقلی قدس سرہ نے فرمایا کہ “ لکل انسان من اسمہ نصیب “ ہر آدمی کے نام میں ( اس نام کی اچھی یا بری خصلت و تاثیر ) اس کا حصہ ہوتا ہے اور یہ معاملہ انسانوں میں ہی منحصر نہیں بلکہ ہر شے کے نام میں اس کے نام کی اچھائی و برائی کا حصہ ہوتا ہے۔
جب ( یہ واضح ہو گیا کہ ) ہر شے کے نام میں اس کا حصہ موجود ہے تو سمجھ لینا چاہیئے کہ موسم ربیع ( موسم بہار ) میں بھی یہی صورت ہے کہ اس موسم میں تمام نعمتیں اور اشیاء ( مثلا رزق وغیرہ ) جن سے انسان کی معاش و حیات اور اصلاح احوال وابستہ ہے، زمین اپنے اندر سے اگل دیتی ہے ( مثلا) اسی موسم میں زمین میں چھپی ہوئی اشیاء باہر آتی ہیں جیسے گھٹلیاں ، دانے ، رنگا رنگ بوٹیاں اور بو قلموں میوے وغیرہا۔ ان اشیاء کی آمد پر جہاں ہر دیکھنے والا ان سے مسرت حاصل کرتا ہے وہیں گویا یہ چیزیں اپنی زبان حال سے ہر دیکھنے والے کو اپنے موسم کے آنے کی بشارت بھی سناتی ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ توجہ بھی دلاتی ہیں کہ اے ناظرین ! تمھاری خوشخبری کی ابتداء اللہ سبحانہ و تعالٰی کی نعمتوں سے ہو رہی ہے کیا تمہیں یہ تجربہ نہیں کہ جب تم موسم بہار میں باغ کو آؤ تو تمہیں ہوں محسوس ہوگا کہ گویا وہ تمہاری آمد کا ہنستے ہوئے استقبال کر رہا ہے اور اس کی کلیاں تمہیں زبان حال سے اپنے ہونے والے پھلوں اور کھانوں کی ( دیگر) چیزوں سے با خبر کر رہی ہے۔ یہی حال اس موسم میں زمین کا بھی ہے کہ جب سبزہ سے لہلہانے کگتی ہے تو زبان حال سے تمہیں اپنے( ااندرونی) فوائد سے آگاہ کرتی ہے۔
لہذا موسم بہار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولد شریف میں بھی یہی اشارات مضمر ہیں اور نیز اللہ جل مجدہ کے ہاں آپ کے اعلٰی و ارفع منصب و مقام کی جانب بھی واضح اشارہ پایا جاتا ہے۔( کہ جس فصل بہار کی ہریالی انسان کے لئے پیغام مسرت و نوید نعم لت کر آتی ہے یونہی) اس موسم بہار میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سراپا مسرت و رحمت بن کر تشریف لائے۔ چناچہ آپ مسلمانوں کے لئے نہ صرف نوید جانفزا ہیں بلکہ مہلکات دینیہ و آفات دینویہ میں ان کا حامی و ناصر بھی ہیں ۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ ما سوی اللہ کیلئے سراپا رافت و رحمت ہیں ۔ حتٰی کہ کافر بھی آپ کی اسی رحمت کے سبب دینو عذاب میں ابتلاء سے مامون ہیں ۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے فرمایا:
“ اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک کہ اے محبوب تم ان میں تشریف فرماہو “ ( سورہ انفال آیت 33)
اور حمایت و نصرت ، رافت و رحمت کا استحقاق مسلمانوں کے لئے بدیں وجہ ہے کہ آپ کے پیروکار ہیں اور سب خوبیوں تو آپ کی اتباع میں ہیں اور( یہ مسلمہ امر ہے کہ ) انبیاء کرام علیہم السلام کے سنن کی پیروی اور اوامر کے امتثال اور شیاطین اور اس کے پیروکاروں کی مخالفت سے اللہ تعالٰی کی نعمتوں کے باب کھل جاتے ہیں ۔( شیاطین کی مخالفت سے تو خصوصی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے مثلا ) کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس کائنات رنگ و بو کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے سرفراز فرمایا تو آپ کے ورود مسعود کی بدولت زمین شیاطین سے خالی ہو گئی تھی اور ابلیس لعین کو اپنی جماعت سمیت زمین کے ساتوں طبقہ تک کہیں بھی قرار نصیب نہ ہوا تھا دعا ہے کہ ہم سب زمین کو شیاطین لعین اور اس کی ذریت سے خالی پائیں ( آمین)
اور ماہ رمضان میں بموجب ارشاد حدیث ، اگرچہ تمام شیاطین مقید ہوتے ہیں۔ لیکن اس قید سے ان کے تمام زمین سے انخلا مستلزم نہیں ، جبکہ یوم میلاد شریف میں زمین ساتویں طبقے تک تک شیاطین سے پاک تھی۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ خداوندی میں عظمت و رفعت معلوم ہوتی ہے نیز اسی سے آپ کے متبعین کا اعزاز و اکرام بھی آشکارا ہے۔
آیک شبہ :
اگر یہ کہا جائے کہ پورے رمضان میں شیاطین مقید رہتے ہیں جبکہ یوم میلاد میں صرف ایک دن کی تقید معلوم ہوتی ہے ۔
ازالہ شبہ :
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یوم مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شیاطین زمین کت ساتویں طبقہ ہی میں محصور ہوتے ہیں اور ایک دن کا تقید و احصار بھی تمام رمضان کے تقید سے برتر ہے ۔ اس لئے کہ اس قید سے فقط پابندی ہی مفقد نہیں بلکہ اس وقت کی برزگی و کرامت بھی مطلوب ہے کہ جس میں زمین اللہ کے دشمنوں سے خالی ہوئی تھی۔ سمجھدار کے لئے اتنا ہی کافی ہے اور اللہ ہی سمجھ و عقل کی توفیق دینے والا ہے ۔( جب یہ واضح ہو گیا کہ ) اللہ تعالٰی کی اجل نعمتوں اور اعظم برکتوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات با فیوضات ہے ۔ تو اس نعمت کی اعطاء کی بدولت اللہ جل مجدہ نے بندوں پر احسان فرمایا کہا اسی نعمت کے طفیل انہیں سیدھہ راہ کی توفیق ملی ۔
میں اللہ جل مجدہ سے ملتجہ ہوں کہ خداوند ! ہمیں اپنے فضل و عنایت سے اس نعمت کی برکات کی عرفان عطا فرما۔ اور ہمیں اپنے لطف و کرم سے دین و آخرت میں اس نعمت عظمٰی کی پیروی سے بہرہ ور فرما۔ خدایا تیرے سوا کوئی رب نہیں اور اس نعمت جیسی مربی کوئی ذات نہیں ۔ آمین
وجہ سوم :موسم ربیع میں آپ کی تشریف آوری گویا آپ کی شریعت بیضاء کے مشابہ ہے۔( مثلا) موسم بہار تمام موسموں سے عمدہ معتدل ہوتا ہے کہ اس میں نہ ہی تو پریشان کن گرمی ہوتی ہے اور نہ ہی نقطہ انجماد تک پہنچھنے والی سردی ہوتی ہے کہ اس میں اس کے شب و روز میں طول و اختصار پایا جاتا ہے بلکہ سبھی میانہ روی درجہ پر ہوتے ہیں ۔ اور ( یہ امر تع نہایت مبین ہے کہ ) موسم بہار کی فصل نقصان دہ بیماریوں اوی علل ع وعوارض سے بہ نسبت پت جھڑ کے موسم کے ( مکمل ) محفوظ ہوتے ہیں اور اسی طرح انسانی جسم بھی ان امراض سے جو موسم خزاں میں متوقع ہوتے ہیں بچے رہتے ہیں نیز جس طرح موسم بہار میں اگوریاں اپنے پورے زور کے ساتھ باہر آتی ہیں یونہی اس موسم میں انسانی مزاج میں نشاط، طبیعت میں فرحت اور بدن میں درستگی بھر پور کر آتی ہے مطلب یہ کہ جس طرح قوائے انسانی کے اسباب میں قوت و طاقت اپنے شباب پر ہوتی ہے ، اسی طرح انسانی ابدان میں بھی قوت اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ( اللہ والے ) اس موسم میں شب بیداری اور دن میں روزہ داری سے ایک خاص لذت و سرور پاتے ہیں کیونکہ جیسا ابھی ابھی گزرچکا ہے کہ موسم بہار کے لیل و نہار میں نہ ہی تو موسم گرما کے ایام اور شبہائے سرما کا طول ہوتا ہے اور نہ ہی شب ہائے گرما اور ایام سرما کا اختصار ہوتا ہے اور نہ ہی جھلسا دینے والی حرارت اور ٹھٹھرا دینے والے ٹھنڈک ہوتی ہے بلکہ پع شے میں اعتدال و توسط ہی ہوتا ہے۔ تو ماہ ربیع الاول میں آپ کی آمد آپ کی شریعت کے مشابہ ہے یعنی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شریعت میں میانہ پن ہے کہ نہ ہی تو اس میں پہلی شریعتوں جیسی سختیاں ہیں اور نہ ہی انتہائی نرمیاں ۔ اسی طرح موسم ربیع ( جو تمام موسموں میں متوسط ہے ) میں آپ کے ولود مسعود سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کے ہر ایک معاملہ میں توسط ہی توسط ہے۔
وجہ چہارم:
اللہ جل مجدہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہ ربیع میں تخلیق فرما کر یہ بتایا کہ زمان و مکان کی خوبیاں و بزرگیاں آپ ہی کے وجود با برکات سے وابستی ہیں نہ یہ کہ کسی جگہ یا کسی وقت کی خوبی سے آپ کو خوبیاں ملی ہیں بلکہ وہ جگہ اور وہ وقت کہ جس میں آپ جلوہ افروز ہو گئے وہ سب زمان و مکان سے بڑھ کر با برکت ہا گیا۔
اگر آپ کا ورود مسعود ماہ محرم یا شعبان یا رمضان یا شب جمعہ یا یوم جمعہ میں ہوتا تو بظاہر کوئی وہمی کہہ سکتا تھا کہ آپ کو ان ( مذکورہ ) اوقات سے ہی بزرگیاں و خوبیاں ملی ہیں ۔ بدیں وجہ اللہ جل مجدہ نے آپ کا میلاد مبارک ان مذکورہ اوقات مبارکہ کے علاوہ رکھا تا کہ اللہ کے ہاں آپ کا جو مرتبہ و مقام ہے اور اللہ تعالٰی کے جو الطاف و انعامات آپ پر ہیں واضح ہو جائیں ۔ اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ کسی نے آپ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں جب پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا ( اس لئے لہ) اس دن میری ولادت ہوئی تھی۔
جب یوم پیر کو اپنی ولادت کی آپ نے خود وضاحت فرمادی تو اسی سے اس دن کے “ اور جس مہینے کا یہ دن تھا “ فضائل بھی لعلوم ہو گئے کہ اس مہینے کے اس دن کو میلاد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اختصاص حآصل ہے ۔( اور یہی سب سے بڑی فضلیت ہے )۔

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
muhammad khurshid ali
Moderator
Moderator
avatar

Posts : 371
Join date : 05.12.2009
Age : 36
Location : Rawalpindi

PostSubject: Re: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ربیع الاول اور پیر کے دن کیوں تشریف لائے   Fri 12 Feb 2010 - 14:03


=================================================================================
Back to top Go down
View user profile
sohnee

avatar

Posts : 68
Join date : 15.12.2009
Age : 32
Location : rawalpindi

PostSubject: Re: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ربیع الاول اور پیر کے دن کیوں تشریف لائے   Sat 13 Feb 2010 - 8:31

Back to top Go down
View user profile
Sponsored content




PostSubject: Re: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ربیع الاول اور پیر کے دن کیوں تشریف لائے   

Back to top Go down
 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ربیع الاول اور پیر کے دن کیوں تشریف لائے
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: رضائے محمد ﷺ لائبریری :: اسلامی مہینے :: ربیع الاول و میلاد النبی-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | www.sosblogs.com