Raza e Muhammad
رضائے محمد ﷺ پر آپ کو خوش آمدید



 
HomeGalleryFAQUsergroupsRegisterLog in
www.kanzuliman.biz.nf
Raza e Muhammad

Hijri Date

Latest topics
» نماز کے اوقات (سوفٹ وئیر)
Wed 14 Aug 2013 - 4:43 by arshad ullah

» بے مثل بشریت
Tue 12 Feb 2013 - 6:53 by Administrator

» Gucci handbags outlet online
Thu 17 Jan 2013 - 2:19 by cangliang

» hermes Birkin 30
Thu 17 Jan 2013 - 2:18 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Sun 13 Jan 2013 - 6:06 by cangliang

» Cheap Christian Louboutin Flat
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» fashion CHRISTIAN LOUBOUTIN shoes online
Sun 13 Jan 2013 - 6:05 by cangliang

» Christian Louboutin Evening Shoes
Wed 9 Jan 2013 - 5:36 by cangliang

» CHRISTIAN LOUBOUTIN EVENING
Wed 9 Jan 2013 - 5:35 by cangliang

Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Flag Counter

Share | 
 

 امام احمد رضا خلق جميل كے مهر درخشاں

Go down 
AuthorMessage
Administrator
Admin
Admin
avatar

Posts : 1220
Join date : 23.02.2009
Age : 38
Location : Rawalpindi

PostSubject: امام احمد رضا خلق جميل كے مهر درخشاں   Thu 21 Jan 2010 - 8:34

عالمِ تصور ميں جب بريلي كے تاج دار امام احمد رضا كا خاكه ابھرتا هے تو دل و دماغ عشقِ رسول كي خوشبو سے مهك اٹھتے هيں اور هر طرف علم و فن كي قنديليں جگمگا اٹھتي هيں۔ ايك سو سے زياده علوم و فنون پر قريب ايك هزار كتابيں لكھنا كسي فردِ واحد كا كام نهيں۔ ان كي ذات فردِ واحد ميں انجمن در انجمن تھي۔ ان كي زندگي كے جس رخ كو نگاه اٹھا كر ديكھيے، وه علم و فضل اور كردار و اخلاق كے بلند قامت مرد كامل نظر آتے هيں۔ان كے علم و حكمت كي سر پٹكتي موجوں سے هزاروں نهريں نكليں، جن كي علمي آب كاريوں سے عرب و عجم شاداب و سرشارهو گئے۔ وه سراپا جمال اور ان كا هر كردار پيكرِ اخلاق تھا ۔ ان كي محفليں علم و عشق سے لبريز رهتي تھيں۔ ان كي حيات كا هر گوشه اخلاقِ نبوي عليه الصلوٰۃ والتسليم كا پرتوِ جمال تھا ، جو ان سے ايك بار ملاقات كر ليتا بار بار ملاقات كا شوقِ فراواں لے كر اٹھتا۔ وه گاليوں كا جواب بھي مسكراهٹوں كے پھولوں سے دينے كا هنر جانتے تھے ۔ غيروں نے ان كا تعارف شدت پسند كي حيثيت سے كرايا، مگر يه ان كي نظر كا فرق تھا ۔ غيروں نے جس وصف كو تشدد سے تعبير كيا ، وه ان كا تصلب في الدين تھا۔ دشمنانِ رسول كے خلاف شدت برتنا ايمان كا تقاضابھي تھا اور اخلاق كا داعيه بھي ۔ ان كي اقليمِ حيات ميں منافقت اور مداهنت كے ليے كوئي جگه نهيں تھي۔


امام احمد رضا اپنے آقا مدني تاج دار صلي الله عليه وسلم كے سچے غلام اور پكے وفادار تھے۔ انھوں نے اپنے آقا كي سنتوں سے كبھي سر مو انحراف نهيں كيا۔ وه كاروبارِ حيات سے لے كر محراب و منبر تك شريعت و طريقت كے پابند رهتے تھے ۔ جس كي آنكھوں ميں اخلاقِ نبوي كي تصويريں تيرتي هوں وه كبھي ترش رو نهيں هو سكتا، جو نبيِ رحمت كي اداوں كا داعي هو ، كبھي شدت پسند نهيں هو سكتا۔ وه سراپا انسانيت تھے، حقوقِ انساني كي ادائيگي ان كا طرهامتياز تھا ، تواضع و انكساري ان كا وصفِ جميل تھا۔ ان كي دل آويز زندگي كا مطالعه كيجيے ، محبت هي محبت نظر آئے گي ۔ در اصل عام طور پر ان كي علمي خدمات پر لكھا گيا ، ان كے رد بدعات و منكرات كو موضوعِ سخن بنايا گيا ۔ گستاخانِ رسول كے خلاف ان كي تنقيدات و تعاقبات كو عنوانِ قلم بنايا گيا، اس ليے ان كي نرم خوئي اور منكسر المزاجي پردهخفا ميں چلي گئي۔ غيروں كو بھي انھيں شدت پسند كي حيثيت سے بد نام كرنے كا خوب موقع ملا، جس كے نتيجے ميں ان كي فكر و شخصيت شدت پسندي كي علامت بن كر ره گئي۔ حالاں كه يه ايك عظيم جمالياتي فكر كي حامل بلند اخلاق شخصيت كے ساتھ نا انصافي هے۔


يه ايك زميني حقيقت هے كه هر بلند شخصيت كے مختلف جهات هوتے هيں اور يه هوتا رها هے كه بعض حالات كے تقاضے شخصيت كے بعض اهم پهلووں كو نظر انداز كر ديتے هيں۔ امام احمد رضا كے دور سے لے كر آج تك دشمنانِ رسول كا رد بڑا حساس موضوع رها هے۔ امام احمد رضا كے فكر و قلم نے اس رخ پر بڑا اهم اوركليدي كردار ادا كيا هے ۔ ناموسِ رسالت كے تحفظ كے ليے ان كا قلم هميشه بيدار اور برق بار رها هے۔اس ليے اس ميدان ميں ان كي سخت گيري تو خوب مشتهر هوئي، مگر ان كي حيات كے انسانيت نواز اور اخلاقي پهلو پس ديوار چلے گئے۔ اخلاص و للهيت، اخلاق و تقويٰ، ايثار و وفا، خدمتِ خلق، حسنِ سلوك، غريبوں كي غم گساري، اعزه و اقارب كي صله رحمي، مريضوں كي عيادت، بڑوں كي تعظيم، چھوٹوں پر شفقت، احباب و تلامذه پر بارشِ كرم، سائلوں پر جود و سخا جيسے اوصاف و كمالات ان كي دل كش حيات كے درخشاں پهلو هيں۔ اخلاقيات كے ان دل آويز گوشوں پر آپ نے زندگي بھر لكھا بھي اور اپني زندگي ميں ان پر عمل بھي كر كے دكھايا۔ نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم كي زندگي اخلاقيات كے هر پهلو كي تكميل كے ليے ايك جامع دستور العمل هے ۔ ايك بندهمومن كو پيكرِ اخلاق هونے كے ليے يه كافي هے كه اس كي زندگي عشقِ رسول كے سوزِ دروں سے لبريز اور اتباعِ رسول سے عبارت هو اور سچي بات يه هے كه كامل اطاعت گهري محبت هي كا نتيجه هوتي هے ۔ محبت كے بغير اطاعت بے كيف اور بے رنگ نظر آتي هے۔


ذاتي اوصاف و خصائل پر ايك نظر: امام احمد رضا قدس سره كي نشست و برخاست اور رفتار و گفتار سنتِ رسول صلي الله عليه وسلم كے سانچے ميں ڈھلي هوئي تھي، نرم خوئي اور تواضع و انكساري ان كے ايك ايك عمل ميں نماياں تھي۔ ان كي عادات و خصائل پر نگاه ڈالنے كے بعد يه سوچا بھي نهيں جا سكتا كه ان كے مزاج ميں شدت رهي هوگي۔به قول سيد ايوب علي:٫٫اكثر اوقات ايسا هوا كه ميں اور برادرم قناعت علي پھاٹك سه دري كے اندر كام كر رهے هيں اور اعليٰ حضرت كاشانهاقدس سے باهر تشريف لائے اور پورا صحن بيروني نشست گاه طے فرما كر خود تقديم سلام فرمائي، تب هم لوگ خبر دار هوئے۔٬٬


انھيں كا بيان هے كه ايك پاوں دوسرے پاوں كے زانو پر ركھ كر بيٹھنے كو ناپسند فرماتے، چوں كه كمر ميں هميشه درد رها كرتا تھا ، اس ليے گاوتكيه پشتِ مبارك كے پيچھے ركھا كرتے تھے، اس سے پيش تر كه يه مرض نهيں تھا ، كبھي گاوتكيه استعمال نه فرمايا۔ كتب بيني يا لكھتے وقت پاوں مبارك سميٹ كر دونوں زانو اٹھائے رهتے، ورنه سيدھا زانوے مبارك اٹھا رهتا اور دوسرا بچھا رهتا، اور كبھي باياں زانو ضرورتاً اٹھاتے تو داهنا بچھا ليا كرتے تھے، ذكرِ ميلادِ مبارك ميں ابتدا سے آخر تك ادباً دو زانو بيٹھے رها كرتے ، يوں هي وعظ فرماتے، چار پانچ گھنٹے كامل دو زانو هي منبر شريف پر رهتے۔


جناب سيد ايوب علي كا بيان هے كه امام احمد رضا كي بعض عادات كريمه يه بھي تھيں كه به شكل نام اقدس ﴿محمد﴾ صلي الله عليه وسلم استراحت فرمانا، ٹھٹھا نه لگانا، جمائي آنے پر انگلي دانتوں ميں دبا لينا اور كوئي آواز نه هونا، كلي كرتے وقت دست چپ ريشِ مبارك پر ركھ كرخميده سر هو كر پاني منه سے گرانا، قبله كي طرف رخ كر كے كبھي نه تھوكنا، نه قبله كي طرف پاے مبارك دراز كرنا ، نمازِ پنج گانه مسجد ميں با جماعت ادا كرنا، فرض نماز با عمامه پڑھنا۔﴿حيات اعليٰ حضرت، ص:92﴾


حياتِ اعليٰ حضرت ميں انھيں كا بيان هے كه حضور كي غذا زياده سے زياده ايك پيالي شوربا بكري كا بغير مرچ كے اور ايك يا ڈيڑھ بسكٹ سوجي كا اور وه بھي روزانه نهيں بلكه بسا اوقات ناغه بھي هوتا۔ هفته ميں دو بار جمعه اور سه شنبه كو ملبوسات شريف تبديل كرتے تھے ، هاں اگر پنج شنبه كو يومِ عيدين يا يوم النبي اگر پڑے تو دونوں دن لباس تبديل فرماتے يا شنبه كے دن يه مبارك تقريبيں آتيں، تب بھي دونوں دن تبديل فرماتے۔ ان دونوں تقريبوں كے علاوه سوا يوم معين كے اوركسي وجه سے لباس تبديل نه فرماتے۔


تواضع و انكساري: امام احمد رضا عجز و انكسار كے بھي پيكر تھے ۔ جناب سيد ايوب علي كا بيان هے كه ايك مرتبه پيلي بھيت شريف حضرت مولانا وصي احمد محدث سورتي قدس سره العزيزكے عرس سراپا قدس سے واپسي صبح كي گاڑي سے هوئي۔ حضور نے اس وقت اسٹيشن پر آكر وظيفه كي صندوقچي حاجي كفايت الله صاحب سے طلب فرمائي، كسي نے جلدي سے آرام كرسي ويٹنگ روم سے لا كر بچھا دي۔ ارشاد فرمايا، يه تو بڑي متكبرانه كرسي هے ۔ جتني دير تك وظيفه كيا آرام كرسي كے تكيه سے پشت مبارك نه لگائي۔﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:107﴾


حضرت سيد شاه اسماعيل حسن مياں كا بيان هے كه حضرت جد امجد سيدنا شاه بركت الله قدس سره العزيز كا عرس شريف ميرے والد صاحب قدس سره نهايت اهتمام و انتظام اور اعليٰ پيمانے پر كيا كرتے تھے ، اس ميں بار ها حضرت مولانا بھي تشريف لاتے اور ميرے اصرار سے بيان بھي فرمايا، مگر اس طرح كه حاضرين مجلس سے فرماتے هيں:


٫٫ابھي اپنے نفس كو وعظ نهيں كهه پايا دوسروں كو وعظ كے كيا لائق هوں۔ آپ حضرات مجھ سے مسائل شرعيه دريافت فرمائيں، ان كے بارے ميں جو حكمِ شرعي ميرے علم ميں هوگا﴿چوں كه بعد سوال اسے ظاهر كر دينا حكمِ شريعت هے﴾ ميں ظاهر كر دوں گا۔٬٬ ﴿حيات اعليٰ حضرت ، مطبوعه مكتبه نبويه، لاهور، ص:106﴾


اساتذهكرام كا ادب و احترام: امام احمد رضا قدس سره نے جن اساتذهكرام سے تعليم حاصل كي ان كا بے پناه ادب و احترام كرتے، خود امام احمد رضا نے اساتذه كي تعظيم و تكريم كے تعلق سے جو كچھ تحرير فرمايا وه پڑھنے سے تعلق ركھتا هے۔ امام احمد رضا اساتذه كي تعظيم كے حوالے سے ايك سوال كا جواب ديتے هوئے رقم طراز هيں:


٫٫عالمگيري ميں و نيز امام حافظ الدين كروري سے هے، : امام زند ويستي نے فرمايا،عالم كا حق جاهل اوراستاذ كا شاگرد پر يكساں هے، اور وه يه هے كه اس سے پهلے بات نه كرے، اور اس كے بيٹھنے كي جگه اس كے غيبت ميں بھي نه بيٹھے، اور چلنے ميں اس سے آگے نه بڑھے۔ اسي ميں غرائب سے هے:ينبغي للرجل ان يراعي حقوق استاذه و آدابه لا يفتن بشيمن ماله٬٬آدمي كو چاهيے كه اپنے استاذ كے حقوقِ واجب كا لحاظ ركھے، اپنے مال ميں كسي چيز سے اس كے ساتھ بخل نه كرے، يعني جو كچھ اسے دركار هوبه خوشي خاطر حاضر كرے اور اس كو قبول كر لينے ميں اس كا احسان اور اپني سعادت جانے۔ اسي ميں تاتار خانيه سے هے: استاذ كے حق كو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں كے حق سے مقدم ركھے، اور جس نے اسے اچھا علم سكھايا اگرچه ايك هي حرف پڑھايا هو ، اس كے ليے تواضع كرے اور لائق نهيں كه كسي وقت اس كي مدد سے باز رهے، اپنے استاذ پر كسي كو ترجيح نه دے ، اگر ايسا كرے گا تو اس نے اسلام كے رشتوں سے ايك رسي كھول دي۔ استاذ كي تعظيم سے هے كه وه اندر هو اور يه حاضر هوا تو اس كے دروازے پر هاتھ نه مارے، بلكه اس كے باهر آنے كا انتظار كرے۔


علما فرماتے هيں جس سے اس كے استاذ كو كسي طرح ايذا پهنچے وه علم كي بركت سے محروم رهے گا اور اگر اس كے احكام واجبات شرعيه هيں تو ظاهر هے كه ان كا لزوم دوباره هو گيا اور اس كي نافرماني صريح راه جهنم هے۔﴿ملخصاً فتاويٰ رضويه ج:9،ص:6768﴾


امام احمد رضا كي يه تحرير تعظيم استاذ كے تعلق سے انتهائي جامع اور ايمان افروز هے۔ اسلام ميں استاذ كا مقام والدين كريمين سے بھي زياده هے۔ آپ اس سے اندازه كر سكتے هيں كه امام احمد رضا اپنے اساتذه كي بارگاه كے كتنے ادب شناس هوں گے۔ ابتدائي كتابوں كے بعد امام احمد رضا نے ميزان و منشعب و غيره حضرت مولانا مرزا غلام بيگ سے پڑھيں۔ امام احمد رضا بآں فضل و كمال ان كا بے حد ادب و احترام كرتے ، ان كي هر بات پر سرِ تسليم خم كرتے۔ حضرت مولانا ظفر الدين رضوي تحرير فرماتے هيں:٫٫ايك زمانے ميں جناب مرزا صاحب كاقيام كلكته امرتا لين ميں تھا، وهاںسے اكثر سوالات جواب طلب بھيجا كرتے۔ فتاويٰ رضويه ميں اكثر استفتا ان كے هيں۔ انھيں كے ايك سوال كے جواب ميں اعليٰ حضرت نے رسالهمباركه٫٫تجلي اليقين بان نبينا سيد المرسلين٬٬ تحرير فرمايا۔اعليٰ حضرت ان كي بات بهت مانا كرتے تھے، جب كوئي اهم كام سمجھا جاتا تو لوگ حضرت مرزا مرحوم كو سفارشي لاتے، ان كي سفارش كبھي رائگاں نهيں جاتي تھي۔ اعليٰ حضرت ان كا بهت زياده خيال فرماتے اور وه جو كچھ عرض كرتے ان كو قبول فرماتے۔ بڑے صاحب تقويٰ اور اعليٰ حضرت كے فدائي اور جاں نثار تھے۔ ﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:9697﴾


عام طور پر ديكھا جاتا هے كه تلامذه جب بهت قابل اور مشهور هو جاتے هيں تو اپنے ابتدائي اساتذه كو خاطر ميں نهيں لاتے۔ مرزا صاحب امام احمد رضا كے ابتدائي استاذ تھے بلكه وه بعد ميں امام احمد رضا سے مسائل بھي دريافت كرتے تھے مگر اس كے باوجود امام احمد رضا كا رويه ان كے ساتھ ايك شاگردهي كي طرح رها۔ يه امام احمد رضا كا كمالِ اخلاق اور حد درجه تواضع و انكساري تھي۔


والدين كريمين كي تعظيم و تكريم: استاذ الاساتذه حضرت مولانا نقي علي خاں بريلوي عليه الرحمه امام احمد رضا كے والد ماجد بھي تھے اور استاذ گرامي بھي ۔ آپ كے دل ميں ا ن كا جو اعليٰ مقام تھا ، اسے قيدِ تحرير ميں نهيں لايا جا سكتا ، امام احمد رضا شهرت و مقبوليت كي بلنديوں پر پهنچنے كے باوجود اپنے والد ماجد كي بے پناه تعظيم و تكريم فرماتے۔ اسي طرح والده ماجده كي بھي بے حد تعظيم و تكريم كرتے اور ان كے هرحكم پر سرِ نياز خم كرتے۔حضرت مولانا حسنين رضا بريلوي كا بيان هے:٫٫اعليٰ حضرت قبله حضرت حجۃ الاسلام كو گھر كے ايك دالان ميں پڑھانے بيٹھتے۔ وه پچھلا سبق سن كر آگے سبق ديتے تھے ۔ پچھلا سبق جو سنا تو وه ياد نه تھا، اس پر ان كو سزا دي۔ اعليٰ حضرت كي والده محترمه جو دوسرے دالان كے كسي گوشے ميں تشريف فرما تھيں، انھيں كسي طرح اس كي خبر هو گئي۔ وه حضرت حجۃ الاسلام كو بهت چاهتي تھيں، غصه ميں بھري هوئي آئيں اور اعليٰ حضرت قبله كي پشت پر ايك دو هنڑ مارا اور فرمايا تم ميرے حامد كو مارتے هو۔ اعليٰ حضرت فوراً جھك كر كھڑے هو گئے اور اپني والده محترمه سے عرض كياكه اماں اور ماريے جب تك كه آپ كا غصه فرو نه هو، يه كهنے كے بعد انھوں نے ايك دو هنڑ مارا، اعليٰ حضرت سر جھكائے كھڑے رهے ، يهاں تك كه وه خود واپس تشريف لے گئيں، اس وقت تو جو غصه ميں هونا تھا هو گيا، مگر اس واقعه كا ذكر جب كرتيں تو آب ديده هو كر فرماتيں كه دو هنڑ مارنے سے پهلے ميرے هاتھ كيوں نه ٹوٹ گئے۔ ايسے مطيع و فرماں بردار بيٹے كو جس نے خود كو پٹنے كے ليے پيش كر ديا، دوسرا هنڑ كيسے مارا، افسوس۔ ﴿سيرت اعليٰ حضرت،ص:92﴾


حضرت سيد شاه اسماعيل حسن مياں كا بيان هے كه مولانا ﴿امام احمد رضا﴾ كے والد ماجد مولانا نقي علي خاں كا انتقال هو اتو وه اپنے حصهجائداد كے خود مالك تھے ، مگر سب اختيار والده ماجده كے سپرد تھا، وه پوري مالكه اور متصرفه تھيں، جس طرح چاهتيں صرف كرتيں۔ جب مولانا كو كتابوں كي خريداري كے ليے كسي غير معمولي رقم كي ضرورت پڑتي تو والده ماجده كي خدمت ميں درخواست كرتے اور اپني ضرورت ظاهر كرتے۔ جب وه اجازت ديتيں اور درخواست منظور كرتيں تو كتابيں منگواتے تھے۔﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:108﴾


تعظيم والده كے تعلق سے ايسي مثاليں ناياب نهيں تو كم ياب ضرور هيں۔ يقينا امام احمد رضا علم و اخلاق اور تواضع و انكساري كے پيكرِ جميل تھے۔


علماے كرام كا مقامِ عظمت: امام احمد رضا اپنے معاصرين علما كا بے حد احترام كرتے تھے۔ خطوط لكھتے تو انتهائي بلند آداب و القاب تحرير فرماتے، ملاقات كے وقت تواضع و انكساري كا مظاهره فرماتے، معاصرين ميں اخص ترين حضرت محدث سورتي تھے۔ جس وقت دونوں كي نظريں ملتيں پهلے مصافحه پھر معانقه فرماتے، ايك دوسرے كي دست بوسي فرماتے۔ خط ميں القاب و آداب اس طرح تحرير فرماتے:٫٫الاسد الاسد والارشد الارشد، كنز الكرامۃ، جبل الاستقامۃ۔٬٬حضرت مولانا ظفر الدين قادري نے حيات اعليٰ حضرت ميں ايك واقعه تحرير فرمايا هے: ٫٫پيلي بھيت ميں ايك دعوت ميں حضرت محدث سورتي اور اعليٰ حضرت تشريف فرما تھے، دستر خوان بچھانے سے پيش تر ميزبان نے آفتابه و طشت ليا كه هاتھ دھلايا جائے۔ حضرت محدث سورتي نے عام عرفي دستور كے مطابق ميزبان كو اشاره كيا كه اعليٰ حضرت كے هاتھ پهلے دھلائے جائيں۔ اعليٰ حضرت نے برجسته فرمايا:


٫٫آپ محدث هيں اور عالم بالسنۃ هيں، آپ كا يه فيصله بالكل حق اور آپ كي شان كے لائق هے كيوں كه سنت يه هے كه اگر ايك مجمع مهمانوں كا هو تو سب سے پهلے چھوٹے كا هاتھ دھلايا جائے اور آخر ميں بڑے كا هاتھ دھلايا جائے تا كه بزرگ كو هاتھ دھونے كے بعد دوسروں كے هاتھ دھونے كا انتظار نه كرنا پڑے اور كھانا ختم هو جانے كے بعد سب سے پهلے بڑے كا هاتھ دھلايا جائے ، ميں شروع ميں ابتدا كرتا هوں ليكن كھا چكنے كے بعد آپ كو ابتدا كرني هوگي۔٬٬


محدث اعظم هند مولانا سيد محمد كچھوچھوي كا بيان هے كه اس دستر خوان پر ميں بھي حاضر تھا ۔ اعليٰ حضرت كے ارشاد پر حضرت محدث صاحب نے هاتھ بڑھا كر طشت كو اپني طرف كھينچا كه سب سے پهلے ميرے هاتھ دھلائے جائيں اور اعليٰ حضرت نے مسكراتے هوئے چهرے سے فرمايا كه اپنے فيصلے كے خلاف عمل در آمد آپ كي شان كے خلاف هے۔﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:138﴾


امام احمد رضا كا يه عمل كسي ايك عالم كے ساتھ نه تھا بلكه تمام علماے اهلِ سنت كے ساتھ يهي محبت كا برتاوفرماتے ، اگر كوئي علما كي توهين كرتا تو سخت برهم هوتے ۔ علماے كرام كي تعظيم اور توهين كے حوالے سے ايك سوال كا جواب ديتے هوئے رقم طراز هيں:


٫٫علماے كرام كي شان تو ارفع و اعليٰ هے ۔ حديث ميں هے رسول الله صلي الله عليه وسلم فرماتے هيں :لا يستخف بحقھم الا منافقعلما كے حق كو هلكا نه جانے مگر منافق﴿رواه الطبراني في الكبير عن ابي امامۃ رضي الله عنه﴾۔ دوسري حديث ميں فرماتے هيں صلي الله عليه وسلم:لا يستخف بحقھم الا منافق بين النفاقان كے حق كو هلكا نه سمجھے گا مگر كھلا منافق﴿رواه اابو الشيخ في التوبيخ عن جابر بن عبد الله الانصاري رضي الله عنهما﴾۔ اور فرماتے هيںصلي الله تعاليٰ عليه وسلم: ليس من امتي من لم يعرف لعالمنا حقهجوهمارے عالم كا حق نه پهچانے وه ميري امت سے نهيں﴿رواه احمد والحاكم والطبراني في الكبير عن عباده بن الصامت رضي الله تعاليٰ عنه﴾، پھر اگر عالم كو اس ليے برا كهتا هے كه وه عالم هے جب تو صريح كافر هے۔ اور اگربه وجه علم اس كي تعظيم فرض جانتا هے مگر اپني كسي دنيوي خصومت كے باعث برا كهتا هے ، گالي ديتا، تحقير كرتا هے تو سخت فاسق و فاجر هے اور اگر بے سبب رنج ركھتا هے تو مريض القلب، خبيث الباطن هے اور اس كے كفر كا انديشه هے۔خلاصۃ ميں هے :من ابغض عالماً غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر۔منح الروض الازهر ميں هے٫٫الظاهر انه يكفر٬٬﴿فتاويٰ رضويه ،ج:9،ص:140﴾


امام احمد رضا قدس سره حسب مراتب علماے كرام كا احترام كرتے، اپنے اكابر و مشائخ كي شان ميں قصيدے لكھتے بلكه اپنے اصاغر علما اور تلامذه كي بھي مدح سرائي كرتے ليكن نوابوں اور بادشاهوں كو خاطر ميں نهيں لاتے۔ ايك بار كسي نے نواب نانپاره، ضلع بهرائچ كي قصيده خواني كي خواهش ظاهر كي تو آپ نے ايك نعت مقدس لكھي جس كے مقطع ميں بر جسته اظهار برهمي فرمايا


كروں مدح اهلِ دول رضا، پڑے اِس بلا ميں مري بلا ميں گدا هوں اپنے كريم كا، مرا دين پارهناں نهيں


ملك العلما حضرت مولانا ظفر الدين قادري فرماتے هيں:


٫٫ميں نے علماے كرام اور مشائخِ عظام كي جهاں تك زيارت كي اور معززين دنيا داروں كو ديكھا ، اكثر ايسا هي پايا، كه ان كي تعريف كيجيے تو بهت خوش، اور جهاں كسي بات پر اعتراض كيا اس درجه خفا هوئے كه اس كي صورت بھي ديكھني نهيں چاهتے۔ ان ميں سب سے اول نمبر جسے مستثنيٰ ديكھا، وه ذاتِ گرامي صفات اعليٰ حضرت امام اهلِ سنت كي تھي اور اس كي وجه صرف يه تھي كه آپ كے سب كام محض الله كے ليے تھے ، نه كسي كي تعريف سے مطلب نه كسي ملامت كا خوف تھا۔ حديث شريف :٫٫من احب لله وابغض لله و اعطي لله و منع لله فقد استكمل الايمان٬٬ كے مصداق تھے۔ آپ كسي سے محبت كرتے تو الله هي كے ليے ، مخالفت كرتے تو الله هي كے ليے ، كسي كو كچھ ديتے تو الله هي كے ليے اور كسي كو منع كرتے تو الله هي كے ليے۔ جيسا كه خود ايك رباعي ميں فرماتے هيں


نه مرا نوش ز تحسيں نه مرا نيش ز طعن نه مرا هوش بمدحے نه مرا گوش ذمے


منم و كنج خمولي كه نه گنجد در وے جز من و چند كتابے و دوات و قلمے


﴿حيات اعليٰ حضرت ،ص:140﴾


سادات و مشائخ كا احترام: اسي طرح اعليٰ حضرت سادات كرام كا بے پناه ادب و احترام كرتے۔ مولوي محمد ابراهيم صاحب فريدي صدر مدرس مدرسه شمس العلوم بدايوں كا بيان هے كه حضرت مهدي حسن سجاده نشين سركار كلاں مارهره شريف نے فرمايا كه:


٫٫ميں جب بريلي آتا تواعليٰ حضرت خود كھانا لاتے اور هاتھ دھلاتے۔ حسب دستور ايك بار هاتھ دھلاتے وقت فرمايا۔ حضرت شهزاده صاحب انگوٹھي اور چھلے مجھے دے ديجيے، ميں نے اتار كر دے ديے اور وهاں سے ممبئي چلا گيا۔ ممبئي سے مارهره واپس آيا تو ميري لڑكي فاطمه نے كها ابا بريلي كے مولانا صاحب كے يهاں سے پارسل آيا تھا جس ميں چھلے اور انگوٹھي تھے، يه دونوں طلائي تھے اور نامه ميں مذكور تھا ، شهزادي يه دونوں طلائي اشيا آپ كي هيں۔٬٬ ﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:111112﴾


يه تھا اعليٰ حضرت كا امر بالمعروف و نهي عن المنكر اور ساتھ ساتھ اكابر و مشائخ كي تعظيم و تكريم كا منفرد انداز۔


اعليٰ حضرت امام اهلِ سنت جس طرح اشدائ علي الكفار كے مصداق تھے اسي طرح رحمائ بينهم كي بھي زنده تصوير تھے۔ علماے اهلِ سنت كي عزت وقدر ايسي كرتے كه بايد و شايد خصوصاًحضرت تاج الفحول محب الرسول مولانا شاه عبد القادر بدايوني قدس سره العزيز كي بهت هي عزت كرتے تھے۔ اس عزت و توقير كے باوجود بعض بعض مسئلوں ميں كچھ اختلاف بھي تھا اور بعض اختلافي مسائل ميں گفتگو هو كر پھر اتفاق بھي هو جاتا تھا۔


مشائخ كے تعلق سے اعليٰ حضرت انتهائي محتاط تھے، اگر كسي مسئله ميں ان كي تحقيق هوتي ليكن ان كے مشائخ كا رجحان اس كے خلاف هوتا تو سر تسليم خم كر ديتے۔ حضرت مولانا سيد شاه اسماعيل حسن مياں مارهروي كا بيان هے كه ايك بار ان دونوں حضرات ميں ٫٫مسئله عينيت وغيريت صفات باريِ تعاليٰ٬٬ پر بحث هوئي۔ مولانا عبد القادر صاحب فرماتے كه صوفيا كے صفات كو عين ذات ماننے اور فلاسفه كے عين ذات ماننے ميں فرق هے اور مولانا احمد رضا خاں صاحب اس فرق كے ماننے ميں اپنا تامل ظاهر فرماتے تھے ۔ آخر يه ٹھهري كه سيتا پور چليے اور وهاں حضور جد امجد سيدنا شاه اچھے مياں صاحب قدس سره العزيز كي مولفه كتاب ٫٫آئين احمدي٬٬ كي جلد عقائد ميرے كتب خانے ميں هے اور ديگر كتبِ صوفيا بھي موجود هيں ، ان ميں فرق ديكھ ليجيے۔ دونوں حضرات تشريف لائے اور آئين احمدي كي جلد عقائد سے كتاب زبدۃ العقائد مولفه حضرت سيد احمد كالپوي قدس سره جو همارے پيران سلسله سے هيں، مولانا عبد القادر صاحب نے نكال كر دكھائي۔ اسے ديكھ كر حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب نے فرمايا:


٫٫ميں بغير دليل تسليم كيے ليتا هوں كه صوفيه كے قول عينيت اور فلاسفه كے قول عينيت ميں فرق هے، اس ليے ميرے مرشدانِ عظام فرماتے هيں هم صفات كو عين ذات مانتے هيں وه اس طرح نهيں، جس طرح فلاسفه مانتے هيں ۔ اگرچه دليل سے يه فرق ميرے ذهن ميں اب تك نهيں آيا هے ۔ ليكن چوں كه ميرے مرشدانِ عظام يه فرماتے هيں اس ليے اپنے مرشدانِ عظام كے ارشاد پر سر تسليم خم كيے ديتا هوں۔٬٬ ﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:111﴾


احباب اهلِ سنت سے وفورِ محبت: اپنے احباب و معتقدين سے بھي بے پناه محبت كرتے تھے ، مولانا محمود جان صاحب نے سيٹھ سليمان صاحب كو آپ كے پاس بھيجا اور تعويذ دينے كي سفارش كي۔ آپ نے جناب سليمان صاحب كے ساتھ جو حسنِ سلوك كيا وه بهت اهميت كا حامل هے ۔ امام احمد رضا مولانا محمود جان صاحب كے نام اپنے مكتوب ميں لكھتے هيں:


٫٫سيٹھ سليمان عثمان تشريف لائے، مگر ايسے وقت ميں كه ميں بهت عليل هوں، ان كي خاطر كچھ نه كر سكا، ساڑھے چار مهينے كے قريب هوئے كه آنكھ دكھنے آئي تھي، جب سے آج تك لكھنے پڑھنے كے قابل نهيں، مسائل سنتا، جواب لكھوا ديتا هوں۔ بارهويں كي شام سے علالت شديده لاحق هوئي كه ايسي كبھي نه هوئي۔ يهاں تك كه ميں نے وصيت نامه لكھوا ديا۔ اس كے بعد مولا تعاليٰ نے اس بلاے شديد سے نجات بخشي مگر بقيه مرض اب تك هے اور ضعف اس قدر شديد هے كه مسجد تك جانے ميں تمام بدن ميں درد هونے لگتا هے، دعا كا حاجت مند هوں اور آپ كے اور آپ كے گھر كے ليے دعا كرتا هوں۔


بھائي سليمان صاحب نے مجھ سے تعويذ مانگا تھا، ميں آج كل لكھ نهيں سكتا، لهذا سب سے بهتر ان كي خاطريهي ميري سمجھ ميں آئي كه خاص اپنے ليے جو عظيم تعويذ 786خانے كا تيار كيا تھا، ان كي نذر كر دوں۔ زندگي اگر باقي هے تو اپنے ليے اور تيار كر ليا جائے گا۔ اس تعويذ كے منافع، وسعت رزق و بلندي مرتبه و استقامت دين حق و رحمت الٰهي هيں۔ ايك دن كامل كي محنت ميں لكھا جاتا هے۔ ميں نے بھائي سليمان صاحب كو وه چيز دي جو عمر بھر ميں صرف اپنے ليے تيار كي تھي، اور كسي كو نه دي تھي۔ آپ كے فرمانے كي اسي قدر تعميل كر سكا۔٬٬﴿مكتوبات امام احمد رضا بريلوي،ص:26﴾


آپ عام مسلمانوں كي بھي بهت عزت فرماتے اور مسلمانوں كو اس كي ترغيب بھي ديتے كه كوئي مسلمان پيٹھ پيچھے بھي كسي مسلمان كي غيبت نه كرے، بلكه ايك دوسرے كي عزت نفس كا احترام كريںاور باهم اخوت و محبت كا مظاهره كريں۔ امام احمد رضا مسلمانوں كي تعظيم و توقير كے حوالے سے فرماتے هيں:


٫٫بلا وجه شرعي كسي مسلمان جاهل كي بھي تحقير حرام قطعي هے۔ رسول الله صلي الله عليه وسلم فرماتے هيں:بحسب امري من الشر ان يحقر اخاه المسلم كل المسلم علي المسلم حرام دمه و عرضه و مالهآدمي كے بد هونے كو يه بهت هے كه اپنے بھائي مسلمان كي تحقير كرے، مسلمان كي هر چيز مسلمان پر حرام هے، خون، آبرو، مال۔﴿راه مسلم عن ابو هريره رضي الله تعاليٰ عنه﴾ اسي طرح كسي مسلمان جاهل كو بھي بے اذن شرع گالي دينا حرام قطعي هے۔رسول الله صلي الله عليه وسلم فرماتے هيں:٫٫سباب المسلم فسوق٬٬مسلمان كو گالي دينا گناه كبيره هے۔﴿رواه البخاري و مسلم و الترمذي والنسائي و ابن ماجه والحاكم عن ابن مسعود رضي الله تعاليٰ عنه﴾ اور فرماتے هيں صلي الله عليه وسلم:٫٫سباب المسلم كالمشرف علي الهلكۃ٬٬ مسلمان كو گالي دينے والا اس كے مانند هے جو عن قريب هلاكت ميں پڑا چاهتا هے۔﴿رواه الامام احمد و البزاز عن عبد الله بن عمر رضي الله تعاليٰ عنهما بسند جيد﴾ اور فرماتے هيں صلي الله عليه وسلم:٫٫من آذيٰ مسلماً فقد آذاني و من آذاني فقد آذي اللّٰه٬٬ جس نے كسي مسلمان كو ايذا دي اس نے مجھے ايذا دي اور جس نے مجھے ايذا دي اس نے الله تعاليٰ كو ايذا دي ۔﴿رواه الطبراني في الاوسط عن انس رضي الله تعاليٰ عنه بسند حسن﴾﴿فتاويٰ رضويه،ج:9،ص:140﴾


امام احمد رضا كي نظر ميں امير و غريب كا امتياز نهيں تھا وه ايك مسلمان هونے كي حيثيت سے سب كے ساتھ يكساں برتاوكرتے اور غريبوں كو بھي عزت كي نظر سے ديكھتے ۔ سيد ايوب علي كا بيان هے كه ايك صاحب جن كا نام مجھے ياد نهيں حضور كي خدمت ميں حاضر هوا كرتے تھے اور اعليٰ حضرت بھي كبھي كبھي ان كے يهاں تشريف لے جايا كرتے تھے ۔ ايك مرتبه حضور ان كے يهاں تشريف فرما تھے ، كه ان كے محله كا ايك بے چاره غريب مسلمان ٹوٹي هوئي پراني چارپائي پر جو صحن كے كنارے پڑي تھي، جھجھكتے هوئے بيٹھا هي تھا كه صاحبِ خانه نے نهايت كڑے تيوروں سے اس كي طرف ديكھنا شروع كيا، يهاں تك كه وه ندامت سے سر جھكائے چلا گيا۔ حضور كو اس صاحبِ خانه كي اس مغرورانه روش سے سخت تكليف پهنچي مگر كچھ فرمايا نهيں۔


كچھ دنوں كے بعد وه حضور كے يهاں آئے، حضور نے اپني چار پائي پر جگه دي۔ وه بيٹھے هي تھے كه اتنے ميں كريم بخش حجام حضور كا خط بنانے كے ليے آئے، وه اس فكر ميں تھے كه كهاں بيٹھوں ، حضور نے فرمايا كه بھائي كريم بخش ، كيوں كھڑے هو، مسلما ن آپس ميں بھائي بھائي هيں اور ان صاحب كے برابر بيٹھنے كا اشاره فرما ديا، وه بيٹھ گئے، پھر تو ان صاحب كے غصے كي يه كيفيت تھي كه جيسے سانپ پھنكاريں مارتا هے، اور فوراً اٹھ كر چلے گئے، پھر كبھي نه آئے۔ خلافِ معمول جب ايك عرصه گزر گيا تو حضور نے فرمايا۔ اب فلاں صاحب تشريف نهيں لاتے هيں، پھر خود هي فرمايا، ميں بھي ايسے مغرور و متكبر شخص سے ملنا نهيں چاهتا۔ ﴿حيات اعليٰ حضرت،اول،ص:40﴾


يه تھا امام احمد رضا كا اخلاق اور بلند كردار كه آپ معمولي سے معمولي شخص كو بھي اپنے قريب بٹھانے ميں عار محسوس نهيں كرتے تھے، بلكه غريبوں كي وجه سے اميروں سے تعلق خاطر ختم هونے كي بھي پروا نهيں كرتے تھے۔


غريبوں پر شفقت : امام احمد رضا قدس سره عام علما كي طرح صرف اميروں هي كے يهاں نهيں جاتے تھے، بلكه غريبوں كے يهاں جانے ميں بھي خوشي محسوس كرتے تھے۔ حضرت مولانا حسنين رضا بريلوي عليه الرحمه نے غريبوں پر شفقت كے حوالے سے ايك واقعه تحرير كيا هے۔ ايك روز ايك صاحب زادے امام احمد رضا كي بارگاه ميں آئے اور بڑي بے تكلفي سے كهنے لگے ميري بوا ﴿اماں﴾ نے آپ كي دعوت كي هے ، كل بلايا هے۔ امام احمد رضا نے ان كي بے تكلفي پر مزاحاً فرمايا، دعوت ميں كيا كھلاوگے۔ صاحب زادے نے دامن پھيلا كردكھايا، اس ميں ماش كي دال اور كچھ مرچيں تھيں، اور كها ديكھيے نا، يه لايا هوں۔ امام احمد رضا نے ان كے سر پر دستِ شفقت ركھا اور فرمايا كه ميں اور يه حاجي كفايت الله صاحب آئيں گے۔ حاجي صاحب كو حكم ديا كه ان كے مكان كا پته دريافت كر ليجيے۔ دوسرے دن وقت پر امام احمد رضا اندر تشريف لائے اور حاجي صاحب سے فرمايا، چليے، جس وقت ان كے مكان پر پهنچے تو صاحب زادے انتظار كر رهے تھے۔ امام احمد رضا كو ديكھتے هي اندر بھاگے اور كها، ارے مولوي صاحب آگئے۔ ان كے دروازے پر ايك چھپر پڑا تھا، جس كے سائے ميں امام احمد رضا اور حاجي صاحب كچھ دير كھڑے رهے، اندر سے ايك بوسيده چٹائي آئي ، اس كے بعد باجره كي گرم گرم روٹياں آئيں، مٹي كي ركابي ميں ماش كي دال آئي، جس ميں مرچوں كے ٹكڑے ٹوٹے هوئے پڑے تھے ، يه ركھ كر صاحب زادے نے كھانے كو كها۔ آپ نے فرمايا، هاتھ دھونے كے ليے پهلے پاني تو لائيے۔ پاني لانے كے ليے مكان ميں گئے ، تو حاجي صاحب نے عرض كيا، يه مكان تو نقارچي كا هے۔ اعليٰ حضرت نے كبيده خاطر هو كر فرمايا، ابھي سے كيوں كهه ديا، كھانے كے بعد كهتے۔ اتنے ميں صاحب زادے پاني لے كر آئے۔ آپ نے ان سے پهلا سوال يهي كيا، آپ كے والد كهاں هيں، اور كيا كرتے هيں؟ پردے كي آڑ ميں ان كي ماں نے عرض كيا، ميرے شوهر كا انتقال هو گيا هے ، وه پهلے نوبت بجاتے تھے، اس كے بعد انھوں نے توبه كر لي اور اب تو كمانے والا صرف يه لڑكا هے جو راجوں كے ساتھ مزدوري كرتا هے۔


امام احمد رضا نے خدا كا شكر ادا كيا اور ان لوگوں كے ليے دعاے خير و بركت كي۔ حاجي صاحب كے دل ميں خيال پيدا هوا كه امام احمد رضا كے كھانے ميں گھر پر تويه احتياط برتي جاتي هے كه بجاے چپاتي كے سوجي كا بسكٹ گوشت بز يا چوزے كے ساتھ تناول فرماتے هيںيا بعض وه ميٹھي اور ٹھنڈي چيزيں جو ان كو مضر نه هوں۔ واضح رهے كه يه اهتمام ان كي علالت اور كم زوري كي وجه سے هوتا تھا۔ اور يهاں باجره كي روٹي اور ماش كي دال تناول فرما رهے هيں۔ يه امام احمد رضا كي غريب پروري اور اخلاقي بلندي تھي كه پيٹ بھر كر خوشي خوشي كھانا كھايا اور زبان پرحرفِ شكايت نه آيا۔


حكيم جميل الله خاں مرحوم كي دودھ پلائي عنايتي بيگم عرف انتا بوا جب دودھ پلانے پر مقرر هوئيں تو بيوه هو چكي تھيں۔ نهايت متين، سنجيده اور خدا ترس بيوه تھيں۔ امام احمد رضا جميل الله خاں كے چچا هوتے تھے اور بيوي صاحبه كے رشتے سے يه گھر حقيقي خاله كا گھر تھا۔ انتا بوا جميل خاں كو اعليٰ حضرت كے يهاں زياده لاتي تھيں۔ يهاں كي باتوں ميں ان كا خوب دل لگتا تھا ۔ جب وه ترك ملازمت كر كے اپنے گھر رهنے لگيں تو چكي پيس كر گزاره كرتيں اور اسي پسائي سے جو كچھ پس انداز كرتيں اس سے سالانه ميلاد شريف كر ديا كرتيں۔ پهلے سال انھوں نے امام احمد رضا سے ميلاد شريف كے انعقاد كا اراده ظاهر كيا اور يه بھي عرض كيا كه آپ كو شركت كرنا هوگي، اور پڑھنے والے بھي آپ هي تجويز فرمائيں گے ۔ اعليٰ حضرت نے خنده پيشاني سے وعده فرمايا اور مولوي جميل الرحمٰن كو حكم دے ديا كه عنايتي بيگم كے يهاں سالانه ميلاد شريف آپ پڑھيں گے۔


امام احمد رضا باوجود كه مسجد تك عصا كے سهارے سے آتے تھے اور جهاں جاتے سواري سے جاتے، ميلاد شريف ميں پيدل هي گئے اور كئي سال يه سلسله جاره رها۔ امام احمد رضا كے ساتھ ميلاد خواں اور ديگر حضرات پا پياده گئے اور پا پياده آئے۔ ﴿ملخصاً از سيرت اعليٰ حضرت،ص:9495﴾


امام احمد رضا بلا شبهه غريب پروراور مسلم نواز تھے۔ نيك سيرت مسلمانوں سے آپ ٹوٹ كر محبت كرتے تھے۔ آپ غريبوں سے مصافحه اور معانقه كرنے ميںبھي اجتناب نهيں كرتے تھے۔ آپ نے اپني تحريروں سے مسلمانوں ميں مصافحه اور معانقه پر بھي بهت زور ديا۔ آپ مصافحه اور معانقه كو افزوني محبت كا ذريعه فرماتے تھے۔ اس ميں امير و غريب اور جاهل و عالم كے درميان كوئي فرق نهيں كرتے تھے۔ وه بھي ايسے ماحول ميں كه بعض بد عقيده دونوں هاتھوں سے مصافحه كو بدعت كهتے تھے اور معانقه كو حرام تك كهتے تھے، امام احمد رضا معانقه كے حوالے سے ايك سوال كا جواب ديتے هوئے فرماتے هيں:


٫٫كپڑوں كے اوپر سے معانقه جهاں خوف فتنه شهوت نه هو بلا ريب مشروع هے، اس كے جواز پر تمام ائمه مجتهدين كا اجماع اور سفرو غير سفر ميں به شرائط مذكوره مطلقاً جائز، تخصيص سفر كي حديث و فقه سے ثابت نهيں، نا كه استغفر الله مطلقاً حرام هو۔ ابو جعفر عقيلي حضرت تميم داري رضي الله تعاليٰ عنه سے روايت كرتے هيں، ميں نے رسول الله صلي الله عليه وسلم سے معانقه كا مسئله دريافت كيا ، ارشاد فرمايا:تحيت هے امتوں كي اور اچھي دوستي هے ان كي ، اور بے شك پهلے جس نے معانقه كيا الله كے خليل ابراهيم هيں عليه الصلاۃ والسلام۔ اس حديث ميں صريح تائيد هے ، عمرو كے قول كي كه معانقه ايك دليل قوي هے افزوني محبت پر ۔٬٬﴿فتاويٰ رضويه،ج:9،ص:10﴾


جود و سخا كي چند مثاليں: امام احمد رضا قدس سره دريا دل اور غريب پرور تھے۔ آپ كے دروازے سے كبھي كوئي سائل واپس نهيں گيا ۔ آپ احباب و متعلقين پر بھي خوب خرچ كرتے تھے۔ احباب كي ضيافتيں كرتے، اقربا كي صله رحمه كرتے اور فقرا پر حيرت انگيز طور پر صدقه كرتے۔ آپ كي زندگي سے عملي مثاليں پيش كرنے سے پهلے اس سلسلے ميں ان كا نظريه پيش كرتے هيں۔ امام احمد رضا قدس سره ايك سوال كا جواب ديتے هوئے رقم طراز هيں:


٫٫شيريني يا كھانا فقرا كو كھلائيں تو صدقه هے اور اقارب كو توصله رحم اور احباب كو توضيافت اور يه تينوں باتيں موجب نزولِ رحمت و دافع بلا و مصيبت هيں۔ ابو يعلي انس رضي الله تعاليٰ عنه سے راوي، رسول الله صلي الله عليه وسلم فرماتے هيں: ٫٫ان الصدقۃ و صلۃ الرحم يزيد اللّٰه بھما في العمر و ميتۃ السوئ و يدفع بھما المكروه و المحذور٬٬بے شك صدقه اور صله رحم ان دونوں سے الله تعاليٰ عمر بڑھاتا هے اور بري موت كو دفع فرماتا هے اور مكروه و انديشه كو دور كرتا هے۔ ابو الشيخ ابو الدردا ئ رضي الله عنه سے راوي ، رسول الله صلي الله عليه وسلم فرماتے هيں:٫٫الضيف ياتي برزقه و يرتحل بذنوب القوم و يمحص عنھم ذنوبھم٬٬ مهمان اپنا رزق لے كر آتا هے اور كھلانے والے كے گناه لے كرجاتا هے،ان كے گناه مٹا ديتا هے۔٬٬﴿فتاويٰ رضويه،ج:9،ص:176﴾


امام احمد رضا قدس سره نے يه تحرير صرف دوسروں كے ليے نهيں لكھي تھي بلكه ان كي زندگي اس كي عملي پيكر تھي۔ ان كا دستر خوان اعزه و احباب اور فقرا كے ليے هميشه وسيع رهتا تھا۔ علما، مشائخ اور احباب و تلامذه كي آمد و رفت كا سلسله هميشه جاري رهتا تھا۔ فقرا و مساكين كبھي ان كے دروازے سے خالي هاتھ واپس نهيں جاتے ۔ آپ اپنے خلفا اور تلامذه كو بھي خوب نوازتے تھے اس سلسلے ميں هم سر دست صرف ايك مثال پيش كرتے هيں۔حضرت علامه عبد العليم صديقي ميرٹھي حرمين شريفين كي واپسي پر امام احمد رضا كي بارگاه ميں حاضر هوئے اور مندرجه ذيل منقبت نهايت خوش آوازي كے ساتھ پڑھ كر سنائي


تمهاري شان ميں جو كچھ كهوں اس سے سوا تم هو قسيمِ جامِ عرفاں اے شهِ احمد رضا تم هو


جو مركز هے شريعت كا، مدار اهلِ طريقت كا جو محور هے حقيقت كا وه قطب اوليا تم هو


يه طويل منقبت هے جسے حيات اعليٰ حضرت ميں نقل كيا گيا هے ۔ جب پوري منقبت حضرت علامه ميرٹھي صاحب پڑھ چكے تو امام احمد رضا نے ارشاد فرمايا:


٫٫ مولانا ميں آپ كي خدمت ميں كيا پيش كروں، اگر اس عمامه كو پيش كروں تو آپ اس ديار پاك سے تشريف لا رهے هيں، يه عمامه آپ كے قدموں كے لائق بھي نهيں، البته ميرے كپڑوں ميں سب سے بيش قيمت ايك جبه هے وه حاضر كيے ديتا هوں۔٬٬ ﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:120مطبوعه ،لاهور﴾


چناں چه آپ نے كاشانه اقدس سے سرخ كاشاني مخمل كا جبه مبارك لا كر عطا فرما ديا۔ علامه ميرٹھي صاحب نے سرو قد كھڑے هو كر دونوںهاتھ پھيلا كر لے ليا، آنكھوں سے لگايا، لبوں سے چوما، سر پر ركھا، پھر سينے سے دير تك لگائے رهے۔


جناب سيد ايوب علي صاحب كا بيان هے كه كاشانه اقدس سے كوئي سائل خالي نه پھرتا ، اس كے علاوه بيوگان كي امداد، ضرورت مندوں كي حاجت روائي اور ناداروں كے توكلاً علي الله مهينے مقرر تھے اور يه اعانت فقط مقامي نه تھي بلكه بيرون جات ميں به ذريعه مني آرڈر رقومِ امداد روانه فرمايا كرتے تھے۔ هم حياتِ اعليٰ حضرت كے حوالے سے چند مثالي سپردِ قلم كرتے هيں۔


ايك مرتبه ايك صاحب كي خدمت ميں مدينه طيبه ميں پچاس روپے روانه كرنے تھے، اتفاق كه آپ كے پاس اس وقت كچھ نه تھا۔ اعليٰ حضرت نے بارگاهِ رسالت ميں رجوع كيا ، سركار ميں نے كچھ بندگان خدا كے مهينے حضور كے بھروسے اپنے ذمه ميں مقرر كر ليے هيں۔ اگر مني آرڈر پچاس روپے كا روانه هو جائے گا تو ڈاك كے جهاز كے وقت پهنچ جائے گا، ورنه تاخير هو جائے گي۔ اعليٰ حضرت كي يه رات اسي كرب و بے چيني ميں گزري ۔ علي الصباح ايك سيٹھ صاحب حاضر هوئے اور مبلغ اكياون روپے مولوي حسنين رضا صاحب كے ذريعه مكان ميں به طور نذر حاضرِ خدمت كيے۔ يه ديكھ كر اعليٰ حضرت پر رقت طاري هوگئي اور فرمايا، يه يقيناسركار كا عطيه هے۔ اسي وقت مني آرڈر كا فارم بھرا گيا اور مني آرڈر روانه كيا گيا۔


ايك مرتبه ايك ضرورت مند حاضرِ خدمت هوئے ۔ آپ نے ارشاد فرمايا: اس وقت ميرے پاس صرف ساڑھے تين آنے هيں اور وه بھي بعض خطوط كے جوابات كے ليے ركھے تھے ۔ اگر آپ فرمائيں تو حاضر كر ديے جائيں۔ حالاں كه آج كي ڈاك سے ايك مني آرڈر ڈھائي سو روپے كا آيا تھا ، وه سب تقسيم كر ديے گئے، پهلے آپ آجاتے تو آپ كو بھي دے ديے جاتے۔ موصوف نے آب ديده هو كر نظر نيچي كر لي۔ آپ نے وه ساڑھے تين آنے ان كے حوالے كر ديے ۔


جناب ذكائ الله صاحب كا بيان هے كه سردي كا موسم تھا ، بعد نماز مغرب اعليٰ حضرت حسب معمول پھاٹك ميں سب لوگوں كو رخصت كر رهے تھے ، خادم كو ديكھ كر فرمايا۔ آپ كے پاس رضائي نهيں هے؟ خادم خاموش هو گيا۔ اس وقت جو رضائي اعليٰ حضرت اوڑھے هوئے تھے ، خادم كو اتار كر دے دي اور فرمايا، اوڑھ ليجيے۔ خادم نے به صد ادب قدم بوسي كي اور رضائي اوڑھ لي۔


انھيں كا بيان هے كه دو تين دن كے بعد حضرت كي نئي رضائي تيار هو كر آگئي ۔ نئي رضائي اوڑھے چند هي دن گزرے تھے كه مسجد ميں ايك مسافر رات كے وقت آيا اور اعليٰ حضرت سے عرض كيا ، ميرے پاس اوڑھنے كو كچھ نهيں هے ۔ اعليٰ حضرت نے وهي رضائي اس مسافر كوعطا فرما دي۔


5 جناب سيد ايوب علي كا بيان هے كه موسمِ سرما ميں ايك مرتبه اعليٰ حضرت كے برادرِ خورد مولانا محمد رضا صاحب نے اعليٰ حضرت كے ليے خاص طور پر ايك فرد تيار كرا كر پيش كي۔ اعليٰ حضرت كي عادتِ كريمه تھي كه هر سال فرديں تيار كرا كے غربا ميں تقسيم فرمايا كرتے تھے ۔ اس سال كي سب فرديں تقسيم هو چكي تھيں، ايك صاحب نے درخواست كي، اعليٰ حضرت نے اپني وه خاص فرد اتار كر ان كو دے دي۔


امام احمد رضا كے جود و سخا اور غربا پروري كے حوالے سے هم نے چند مثاليں سپردِ قلم كي هيں ۔ اگر اس موضوع پر تفصيل سے روشني ڈالي جائے تو دفتر دركار هوگا۔ بلا شبهه امام احمد رضا اخلاق و تواضع كے پيكرِ جميل تھے، ان كے دل ميں حقوقِ انساني كا جذبه كوٹ كوٹ كر بھرا تھا ۔وه انتهائي نرم خو، خوش مزاج اور جود و سخا كے بحرِ بے كراں تھے۔ امام احمد رضا كي مقدس زندگي كا يه رخ پردهخفا ميں هے ۔ اهلِ قلم كو چاهيے كه وه اس طرف بھي توجه كريں اور بساطِ علم و دانش تك يه پيغام پهنچا ديں كه امام احمد رضا خلق جميل كے مهر درخشاں تھے۔

=================================================================================
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد



قیصر مصطفٰی عطاری
http:www.razaemuhammad.co.cc
Back to top Go down
View user profile http://razaemuhammad.123.st
 
امام احمد رضا خلق جميل كے مهر درخشاں
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Raza e Muhammad :: اسلامی شخصیات :: اولیاء کرام :: امام اھل سنت-
Jump to:  
Free forum | © phpBB | Free forum support | Contact | Report an abuse | Sosblog.com