Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 میدان تیہ (عجائب القرآن)

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 37
Location : Rawalpindi

PostSubject: میدان تیہ (عجائب القرآن)   Fri 4 Dec 2009 - 5:57

میدان تیہ

جب فرعون دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور تمام بنی اسرائیل مسلمان ہو گئے اور جب حضرت موسٰی علیہ السلام کو اطمینان نصیب ہو گیا تو اللہ تعالٰی کا حکم ہوا کہ آپ بنی اسرائیل کا لشکر لے کر ارض مقدس ( بیت المقدس ) میں داخل ہو جائیں۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی قوم کا قبضہ تھا جو بدترین کفار تھے اور بہت طاقتور و جنگجو اور نہایت ہی ظالم لوگ تھے۔ چنانچہ
حضرت موسٰی علیہ السلام چھ لاکھ بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر قوم عمالقہ سے جہاد کیلئے روانہ ہوئے مگر جب بنی اسرائیل بیت المقدس کے قریب پہنچے تو ایک دم بزدل ہو گئے اور کہنے لگے کہ اس شہر میں ‘ جبارین ‘ ( عمالقہ ) ہیں جو بہت ہی زور آور اور زبردست ہیں۔ لٰہذا جب تک یہ لوگ اس شہر میں رہیں گے ہم ہرگز ہرگز شہر میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ بنی اسرائیل نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے یہاں تک کہہ دیا کہ اے موسٰی آپ اور آپ کا خدا جاکر اس زبردست قوم سے جنگ کریں۔ ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ بنی اسرائیل کی زبان سے یہ سن کر حضرت موسٰی علیہ السلام کو بڑا رنج و صدمہ ہوا اور آپ نے باری تعالٰی کے دربار میں یہ عرض کیا کہ
رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین ( پ6، المائدۃ: 25 )
ترجمہ کنزالایمان: اے رب میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ۔
اس دعا پر اللہ تعالٰی نے اپنے غضب و جلال کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ

فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ ج یتیھون فی الارض ط فل تاس علی القوم الفسقین ( پ6، المائدۃ: 26 )
ترجمہ کنزالایمان: تو وہ زمین ان پر حرام ہے چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں تو تم ان بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ چھ لاکھ بنی اسرائیل ایک میدان میں چالیس برس تک بھٹکتے رہے مگر اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ اسی میدان کا نام ‘ میدان تیہ ‘ ہے۔ اس میدان میں بنی اسرائیل کے کھانے کیلئے من و سلوٰی نازل ہوا اور پتھر پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا مار دیا تو پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہو گئے۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے بار بار مختلف عنوانوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے جس میں سے سورہ ء مائدہ میں یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ مذکور ہوا ہے جو بلاشبہ ایک عجیب الشان واقعہ ہے جو بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور شرارتوں کی تعجب خیز اور حیرت انگیز داستان ہے مگر اس کے باوجود بھی حضرت موسٰی علیہ السلام کی محبت و شفقت بنی اسرائیل پر ہمیشہ رہی کہ جب یہ لوگ میدان تیہ میں بھوکے پیاسے ہوئے تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے دعا مانگ کر ان لوگوں کے کھانے کیلئے من و سلوٰی نازل کرایا اور پتھر پر عصا مار کر بارہ چشمے جاری کرا دیئے اس سے حضرت موسٰی علیہ السلام کے صبر اور آپ کے حلم اور تحمل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
طلب گار دعا آف لائن ہے اقتباس کے ساتھ جواب دیں
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
 
میدان تیہ (عجائب القرآن)
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: فیضِ قرآن :: فیضِ قرآن :: قرآنیات-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | www.sosblogs.com